حضرت آيت‌اللہ مكارم شيرازي:

سعودی حکومت مسلمانوں کے درمیان نفاق کی علامت ہے

حضرت آيت‌اللہ مكارم شيرازي نے درس تفسیر میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے دور میں سعودی حکومت دنیا کے تمام خطوں کے مسلمانوں کے درمیان نفاق و اختلاف پھیلانے کی چیمپئن ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آيت اللہ مكارم شيرازي نے سوموار کے روز (6 ستمبر 2009) حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر میں درس تفسیر قرآن کے دوران سعودی حکومت کو منافق قرار دیتے ہوئے کہا: حال ہی میں جزیرہ نمائے عرب کے شمال  سے، القاعدہ کے سعودی دہشت گردوں نے شام  جاکر وہاں صدام کی اشتراکی جماعت "بعث پارٹی" کے باقیات کے ساتھ مل کر ـ دنیا میں شیعیان اہل بیت علیہم السلام کی نسل کشی کا  وہابی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ـ 600 بے گناہ عراقی شیعہ افراد کو قتل اور زخمی کیا.

انہوں نے کہا: جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں سعودی حکمران یمن کے حکمرانوں کے ساتھ مل کر یمن کے زیدی اہل تشیع کو فاسفورس بموں کے ذریعے نیست و نابود کرنے میں مصروف ہیں اور اسی طرح سعودی حکمران ہی پاکستان اور افغانستان میں پیروان اہل بیت (ع) کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کررہے ہیں.

انہوں نے کہا: سعودی عرب کی حکومت دنیا کے ہر گوشے میں اختلاف اور نفاق کا سبب بنے ہوئے ہیں اور مسلمانان عالم اور پیروان اہل بیت (ع) کے ساتھ متحد ہونے کی بجائے اہل تشیع کا قتل عام کرنے کے لئے قابض صہیونیوں اور عراق کی سابق اشتراکی بعث پارٹی کے باقیات کے ساتھ متحد ہوگئی ہے.

آيت اللہ مكارم شيرازي نے کہا: [سعودی حکمران ایسے حال میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی سعی کررہے ہیں کہ] کچھ عرصہ قبل گلاڈسٹن نامی برطانوی سیاستدان نے یورپیوں کے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ: جب تک مسلمانوں کے پاس یہ قرآن رہے گا اور جب تک مسلمان اس کتاب کی شب و روز تلاوت کرتے رہیں گے اور اسے حفظ کرتے رہیں گے اور اس کے احکام پر عمل کرتے رہیں گے اور جب تک مسلمانوں کا قبلہ یعنی خانۂ کعبہ ان کے پاس رہے گا اور ہر سال اس کے گرد اجتماعی طواف کرتے رہیں گے اور جب تک محمد (ص) نامی پیغمبر، ان کے پاس رہے گا وہ کامیاب اور کامران رہیں گے اور اس مسئلے کا علاج یہ ہے کہ:

۔ ہم ان کی قرآن کو نذر آتش کریں؛ ان کے کعبے کو منہدم کردیں اور ان کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام ان کے ذہنوں سے مٹادیں.

گلاڈسٹن نے مزید کہا ہے کہ ہمیں ایسی تدبیر کرنے کی ضرورت ہے کہ:

ـ قرآن کی تحریر کو باقی رہنے دیں اور مسلمانوں کو اس کے احکام پر عمل کرنے سے روک کر اس کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کردیں؛

ـ کعبہ کی ظاہری صورت کو رہنے دیں اور حج کو ایک تفریحی سفر میں تبدیل کرکے اس کو عملا ویران کردیں؛ اور

ـ مسلمانوں کو  [سنت نبوی سے غافل کردیں اور] انہیں محمد کی بجائے اپنے بچوں پر مغربی نام رکھنے کی ترغیب دلاکر محمد (ص) کا نام ان کے ذہن اور ان کی تاریخ سے مٹا دیں.


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں