اپنے شاتم کے موقف پر آیت اللہ سیستانی کا دلچسپ رد عمل

آیت اللہ العظمی سیستانی نے فرمایا:اگر میرے خلاف اس (العریفی) اور دیگر افراد کے الزامات صحیح ہیں تو آپ لوگ میرے لئے اللہ کی بارگاہ سے مغفرت طلب کریں اور اگر ان کے الزامات درست نہیں ہیں تو ان کے لئے طلب مغفرت کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کویت کے اخبارات نے لکھا ہے کہ آیت اللہ العظمی سیستانی نے نجف اشرف میں کویتی زائرین سے ملاقات کے موقع پر خلیج فارس کے کنارے واقع ریاستوں کے باشندوں سے درخواست کی ہے کہ اپنی قومی وحدت اور ملی سلامتی کا خیال رکھیں اور مذہبی و فرقہ وارانہ فتنوں سے اجتناب کریں۔کویتی وفد کے اراکین کے بقول، آیت اللہ العظمی سیستانی نے سعودی شاتم العریفی کی توہین کا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: اگر اس کا موقف یا میرے اوپر الزام لگانے والے دیگر افراد کا موقف درست ہے تو آپ میرے لئے اللہ کی بارگاہ سے مغفرت طلب کریں اور اگر یہ الزامات صحیح نہیں ہیں تو العریفی سمیت توہین اور سب و شتم کرنے والے دیگر افراد کے لئے مغفرت کی دعا کریں۔ انھوں نے فرمایا: تمام مؤمنین پر واجب ہے کہ محبت کی تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لئے کام کریں اور اپنے مؤمن بھائیوں سے ملتے وقت "میں آپ کو دوست رکھتا ہوں" کا جملہ دہراتے رہیں؛ نیز ہم سب پر لازم ہے کہ یہ وحدت و اتحاد تفرقہ اور اختلاف سے دوچار نہ ہونے پائے اور مسلمانوں کی صفوں میں خلل نہ پڑے۔قابل ذکر ہے کہ ایک ماہ قبل یمن کے تنازعے کے بعض فریقوں کی طرف سے آیت اللہ العظمی سیستانی کو ثالثی کی پیشکش سامنے آنے کے بعد سعودی عرب کے ایک انتہاپسند وہابی عالم نما "محمد العریفی" نے نہایت بے ادبانہ لب و لہجہ اپنا کر آیت اللہ العظمی سیستانی کو فاجر اور زندیق جیسے القاب سے نوازا تھا اور اپنے سلف غیر صالح کی روایت کے مطابق پیروان مذہب اہل بیت (ع) کو کافر گردانا تھا۔

.........

/110


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں