مسجد النبی (ص) کے امام جماعت پر ناکام قاتلانہ حملہ یا تشہیراتی ہتھکنڈا

مسجدالنبی (ص) کی امام جماعت پر قاتلانہ حملے کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں مگر مسئلے کی تفتیش کئے بغیر بعض انتہاپسند وہابی ویب سائٹوں نے اہل تشیع کو اس واقعے کا ملزم ٹہرانے کی کوشش کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف سے کہا گیا ہے کہ مدینہ منورہ میں مسجد النبی (ص) کے امام جماعت قاتلانہ حملے سے بال بال بچ گئے ہیں اور ساتھ ہی بعض وہابیوں نے اہل تشیع کو اس حملے کا ملزم ٹہرانے کی کوشش کی ہے مگر دوسری طرف سے بعض سیکورٹی ذرائع نے اس واقعے میں شک و تردد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں ۔ وہابی انتہا پسندون نے یہ خبر آن لائن ہونے کے ساتھ ہی اس ابہام آمیز صورتحال سے اہل تشیع کے خلاف ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ وہاییت کی نیوز ویب سائٹوں نے کہا ہے کہ کہ انھوں نے جمعہ کے روز نماز فجر کے وقت ایک مشکوک شخص کو مسجد النبی (ص) کے امام جماعت صلاح بدیر پر قاتلانہ حملے کی کوشش کرتے دیکھا۔ اس شخص نے چاقو اٹھا کر صلاح البدیر پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا!!دریں اثناء "حوار و تجدید" نامی روزنامے نے حملے کے ملزم کے بارے میں کہا کہ وہ ایک مخبوط الحواس شخص ہے جو نماز فجر کے وقت پہلی صف میں کھڑا تھا؛ اس کے پاس چاقو تھا اور چاقو لے کر امام جماعت کی طرف بڑھا مگر سیکورٹی اہلکاروں نے کلوزڈ سرکٹ کیمرے کے ذریعے حملہ آور کا سراغ لگایا اور اسے حراست میں لے لیا۔ اس نے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا اور پہلی رکعت میں دوسری صف میں کھڑا تھا مگر دوسری رکعت میں پہلی صف میں شامل ہوا۔ پولیس نے کیمرے کی مدد سے اس کی مشکوک حرکات کے پیش نظر پہلی صف میں پہنچ کر اسے گرفتار کرلیا۔ وہ بظاہر چاقو کے ذریعے امام جماعت پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ مدینہ پولیس نے ایک اخباری بیان میں واقعے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام جماعت بالکل صحیح و سلامت ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور دوسری صف میں تھا اور رکوع اور سجود بجالائے بغیر صف اول میں پہنچا اور پولیس نے اس کو پکڑ کر اس سے دو چاقو برآمد کرلئے۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے کسی پر بھی حملہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی امام جماعت چاقو کے وار سے زخمی ہوئے ہیں۔  دوسری طرف سے مدینہ پولیس کے سربراہ «بریگیڈئیر عوض السرحانی» نے کہا ہے کہ وہابی انتہاپسند ایک ایسی افواہ کے درپے تھے جس کو دستاویز بنا کر اہل تشیع پر مسجد النبی (ص) کے امام جماعت پر قاتلانہ حملے کا الزام لگا سکیں!۔وہابیوں سے وابستہ سعودی روزنامے "الوطن" نے ایک خاص شرارت کے ذریعے اس واقعے کو اہل تشیع سے منسوب کرنے کی کوشش کی اور لکھا: «مسجد کی سیکورٹی اہلکاروں نے نمازیوں کی آنکھوں سے دور اس شخص کو گرفتار کیا تا کہ حرم نبوی (ص) کے زائرین کے درمیان فتنہ و فساد کا باعث نہ بنے کیونکہ اگر نمازیوں اور زائرین کو معلوم ہوجاتا کہ امام جماعت پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے تو یہ امر "اہل تشیع و تسنن" کے در میان جھگڑے کا باعث بنتا"۔ حقیقت امر یہ ہے کہ نہ کوئی حملہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی قاتلانہ اقدام ہوا ہے؛ نہ کوئی زحمی ہوا اور نہ ہی کسی نے کسی کو زخمی کیا یہ صرف ایک تشہیراتی حربہ تھا کیونکہ اس پروپیگنڈے کا سب سے پہلا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ تھوڑی مدت تک اہل تشیع کو مسجدالنبی (ص) میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا!! بعید از قیاس نہیں ہے کہ اس پروپیگنڈے یا حتی کسی ممکنہ حملے اور شیخ البدیر کے قتل کی سازش کا مقصد ہی یہی رہا ہو کہ اہل تشیع کے خلاف وسیع اقدامات کئے جاسکیں، ان کو مدینہ اور بقیع کی زیارت سے روکا جاسکے اور یہ بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ یہ سارا ڈرامہ ہی وہابیوں، امر و نہی فورس اور بعض انتہاپسند حکام نے تیار کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ جناب شیخ بھی ـ جن کی وجۂ شہرت ہی وہابی انتہا پسندی اور شیعہ دشمنی ہے ـ اس سازش کا حصہ ہوں؛ جس کی حقیقت صرف غیرجانبدارانہ تفتیش کی صورت میں واضح ہوسکتی ہے۔.............................

/110


اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی