وہابی دعوت؛ اے یزید کے بیٹو! حضرت زینب (س) کا حرم منہدم کرو / اپڈیٹ

حضرت زینب (س) کا حرم منہدم کیا جائے / آل سعود کی ہنگامی کانفرنس، دہشت گردوں کے لئے رقم کا انتظام / دمشق دھماکے میں امریکہ ملوث / شام محاذ مزاحمت کا اگلا مورچہ باقی رہے گا / امریکہ بڑی طاقت سے دہشت گردی کے حامی ملک میں تبدیل / خبرساز بریگيڈیئر کی دمشق واپسی / اے یزید کے پوتو اے معاویہ کے فرزندو! بنت علی (ع) کا حرم منہدم کرو۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، وسیع امریکی، اسرائیلی، برطانوی، ترکی، سعودی اور قطری تشہیری مہم کے ساتھ ساتھ، القاعدہ اور وہابیت نے بھی شام میں اپنا کردار ادا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور دمشق کے نواح میں واقع سیدہ زینب (س) کے علاقے پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن شامی افواج نے تیز رفتاری سے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی اور اس علاقے میں فوج کی تعیناتی عمل میں آئی۔ مسلح دہشت گردوں نے ایسے حال میں سیدہ زینب (س) کے علاقے پر حملہ کیا کہ حالیہ ایام میں صہیونیت اور یہودی ریاست کو بچانے والے وہابی مولویوں کے فتوے ٹی وی چینلوں پر نشر کئے جن میں دہشت گردوں سے درخواست کی گئی تھی کہ سیدہ زینب (س) کے علاقے پر مسلط ہوکر حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے حرم شریف کو منہدم کردیں اور اس بات سے معلوم ہوا ہے کہ شام میں سرگرم عمل دہشت گرد ٹولوں کا تعلق بیرونی وہابی تفکرات و تصورات سے ہے اور ان کی کوشش یہ ہے کہ یہودی ریاست کے قطعی زوال کو روکنے کے لئے شام کو ـ محاذ مزاحمت کے اگلے مورچے کی حیثیت سے ـ عدم استحکام اور بدامنی سے دوچار کردیں اور اس مقصد کے لئے اس ملک میں فرقہ واریت اور قومی و قبائلی جنگوں کو ہوا دیں۔ ــ سعودیوں کی ہنگامی کانفرنس، شامی دہشت گردوں کے لئے رقم کا انتظامملک کے اندر عوام کی شہ رگوں پر پولیس بٹھانے والے اور شام میں "جمہوریت کے لئے کوشاں مطلق العنان سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے "اسلامی یکجہتی کانفرنس" (!) کے عنون سے فوری اور ہنگامی کانفرنس بلائی ہے اور جمہوریت کے لئے ترسنے والے عوام سے کہا ہے کہ وہ شام میں جمہوریت کے قیام کے لئے مسلح دہشت گرد ٹولوں کے لئے چندہ جمع کرائيں۔ یاد رہے کہ شام میں جاری بغاوت کو سعودی عرب اور قطر کے علاوہ ترکی، اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حمایت بھی حاصل ہے اور اس کا اصل مقصد قطعی زوال کا سامنا کرنے والی غاصب صہیونی ریاست کو بچانا ہے جس کے لئے اسلام کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے اور آل سعود کے بادشاہ اور دیگر حکام ایک بار پھر استعمار اور اسرائیل کی خدمت کے لئے اسلامی اخوت کا نام استعمال کررہے ہیں۔ آل سعود کے مطلق العنان بادشاہ ـ جو دنیا بھر میں فرقہ واریت کے لئے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے خاصے بدنام ہیں ـ نے "اسلامی یکجہتی" کے نام سے کانفرنس مکہ مکرمہ میں بلوائی ہے جو 15 اگست کو منعقد ہوگی۔ دنیا کے مسلمانوں اور غیرمسلموں کو معلوم ہے کہ شام کے خلاف عالمی سازش یہودی ریاست کو بچانا ہے لیکن آل سعود کے وزیر خارجہ "سعود الفیصل" نے کہا ہے کہ "یہ کانفرنس اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور وحدت کے لئے منعقد ہورہی ہے لیکن انھوں نے یہ نہيں بتایا کہ آل سعود کے نزدیک اسرائیل کی خدمت اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کیونکر سمجھی جارہی ہے۔ سعودی بادشاہ نے فرمان جاری کیا ہے کہ جمہوریت اور عوامی حقوق اور بادشاہت سے نجات کے لئے ترسنے والے بلادالحرمین فوری طور پر شام کے عوام کو مدد پہنچانے (!) کے لئے چندہ جمع کرائیں۔ بادشاہ نے بھی اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ ایک چھوٹے سے مسلح دہشت گرد ٹولے کو ایک ملک کے عوام کا لقب کیونکر دیا جاسکتا ہے جبکہ آل سعود اور آل ثانی کے علاوہ ترکی، اسرائیل اور امریکہ و یورپ نے بھی "ان ہی عوام" کو مدد پہنچانے کے لئے تشہیری مہم چلا رہے ہیں، ہتھیار شام میں داخل کررہے ہيں، جاسوسی کروا رہے ہيں اور شام کے اعلی حکام اور سائنسدانوں کو قتل کرنے ميں آل سعود اور آل ثانی کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور اس شرارت اور جرم کو شامی عوام کی مدد کا نام دیا جارہا ہے۔ اپنے عوام کی سوچ اور فہم و شعور تک پر قدغن لگانے والی آل سعود کی وزارت داخلہ نے بھی کہا ہے کہ شامی عوام کی مدد کے لئے امداد اکٹھی کرنے کی یہ مہم سعودی سرحدوں کے اندر چلائی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ شام میں اسرائیل و امریکہ مخالف مزاحمت محاذ کو توڑنے کی غرض سے شروع کرائی جانے والی بغاوت کے آغاز سے ہی آل سعود اور قطر پر مسلط خاندان آل ثانی نے اس بغاوت کی اعلانیہ حمایت کا اعلان کیا ہے اور اس ملک میں فوجی اور مالی امداد نیز افرادی قوت بھجوا رہے ہیں۔

ــ دمشق دھماکے میں امریکہ ملوث تھالبنانی سیاسی راہنما کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی میں امریکہ ملوث تھا۔ اطلاعات کے مطابق لبنان میں "ناصریون کی مستقل تحریک" کے کمانڈ بورڈ" کے رکن "مصطفی حمدان نے دمشق میں ہونے والی دہشت گردانی کاروائی میں ـ جس میں شام کے وزیر دفاع اور کئی اہم سرکاری حکام جاں بحق ہوئے ـ امریکہ اور اسرائیل دونوں ملوث تھے اور یہ ایک امریکی ـ اسرائیلی کاروائی تھی۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ آل سعود اور آل ثانی بھی اس گندی جنگ میں محاذ مزاحمت میں لڑ رہے ہیں اور عرب لیگ بھی قطر اور سعودی حکمرانوں کی باندی کا کردار ادا کررہی ہے جیسا کہ عالمی سطح پر بان کی مون بھی اپنے فرائض منصبی پر عمل کرنے اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے، امریکی وزارت خارجہ کے ایک ادنی ملازم کی حیثیت سے، مختلف ملکوں کا دورہ کرکے انہيں شام کے خلاف اقدامات پر آمادہ کرنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ حمدان نے المنار ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: کہ شام کی قومی سلامی کونسل کی عمارت میں بم امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں نے بڑی مہارت سے رکھوائے تھے۔واضح رہے کہ شام کے بعض ذرائع نے کہا ہے کہ امریکی سفیر کی رہائشگاہ شام کی سلامتی کونسل کی عمارت کے ساتھ ہی واقع ہے اور دہشت گردوں کو امریکی سفیر کی رہائشگاہ سے سلامتی کونسل کی عمارت میں داخل کرایا گیا تھا جہاں انھوں نے بم رکھوائے اور حکومت شام پر براہ راست حملہ کیا گو کہ اس حملے سے امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں اور عرب کٹھ پتلیوں کو کامیابی کی بجائے بدنامی اور رسوائی ملی۔ به گزارش پایگاه اطلاع رسانی شبکه العالم، "مصطفی حمدان" تأکید کرد: انفجار هفته قبل در ساختمان مرکز امنیت ملی دمشق، یک عملیات اطلاعاتی حمدان نے کہا کہ دمشق دھماکے کے بعد شامی افواج کر ہدایت کی گئی ہے کہ تخریبکاروں کو دیکھتے ہی گولی ماریں۔انھوں نے کہا: آج شام میں لڑی جانے والی جنگ کے دو ہی فریق ہیں: اسرائیل اور اس کے حامی اور اسرائیل اور اس کے حامیوں کے دشمن۔

ــ شام ہمیشہ کے لئے محاذ مزاحمت کا اگلا مورچہ باقی رہے گا تزویری (اسٹراٹیجک) امور کے ایک مبصر کا کہنا تھا کہ شام علاقے میں محاذ مزاحمت کے اصلی مراکز اور محاذوں میں سے ہے اور ہمیشہ کے لئے اسی صورت میں باقی رہ کر اپنا کردار ادا کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق شام کے تزویری (اسٹراٹیجک) امور کے مبصر "سلیم حربا" نے کہا کہ محاذ مزاحمت کی حکمت عملی اور علاقے پر مغربی قوتوں کے تسلط کی مخالفت ایک ہی حکمت عملی ہے لیکن اس اسٹریٹجی کے نفاذ کی روشیں وقت اور مقام کے لحاظ سے اور حالات و واقعات کے حوالے سے مختلف ہوسکتی ہیں۔ انھوں نے کہا: شام نے مزاحمت میں مرکزی کردار ادا کیا ہے اور اسی وجہ سے آج حملوں اور سازشوں کا سامنا کررہا ہے اور شام میں دہشت گرد ٹولوں کے اقدامات اس جنگ کا حصہ ہیں جو شام کی حکومت کے خلاف یہودی صہیونی ریاست نے شروع کررکھی ہے اور یہودی ریاست عرب ریاستوں اور ترکی یا پھر عرب ریاستوں اور ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے سے امریکی منصوبے "یعنی عظیم تر مشرق وسطی کے قیام کے منصوبے" کے نفاذ کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے کہا: حکومت شام میں طاقت بھی ہے اور عزم و ارادہ بھی ہے اور وہ ہر وقت اور ہر مقام پر دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پر عزم بھی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عرب ریاستوں اور سعودی عرب و قطر کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف اس کی جنگ، اس جنگ کا آدھا حصہ سمجھا جاتا ہے اور حقیقی جنگ شام کی تزویری حکمت عملی کے عنوان سے، اصلی دشمن یعنی اسرائیل کے خلاف ہے جو پوری قوت سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا: شام کے خلاف ہونے والے ہر اقدام میں یہودی ریاست بلاواسطہ یا پھر بالواسطہ طور پر ملوث ہے اور شام کے اندر دہشت گرد ٹولوں کی امداد بھی اسرائیلی ایجنسیاں ہی کررہی ہیں لیکن یہودی ریاست کی ایجنسیاں یہ امداد سعودی عرب، قطر اور ترکی کے ذریعے پہنچا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا: دہشت گردی در حقیقت شام میں ایک وسیع تر جنگ آغاز کرنے کی تمہید ہے اور جارحیت و دہشت گردی شام میں اسرائیلی ریاست کے اصلی اوزار ہیں جس کے لئے مالی ایندھن کی فراہمی کی ذمہ داری عرب ریاستوں کو سونپ دی گئی ہے۔انھوں نے کہا: قبلہ اول پر قابض یہودی ریاست اس وقت شام میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا نتیجہ دیکھنے کے درپے ہے چنانچہ اس نے مقبوضہ جولان کے علاقے سے خطرات پیدا کرنے کی کوششوں میں اضآفہ کیا ہے اور اب عرب ریاستوں کے ذرائع کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی شام کے خلاف شدید تشہیری مہم چلارہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دمشق میں ہونے والے دھماکے میں موساد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

ــ امریکہ دہشت گردی کا سادہ سا حامیسابق روسی سفارتکار نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایک بڑی طاقت سے دہشت گردی کے معمولی سے حامی میں تبدیل ہوچکا ہے۔  اطلاعات کے مطابق سابق روسی سفارتکار، نے شام میں ماسکو اور واشنگٹن کے نزاع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ شام میں ایسے اقدامات کررہا ہے یا ایسے اقدامات کی حمایت کررہا ہے جن سے یہ ظاہر نہيں ہورہا ہے کہ یہ ایک بڑی عالمی طاقت ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس مقام سے گر اب دہشت گردی کے حامی ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ویچسلاؤ موتوزوف نے اتوار کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: دنیا نے 2001 میں امریکہ پر ہونے والے حملے کے بعد دہشت گردی کی تمام شکلوں اور قسموں کا مقابلہ کیا اور روس نے اس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ تعاون بھی کیا لیکن آج امریکہ شام میں دہشت کردی کا اصل حامی ہے اور یوں یہ ملک دہشت گردی کے اصلی حامی ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا: روس اپنی تمام تر طاقت بروئے کار لا کر شام میں جنگ رونما ہونے اور اس ملک میں بیرونی فوجی مداخلت کا سد باب کرنے کا عزم رکھتا ہے جبکہ شام میں دہشت گردی کرنے والے مسلح ٹولے مغربی اور بعض عرب ممالک کے کٹھ پتلی ہیں اور شام میں ان ممالک کی سازشوں پر عملدرآمد کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شام میں بین الاقواموں نگرانوں کی مدت نگرانی میں اضافے سے امریکہ سیخ پا ہوچکا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے نگران جو رپورٹیں اقوام متحدہ کو فراہم کررہے ہیں وہ امریکہ اور عرب ریاستوں کی تشہیری مہم سے بالکل مختلف ہیں اور حقائق سے پردہ اٹھتا ہے تو امریکی سیخ پا ہوجاتے ہیں اور بین الاقوامی نگرانی کے مشن کی تجدید یا عدم تجدید پر امریکہ اور روس کے تنازعے کے اسباب یہیں سے واضح ہوجاتے ہیں۔

ــ شام دشمن ممالک مایوس، خبرساز بریگيڈیئر کی دمشق واپسی


اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی