تکفیری وہابیت اور اسرائیل کی خطرناک سازش کا انکشاف؛

تکفیری وہابی تفکر کو فروغ دینے کے لئے سعودی حکمران اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں

مصری روزنامے الانوار کے چیف ایڈیٹر نے سعودی عرب کی دولت سے علاقے میں تکفیری وہابیت کی ترویج کی نہایت خطرناک سعودی سازش کا پردہ چاک کرلیا ہے جس کا مقصد یہودی ریاست کو تحفظ دینا اور مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑانا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے سینئر صحافی "عادل الجوجری" نے منگل (12 جون 2012 کو) العالم سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تکفیری وہابیت نہ صرف عالم اسلام اور مشرق وسطی کے علاقے کے امن و امان کو چیلنج کررہی ہے بلکہ اس کا فروغ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ مصری روزنامہ نویس نے کہا: تکفیری وہابی تفکر کی ترویج کا مقصد عرب اسرائیل لڑائی کو عرب ایران لڑائی میں تبدیل کرنا اور شیعہ اور سنی عوام کے درمیان لڑائی کا آغاز کرنا اور آخر کار اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ الجوجری نے کہا: علاقے میں تکفیری وہابیت کے فروغ کا ایک مقصد عرب ممالک کو کمزور اور بے برس کرنا اور اسلامی بیداری کی تحریک کو سعودی عرب میں داخل ہونے سے روکے رکھنا ہے تا کہ ریاض تبدیلیوں کے اس عمل سے محفوظ رہے اور یہ ملک اسرائیل کے ساتھ مل کر علاقے کی بڑی طاقت بن سکے اور امریکی کی خواہش بالکل یہی ہے۔ مصری روزنامہ نویس نے کہا: تکفیری وہابیوں کے خلاف ایک عالمی جمعیت کے لئے رابطہ مہم کا آغاز ہوچکا ہے یہ ایک عالمی دعوت ہے جو صرف علاقائی اور اسلامی ممالک تک محدود نہيں ہے کیونکہ تکفیری تفکر بین الاقوامی دہشت گرد ٹولوں سے وابستہ ہے جو پوری دنیا کے انسانوں کے لئے خطرے کا باعث ہے۔ انھوں نے کہا: دنیا میں کوئی بھی ایسی جگہ نہیں ہے جس میں اسرائیل کے حملوں کی نشانیاں نہ ملتی ہوں اور اسرائیلی اور امریکی مفادات کے حصول کے لئے وہاں مختلف منصوبے نافذ نہ کئے گئے ہوں اور صہیونی دشمن اپنی درندگی اور شرپسندی کے ذریعے اپنے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی دنیا میں مسلسل بدنام کررہا ہے۔  انھوں نے کہا: اس وقت وہابی اور تکفیری تفکر کی کوشش یہ ہے کہ عرب ممالک میں بیداری کی تحریک اور انقلابات رونما ہونے کا انسداد کرے اور موجودہ خلا کو سعودی پیسے، سیٹلائٹ چینلز اور ایسے دین کے ذریعے پر کرے جس کی جڑیں فتنوں میں پیوست ہیں اور اس وقت مختلف ممالک منجملہ شام میں دہشت گردی کی لہریں اس کا منطقی نتیجہ ہیں اور یہ دین پوری دنیا میں دہشت گردی اور انسانیت کشی کی اصل بنیاد اور سرمنشأ ہے؛ وہابی مفتی اور آل سعود کی تشہیری مہم کے کرتے دھرتے شام کی ـ صہیونی دشمن کی خدمت کے مقصد سے ـ حکومت، فوج اور عوام کے خلاف جہاد کی دعوت دے رہے ہیں اور یوں یہ تفکر پیسے اور تشہیر کے ذریعے اپنے مقاصد کے لئے کوشش کررہا ہے۔ الجوجری نے کہا: تکفیری وہابیت کے شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم "نیٹو" اور یہودی ریاست "اسرائیل" کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہابیت، نیٹو اور یہودی ریاست کی کوشش ہے کہ شام کی حکومت کا تختہ الٹ دیں اور مغربی تسلط کے خلاف پائی جانے والی مزاحمت تحریک کا خاتمہ کریں اور فرقہ وارانہ لڑائیوں کے لئے ماحول فراہم کریں۔ انھوں نے کہا: اس وقت جو سازش جاری ہے اس کا ابتدائی مقصد جھگڑوں اور اختلافات کی شکل و صورت اور سمت و جہت تبدیل کرنا ہے اور سايکس پیکو ـ 2 معاہدے کے تحت عرب اسرائیل لڑائی کو عرب ایران لڑائی اور سنی شیعہ چپقلش میں بدلنے کا منصوبہ ہے۔الجوجری نے کہا: وہابیت نے اب تک اس سلسلے میں بہت خطرناک کردار ادا کیا ہے اور ہم تیونس، لیبیا، مصر اور شام میں اس کردار کے بھونڈے نتائج دیکھ سکتے ہیں جہاں دہشت گردی پر مبنی تکفیری وہابیت کے پیروکار اقتدار کے حصول اور پارلیمانوں میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے اور دوسرے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کے لئے کثیر رقومات خرچ کر رہے ہیں۔مصری روزنامہ نویس نے کہا: تکفیری وہابیت اس وقت مصر، شام حتی کہ عراق میں سرگرم ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ عراق میں نوری المالکی کی حکومت کو بہت بڑے اور خطرناک مشکلات کا سامنا کررہی ہے کیونکہ صرف سعودی حکومت نے عراق کو غیر مستحکم کرنے اور نوری المالکی کو عدم اعتماد کا ووٹ دلوانے کے لئے پچاس کروڑ ریال خرچ کئے ہیں۔ الجوجری نے کہا: مصر، شام، تیونس، لیبیا اور عراق سمیت تمام عرب ممالک میں آل سعود کے ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ عرب ممالک کا عوامی انقلاب سعودی عرب میں داخل نہ ہونے پائے؛ یہ علاقے میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کی لہروں کے خلاف آل سعود کا جوابی حملہ (Counter Attack) ہے جس کا مقصد انقلابات کو محصور کرنا اور عربی بہار یا اسلامی بیداری کو "وہابی بہار" یا "وہابی تسلط" میں تبدیل کرنا ہے۔انھوں نے کہا: وہابیت نے اس وقت مصر، شام اور عراق کے مثلث کو نشانہ بنایا ہوا ہے تا کہ اس مؤثر مثلث کو کمزور کیا جاسکے اور سعودی عرب اسرائیل کے بعد علاقے کی دوسری بڑی طاقت بن کر اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ اور عرب ممالک کا استحصال کرسکے کیونکہ سعودی حکومت بھی اسرائیل کی مانند امریکہ سے جڑا ہوا ہے اور امریکہ آل سعود کے توسط سے عرب ممالک میں مداخلت کرتا ہے یا مداخلت کے لئے راستہ ماحول فراہم کرتا ہے۔  انھوں نے کہا کہ وہابیت اور آل سعود کا یہ منصوبہ اب ایک خفیہ سازش نہیں رہا بلکہ یہ سازش مکمل طور پر برملا ہوچکا ہے اور اس کی ایک علامت یہ ہے کہ جو بھی مصر اور دنیائے عرب کے ذرائع ابلاغ میں ایران اور مصر کے درمیان تعلقات کی بحالی کی بات کرتا ہے اس کو اعلانیہ طور پر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

..........

/110


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی