مصر کی عبوری حکومت کا اخوان المسلمین کے خلاف شدید رویہ

مصر کی عبوری حکومت کا اخوان المسلمین کے خلاف شدید رویہ

بلاشک مصر میں عدم استحکام میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اور مصری عوام اور طلباء کی تنظیموں نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی ہے۔ جبکہ عبوری حکومت نے بھی سرکوبی کی پالیسی کو مد نظر رکھا ہوا ہے۔ جو ایک خانہ جنگی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصر کی صورتحال کچھ اس قسم کی بن رہی ہے جس سے دکھائی دیتا ہے کہ مصر کی عبوری حکومت نے اس ملک میں حکومت مخالفین کے خلاف علی اعلان جنگ شروع کر دی ہے۔ مصر کے اٹارنی جنرل نے اخوان المسلمین کے رہنماوں محمد بدیع اور محمد بلتاجی کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل کی۔
اخوان المسلمین کے رہنماوں محمد بدیع اور محمد بلتاجی کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل ایسے میں کی گئی ہے کہ مصر کی عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کے رہنماوں کے خلاف دھشتگردی کے قانون کے تحت مقدمہ چلائے جانے کی بات کی ہے۔ مصر کی عبوری حکومت نے اس بیان سے در حقیقت اس بات کی کوشش کی ہے کہ اخوان المسلمین کو دھشتگرد گروہ قرار دیا جائے۔ کچھ عرصہ قبل مصر کے اعلی حکام نے اخوان المسلمین کی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر مصر کے سیاسی منظر نامے سے اخوان المسلمین کو دور کرنے کی کوشش کی۔ البتہ شایدایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ایسی جماعت کو جس کی جڑیں عوام میں ہیں اور عوام میں وہ اس حد تک مقبول ہے کہ اس کی ایک کال پر لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور ایک سال تک اس ملک پر حکمرانی کی اتنی آسانی کے ساتھہ سیاسی میدان سے حکمومت نکال سکے گی۔۔۔‏؟
2013میں مرسی کی حکومت کے خلاف ہونے والی فوجی بغاوت، اورفوج کی حمایت سے بر سر اقتدار آنے والی عبوری حکومت کے بعد اخوان المسلمین کے خلاف فوجی، حکمرانوں کی کاروائیاں بڑے پیمانے پر شروع ہوئیں ۔ اور منتخب عوامی صدر محمد مرسی اور بڑے پیمانے پر اخوان المسلمین کے رہنماوں، کارکنوں اور حامیوں کی گرفتاریاں، اور اخوان المسلمین کے دفاتر کو بند کیا جانا جملہ ایسی کاروائیاں ہیں جو عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کےخلاف کیں ۔ جن کا مقصد اور ھدف فقط اور فقط یہ ہے کہ اخوان المسلمین کو دیوار سے لگا دیا جائے اور ایک بار پھر اس ملک میں فوجی حکمرانوں کی اقتدار تک رسائی کیلئے حالات سازگار بنائے جائیں۔
جنرل عبدالفتاح السیسی وہ شخص ہیں جنہیں عبوری حکومت، ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیاب کرا کر مسند اقتدار پر بٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور فوج اور فوجی حکمرانوں کو ایک بار پھر اقتدار تک پہنچا نا موجودہ عبوری حکومت کا ایک اہم خواب ہے۔ اور اسی مقصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنے سامنے دیوار سمجھنے والی اخوان المسلمین کے خلاف کاروائیاں کر رہی ہے ۔ اور عوام میں اخوان المسلمین کی ساکھ کو خراب کرکےاس جماعت کے رہنماوں کو لمبے عرصے تک جیلوں میں قید رکھنا چاہتی ہے۔ البتہ اس درمیان اہم نکتہ یہ ہے کہ مصر کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں عبوری حکومت کا ہر اقدام ، اخوان المسلمین کے خلاف انتقامی کاروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس لئے کہ مصری معاشرے میں سیاسی گروہ بندیاں عروج پر ہیں اوراس ملک میں اثر انداز ہونے والے اداروں اور شخصیات میں اختلافات روز بروز زیادہ ہو رہی ہیں ۔ اور اس قسم کی صورتحال میں کیا سرکوبی کی پالیسی کارگر ثابت ہو سکے گی۔۔۔‏‏؟
بلاشک مصر میں عدم استحکام میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اور مصری عوام اور طلباء کی تنظیموں نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی ہے۔ جبکہ عبوری حکومت نے بھی سرکوبی کی پالیسی کو مد نظر رکھا ہوا ہے۔ جو ایک خانہ جنگی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ ایسی خانہ جنگی جس کے بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اور اس سے نکلنے کیلئے تمام مصری عوام کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی