وہابیت کی پیدائش، اس کے اہداف و مقاصد اور نظریات(۱)

وہابیت کی پیدائش، اس کے اہداف و مقاصد اور نظریات(۱)

فرقہ وہابیت نے وجود میں آتے ہی مذہب تشیع کے ساتھ دشمنی کا قد علم کر دیا تھا بلکہ یہ فرقہ در حقیقت مذہب تشیع ہی خلاف وجود میں لایا گیا تھا لیکن چودہویں صدی ہجری میں امام خمینی(رہ) کی رہبری میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد شیعوں کی نسبت اس فرقے کی تشدد آمیز کاروائیوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور شیعت کے خلاف تبلیغ زور پکڑ گئی یہاں تک کہ دقیق رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں جو وہابیت کا مرکز ہے اس وقت ایک شب و روز کے اندر سینکڑوں مقالے، کتابیں اور میگزین شیعوں کے خلاف چھپتے ہیں، بڑے پیمانے پر کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں جن میں مختلف طرح کے مغالطوں سے شیعوں کو کافر ٹھہرایا جاتا ہے اور کئی ایسے تبلیغی سنٹر اور ایجنسیاں قائم کی گئی ہیں جن کا مقصد صرف شیعوں کے خلاف منصوبہ بندی کرنا اور سازشیں رچانا ہے۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔مولف: حجۃ الاسلام و المسلمین عباس جعفری فراہانیمقدمہدنیا کے تمام مسلمان اور غیر مسلمان اس بات کے گواہ ہے کہ کچھ سالوں سے امریکہ اور صہیونیت کے زیر سایہ تربیت یافتہ وہابی نامی فرقہ مسلمانوں  خاص طور پر شیعوں کا قتل عام کر رہا ہے اور مظلوم اور نہتے عوام کو خاک و خون میں غلطاں کرنے میں مصروف ہے جبکہ انسانی حقوق کے تحفظ کا نعرہ لگانے والی عالمی تنظیموں کے کانوں میں جوں تک بھی نہیں رینگ رہی ہے اور وہ خاموشی سے تماشائی بنی ہوئی ہیں اور عالمی استکبار جو ان ظالموں کی کھلے عام حمایت کر رہا ہے کے سامنے ان کی بولتی بند ہے!ان واقعات اور حادثات کے پیش نظر ہم اس مقالے میں کوشش کریں گے کہ ان تشدد آمیز کاروائیوں کو وجود میں لانے والے اس فرقے پر ایک تحقیقی نگاہ ڈالیں جو سعودی عرب، قطر اور ترکی کی براہ راست حمایت سے انسان کشی اور حقیقی اسلام کی نابودی کے در پہ ہے۔ اس مقالے میں ہم یہ بیان کریں گے کہ یہ فرقہ جو محمد بن عبد الوہاب کے ذریعے معرض وجود میں آیا کیسے پیدا ہوا؟ اس کو وجود میں لانے کے اہداف و مقاصد کیا تھے؟ اور ان کے نظریات اور افکار کیا ہیں؟اصلی گفتگو میں وارد ہونے سے پہلے درج ذیل نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:۱: فرقہ وہابیت جو جزیرۃ العرب میں محمد بن عبد الوہاب تمیمی نجدی (۱۱۱۵۔۱۲۰۶ھ ق) کے ذریعے بارہویں صدی ہجری میں معرض وجود میں آیا ایک گمراہ، منحرف اور اسلامی تعلیمات سے دور فرقہ تھا کہ جس نے اب تک عالم اسلام کے اندر سوائے فتنہ پروری اور قتل و غارت کے کچھ نہیں کیا۔۲: خالص توحید اور ہر طرح کے شرک کی نفی کرنے والا یہ فرقہ ضالہ عالمی استکبار اور استعمار کے ساتھ ساز باز کر کے اسلامی عقائد میں تحریف اور اسلامی آثار کو مٹا کر دین مبین اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کرنا چاہتا ہے۔ ۳: امریکہ اور برطانیہ نے مسلمانوں کے اندر یہ فرقہ وجود میں لا کر مسلمانوں کو پاش پاش کرنے کے لیے اپنا آلہ کار بنایا اور مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کو گہرا صدمہ پہنچایا۔۴: اس فرقہ نے سر زمین وحی پر اپنا قبضہ جما کرایک طرف تو خالص توحید کا دعوی کیا اور دوسری طرف کفار و مشرکین اور دشمنان اسلام کے ساتھ دوستانہ روابط قائم کر کے اسلامی سرمایے کو ان تک منتقل کر دیا۔۵: فرقہ وہابیت نے وجود میں آتے ہی مذہب تشیع کے ساتھ دشمنی کا قد علم کر دیا تھا بلکہ یہ فرقہ در حقیقت مذہب تشیع ہی خلاف وجود میں لایا گیا تھا لیکن چودہویں صدی ہجری میں امام خمینی(رہ) کی رہبری میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد شیعوں کی نسبت اس فرقے کی تشدد آمیز کاروائیوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور شیعت کے خلاف تبلیغ زور پکڑ گئی یہاں تک کہ دقیق رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں جو وہابیت کا مرکز ہے اس وقت ایک شب و روز کے اندر سینکڑوں مقالے، کتابیں اور میگزین شیعوں کے خلاف چھپتے ہیں، بڑے پیمانے پر کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں جن میں مختلف طرح کے مغالطوں سے شیعوں کو کافر ٹھہرایا جاتا ہے اور کئی ایسے تبلیغی سنٹر اور ایجنسیاں قائم کی گئی ہیں جن کا مقصد صرف شیعوں کے خلاف منصوبہ بندی کرنا اور سازشیں رچانا ہے۔۱:محمد بن عبد الوہاب کون تھا؟جزیرۃ العرب (سعودی عرب)(۱) میں بارہویں صدی ہجری میں وہابی نامی ایک فرقہ نے ظہور کیا جس کا بانی شیخ محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان تھا جو ۱۱۱۵ ھ ق میں شہر عُیَینہ میں پیدا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بچپنے سے ہی تفسیری، حدیثی اور کلامی کتابوں کے مطالعہ کا شوق رکھتا تھا (۲) اس نے فقہ حنبلی کو اپنے باپ کے پاس پڑھا جو اس وقت علمائے حنبل میں سے تھا اور اس شہر کا قاضی تھا۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب نے مزید علم حاصل کرنے اور علمی معلومات اکٹھا کرنے نیز لوگوں کے عقائد و افکار سے آشنا ہونے کے لیے مخلتف شہروں جیسے حریملا، مکہ، مدینہ، بصرہ اور احساء کا سفر کیا۔ اس کے ان تمام شہروں کے سفر ۱۱۳۹ ہجری قمری کے بعد ہی شروع ہوئے۔ ان شہروں کے سفر کے دوران محمد بن عبد الوہاب نے لوگوں کے بعض عقائد و افکار کو مورد تردید قرار دیا اور خانہ کعبہ کے طواف کے دوران مسلمانوں کے عبادتی اعمال، قبور کی زیارت، اولیاء سے توسل، شفاعت وغیرہ جیسے مسائل پر نکتہ چینی شروع کی جو خود اس کے والد عبد الوہاب اور مکہ اور مدینہ کے دیگر سنی علماء کے غصے کا باعث بنی۔ اس نے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ مسلمانوں مخصوصا شیعوں پر کفر کے فتوے لگانا شروع کئے اور اعلان کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر مبارک کی زیارت اور آنحضرت سمیت تمام انبیاء اور اولیائے الہی سے توسل کرنا شرک ہے!اس کے باپ نے اس سے کہا کہ اس طرح کی انحرافی باتیں نہ کرے(۵) اس کا باپ اور بھائی محمد بن عبد الوہاب کے تفکر کے ساتھ مبارزے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اس کے بھائی نے دو کتابیں اس کے افکار کی رد میں لکھیں ایک  "الصواعق الإلهية فى الرّد على الوهابية" اور دوسری "فَصل الخطاب فى الرّد على محمدبن عبدالوهاب"۔ محمد بن عبد الوہاب اور اس کے بھائی اور باپ کے درمیان نظریاتی اختلاف صرف کتابوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کی عملی زندگی اور عبادی امور جیسے مناسک حج، قبور کی زیارت، توسل اور شفاعت وغیرہ میں بھی سرایت کر گیا اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کے درمیان بھی پھیل گیا۔ لوگ ابن عبد الوہاب کی باتوں سے سخت ناراض ہوتے تھے اور علماء اور بزرگان مخصوصا ان کے شاگردوں کے والدین عبد الوہاب کے پاس اس کی شکایت کرتے تھے۔ عبد الوہاب اپنے بیٹے کو منع کیا کرتے تھے لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ (۶) آخر کار اس کا باپ سن ۱۱۵۳ ھ میں فوت کر گیا۔باپ کے انتقال کے بعد شیخ محمد بن عبد الوہاب کو اپنے افکار پھیلانے اور اس کی ترویج کرنے کا بہترین موقع مل گیا اس نے اپنے کچھ مرید تیار کر لئے جو اس کی انحرافی باتوں کی تبلیغ کرتے جبکہ کچھ لوگ اس کی مخالفت میں احتجاج بھی کرتے اور اس کے قتل کا منصوبہ بھی بناتے تھے، یہاں تک کہ ۱۱۴۵ ھ میں اس نے رسمی طور پر علی الاعلان اپنے عقیدہ کا اظہار کر دیا (۷) اور ایک نئے فرقے ‘‘وہابیت ’’ کی بنیاد ڈال دی۔قابل ذکر ہے کہ  نجد اور حجاز کے بعض ان علاقوں کا بھی محمد بن عبد الوہاب نے دورہ کیا جن میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کئی افراد گزرے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب ان جھوٹے نبیوں کی داستانوں کا مطالعہ کرنے کا بڑا شوقین تھا۔ بنوت کے جھوٹے دعویداروں میں سے بعض لوگ یہ تھے:مسیلمہ وائلی یا مسیلمہ کذاب عُیینہ کے علاقے میں پیدا ہوا۔ اسلام کے ظہور کے بعد یہ علاقہ مسلمانوں کے اختیار میں آگیا مسیلمہ کو پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر کیا گیا لیکن وہ پیغمبر کے آگے تسلیم نہیں ہوا اور پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں ایک خط لکھ کر نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔اس نے خط میں یوں لکھا: ’’مسیلمہ سے پیغمبر خدا محمد رسول اللہ کی طرف، سلام علیکم، میں بھی نبوت میں آپ کے ساتھ شریک ہوں۔ لہذا آدھی زمین میری ہے اور آدھی قریش کی ہے اگر چہ قریش ظالم لوگ ہیں‘‘۔رسول خدا(ص) نے اس کے جواب میں لکھا: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ محمد رسول اللہ سے مسیلمہ کذاب کی طرف، سلام اس پر جو ہدایت کا پیرو ہے اما بعد، زمین خدا کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے عطا کرتا ہے اور عاقبت صاحبان تقویٰ کی ہے‘‘۔(۸)  خلیفہ اول کے دور میں لشکر اسلام نے بنی حنیفہ جہاں مسیلمہ کذاب رہتا تھا کے علاقے پر حملہ کیا اور سَن ۱۲ ہجری کو اسے ہلاک کر دیا۔۲: سحاح بنت حارث تمیمی نامی خاتون نے بھی رحلت پیغمبر اکرم (ص) کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اس کے قبیلہ والوں میں سے بعض لوگ اس کے ساتھ ہوگئے اور مسیلمہ کذاب اور سحاح کے درمیان ہونے والی ایک جنگ کے دوران سحاح نے مسیلمہ کذاب سے شادی کر لی۔ مسیلمہ کی ہلاکت کے بعد وہ مصر بھاگ گئی اور معاویہ کے دور حکومت میں مر گئی۔(۹)۳: اسعد ذوالحنار تاریخ اسلام کا پہلا مرتد ہے جس نے مسلمان ہونے کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور رسول اسلام(ص) کے حکم سے سن ۱۱ ہجری کو اس کا قتل کر دیا گیا۔(۱۰)۴: طلیحہ بن خویلد جو عرب کے بہادر لوگوں میں سے شمار ہوتا تھا ہجرت کے نویں سال کئی افراد کے ہمراہ پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا لیکن کچھ عرصے کے بعد مرتد ہو گیا اور خود نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا اور اس کے بعد اس نے اپنے بہت سارے مرید جمع کر لیے اور مدینہ پر چڑھائی کر ماری۔ لیکن مسلمانوں نے ان کو پیچھے بھاگنے پر مجبور کر دیا اور آخر کار طلیحہ، نہاوند میں قتل ہو گیا۔(۱۱)محمد بن عبد الوہاب شہر حریملا کے لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے عُیینہ کوچ کر گیا۔ اس شہر کے حاکم عثمان بن حمد معمر نے اسے اپنے ساتھ حکومت میں شراکت کے لیے ابھارا اس نے عثمان بن حمد معمر کی دعوت قبول کر کے حکومت میں قدم جما لئے اور حکومت میں داخل ہونے کے بعد پہلا قدم یہ اٹھایا کہ خلیفہ دوم کے بھائی شہید زید بن الخطاب کی قبر کو مسمار کیا۔ احساء اور قطیف کے حاکم سلیمان بن محمد بن عزیز کو خبر ملی انہوں نے شہر عیینہ کے حاکم کی طرف خط لکھ کر محمد بن عبد الوہاب کے قتل کا حکم دیا۔ لیکن عثمان اس کو قتل نہیں کر سکتا تھا چونکہ اس نے خود اس کو حکومت میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی اس وجہ سے اس نے ابن عبد الوہاب کو شہر سے نکال دیا۔ آخر کار محمد بن عبد الوہاب سن ۱۱۶۰ ہجری میں شہر درعیہ میں اس جگہ منتقل ہوا جہاں مسیلمہ کذاب رہتا تھا وہاں اس نے محمد بن سعود کے ساتھ سیاسی مذاکرات کئے اور آپس میں عہد و پیمان باندھے۔ ان دو افراد کا اتحاد اس بات کا باعث بنا کہ محمد بن عبد الوہاب کے انحرافی نظریات اسلامی ممالک میں پھیلیں اور ایک نئے فرقے ’’وہابیت‘‘ کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنیں۔محمد بن عبد الوہاب نے ۱۱۴۳ ہجری میں اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ اپنے فرقے کی ترویج کی اور لوگوں کو خالص توحید کے نام اپنے انحرافی افکار کی طرف دعوت دینا شروع کی اور اس نے اعلان کیا کہ وہ حقیقی اسلام کی تعلیم دینا چاہتا ہے جو اسلام کے اسلاف و اکابر شخصیات کی آئین ہے(۱۳)(۲)اساتید محمد بن عبد الوہاب نجد میں تقریبا ۱۱۲۰ سے ۱۱۳۹ ہجری تک اپنے باپ کے پاس رہا اور احمد بن حنبل کے مذہب کے مطابق تاریخ، حدیث اور فقہ کے مختلف دروس ان سے حاصل کئے اور کہا جاتا ہے کہ ۱۱۳۵ سے ۱۱۴۹ تک سفر حج کے دوران وہاں کے بعض علماء جیسے شیخ عبد اللہ بن ابراہیم (متوفیٰ ۱۱۴۰ق) اور ابراہیم بن عبد اللہ( متوفیٰ ۱۱۸۹ ق) وغیرہ سے بھی علم حاصل کیا جسا کہ اس کے بعض مکتوبات سے یہ چیز معلوم ہوتی ہے۔ شہر بصرہ میں بھی اس نے شیخ محمد المجموعی سے کچھ مسائل کے متعلق جانکاری حاصل کی۔(۱۴)(۳)سفرمحمد بن عبد الوہاب نے جو سفر کئے ان کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے جیسا کہ اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ کیا اس نے مکہ مدینہ اور بصرہ کے علاوہ دوسروں شہروں کے سفر بھی کئے یا نہیں؟ چنانچہ بعض مورخین کے مطابق محمد بن عبد الوہاب نے جزیرہ عرب سے باہر بھی سفر کیا ہے۔ ذیل مورخین کے اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دو گروہوں کے نظری


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی