العریفی کے یوٹیوب کلپ نے تنازعہ کھڑا کیا

اطلاعات کے مطابق وہابیوں کے پس پردہ دباؤ کے تحت کویتی وزارت داخلہ کے بعض حکام نے کہا ہے کہ العریفی کے کویت میں داخلے پر پابندی کا سرکاری حکم واپس لیا گیا ہے جبکہ کویتی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سعودی شاتم امام جمعہ کے کویت میں داخلے پر پابندی برقرار ہے۔

پہلے تو شیعہ مراجع کے بارے میں العریفی کے بے عقلانہ موقف نے دوست اور دشمن کو اس کے خلاف موقف اپنانے پر آمادہ کیا تھا مگر اس بار العریفی کے کلپ نے مسئلہ کھڑا کردیا۔

اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شاتم خطیب جمعہ «محمد العریفی» کا ایک ویڈیو کلپ یو ٹیوب میں شائع کیا گیا ہے جو کویت میں دست بدست گھوم رہا ہے اور کویتی عوام اپنے ملک پر صدام کے قبضے کو یاد کرکے العریفی کے اس کلپ کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔

یادرہے کہ اس کلپ میں العریفی نے صدام کو یاد کیا ہے اور اس کے لئے شفقت کا اظہار کرتے ہوئے خدا سے مغفرت طلب کی ہے۔ کویت میں اس کلپ کے آنے کے بعد العریفی کے خلاف زبردست نفرت پھیل گئی ہے۔

یہ ویڈیو مجرم صدام کو پھانسی دیئے جانے سے قبل کی ہے اور العریفی نے شہر ریاض کی ایک بڑی مسجد ـ "مسجد البواردی" ـ میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے صدام کی مداحی کی ہے اور لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ صدام کو کوئی بھی بری نسبت دینے سے اجتناب کریں۔

العریفی نے اس خطاب میں کہا ہے: ہمارے پاس بڑی مقدار میں شواہد اور ثبوت موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدام حسین اپنی عمر کے آخری ایام میں اسلام کی طرف آیا تھا اور مساجد کی تعمیر، قرآن مجید کی اشاعت اور برائیوں کے خلاف جدوجہد پر تأکید کرتا رہا ہے؛ خدا اس کو غریق رحمت کرے!!۔

قابل ذکر ہے کہ العریفی کی مداحیوں اور جھوٹے دعؤوں کے برعکس چار اسلامی ممالک ـ یعنی عراق، ایران، کویت اور سعودی عرب ـ صدام اور اس کی جماعت کے جرائم و مظالم کا براہ راست نشانہ رہے ہیں اور معاصر تاریخ کے اس جلاد سے انہیں عظیم نقصانات اٹھانے پڑے ہیں؛ چنانچہ اس کلپ کی اشاعت کے بعد کویتی عوام کو بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے اور اس صدمے میں اس وقت اور بھی اضافہ ہوا جب کویتی پارلیمان کے سلفی ارکان نے العریفی کے حالیہ موقف کی حمایت کی۔

قابل ذکر ہے کہ العریفی نے حالیہ ہفتوں میں شیعیان عراق کے مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی کی توہین کی تھی جس کے بعد اس کو شیعہ اور سنی شخصیات کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑا اور زبردست تنہائی اور گوشہ نشینی سے دوچار ہوا۔

یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ سابق سعودی مفتی اعظم شیخ عبداللہ بن باز نے صدام کے بارے میں فتوی دے کر اس کو کافر اور مرتد قرار دیا تھا اور العریفی نے اس کی تعریف کرکے در حقیقت اپنے ہی پیشرو وہابی عالم دین کے فتوے کی صریحا خلاف ورزی کی ہے۔

وہابیوں کا دباؤ اور کویتی حکام کے متضاد بیانات

دریں اثناء موصولہ اطلاعات کے مطابق وہابیوں کے پس پردہ دباؤ کے تحت کویتی وزارت داخلہ کے بعض حکام نے کہا ہے کہ العریفی کی گرفتاری اور کویت میں اس کے داخلے پر پابندی کا سرکاری حکم واپس لیا گیا ہے جبکہ کویت کے وزیر داخلہ نے نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے شاتم امام جمعہ کے کویت میں داخلے پر پابندی برقرار ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس عالم نما شخص کا کویت میں داخلہ ممنوع ہے۔

«شيخ جابر خالد الصباح» نے کویتی خبر ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ: "العریفی اس سے پہلے خلیج فارس کے ایک باشندے کی حیثیت سے کویت میں آسکتا تھا مگر اس کے حالیہ موقف کے بعد ـ جو امت مسلمہ کی وحدت توڑنے کا سبب تھا ـ اس شخص کا کویت میں داخلہ ممنوع ہے۔

دریں اثناء بعض اطلاعات کے مطابق کویت کے وہابی ارکان پارلیمان کے دباؤ کی وجہ سے بعض حکام نے کہا ہے کہ اس کے کویت میں داخلے پر پابندی کا سرکاری حکم واپس لیا گیا ہے۔ یہ خبر پورے کویت میں پھیل گئی تھی چنانچہ وزیر داخلہ نے خود ہی سرکاری فیصلے پر زور دے کر اس تنازعے کو فی الحال ختم کردیا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق العریفی کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ واپس لئے جانے کے بارے میں اڑنے والی افواہوں کی وجہ سے کویتی پارلیمان میں دراڑ پڑ گئی ہے۔


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں