سابق اسرائیلی وزیر اعظم شیرون کو آج اسپتال سے چھٹی مل جائے گی

چار برس سے کوما کی کیفیت میں مبتلا سابق صہیونی ایریل شیرون کو آج اسپتال سے چھٹی دے دی جائے گی۔ ایریل شیرون کے اہل خانہ انھیں گھر لانے کی تیاری کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے مقبوضہ بیت المقدس سے اطلاع دی ہے کہ شیرون کے معالج ڈاکٹر  شالوم کے مطابق شیرون اپنے اہل خانہ کو پہچاننے لگا ہے۔

ایریل شیرون 2001 میں اسرائیل کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ شیرون فوج میں بھی رہے۔ ان کا دامن ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کے خون سے رنگین رہا۔ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کرنے کا جو سلسلہ شیرون نے فوجی ملازمت میں شروع کیا تھا وہ سیاسی کیریر میں بھی جاری رہا۔ 1982 میں لبنان پر اسرائیل جارحیت کا منصوبہ بھی شیرون نے بنایا تھا اور اسی دوران اس نے اپنی فطری سفاکی کا ثبوت دیتے ہوئے صبرا اور شتیلا کیمپوں ہزاروں فلسطینی مہاجرین کا خون پانی کی طرح بہایا۔ اس نے 2001 میں وزیر اعظم بنتی ہی مسجدالاقصی کی بی حرمتی کی اور جوتون کی ساتھ اس مسجد میں داخل ہوا جس کی بعد دوسری انتفاضہ تحریک شروع ہوئی جو عرصی تک جاری رہی. اس نے 2006 میں لبنان پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا مگر وہ خود اللہ کی خفیہ فوج (بیماری) کے حملے کا شکار ہوا اور اس کی جگہ ایہود اولمرت وزیراعظم بنا اور اس نے جولائی میں پورے لبنان پر حملہ کیا؛ حزب اللہ نے زبردست مزاحمت کی اور جنگ 33 روز تک جاری رہی جس کے نتیجے میں اسرائیل کو پہلی مرتبہ ذلت آمیز شکست ہوئی اور ہمیں البتہ افسوس ہے کہ شیرون اس جنگ میں صہیونی غاصبوں کی شکست کا مشاہدہ نہ کرسکا۔بہرحال اس زمانے سے صبرا اور شتیلا کے قصاب کو مصنوعی سانس کے ذریعے زندہ رکھا گیا ہے اور اب دعوی کیا جارہا ہے کہ وہ کومے سے واپس آیا ہے اور گھر جانے لگا ہے اور یہ کہ وہ بچوں کو بھی پہچاننے لگا ہے یعنی اس کی ہوشیاری واپس آئی ہے لیکن بعض دیگر ذرائع نے بتایا ہے کہ شیرون کو گھر بھجوایا جارہا ہے تا کہ اس کی خبیث روح گھر میں ہی اس کے جسم سے مفارقت اختیار کرے اور یہ اس کے بچوں کی آرزو ہے۔ یاد رہے کہ سورہ جمعہ میں ارشاد ربانی ہے: قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاء لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ * وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ. (سورہ جمعہ آیات 6 و 7)ترجمہ: آپ فرما دیجئے: اے یہودیو! اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ سب لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے دوست (یعنی اولیاء) ہو تو موت کی آرزو کرو (کیونکہ اس کے اولیاء کو تو قبر و حشر میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی) اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہو * (لیکن) وہ (یہودی) ہرگز بھی اس کی آرزو نہیں کریں گے ان گناہوں (اور مَظالِم) کے باعث جو وہ اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی موت سے بہت خائف رہتے ہیں اور اگر وہ موت کے قریب بھی پہنچ جائیں پھر بھی واپسی کی آرزو کرتے ہیں اور قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق موت سے ان کے خوف کی وجہ ان کے وہ اعمال ہیں جو انھوں نے انجام دیئے ہیں اور وہ انجام دے رہے ہیں۔..........

/110


اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی