بلادالحرمین: الشرقیہ میں ایک شہید اور / باتصویر

بدھ کے روز سعودی گماشتوں کی طرف سے شہید خالداللباد کے گھر پر دہشت گردانہ حملے میں ان کے ساتھ زخمی ہونے والے سولہ سالہ "حسن الزہیری" گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے تھے جو زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہوگئے ہیں۔ آل سعود کے حالیہ حملے کے شہیدوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔

اہل البیت (نیوز ایجنسی) ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آل سعود کی سیکورٹی فورسز نے شیعیان الشرقیہ کے پامال شدہ حقوق کے لئے پرامن جدوجہد کرنے والے نوجوان کارکن خالد اللباد کے گھر پر ہلہ بول دیا اور ان کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں خالداللباد اور ان کے ہمراہ موجود 16 سالہ لڑکا "محمد حبیب المناسف" موقع پر ہی شہید ہوگئے اور کئی دیگر افراد زخمی ہوئے جن کو عوام نے اسپتالوں میں منتقل کیا۔ زخمیوں میں ایک 16 سالہ لڑکا حسن الزہیری بھی تھا جن کی حالت نازک بتائی گئی تھی۔شہید کے خاندان نے آج ذرائع کو بتایا کہ سعودی حکام نے آج باضابطہ طور پر انہیں اپنے پارہ جگر کی شہادت کی خبر دی ہے۔ ان نوجوانوں کی شہادت کی وجہ سے الشرقیہ کے علاقے میں الشرقیہ کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور دھرنوں کی لہر دوڑ گئی ہے اور دن رات مظاہرے ہونے لگے ہیں۔آل سعود کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ آل سعود کے حکام جنازے کے جلوس میں عوام کی وسیع شرکت کے خوف سے شہداء کی میتیں عوام کے حوالے کرنے سے کترا رہے ہیں اور عوام نے اعلان کیا ہے کہ جب تک انہیں میتیں نہیں ملیں گی احتجاجی مظاہرے پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گے اور عمومی ہڑتال کی کال دی جائے گی۔ مظاہرین نے جلسوں جلوسوں میں الشرقیہ کے گورنر محمد بن فہد بن عبدالعزیز اور آل سعود کے وزیر داخلہ احمد بن عبدالعزیز کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ آل سعود نے حال ہی میں دو افراد کو شہید کردیا تھا اور متعدد زخمی ہوئے تھے اور زخمیوں میں سے بھی ایک نوجوان نے آج جام شہادت نوش کیا اور یوں شہدائے قیام کی تعداد 16 ہوگئی ہے جن میں سے تین افراد کی میتیں آل سعود کے قبضے میں ہیں۔گذشتہ نومبر کے مہینے سے اب تک بلادالحرمین کے شیعہ اکثریتی الشرقیہ کے علاقے میں اصلاحات کے لئے ہونے والے مظاہروں میں 15 سیاسی اور حقوقی کارکنان آل سعود کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے ہیں۔دریں اثناء جمعہ کے روز القطیف کی سڑکیں الشرقیہ کے مظلوم عوام کے وسیع مظاہروں کی گواہ تھیں جہاں آل سعود کر جبر و استبداد پر احتجاج کیا گیا۔ جمعہ کے مظاہروں میں ہزاروں مرد اور خواتین نے شرکت کی اور عوام نے شہداء اور مقدمہ چلائے بغیر قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے اسیروں کی تصویریں اٹھائی ہوئی تھیں۔

شہید عبدالکریم خالد اللباد العوامیہ کے علاقے میں اس وقت شہیدہوگئے جب آل سعود کے گماشتوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ شہید کی تصویریں یہاں ملاحظہ ہوں۔

........../110

عبدالکریم خالد اللباد آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کے ہمراہ

1

شہید عبدالکریم خالد اللباد کے جسم پر آل سعود کی گولیوں کے نشان


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی