سعودی عرب؛

وہابیوں کی انتہاپسندانہ کارکردگی پر اعلی وہابی مفتی کا اظہار افسوس

شیخ «عائض قرنی» نے وہابی مولویوں کی انتہاپسندانہ کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کے لئے ایک منشور کی تیاری کی ضرورت اور علمائے اسلام کی توہین کی ممنوعیت پر زور دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے اعلی وہابی مفتی شیخ عائض قرنی نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے ضمن میں انھوں نے مخالف فریق کے عدم برداشت اور شیعہ علماء کی توہین و تکفیر کے حوالے سے سعودی عرب کے وہابی مولویوں کے انتہاپسندانہ اقدامات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسلامی مذاہب کے درمیان پر امن بقائے باہمی کے سلسلے میں ایک منشور کی تدوین ہونی چاہئے جس میں مسلم مذاہب کے علماء کی توہین پر مکمل پابندی لگ سکے۔ انھوں نے "عبدالعزیز قومی ڈائیلاگ مرکز" کو تجویز دی ہے کہ اسلامی مذاہب کے اعلی پائے کے علماء، مفکرین اور اہم شخصیات کی موجودگی میں اس منشور کی تیاری کی منظوری دے دی۔ شیخ قرنی نے مخالف فریق کو برداشت نہ کرنے، توہین و لعن اور تکفیر کی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے مختلف مذاہب کے علماء اور مفکرین کے درمیان پرامن گفتگو کی ضرورت پر زور دیا۔ اس وہابی مفتی نے اپنے خطاب میں آیت اللہ سیستانی کے خلاف دارالحکومت ریاض کے امام جمعہ "محمد العریفی" کے توہین آمیز موقف کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: یہ نہایت باعث افسوس ہے کہ کوئی مسلم عالم دین صرف عقائد کے اختلاف کی بنا پر دوسرے عالم دین کی توہین کرے اور اپنے علم و دانش پر فخر کرتا پھرے۔


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں