آل سعود کی حکومت ٹوٹ پھوٹ کے مرحلے میں داخل

ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ بلادالحرمین میں بڑھتے ہوئے احتجاجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کی حکومت ٹوٹ پھوٹ اور زوال کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لندن میں مقیم سیاسی تجزیہ نگار محمد کاظم الشہابی نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے تبدیلیاں لانے اور عوام کے مطالبات پر عملدرآمد کے سلسلے میں آل سعود اور مخالفین کے درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے میں کہا: آل سعود کی طاغوتی حکومت کی لغت میں مذاکرات اور گفتگو کا لفظ پایا ہی نہیں جاتا اور جب بھی عوام نے کوئی نعرہ اٹھایا ہے یا مطالبہ کیا ہے اس حکومت نے تشدد اور جبر کا راستہ اپنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود کی حکومت طاغوتی ہے اور اس قسم کی حکومت کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے اور سعودی حکومت "آئین"، "احتجاج اور مظاہروں کی اجازت" یا "انسانی حقوق کے احترام" جیسے الفاظ سے بیگانہ ہے۔الشہابی نے کہا: آل سعود کی حکومت بدوی اور قبائلی حکومت ہے جس کی بنیادیں قبائلی تعلقات اور خاندانی روابط پر استوار ہیں اور یہ ایک مطلق العنان اور اسکباری حکومت ہے اور یہ حکومت اپنے آپ کو ایک دینی حکومت کی حیثیت سے متعارف کرانے کے لئے اسلام کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔ انھوں نے کہا: سعودی آمریت صرف بلادالحرمین میں ہی نہيں بلکہ بحرین، یمن اور علاقے کے دوسرے ممالک میں بھی عوامی مطالبات و اعتراضات کو کچل دینا چاہتی ہے کیونکہ وہ کئی آمروں کی سرنگونی پر منتج ہونے والی علاقائی عوامی تحریکوں سے خوفزدہ ہے۔اس سیاسی تجزیہ نگار نے کہا: خطرناک مسئلہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ مغربی طاقتیں اس حکومت کی ہمہ جہت حمایت کرتی ہے اور یہ بات بلا مبالغہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی رسوائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک آل سعود کو ہتھیار فراہم کرتے ہيں اور آل سعود کی حکومت ان ہتھیاروں سے بلادالحرمین کے عوام کو قتل کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی احتجاجی اقدامات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آل سعود کی حکومت ان مظاہروں کو کچل رہی ہے اور مذاکرات و گفتگو جیسی حکمت عملیاں، جو حکومت کو قطعی زوال سے بچا سکتی ہیں، آل سعود کے نزدیک غیر معروف اور ناقابل قبول ہیں چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکومت اب زوال اور ٹوٹ پھوٹ کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

دریں اثناء آل سعود کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور عوام کو قتل کرنے اور مظاہرین کو کچلنے کا سعودی رویہ بھی جاری ہے۔ الشرقیہ کے علاقے میں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے فعال اور نوجوان راہنما کے ساتھ کئی افراد کی شہادت کے بعد آج بھی مظاہرے جاری رہے۔ آل سعود کے حکام جنازے کے جلوس میں عوام کی وسیع شرکت کے خوف سے شہداء کی میتیں عوام کے حوالے کرنے سے کترا رہے ہیں اور عوام نے اعلان کیا ہے کہ جب تک انہیں میتیں نہیں ملیں گی احتجاجی مظاہرے پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔ آل سعود نے حال ہی میں دو افراد کو شہید کردیا تھا اور متعدد زخمی ہوئے تھے اور زخمیوں میں سے بھی ایک نوجوان نے آج جام شہادت نوش کیا اور یوں شہدائے قیام کے شہداء کی تعداد 10 ہوگئی ہے جن میں سے تین افراد کی میتیں آل سعود کے قبضے میں ہیں۔.............../110


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی