وہابیت کا دوسرا نام امریکی اسلام

وہابیت کا دوسرا نام امریکی اسلام

جب عصر حاضر میں، اس پیشرفت زمانے میں، جدید ٹکنالوجی نے اسلام کے متعلق ریسرچ کے ذرائع کثرت سے ہموار کر دئے تو عیسائی جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ ایسے میں عالمی استکبار کے پاس سوائے اس کے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں بچا تھا جس کے ذریعے وہ غیر مسلمانوں کو اسلام سے متنفر کر سکیں۔ ان کے پاس صرف ایک ہی چارہ کار تھا کہ وہ خود مسلمانوں کے درمیان ایسا فرقہ پیدا کریں جو بظاہر مسلمان ہوں لیکن باطنی طور پر ان کے مقاصد کو پورا کرتے ہوں۔ وہابیت امریکہ اور عالمی استکبار کا پیدا کردہ فرقہ ہے جس کا مقصد صرف محمدی اسلام کو نابود کرنا اور امریکی اسلام کو دنیا میں نافذ کرنا ہے۔

بقلم: افتخار علی جعفری

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فرقہ وہابیت نے اپنے وحشیانہ اور شدت پسندانہ اعمال کے ساتھ پوری دنیا میں اس قدر حقیقی اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کر دیا ہے کہ آج اُس اسلام کو جو دین محبت ہے تشدد اور قتل و غارت کا دین سمجھا جانے لگا ہے۔ سلف صالح کی پیروی کا دعویٰ کرنے والے اسلامی اور دینی رنگ دھار کر مختلف احزاب اور گروہوں کی شکل میں امریکہ اور اسرائیل کے اسلحے سے شام، عراق، لبنان، پاکستان، بحرین اور دیگر ممالک میں شیعہ، سنی، عیسائی، یہودی سب کے خون سے ہولی کھیلنے والا اگر کوئی فرقہ ہے تو وہ صرف وہابی فرقہ ہے۔ تاریخ بشریت کے خونخوار ترین اور سفاک ترین افراد معاویہ، یزید، حجاج،۔۔۔ چنگیز، ہٹلر اور صدام جیسوں سے بھی سفاکیت کی دوڑ جیتنے والا اگر کوئی ٹولہ ہے تو وہ صرف وہابی ٹولہ ہے۔ خدا کی لعنت اور اس کا غضب ہو ان تکفیری دھشتگردوں پر جو امریکہ، اسرائیل اور آل سعود کے آلہ کار ہیں۔
تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ خود کو اس گمراہ فرقے سے الگ کریں اور اپنا دامن بچاتے ہوئے اس فرقے کے ساتھ اعلان جنگ کریں تاکہ سب کے لیے یہ آشکار ہو جائے کہ وہابیت نامی ٹولے کا اسلام حقیقی سے کوئی سروکار نہیں ہے یہ اگر مسلمان ہیں تو اسلام محمدی (ص) کے مسلمان نہیں بلکہ امریکی اسلام کے مسلمان ہیں۔
۱: وہابیوں کی تبلیغ کرنے کا طریقہ
وہابیوں کے حکمران آل سعود، تیل اور حج کے عظیم سرمائے سے پوری دنیا میں یہ کوشش کر رہے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو یہ یقین دلا دیں کہ سعودی حکومت قرآن اور سنت کے سائے میں تشکیل یافتہ حکومت ہے اور اس کا ہر عمل عین قرآن و سنتِ رسول ہے!۔
اس میں کوئی شک نہیں آل سعود کے پاس تیل اور حج سے حاصل ہونے والا سرمایہ اس قدر زیادہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے تاجر ملک اس سرمائے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔ وہابیت کو پروان چڑھانے والی قوم آل سعود اپنا تمام تر سرمایہ اس فرقہ ضالہ کی تبلیغ و ترویج پر خرچ کر رہی ہے۔
خود سعودی عرب میں آل سعود جو تقریبا چار ہزار ہیں نے اس ملک کی تمام کلیدی پوسٹوں پر قبضہ جما رکھا ہے اور پورے ملک پر حکومت کر رہے ہیں اور تمام ملکی سرمائے کو اپنے ہاتھوں میں رکھے ہوئے ہیں۔
آل سعود کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ زور و زبردستی سے دوسروں کو اپنے افکار قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور عصر حاضر میں وہ پیسے اور لاٹھی کے زور پر تقریبا تمام مسلمانوں پر اپنے افکار تھوپنے میں کامیاب ہو گئے ہیں صرف شیعہ ایسا مذہب ہے جس نے ابھی تک ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ہیں اور نہ ہی کبھی ٹیک سکتا ہے۔
وہابی دینی شعائر اور دوسرے فرقوں کے مقدسات کی نسبت انتہائی بربریت کا اظہار کرتے ہیں پیغمبروں کی قبروں پر گنبد کی تعمیر، مردوں کی قبروں کی زیارت اور ان کے لیے فاتحہ خوانی، مردوں کے لیے ختم قرآن کے مراسم اور بزرگان دین سے شفاعت طلب کرنے کو بدعت قرار دیتے ہوئے ان چیزوں کو سماج سے کلی طور پر ختم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وہابیوں کی تمام کتابیں، رسالے، ان کے خطیبوں کی تقاریر خاص طور پر مسجد النبی(ص) کے امام کے خطبے سب کے سب توحید، شرک اور بدعت کے بارے میں اور لوگوں کو دعا، توسل اور شفاعت سے روکنے کے سلسلے میں ہوتے ہیں۔
وہابی افکار کی سب سے زیادہ ترویج حج کے موسم میں ہوتی ہے حج کے فریضہ الہی ہونے کے پیش نظر لاکھوں کی تعداد میں مسلمان سعودی عرب میں جمع ہوتے ہیں اور اس دوران آل سعود حجاج کو وہابی افکار کی ویکسینیشن کرتے ہیں اور جب حجاج اس ملک سے واپس جاتے ہیں تو بجائے اس کے مرکز اسلام و مقام وحی سے دین حقیقی کو حاصل کر کے واپس جائیں اپنے اُس دین کو بھی گنوا بیٹھتے ہیں جس پر وہ یہاں آنے سے پہلے ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ حجاج گرامی مکہ و مدینہ میں آکر دین محمدی(ص) کا سودا دین امریکی سے کر کے چلے جاتے ہیں۔
حرمین شریفین یعنی مکہ و مدینہ کے ادارہ وزارت حج کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس دوران وہابیت کی تبلیغ کے لیے کتابیں، رسالے، بروشرز اور دیگر چیزیں لوگوں کے درمیان مفت تقسیم کرتا ہے اور لوگوں کو وہابی افکار سے آشنا کرتے ہوئے دیگر اسلامی عقائد کو غلط اور بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔
سعودی عرب میں وہابیوں نے اپنے افکار کو مضبوط بنانے کے لیے جگہ جگہ علمی مراکز قائم کر رکھے ہیں۔ جن کی اہم ذمہ داریاں یہی ہیں کہ وہ وہابی افکام و نظریات پر مشتمل کتابیں لکھیں، ان کے مطابق قرآن کی تفسیر کریں، دوسرے ممالک میں جا کر لوگوں کو عربی زبان سکھلائیں، دنیا کے کونے کونے میں دینی مدارس قائم کروائیں۔
سعودی حکام، وہابی افکار اور امریکی دین کو پھیلانے میں اپنا تمام سرمایہ لگانے کو تیار ہیں اور لگا رہے ہیں۔
ان ثقافتی اداروں کی ایک اہم فعالیت آل سعود کے نظام کو پہچنوانے اور فرقہ ضالہ سے لوگوں کو آشنا کرانے کے لیے ریڈیو، ٹی وی اور سیٹلائٹ جیسے ذرائع ابلاغ کا استعمال کرنا ہے وہ ان ذرائع کے ذریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو یہ باور کروا دیں کہ دین وہابیت ہی قرآن و سنت نبوی کے مطابق ہے اور یہی درست فرقہ ہے اس کے علاوہ نہ شیعہ مذھب راہ حق پر ہے اور نہ کوئی سنی فرقہ۔
۲: ماڈرن ترین کتب خانوں کی تاسیس
وہابی فرقے کی تبلیغ کے لیے آل سعود کا ایک اہم طریقہ کار یہ ہے کہ انہوں نے سعودی عرب سمیت دنیا کے کونے کونے میں ماڈرن اور پیشرفتہ کتب خانے قائم کئے ہیں۔ درج ذیل ان پیشرفتہ کتب خانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو سعودی عرب میں وہابیوں کے پیشرفتہ ترین کتب خانے ہیں۔
۔ ریاض میں ’’ملک سعود‘‘ نام کی یونیورسٹی کا کتب خانہ جس میں ایک کروڑ دس لاکھ کتابیں موجود ہیں اور ۶۰۰ نادرالوجود خطی کتابیں ہیں۔
۔’’ملک عبد العزیز‘‘ کتب خانہ جس میں دو لاکھ  ایسی کتابیں ہیں جو اکثر خطی اور کمیاب ہیں۔
 ۔ مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کا کتب خانہ جس میں تین لاکھ چونتیس ہزار کتابیں اور دیگر ہر طرح کی سہولیات فراہم ہیں۔
۔ انجمن امور عامہ کتب خانہ جس میں ۱۷ لاکھ ستر ہزار عربی اور انگریزی میں کتابیں اور نشریات موجود ہیں۔
۔ ملک فیصل نامی کتب خانہ جس میں ۳۷ ہزار عربی، انگریزی اور فرانسوی کتابیں موجود ہیں۔
۔ ملک فہد قومی کتب خانہ جس میں سعودی عرب کی تاریخ سے متعلق ۳۰ ہزار اسناد و دستاویزات موجود ہیں۔
 یہ وہ کتب خانے ہیں جو صرف ریاض اور مدینہ کے اندر موجود ہیں اس کے علاوہ دوسرے شہروں اور دیگر ممالک میں کتنے کتب خانے ہیں جس کا محاسبہ نہیں لگایا جا سکتا۔
ان کتب خانوں میں عربی، انگریزی، فارسی اور اردو کی ایسی ایسی کتابیں موجود ہیں جو صرف سلفیت اور وہابیت کی تفسیر کرتی ہیں یعنی ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن کثیر اور محمد بن عبد الوہاب کے نظریات پر مشتمل ہیں اور اس کے علاوہ شیعہ اور سنی عقاید کی تردید میں ہزاروں کتابیں ان کتب خانوں میں بھری پڑی ہیں۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد شیعت کے خلاف وہابیوں کی تبلیغ اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے عصر حاضر میں وہ سالانہ لاکھوں کتابیں شیعت کے خلاف سعودی عرب میں چھپتی ہیں اور حج و عمرہ کے علاوہ خود دوسرے ممالک میں مسلمانوں کے درمیان مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔
ان کتابوں میں ایک اہم چیز جو وہابی علماء اور مولفین بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسلام اور سنت نبوی کی تفسیر مرکز وحی یعنی حرمین شریفین سے مخصوص ہے حقیقی اسلام مکہ و مدینہ میں پایا جاتا ہے جو عقیدہ مکہ و مدینہ میں اپنایا جائے وہی درست اور عین اسلام ہے اس کے علاوہ کسی کے نظریہ کی کوئی اہمیت نہیں حرمین شریفین کی حدود سے باہر رہتے ہوئے اگر کوئی اسلام کی کوئی تفسیر کرتاہے تو وہ بالکل باطل اور غلط ہے!۔
۳: تکفیریت کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا قتل عام
وہابی علماء اور مفتی صرف خود کو جہان اسلام کا ٹھیکیدار اور ذمہ دار سمجھتے ہیں اور پورے جہان اسلام کی رہبریت کے خواب دیکھتے ہیں وہ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے دوسرے ممالک سے افراد کو جذب کرتے ہیں اور کتب خانوں کے علاوہ دیگر امکانات ان کے لیے فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ ان کتب خانوں میں وہابیت کا اچھے طریقے سے مطالعہ کریں اور اس کے بعد اپنے اپنے ممالک میں جا کر علمی مراکز قائم کریں اور لوگوں کو اس فرقہ ضالہ کی طرف دعوت دیں۔
سعودی عرب میں مبلغین کی تربیت کا کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے انہیں سعودی عرب میں نہ صرف وہابی افکار کی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے فرقوں سے مقابلے کی ٹکنیکیں بھی سکھائی جاتی ہیں انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ ظاہری طور پر نرم لہجے اور خوش اخلاقی سے لوگوں کے ساتھ معاشرت کی جائے اور  انہیں دھیرے دھیرے اپنے افکار کی طرف کھینچا جائے لیکن جہاں پر یہ محسوس ہو کہ لوگ ان کے افکار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں وہاں اندرونی طور پر اپنے آلہ کار تیار کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ لہذا وہابی واضح طور پر یہ فتویٰ صادر کرتے ہیں کہ وہ لوگ وہابی افکار کے قائل نہیں ہیں وہ واجب القتل ہیں ان کا خون کرنا جائز ہے اب چاہے وہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں چاہے کسی سنی فرقے سے۔ ان کی نگاہ میں نہ شیعہ مسلمان ہیں اور نہ ہی سنی۔ وہ پہلی فرصت میں چرب زبانی سے لوگوں کو اپنے قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر یہ طریقہ موثر ثابت نہ ہو تو قتل و غارت ان کا دوسرا حربہ ہوتا ہے۔
لہذا مسلمانوں کو بیدار ہو جانا چاہیے کہ اسلامی ممالک مکمل طور پر وہابی تبلیغ کی لپیٹ میں ہیں جہاں بظاہر امن و شانتی ہے وہاں وہابی اپنی پہلی روش پر عمل پیرا ہیں اور نرم و چرب زبانی سے وہابیت پھیلانے میں مشغول ہیں اور جہاں قتل و غارت ہے وہاں دوسرا طریقہ کار، کارفرما ہے۔ ایشیا کے تمام ممالک، افریقہ، پورپ اور امریکہ حتی کہ دنیا کو کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں وہابیت اپنے پنجے گھڑنے میں مصروف نہ ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وہابیت آخری زمانے کا وہ دجال ہے جس کی ظہور منجی عالم بشریت سے پہلے وجود میں آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
وہابیت کا دوسرا طریقہ پہلے سے زیادہ خطرناک اور وحشت انگیز ہے جو اسلام کے نام پر، دین خدا کے نام پر، مسلمانوں اور خدا و رسول کا کلمہ پڑھنے والوں کی گردنوں پر چھری چلاتے ہیں!۔ دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ صرف وہابی ٹولہ ایسا ہے جو اپنے شیطانی اور عقل و منطق سے عاری افکار کے ذریعے ہزاروں مسلمان مردوں عورتوں اور بے گناہ بچوں کے خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔
اس فرقہ ضالہ کے کارنامہ، شام، پاکستان، عراق، افغانستان اور دیگر ممالک میں کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں۔ درحقیقت یہ نام نہاد اسلامی فرقہ اسلام کی جڑوں کا مخالف ہے ایک طرف سے نرم جنگ کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کر کے دین محمدی (ص) سے ہٹا کر دین امریکی کی طرف لے جا رہا ہے اور دوسری طرف سے مسلمان سے مسلمان کا گلہ کٹوا کر غیر اسلامی ممالک میں اسلام کو منفور ترین، تشدد پسند اور محبت و جذبات سے عاری دین کے عنوان سے پہچنوا رہا ہے۔ اس امریکی فرقہ کی پوری یہ سازش ہے کہ دین اسلام کا مکمل طور پر نقشہ بدل کر رکھ دے تاکہ اسلام کا نام جب زبان پرآئے تو اس سے جو چیز لوگوں کے ذہنوں میں تبادر کرے وہ قتل ہو، تشدد ہو، خون ہو، بم دھماکہ ہو، انسان کشی ہو۔ تاکہ دنیا کا کوئی غیر مسلم اسلام کی طرف رخ کرنے کی سوچ بھی نہ سکے۔ یہ اسرائیل اور امریکہ کی سب سے بڑی سازش ہے۔
جب عصر حاضر میں، اس پیشرفت زمانے میں، جدید ٹکنالوجی نے اسلام کے متعلق ریسرچ کے ذرائع کثرت سے ہموار کر دئے تو عیسائی جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ ایسے میں عالمی استکبار کے پاس سوائے اس کے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں بچا تھا جس کے ذریعے وہ غیر مسلمانوں کو اسلام سے متنفر کر سکیں۔ ان کے پاس صرف ایک ہی چارہ کار تھا کہ وہ خود مسلمانوں کے درمیان ایسا فرقہ پیدا کریں جو بظاہر مسلمان ہوں لیکن باطنی طور پر ان کے مقاصد کو پورا کرتے ہوں۔ وہابیت امریکہ اور عالمی استکبار کا پیدا کردہ فرقہ ہے جس کا مقصد صرف محمدی اسلام کو نابود کرنا اور امریکی اسلام کو دنیا میں نافذ کرنا ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ ابھی بھی بیدار ہو جائیں صبح کا بھولا ہوا اگر شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے۔ ابھی بھی وقت ہے شیعہ اور سنی مل کر اس امریکی فرقے کے خلاف بیک زبان آواز اٹھائیں اور اس کے جرائم آشکار کریں۔ شیعہ سنی علماء کھلے عام یہ اعلان کریں کہ اس فرقہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ امریکی اسلام کا پرچار کرنے والا اور امریکی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والا فرقہ ہے تاکہ جاہل عوام ان کی مکاریوں سے بچ سکیں۔ تمام شیعہ سنی مسلمان مل کراگر میدان عمل میں اس فرقہ ضالہ کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کریں گے تو یاد رکھیں کہ یہ دجالِ زمانہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس کے بعد جو ان کے افکار ماننے کو تیار نہیں ہوں گا اس کی گردن ہو گی اور وہابیوں کی تلوار۔ ابھی وقت ہے خود کو بھی بچائیں اور اپنے دین کو بھی بچائیں جس کے لیے ہمارے رسول نے پتھر کھائے، جس کے لیے ہمارے رسول نے زخم کھائے جس کے لیے ہمارے رسول نے فاقے کئے۔ آو اس رسول کا کلمہ پڑھنے والے مسلمانو! اسلام کو بچاو۔ اسلام تمہیں پکار رہا ہے، اسلام کو تمہاری ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی