سعودی عرب کے توسط سے "نئے اسلام" کی ترویج؛ امریکہ کا خیرمقدم

سعودی عرب کی طرف سے مسلمانوں کی تکفیر کے رویئے کی ترویج اور مذہبی اختلافات اور انتہاپسندی کی ترویج، امریکہ کی جانب سے سراہی گئی ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کل (منگل وار کو) متحدہ عرب امارات کے ذرائع ابلاغ نے سعودی دارالحکومت ریاض سے اپنی رپورٹوں میں انکشاف کیا ہے کہ سعودی حکام نے امریکی سفارتخانے جاکر امریکی سفارتکاروں کے ساتھ مفصل بات چیت کی ہے اور امریکی سفارتکاروں نے سعودی عرب کے توسط سے خطے میں "نئے اسلام" کی ترویج کو واشنگٹن کی مسرت کا باعث قرار دیا ہے.

اس ملاقات میں امریکی سفارتکاروں نے اپنی حکومت کی جانب سے ـ خطے میں راسخ العقیدہ اور جہادی رجحان رکھنے والے مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ انگیزی کے حوالے سے سعودی عرب کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے سعودی شاہزادوں کو اس سلسلے میں شاباش دی ہے!

امریکی سفارتکاروں نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو یقین ہے کہ مشرق وسطی میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور منازعات میں سب سے اہم کردار سعودی عرب اور مصر سمیت ـ بقول امریکہ کے ـ معتدل عرب حکومتوں کا رہا ہے اور واشنگٹن ان [نام نہاد] معتدل حکومتوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے.

انہوں نے سعودی حکمرانوں کی توسط سے درسی کتب سے "جہاد" اور "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" سے متعلق قرآنی آیات کے حذف کئے جانے کو علاقے میں "امریکی اسلام"کی ترویج کی واحد راہ حل، قرار دیا.

یادرہے کہ سعودی عرب نے ـ پوری دنیا میں اسلام اور قرآن کے خلاف برسرپیکار ـ امریکہ کو معاشی بحرانوں سے نکالنے اور موجودہ اقتصادی بدحالی سے نمٹنے کے لئے ـ، اس سامراجی ملک میں سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور علاقے میں امریکہ کا سب سے اہم حلیف سمجھا جاتا ہے.

صورت حال یہ ہے کہ کچھ ہی روز قبل امریکہ کے لئے سابق سعودی سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ  امریکہ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کے پاس اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سعودی تیل کے سوا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے!!!

 


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں