شیعہ مقتولین کے اجساد پر وہابی بالفطرہ مجرمین کا رقص مستانہ

سعودی انتہا پسند اور آل سعود صہیونیوں کو تو خیرسگالی کا عملی پیغام دے رہے ہیں مگر دنیا کی نظروں سے دور اہل تشیع کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں اور شیعیان عراق کی گردن زنی پر رقص مستانہ میں مصروف ہیں

ابنا کے مطابق رویہ نیوز ویب سائٹ نے خبر دی ہے کہ بصرہ اور سماوہ کے رہنے والے 60 عراقی شیعہ پھانسی یا تلوار کے ذریعے قتل ہونے کا انتظار کررہے ہیں.

اس رپورت کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران 640 عراقی سرحد پارکرکے سعودی عرب میں پناہ گزین ہوگئے تھے اور اسی وقت سے سعودی عرب میں مقیم تھے اور یہ افراد کچھ عرصے سے ہر روز زد و کوب  کئے جاتے؛ ان کی توہین کی جاتی  ہے، انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہر روز ان میں کچھ افراد نہایت وحشیانہ انداز سے قتل ہوتے ہیں.

اس رپورٹ کے مطابق سعودی بالفطرہ مجرمین ہر روز عراقی اہل تشیع کو اذیت و آزار پہنچا کر خوشیاں مناتے ہیں اور لاشوں کے اوپر رقص و سرور کی محفلیں جماے ہیں؛ بڑے اجتماع کے سامنے تلوار کے ذریعے شیعیان اہل بیت (ع) کے سر قلم کئے جاتے ہیں اور سعودی جلادوں کا مجمع ہنسی خوشی رخصت ہوتا ہے اور پھر دوسرے اور تیسرے دن یہی سلسلہ جاری رکھا جاتا  ہے.

ان لوگوں کا جرم یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ بغیر ویزا اور سفری دستاویزات کے سعودی عرب میں آئے ہیں کیونکہ ایسی صورت میں بین الاقوامی قوانین موجود ہیں اور اگر کوئی حکومت کسی بیرونی شہری کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا روادار نہیں ہے تو چارہ کار یہ ہے کہ اسے ڈی‏پورٹ کردے، چنانچہ ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ اہل تشیع سے تعلق رکھتے ہیں. اور سعودی باشندے اور سرکاری اہلکار جو یا تو غزہ کے سلسلے میں خاموش ہیں یا پھر ان کی حمایت میں مظاہروں کو ممنوع کرکے صہیونیوں کو خیر سگالی کا پیغام دے رہے ہیں ان بے پناہ اور نہتے افراد کے خون کی ہولی کھیل کر غزہ کے سنیوں کے قتل عام کا جشن مناتے ہیں. ان افراد کو دستاویزات نہ ہونے کے بہانے بھی مارا جاتا ہے اور بعض اوقات ان سے کہا جاتا ہے کہ «تم نے سعودی شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کی تھی» اور پھر قید و بند و آزار و اذیت اور آخر کار قتل تک لے جائے جاتے ہیں اور ان سب حیلوں بہانوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جرم یہی ہے کہ وہ وہابیوں کی طرح نہیں سوچتے اور وہابی اسلام کے پیروکار نہیں ہیں بلکہ اہل بیت عصمت و طہارت (ع) کے پیروکار ہیں.

سعودی وہابی جماعت کے بیمار ذہن اور پسماندہ سوچ میں یہ ایک قانون ہے کہ شیعہ کا گناہ چھوٹا اور ناچیز ہی کیوں نہ ہو اس کی سزا موت ہے اور وہ بھی شمشیر کے ذریعے اور کبھی تو گروہی طور پر کئی شیعہ افراد کو بیک وقت گردن زنی کا سامنا کرنا پڑتا  ہے.

سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب کے وہابی یا دوسرے ممالک کے وہابی – جو انسانوں کا مثلہ کرتے ہیں، ان کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے ہیں، اپنے ہی ہم عقیدہ لوگوں کا – سوچ کے اختلاف کی بنا پر – سر قلم کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں میں اسیر سنیوں تک کے سرقلم کرتے ہیں یا پھر کان کاٹ کر رخصت کردیتے ہیں؛ یا اجتماع کرکے نہتے عراقیوں کا خون بہاتے ہیں – صہیونیوں سے بدتر نہیں ہیں؟ کیا دور جاہلیت میں وہابیوں کے کرتوتوں کی کوئی مثال ملتی ہے؟


پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
سینچری ڈیل، نہیں