ہیومین رائٹس واچ:

سعودی عرب منیرالجصاص کو رہا کرے

ہیومین رائٹس واچ نے اہل تشیع کے ساتھ سعودی حکمرانوں کی بدسلوکی پر تنقید کرتے ہوئے 5 ماہ قبل گرفتار ہونے والے شیعہ دانشور "منیرالجصاص" کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہیومین رائٹس واچ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے شیعہ باشندے "منیرالجصاص" کو رہا کردے جن کو اس نے بغیر کسی الزام اور بغیر کسی جرم کے 5 ماہ قبل گرفتار کرکے عدالت میں پیش کئے بغیر جیل میں رکھا ہوا ہے۔ ہیومین رائٹس واچ کی درخواست میں لکھا گیا ہے کہ الجصاص کو گرفتاری سے دو مہینے قبل حکام نے بلوا کر ہدایت کی تھی کہ "وہ لکھ کر عہد کریں کہ وہ تنقید آمیز یادداشتیں لکھنے سے اجتناب کریں گے"۔ الجصاص یکم نومبر 2009 کو اس لئے گرفتار ہوئے ہیں کہ وہ سعودی حکام کی طرف سے اہل تشیع کے ساتھ بدسلوکی کے سلسلے میں تنقید آمیز یادداشتیں انٹرنیٹ کے ذریعے شائع کیا کرتے تھے اور سعودی عوام کو پرامن اقدامات کے ذریعے اس ملک کی 10 فیصد آبادی تشکیل دینے والے اہل تشیع کی مدد کی دعوت دے رہے تھے۔ ہیومین رائٹس واچ نے لکھا ہے کہ الجصاص نے اپنی ویب سائٹ پر شیعہ امام جمعہ شیخ باقر النمر کے ایک موقف کی حمایت کی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق الجصاص نے اپنی ایک یادداشت میں سعودی حکومت کی طرف سے سعودی مفتیوں کو اہل تشیع کی تکفیر کے فتوے دینے کی اجازت پر بھی شدید تنقید کی تھی۔ ہیومین رائٹس واچ نے لکھا ہے کہ الجصاص کو اپنی غیر قانونی قید کے پہلے چار مہینوں کا عرصہ ـ الزام لگائے بغیر ـ قید تنہائی (Solitary confinement)  میں رکھا گیا ہے۔ ہیومین رائٹس واچ کی مشرق وسطی و شمالی افریقی شاخ کی ایکزیکٹو ڈائریکٹر "سارہ لیا واٹسن" (Sarah Leah Watson) نے کہا کہ انسان دشمنی پر مبنی اقدامات کے سلسلے میں شیعہ کارکنوں اور دانشوروں کو خاموش کرنے کی غرض سے ان پر دباؤ دالنا اور ان کے خلاف ظالمانہ اقدامات عمل میں لانا، اہل تشیع کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھنا سعودی حکام کے لئے بے فائدہ ہے اور ان مظالم کا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔

1

............../110


اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی