مصر کے پہلے منتخب صدر کا انٹرویو

محمد مرسی کی وضاحتیں؛ کیمپ ڈیویڈ معاہدے پر نظر ثانی کروں گا

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد المرسی نے ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں اپنے بارے میں کہی ہوئی بعض باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: میں نے ہرگز نہیں کہا کہ میرا صدر منتخب ہونے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کروں گا / صہیونی ریاست کے سات کیمپ ڈیویڈ معاہدے پر نظر ثانی کروں گا۔/تبصرہ: المرسی کی کامیابی کا اعلان مشروط تھا

اشارہ: محمد محمد المرسی عیسی العیاط 5 اگست 1951 کو مصر کے صوبہ الشرقیہ کے ایک گاؤں "العدوہ" کے ایک غریب کاشتکار کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ وہ شادی شدہ اور پانچ بچوں کے باپ ہیں اور ان کے تین پوتے اور نواسے بھی ہیں۔ محمد المرسی اس سے قبل اخوان المسلمین کے "مکتب الارشاد" (یا تبلیغی مرکز) کے رکن تھے اور سنہ دو ہزار میں پارلیمانی انتخابات کے لئے اخوان المسلمین کے نامزد امیدوار تھے اور پارلیمان میں 2005 تک اخوان دھڑے کے سربراہ اور ترجمان رہے۔ انھوں نے 2004 میں عزیز صدقی کے ہمراہ "قومی محاذ برائے تبدیلی" کی بنیاد رکھی۔ کلک کریں "محمد المرسی ہیں کون؟"

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، مصر کے پہلے منتخب صدر نے اپنی کامیابی کے اعلان سے قبل ان سے منسوب بعض اعلانات و اظہارات کے حوالے سے، ایران کی فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے بعض ذرائع ابلاغ کی اس بات کی تردید کردی کہ وہ سب سے پہلے سعودی عرب کے دورے پر جائیں گے، اسرائیل کے ساتھ موجودہ کیمپ ڈیویڈ معاہدے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس معاہدے پر ضروری نظر ثانی کی جائے گی اور یہ ہے فوجی کونسل کو یہ حق نہيں پہنچتا کہ وہ صدر کے اختیارات کم کرنے کے حوالے سے کوئی قانونی ترمیم آئین کا حصہ بنا دے اور یہ کہ ان کے فوجی کونسل کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔واضح رہے کہ المرسی کا یہ انٹرویو ان کی کامیابی کے اعلان سے کچھ دیر قبل لیا گیا تھا جبکہ اس کے بعد مصر کے الیکشن کمیشن نے کل ہی محمد المرسی کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انقلابیوں کے امیدوار اکثریت حاصل کرکے مصر کے صدر منتخب ہوگئے ہیں اور انھوں نے ووٹنگ میں 51،73 جبکہ آخری فرعون کے آخری وزیر اعظم احمد شفیق نے 48.27 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں؛ چنانچہ اس انٹرویو کا اردو ترجمہ ایسے حال میں قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے کہ محمد المرسی مصر کے باقاعدہ صدر ہیں اور انہیں دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے تہنیتی پیغامات وصول ہورہے ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ نے ان کی کامیابی کو اپنے لئے عظیم ترین نقصان اور اسلام اور مسلمانوں کے لئے بہت بڑی پیشرفت قرار دی ہے۔ امریکیوں نے اسلام پسندی کی کامیابی کو امریکی خواہشوں کی موت قرار دیا ہے۔ المرسی نے اپنی کامیابی کے اعلان سے کچھ دیر قبل فارس خبر ایجنسی کے نمائندے کو اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتایا اور کہا کہ فوجی کونسل نے پارلیمان کی تحلیل کے ذریعے اسلام پسندوں اور میری ذات کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ جرنیلوں نے دیکھا کہ میں کامیاب ہورہا ہوں تو انھوں نے ان ہتکھنڈوں کے ذریعے صدارتی اختیارات کو فوج کے حق میں کم کردیا جبکہ فوجی کونسل کو ترمیم کے ذریعے صدر کے انتخابات سلب کرنے کا حق نہیں پہنچتا اور ہم اس اعلان کو رد کرتے ہیں جو صدر کے اختیارات کم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ المرسی نے مصر میں قومی حکومت اور قومی حکومت کے اندر ہی انقلابی کونسل کی تشکیل کا ارادہ ظاہر کیا اور کہا کہ ان کی حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ انھوں نے ان خبروں کی تردید کی جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ گویا وہ صدر بننے کے بعد بیرونی دوروں میں سب سے پہلے سعودی عرب کا رخ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک ان کے بیرونی دوروں کا شیڈول ترتیب نہيں دیا گیا۔ انھوں نے کہا: ہم ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں اور ان تعلقات کو علاقے میں تزویری توازن کا سبب سمجھتے ہیں اور یہ میرے منصوبے کا حصہ ہے۔ انٹرویو کا مکمل متن:فارس نیوز ایجنسی: ہم انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی پر آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ملت مصر کے لئے کامیابی اور توفیق کی آرزو رکھتے ہیں؛ آپ ابتداء میں بتائیں کہ فوجی کونسل کے ہاتھوں مصر کی منتخب پارلیمان کی تحلیل کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟محمد محمد المرسی عیسی العیاط: مجلس الشعب (پارلیمان) کی تحلیل کا مقصد میری ذات کو نشانہ بنانا تھا کیونکہ جرنیلوں نے مجھے کامیاب ہوتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اپنے حق میں صدر کے انتخابات کم کردیئے اور یہ فیصلہ در حقیقت جمہوریت کے خلاف ایک جارحیت ہے کیونکہ مصر کے پارلیمانی انتخابات میں تین کروڑ انسانوں نے حق رائے دہی استعمال کیا اور پارلیمان کی تحلیل کا فیصلہ مصر کی عدلیہ کی تاریخ میں عجلت زدگی کے حوالے سے ریکارڈ فیصلہ ہے کیونکہ مصر کی پارلیمان نے اپنا کام ڈیڑھ ماہ قبل شروع کیا تھا جبکہ ہماری عدلیہ کے معمول کے رویوں کے مطابق اس طرح کے کیسوں کی پیروی پر تقریبا ڈھائی سے تین سال کا عرصہ لگتا ہے۔

فارس: فوجی کونسل کی طرف سے مؤسسین بورڈ کی تشکیل اور صدارتی اختیارات کو کم کرنے کے سلسلے میں آئينی ترمیم کے بارے میں آپ کی رائے ہیں کیا ہے؟ کیا ان اقدامات کی کوئی قانونی حیثيت ہے؟ اور کیا یہ ترمیم اور اس ترمیم کے نفاذ کا عمل صدر جمہوریہ پر ٹھونس دیا گیا ہے؟المرسی: پہلی بات یہ ہے کہ فوجی کونسل کو آئينی ترمیم لانے کا حق نہيں ہے اور ہم ایسی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں جو صدر کے اختیارات کو کم کردیتی ہے اور میں نے نیوز کانفرنس میں بھی کہا کہ آئینی ترمیم کی ہر صورت میں مخالفت کریں گے اور یہ کہ فوجی کونسل کو فوری طور پر سیاست کی دنیا سے نکل جانا چاہئے۔ ہم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور ہم سب کو اتحاد اور یکجہتی کی دعوت دیتے ہیں۔ میں اپنے معاونین و نائبین کو اخوان المسلمین اور حزب العدال‍ۃ و الحریۃ سے نہيں لوں گا بلکہ ان کا تعلق دوسری جماعتوں سے ہوگا اور وزیر اعظم بھی ایک آزاد اور قوم پرست سیاستدان ہوگا جس کا ان جماعتوں سے کوئی تعلق نہ ہوگا جن سے میرا تعلق رہا ہے؛ میں ایک قومی اتحاد قائم کرکے تمام جماعتوں کے نمائندوں کو حکومت میں نمائندگی دونگا اور ملک میں تعمیر و ترقی کی تحریک کا آغاز کروں گا۔

فارس: افواہیں گشت کررہی ہیں کہ فوجی کونسل صدارت کی مدت کو ایک سال تک گھٹا دینا چاہتی ہے اور ایک سال بعد نئے صدارتی انتخابات منعقد کرانا چاہتی ہے، کیا یہ افواہیں درست ہیں؟المرسی: یہ افواہیں درست نہیں ہیں کیونکہ آئین کی تدوین کا کام مؤسسین کی منتخب اسمبلی (Elected Assembly of the Founders)، کے سپرد ہے جو پارلیمان کی تحلیل کے ایک روز قبل تشکیل پائی ہے اور کوئی بھی کسی صورت میں بھی صدارتی انتخابات کو کالعدم ڈکلیئر نہيں کرسکتا۔

فارس: آج کا اہم موضوع آپ کے پروگرام کی ترجیحات ہیں، آپ کی ترجیحات کیا ہیں؟المرسی: ابتداء میں مصری معاشرے میں امن و سلامتی کی بحالی ہے؛ ان شہداء اور زخمیوں کے حقوق کا احیاء جو انقلاب کے دوران شہید یا زخمی ہوئے ہیں اور یہ انقلاب میری صدارت کا سبب بنا۔ ظاہر ہے کہ ہمیں ایک مخلوط حکومت تشکیل دینی ہے جو ہماری ترجیحات میں شامل ہے اور صدر کے نائبین کا انتخاب ہے جو میرے منصوبوں کے نفاذ میں میرے ساتھ تعاون کریں گے۔

فارس: کیا آپ کے خیال میں بہتر نہیں ہے کہ انقلاب کی حصولیابیوں اور اقدار کے تحفظ کے لئے ایک انقلابی کونسل تشکیل دی جائے جس میں سابقہ حکومت کے عناصر کا کوئی عمل دخل نہ ہو؛ مثال کے طور پر ایک انقلابی عدالت کی تشکیل؟المرسی: پہلی بات یہ ہے کہ انقلابی کونسل مخلوط حکومت کی شکل میں تشکیل پائے گی جس میں معاشرے کے تمام دھڑے شامل ہونگے اور ہماری کوشش ہے کہ یہ حکومت تشکیل پائے اور آبرومندانہ سماجی حیات اور عدل و انصاف کے قیام جیسے اہداف کے حصول کی کوشش کی جائے۔ تاہم انقلابی عدالت کے سلسلے میں قانوندانوں سے بات چیت کریں گے اور دیکھیں کہ اس کی افادیت کی سطح کیا ہے؟ اور میں نے کہا کہ حسنی مبارک پر جو مقدمہ چلایا گیا وہ ایک سیاسی مقدمہ تھا اور اس کے ذریعے در حقیقت عدلیہ کی توہین کی گئی۔

فارس: علاقے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے لئے آپ کا پروگرام کیا ہے؟المرسی:  مصر کے علاقائی وجود کے احیاء کی غرض سے عرب ممالک کے درمیان معاشی تعاون کے سانچے میں علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور عالمی سطح پر عرب لیگ کے فعال کردار کے لئے اس ادارے میں بعض اصلاحات اور جائز حقوق کے حصول کے لئے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت میرے پروگرام کا حصہ ہیں۔فارس: بعض ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ آپ صدر بننے کے بعد پہلے بیرونی دور پر سعودی عرب جانا چاہتے ہیں اور اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے؛ کیا یہ درست ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ آپ نے پہلے بیرونی دورے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے؟المرسی: میں نے ایسی کوئی بات نہيں کہی اور ابھی تک میرے صدر بننے کے بعد کے دوروں کا پروگرام مرتب نہيں ہوا ہے اور سعودی عرب کا دورہ بھی در حقیقت بعض نوجوانوں کی تجویز کی حد تک ہے جبکہ یہ میرا رسمی پروگرام نہيں ہے۔ فارس: آپ جانتے ہیں کہ ایران نے انقلاب مصر اور مصری عوام کے مطالبات کی بھرپور حمایت کی ہے چنانچہ مصر اور ایران کے تعلقات کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟المرسی: ہمیں ایران کے ساتھ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر سیاسی اور معاشی تعاون کے لئے ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے فطری تعلقات کو بحال کرنا ہے کیونکہ اس طرح علاقے میں ایک تزویری توازن معرض وحود میں آئے گا اور یہ میرے پروگرام کا حصہ ہے۔ فارس: اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں آپ کی پالیسی کیا ہوگی؟المرسی: اسرائیل کے ساتھ ہماری پالیسی برابری کی بنیاد پر استوار ہوگی کیونکہ ہم تمام شعبوں میں ان سے کم نہيں ہیں اور فلسطینی عوام کے حقوق دلوانے کے لئے سب سے بات چیت کریں گے کیونکہ یہ بہت اہم بات ہے۔ ہم کیمپ ڈیویڈ کے معاہدے پر بھی نظر ثانی کریں گے تاہم یہ تمام اقدامات حکومت اور کابینہ کے توسط سے انجام پائیں گے کیونکہ میں فرد واحد کی حیثیت سے کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔

فارس: فوجی کونسل کی آئینی ترمیم کو مد نظر رکھتے ہوئے، اگر دشمن مصر کی فضائی یا زمینی حدود پر حملہ آور ہوجائے تو آپ اعلان جنگ نہيں کرسکتے اور فوجی کونسل ہے جو اس بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ فوجی کونسل نے اسرائیل کو ضروری ضمانتیں فراہم کی ہیں۔ چنانچہ اگر دشمن مصر کی زمینی یا فضائی حدود کی خلاف ورزی کرے تو آپ کیا کریں گے؟المرسی: اگر آپ کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ حالات میں مصر پر کوئی حملہ ہوگا تو میرے خیال میں ایسا کوئی حملہ بعد از قیاس ہے! ذرائع اس موضوع کو میری صدارت سے عوام کو خوفزدہ کرنے کا حربہ قرار دینا چاہتے ہیں اور اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں (!) بہر حال اعلان جنگ کا مسئلہ بھی ایک فردی مسئلہ نہیں ہے اور اگر پارلیمان موجود ہو تو اس پہلے اس کی منظوری لینا


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی