مذہبی اختلاف انگیزی کا رد عمل؛

نامور کویتی شیعہ عالم دین: فتنہ کے مراکز بند کرو

"وَ ذَکِّر" نامی مرکز کی جانب سے تفرقہ انگیز موضوعات کو ہوا دیئے جاتمے کے بعد کویت کے نامور شیعہ عالم دین نے تکفیری موضوعات کا سدباب کرنے اور ان اس سلسلے میں سرگرم عمل مراکز کی بندش کا مطالبہ کیا.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "سید محمد باقر المہری" نے تفرقہ انگیز موضوعات و تشہیراتی مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ان سے، تکفیری مراکز سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے مواقع سلب کرلینے چاہئیں بصورت دیگر کویت مذہبی تعصبات کی آگ میں جل کر راکھ ہوجائے گا.

انھون نے تفرقہ انگیز مراکز کو "فتنہ کے مراکز" قرار دیا اور کہا: اسلامی وحدت کی فروغ کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت مطہرہ کی ترویج کی جائے اور ان کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دیا جائے.

اسی سلسلے میں کویتی رکن پارلیمان "خالد العدوة" نے بھی تفرقہ انگیز تشہیراتی مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا: اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کی توہین کرنے کی بجائے پرامن گفتکو کا راستہ اختیار کرنا چاہئے.

کویت کے شیعہ ادارے "ثوابت الشیعہ" نے بھی "وَ ذَکِّر" مرکز کے ڈائریکٹر کو گرفتار کرکے اس پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے بقول اس مرکز نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے.

ثوابت الشیعہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: اس مرکز کو "وَ ذَکِّر" کی بجائے "وَ فَرِّق" (تفرقہ ڈالو) کا نام دیا جانا چاہئے.

ثوابت الشیعہ نے خبردار کیا ہے: جعفری مذہب اپنی توہین اور اپنے اور اپنی کرامت کی خلاف طعنہ آمیز باتیں ہرگز برداشت نہیں کرتا.

قابل ذکر ہے کہ وَ ذَکِّر نامی مرکز نے حال ہی میں وسیع سطح پر شائع ہونے والے ایک بیان میں شیعیان اہل بیت (ع) سے کہا تھا کہ وہ شیعہ مذہب سے اپنی بیزاری ثابت کرکے دکھائیں!!!.

.......................

/110


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں