صہیونی اداروں میں مصروف کار ایک تہائی عورتیں جنسی اذیت و آزار کا شکار / تصویر

صہیونی ریاست کی وزارت صنعت و تجارت کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صہیونی سرکاری اداروں میں مصروف کار 35 سے 40 فیصد تک عورتیں گذشتہ 12 مہینوں کے دوران جنسی آزار و اذیت کا شکار ہوگئی ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق "ایران نیوز نیٹ ورک" نے صہیونی روزنامے "ہاآرتص" میں شائع ہونے والی صہیونی وزارت صنعت و تجارت کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ صہیونی سرکاری اداروں میں مصروف کار خواتین میں سے 35 تا 40 فیصد خواتین کو گذشتہ بارہ مہینوں کے دوران اپنے اداروں کے احاطے میں ہی جنسی آزار و اذیت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مقبوضہ سرزمین میں موجود 35 سے 40 فیصد تک عورتوں نے کہا ہے کہ ان کے کام کا ماحول محفوظ نہیں ہے اور ہمیشہ انہیں جنسی آزار و اذیت اور ریپ کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی آزار و اذیت کا شکار بننے والی سترہ فیصد عورتوں نے کہا ہے کہ انہوں نے نشانہ بننے کے بعد اپنا کام کاج چھوڑدیا ہے جبکہ صرف 9.5 فیصد عورتوں نے عدالتوں سے رجوع کرکے جارح مردوں کے خلاف شکایت کی ہے۔  دریں اثناء آزار و اذیت کا شکار ہونے والی 64 فیصد عورتوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے سینئر اہلکاروں کے ہاتھوں اپنی عزت و آبرو گنوا چکی ہیں جبکہ 29 فیصد عورتیں ان کے ہم رتبہ مردوں کی جانب سے ریپ کا نشانہ بنی ہیں اور سات فیصد عورتین ماتحت کارکنوں کے ہاتھوں لٹ چکی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ صہیونی ریاست کے اعلی حکام میں سے کئی افراد بھی ریپ اور جنسی آزار و اذیت کے کیسوں میں ملوث رہے ہیں اور ان میں سے کئی افراد پر مقدمات بھی چل رہے ہیں۔ ............

/110

1


اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی