ویڈیو لنک؛

اہل سنت کے مفتی: مسلمانوں کی تمام بدبختیوں کی جڑ معاویہ اور ابو سفیان ہیں

شیخ الکبیسی نے واضح کیا کہ مسمانوں کی تمام مشکلات اور دشواریوں کی جڑ معاویہ اور اس کا باپ ابوسفیان، ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اہل سنت کے بزرگ فقیہ و مفتی شیخ احمد الکبیسی نے "دبی 1" ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کے تمام مسائل اور بدبختیوں کی بنیاد معاویہ اور اس کا باپ ابوسفیان ہیں۔انھوں نے کہا: وہابی ایسے حال میں معاویہ سے محبت کے نعرے لگا رہے ہیں کہ معاویہ نے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) پر، منابر کے اوپر، سبّ و لعن کا حکم دیا تھا۔بزرگ مفتی نے کہا: میں پورے وجود سے قسم کھاتا ہوں کہ امت اسلامی کو درپیش تمام مشکلات کی جڑ معاویہ اور اس کے باپ ابو سفیان ہیں۔انھوں نے اس مکالمے میں عالم اسلام اور مسلم امہ کے مؤثر تحفظ کے لئے شیعہ سنی برابری اور اتحاد پر زور دیا۔ٹی وی اناؤنسر نے پوچھا: آپ کی رائے میں ہمیں معاویہ کی پیروی کرنی چاہئے یا علی ابن ابیطالب کی؟ تو انھوں نے جواب دیا:علی کے پیروکار بنو تا کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ محشور ہوجاؤ۔

علامہ الکبیسی کا ویڈیو لنک ملاحظہ فرمائیں:

علی کے پیروکار بنو تا کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ محشور ہوجاؤ۔

انھوں نے معاویہ کو خلافت کا غاصب قرار دیا جبکہ دبی کے ایک تشہیری مرکز "مؤسسۃالاعلام لدبي" نے اماراتی وہابیوں کے دباؤ کے تحت ان کے موقف سے برائت کا اظہار کرتے ہوئے ان پر "صحابہ" پر حملے کا الزام لگایا۔ یادرہے کہ دبی 1 سیٹلائٹ چینل کا تعلق اسی ادارے سے ہے جس نے کہا ہے کہ الکبیسی نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے اور ان کی آراء کا اس مؤسسے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ یہ ادارہ اہل بیت اور صحابہ کے لئے احترام کا قائل ہے ...شیخ الکبیسی نے کہا ہے کہ معاویہ امت مسلمہ کی تمام مشکلات اور بدبّختیوں کی جڑ ہے، جس نے خلافت کو غصب کیا اور قیامت کے دن پوری اسلامی امت کا بوجھ اس کے کندھوں پر ہوگا۔ وہ دبی 1 سیٹلائٹ چینل کے پروگرام "وَ أُخَرُ متشابہات" میں اظہار خیال کررہے تھے۔انھوں نے ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی عظیم خدمات کو خراج تحسین و عقیدت پیش کیا اور وہابی دین کے بانی محمد بن عبدالوہاب پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ القرضاوی پاگل ہیں!۔انھوں نے الایلاف نیوز ویب بیس کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ القرضاوی نے امارات کے معاشرے کے لئے بڑے مسائل کھڑے کئے ہيں اور یہ بات ان کے ذہنی تناؤ اور فکری آشوب کی دلیل ہے اور وہی اسی بنا پر دین کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے دبی پولیس چیف کی طرف سے القرضاوی کی گرفتاری کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دبی پولیس چیف کو القرضاوی کی گرفتاری کا حق حاصل ہے۔ انھوں نے امارات میں شام کی حکومت کے مخالفین کے مظاہرے کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور انہیں امارات بدر کرنے کے اماراتی اقدام کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ اماراتی حکومت کا حق ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کی حفاظت کرے اور کسی کو بھی امارات کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا۔

لنک: <قطر کے سرکاری مفتی "القرضاوی" پر دبئی میں مقدمہ چلایا جائے گا>

یاد رہے کہ قطر کے سرکاری مفتی یوسف القرضاوی نے امارات کے حکمرانوں کو شامی مخالفین کی امارات بدری پر جہنم کی وعید دی تھی اور مصری اخوان المسلمین نے بھی امارات کے حکمرانوں کے اس اقدام کی مذمت کی تھی۔الکبیسی نے کہا کہ جب سے امارات میں القرضاوی کا داخلہ بند کردیا گیا ہے القرضاوی نے اس ملک کی دشمنی اپنے دل میں بسا رکھی ہے اور انھوں نے تمام سرخ لکیروں سے تجاوز کا ارتکاب کیا ہے۔ انھوں نے مصر کے مستقبل اور اس ملک میں سلفی گروہوں کی ریشہ دوانیوں پر شدید تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ عین ممکن ہے کہ سلفیوں اور وہابیوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مصر کا جدید سرکاری نظام اپنی تشکیل کے مرحلے میں ہی ناکامی سے دوچار ہوجائے۔انھوں نے وہابی مفتیوں کے کردار پر بھی کھڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وہابی مفتی نفسیاتی مریض ہیں۔اس سے قبل بھی شیخ الکبیسی نے کہا تھا کہ وہابی مولوی نفسیاتی مریض ہیں اور شیخ العریفی کی اسرائیل جانے کی کوشش اور عائض القرنی کی طرف سے "ان کی طرح قصیدہ لکھنے والے کے لئے 2 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان، ان کی نفسیاتی بیماری کے علائم ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہابیوں کے عجیب فتوؤں کا سبب یہ ہے کہ وہ سب نفسیاتی لحاظ سے مریض ہیں اور ان کا موقف جواب دینے کے لائق نہيں ہے۔انھوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک وہابی مفتی نے کعبہ کو گرانے کا فتوی دیا تھا کہ ان کے بقول کعبہ کی وجہ سے عورتوں اور مردوں کے درمیان اختلاط لازم آتا ہے اور مردوں اور عورتوں کا طواف ان کے اکٹھے ہونے کا سبب بنتا ہے!؛ اور یہ وہابی مفتیوں کی نفسیاتی بیماری کا بہت اہم ثبوت ہے۔وہابی سوچ کے حامل افراد نیز حکومت قطر و حکومت آل سعود اور سعودی مفتی الکبیسی سے سخت ناراض ہیں اور امارات کے وہابی بھی ان کے خلاف بپھر گئے ہیں جبکہ لگتا ہے کہ امارات کے بعض طاقتور سرکاری ادارے و شخصیات ان کی حامی ہیں کیونکہ انھوں نے قرضاوی اور دبی پولیس چیف کے درمیان، نیز حکومت امارات اور اخوان المسلمین کے درمیان امارات حکومت کی بھرپور حمایت کرکے القرضاوی کے خلاف تند و تیز جملے ادا کئے تھے۔ امارات میں الکبیسی کا نیا موقف سامنے آنے کے بعد وہابیوں کا احتجاجی مظاہرہ بھی آل سعود، ال ثانی اور امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ محاذ کی ناراضگی کی علامت سمجھی جاتی ہے جنھوں نے کل ہی امریکہ سے مل کر سیکورٹی کميٹي قائم کی ہے: توجہ فرمائیں:

لنک: <خليجي ممالک اور امريکا کي مشترکہ سيکيورٹي کميٹي قائم>

دبی 1 کا یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد وہابیوں نے امارات میں مظاہرہ کیا اور بزرگ مفتی کی ملک بدری نیز مذکورہ چینل کی بندش کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ شیخ الکبیسی عراق کے سنی عالم دین ہیں جو اس وقت دبی میں مقیم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی