سعودی مفتی کا موقف باطل ہے توبہ کریں

تہران کے خطیب جمعہ نے سعودی مفتی اعظم کے حالیہ موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی مفتی اعظم کہتے ہیں کہ برائت از مشرکین (مشرکین سے بیزاری) شریعت میں نہیں ہے اور باطل ہے جبکہ مشرکین سے بیزاری متن قرآن سے مأخوذ ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورت کے مطابق تہران کے خطیب جمعہ «حجت‏الاسلام والمسلمین سید ‌احمد خاتمی» نے گذشتہ جمعہ کے خطبوں میں ایران ـ امریکہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "امریکہ کے ساتھ ساز باز نہ کرنے کا موقف ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر نہیں بلکہ بالکل منطقی موقف ہے".

انھوں نے کہا کہ 28 مرداد سنہ 1332 ہجری شمسی (19 اگست 1953) سے لے کر آج تک ملت ایران نے امریکہ کی جانب سے خیانت کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھا اور اوباما نے بھی حال ہی میں ایک جھوٹا بیان جاری کرکے کہا ہے کہ "امریکہ ایران کے واقعات میں مداخلت نہیں کرتا" جبکہ امریکی حکومت اور ذرائع ابلاغ ایران کے حالیہ واقعات میں پوری طرح ملوث تھے اور اوباما نے حال ہی میں ایران کو کمزور کرنے کی غرض سے کئی کروڑ ڈالر کے منصوبے پر دستخط کردیئے ہیں. اور جب تک امریکہ اپنی استکباری خصلت ترک نہیں کرتا ملت ایران شیطانی مذاکرات کے لئے ہرگز تیار نہ ہوگی. 

تہران کے خطیب جمعہ نے سعودی مفتی اعظم کی حالیہ موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی مفتی اعظم کہتے ہیں کہ برائت از مشرکین (مشرکین سے بیزاری) شریعت میں نہیں ہے اور باطل ہے جبکہ مشرکین سے بیزاری متن قرآن سے مأخوذ ہے.

انھوں نے کہا: کل کے مشرکین بت پرست تھے اور آج کا مشرک امریکہ ہے اور کل کے مشرکین سے برائت آج کے امریکہ سے برائت ہے چنانچہ مشرکین سے برائت کے مراسمات قرآن اور سنت نبوی (ع) کے عین مطابق ہیں اور سعودی مفتی کو جلد از جلد اپنے غلط موقف سے توبہ کرلینی چاہئے.

تفصیل کے لئے یہاں کلک کریں:

 - شیطان کا کام مؤمنین کو آپس میں لڑانا ہے۔


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں