علی سوسائٹی لکھنؤ:

خانہ کعبہ کے سابق امام کا فتوی غیر ذمہ دارانہ ہے

ایسے مفتیوں کا ٹھکانہ یقینا اللہ نے جہنم میں تیار کر رکھا ہے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کی دن و رات سازشیں کر رہے ہیں۔

قاسم حیدر لکھنؤ ٣٠ ،اگست

علی سوسائٹی کا ایک جلسہ جناب محسن زیدی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں عراق کے مشہور شیعہ عالم دین آیت اللہ عبدالعزیز الحکیم کے انتقال پر ملال پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف اہل تشیع بلکہ عراقی عوام نے اسلامی یک جہتی میں سب کو باندھنے والا اعلیٰ  رہبر کھو دیا ہے۔مقررین نے کہا کہ مرحوم نے صدّام کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی اور لمبے عرصہ تک انہوں نے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ تکلیفیں جھیلیں۔ ایسے انقلابی لیڈر کی رحلت سے عراقی عوام کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔جلسہ میں خانہ کعبہ کے سابق امام کے ذریعہ اہل تشیع کو کافر کہے جانے کی شدید مذمت کی گئی اورمبینہ مفتی کے اس فتوے کو صہیونی، شیطانی اور امریکی فتوا قرار قرار دیا گیا۔جناب محسن زیدی نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج مسلمانوں کو جس اتحاد کی شدّت کے ساتھ ضرورت ہے اس میں ایسے پیشہ ور مفتی انہیں منتشر کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ایسے مفتیوں میں اگر ہمت ہے تو وہ دہشت گردوں کے خلاف جہاد کر کے دکھائیں؛ سعودی عرب اور عرب امارات کے کاہل ،امریکا پرست اورعیاش حکمرانوں کے خلاف فتوی دے کر دکھائیں۔ ظاہر ہے وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ انہی بھٹکے ہوئے اور عیاش لوگوں کے اشارے پر امریکا اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے شیعہ مسلمانوں کو کافر قرار دے رہے ہیں۔ایسے بدبخت مفتیوں کا ٹھکانہ یقینا اللہ نے جہنم میں تیار کر رکھا ہے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کی دن و رات سازشیں کر رہے ہیں۔مقررین نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ پوری دنیا میں شیعہ و سنی مل جل کر رہ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے بہتر رشتہ قائم کئے ہوئے ہیں اس کو ایسے پیشہ ور مفتی اور امام کیسے برداشت کر سکتے ہیں جو دنیا پرست بادشاہوں کی نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا اوراسرائیل کی بھی درپردہ غلامی کر رہے ہیں۔شیعوں کو کافر قرار دینے والوں کو مسجد اقصیٰ کی بحالی و واگزاری کے لئے جہاد کرنا چاہئے، دہشت گردی کے خلاف سرگرم ہونا چاہئے اورالظواہری، اسامہ بن لادن، ملا عمراور ان جیسے جوجہاد کے نام پر بے قصوروں کا ناحق خون بہا کر اسلام کو بدنام کررہے ہیں ان تمام ظالموں کے خلاف فتوی دینا چاہئے اور جہاد کے لئے بھی میدان میں آنا چاہئے۔تیل کی اسلامی دولت سے دنیا کے مزہ لوٹنے والے عادل الکلبانی جیسے ضمیر فروش مفتیوں کو سوچنا چاہئے کہ ملت مسلمہ کس نازک دور سے گزر رہی ہے لیکن ایسےعناصراس پر کیوں غور کریں گے کیونکہ وہ خود ان حالات کے ذمہ دار ہیں۔جلسہ کے آخر میں اللہ سے تمام تفرقوں کو مٹا دینے اور فتنہ پروروں کو نیست و نابود کر دینے کی دعا کی گئی۔


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں