برطانیہ ۔ الاحساء؛

اہل تشیع العریفی پر مقدمہ چلائیں گے/ اسلامی کانفرنس سے شاتم امام جمعہ کا نام مٹا دیا گیا

برطانیہ کی «انجمن اہل بیت (ع)» کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ برطانوی شیعہ ریاض کے امام جمعہ "محمد العریفی" پر غائبانہ مقدمہ چلائیں گے۔/ سعودی دارالحکومت ریاض کے وہابی امام‏جمعہ کو ـ کل اتوار کے روز ـ الاحساء میں منعقد ہونے والی اسلامی کانفرنس میں شرکت سے منع کیا گیا.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانیه کی انجمن اہل بیت (ع) کے سربراہ "حجت الاسلام والمسلمیں محمد موسوی" نے کہا ہے کہ برطانیہ میں 2006 کو منظور ہونے والے قانون کے مطابق "دنیا کے کسی گوشے میں جو بهی دینی اور سیاسی اتهارٹی تفرقہ انگیز اور تناؤ کا موجب بننے والا موقف اپنائے اور اس کا بیان ادیان، مذاہب اور تہذیبوں کے پیروکاروں کے درمیان فتنہ کا باعث ہو اس نے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور ہتک و توہین کرنے والے شخص پر غائبانہ طور پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے"۔

انھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون پر عملدرآمد کیا جائے وہ قانون جس نے جذبات مجروح کرنے والے ہر لفظ کے لئے جرمانے اور سزا کا تعین کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گوکہ العریفی اس خدا کا خوف نہیں کرتا جو ہمارے اعمال کا شاہد و ناظر ہے لیکن عین ممکن ہے کہ وہ اس قانون سے خوفزدہ ہوجائے جو اس جیسے افراد کو خاموش کرنے کے لئے بنا ہے۔

موسوی نے کہا کہ دیگر مغربی ممالک میں رہنے والے شیعیان اہل بیت علیہم السلام نے بھی اسی طرح کے اقدامات کا آغاز کر رکھا ہے اور ہمیں توقع ہے کہ اس پر برطانیہ میں ہے غائبانہ مقدمہ چلایا جائے کیونکہ اس نے شیعیان اہل بیت (ع) کے مقدسات کی توہین کی ہے اور ان کے جذبات مجروح کردیئے ہیں اور قانون کے مطابق اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔

احساء اسلامی کانفرنس سے شاتم امام جمعہ کا نام مٹا دیا گیا

سعودی دارالحکومت ریاض کے وہابی امام‏جمعہ کو ـ کل اتوار کے روز ـ الاحساء میں منعقد ہونے والی اسلامی کانفرنس میں شرکت سے منع کیا گیا.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت کے وہابی امام جمعہ «محمد العريفي» کا نام ـ جس نے گذشتہ جمعہ کے روز نماز جمعہ کے خطبوں میں آیت الله العظمی سیستانی کے خلاف نهایت بھونڈے الفاظ سے یاد کرکے ان کی توہین کی تھی ـ کل اتوار سے الاحساء میں شروع ہونے والی اسلامی کانفرنس کے مدعوین کی فہرست سے حذف کیا گیا ہے۔

"الراصد" نے بتایا کہ ابتدائی پروگرام کے مطابق ریاض کے وہابی امام جمعہ کو بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر سعودی عرب کے نامور علمائے دین: «ھاشم السيد محمد السلمان»، «الشيخ عادل بوخمسين»، «الشيخ توفيق بوعلي»، «الشيخ محمد العباد» اور «سلمان بودريس»، پر مشتمل ایک وفد نے صوبۂ الاحساء کے گورنر سے ملاقات کرکے مذکورہ شخص کی عدم شرکت کا مطالبہ کیا جس نے ایک بزرگ شیعہ مرجع تقلید کی توہین کی تھی؛ اور گورنر بدر بن جلوی نے مذکورہ وفد کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے اس کا نام مدعوین کی فہرست سے حذف کردیا.

قابل ذکر ہے کہ اسلامی کانفرنس الاحساء صوبے کے اداره تبلیغات و ارشاد کے زیر اہتمام اس صوبے کے شہر "الہفوف" میں منعقد ہوررہی ہے اور اس میں متعدد نامورشیعہ اور سنی راہنما اور علماء و دانشور شرکت کررہے ہیں. اس کانفرنس میں حضرت رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت کے مختلف پہلؤوں کا جائزہ لیا جائے گا.


اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی