شیخ سلمان العودة :

بار خدایا! ہم اسامہ کی اعمال سے بیزار ہیں

ہم نے عراق اور افغانستان کی اقوام کی مکمل تباہی سے کیا حاصل کیا؟ یہ جنگیں خانہ جنگیوں پر منتج ہوئیں اور کیا ان ممالک کے عوام اور پڑوسی ممالک کے لئے ان جنگوں کا کوئی اور نتیجہ بهی تها؟ / محمد صلی الله علیہ وآلہ کی رواداری اور وسعت نظری سے تمہیں کیا نصیب ہؤا ہے؟

 

" موسسة الاسلام الیوم" کے سربراه شیخ سلمان بن فہد العوده نے القاعدہ تنظیم کے راہنما اسامہ بن لادن کے نام اپنے پیغام میں سوال اٹهایا ہے: 11ستمبر سے لے کر اب تک مختلف ملکوں میں اتنی وسیع تشدد پسندی کا نتیجہ اور فائدہ کیا تها؟

شیخ العوده نے القاعده کے راہنما کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:

«کتنے خونریزیاں ہوئیں؟ کتنے بے گناه بوڑهے اور بچے مارے گئے اور القاعده کے نام پر اپنے گهربار چهوڑنے پر مجبور ہوئے؟ کیا خدا سے ملاقات کے وقت اتنے وسیع جرائم کا بوجھ بهی ساتھ لے کر جانا چاہتے ہو؟ ابتدائے عمر اور آغاز شباب میں داخل ہونے والے نوجوانوں – جو مجہول راستوں کی جانب کهینچے گئے ہیں – کے سلسلے میں کون جوابدہ ہے؟ اور شاید یہ مجہول راستے ان کی گمراہی کا باعث ہوئے اور وہ بے راه روی کی انتہا پر نیست و نابود ہوگئے ہیں!.

آج اسلام کا چہره مخدوش ہوچکا ہے، دنیا والے کہہ رہے ہیں کہ مسلمان اپنے دین کی پیروی نہ کرنے والوں کو ہلاک کرتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ سلفی اپنے مذہب کی پیروی نہ کرنے والوں کو قتل کردیتے ہیں.»

11 ستمبر کے دن واقع ہونے والے حادثے کے نتیجے میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے جبکہ بہت سے ایسے گمنام مبلغین پائے جاتے ہیں کہ اپنے ہاتھ پر ہدایت پانے والوں میں سے بہت سوں کو جانتے تک نہیں اور ان کے ہاتھوں ہزاروں بلکہ لاکهوں ہدایت یافتہ افراد انہیں نہیں جانتے."

فہد العوده نے القاعدہ تنظیم کے راہنما سے پوچها ہے: «ہم نے عراق اور افغانستان کی اقوام کی مکمل تباہی سے کیا حاصل کیا؟ یہ جنگیں جو خانہ جنگیوں پر منتج ہوئیں تم بتاؤ کہ کیا ان ممالک کے عوام اور پڑوسی ممالک کے لئے ان جنگوں کا کوئی اور نتیجہ بهی تها؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی رواداری اور وسعت نظری سے تمہیں کیا نصیب ہؤا ہے؟ مراکش، الجزائر، سعودی عرب اور دیگر ممالک اور ان ممالک میں رہنے والی قومیں آج نا امنی کا شکار ہیں اور تم ہی بتاؤ کہ مسلم ممالک کی اس صورت حال سے کون فائدہ اٹها رہا ہے؟ کیا تمہارا مقصد اقتدار کا حصول ہے؟ اور کیا اس کی راہ حل یہی ہے؟ کیا تمہارا ارادہ اقتدار کا حصول ہے خواہ اس مقصد تک پهنچنے کے لئے تمہیں ہزاروں مسلمانوں کی لاشوں پر سے ہی گذرنا پڑے؟ تکفیری اور مہلک افکار و نظریات پهیلانے اور ایک ہی خاندان میں اختلاف ڈال کر اس درھم برھم کرنے کی ذمہ داری کس کے سر ہے جس کا نتیجہ انتشار اور تقسیم و اختلاف کے سوا کچھ نہ تها؟ ہزاروں مرد جو گهر سے نکلے اور واپس نہیں آئے اور ان کی مائیں داغدار و مجروح ہوئیں ہزاروں خواتین بیوہ اور بے سرپرست ہوئیں اور ہزاروں بچے یتیم ہوئے جو غمزدہ ماؤں  کے پاس بیٹھے اپنے باپ کا انتظار کررہے ہیں، تم ہی بتاؤ ان سب کی ذمہ داری کس پر ہے اور جواب دہ کون ہے؟ خیراتی اداروں کو مشکوک بنائے جانے اور انسانی ہمدردی پر مبنی اسلامی سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے والے انسانوں کی عالمی ایجنسیوں کی جانب سے مشکوک قرار دیئے جانے اور اسلامی مبلغین کو سزائیں سنائے جانے اور ان پر دہشت گردی اور تشدد پسندی کا الزام لگ جانے کی ذمہ داری کس کے سر ہے؟ ہزاروں نوجوان جیلوں میں بند ہوچکے ہیں اور یہ جیلیں در حقیقت – مستقبل کی – تکفیر او غُلُوّ اور زیادہ روی کی تربیت گاہیں بن چکی ہیں. ان سب کی ذمہ داری کس پر ہے؟»

العودہ نے بن لادن کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹهایا ہے: « محمد صلی اللہ علیہ وآلہ – جو رحمةٌ للعالمین ہیں – کی رواداری اور وسعت نظری سے تمہیں کیا نصیب ہؤا ہے؟ جنگ، دهماکوں، ویرانیوں، عام مسلماوں میں سے بیگناه انسانوں کے قتل کی قاموس میں "رحمت" کی اصطلاح کا مقام کہاں ہے؟

کیا ہم نے اسلام کو دهمکوں اور گولیوں میں خلاصہ کر رکہا ہے؟ :یا وسیلہ ہدف میں تبدیل ہوچکا ہے؟»

شیخ سلمان العود‍ه نے تشدد سے نادم ہونے والے افراد کی تعریف کی اور کہا:

«جان لو کہ جنگی دستوں میں شامل تمہارے بہت سے بهائیوں نے شجاعت اور بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی ندامت و پشیمانی کا اعلان کیا ہے اور انہوں نے اپنے نئے راستے کی اہمیت کا ادراک کرلیا ہے.»

بن لادن کے نام شیخ سلمان العود‍ه، کی پیغام کے آخر میں آیا ہے:

«بار خدایا! یقینا ہم اسامہ کے اعمال و افعال سے بیزار ہیں اور اسامہ، اس کے پیروکاروں اور اس کے جهنڈے تلے جمع ہونے والے تمام افراد سے برائت و بیزاری کا اعلان کرتے ہیں.


دنیا میں عزائےحسینی کی خبریں
عاشورا خلقت کا راز
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں داخلے کا اعلان (2021-2022)

All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License