اخوان المؤمنین نامی تنظیم آل سعود کا تختہ الٹنے کے لئے سرگرم ہوگئی

اخوان المؤمنین برائے آزادی حجاز، نے ایک بیان جاری کرکے "آل سعود کی سرنگونی" کی غرض سے اپنی فعالیت کے آغاز اور کفار اور آل سعود کے منافق شرکائے کار کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تحریک اخوان المؤمنین برائے آزادی حجاز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک اسلامی سرزمین میں رہنے والے افراد کا فطری حق ہے کہ وہ اپنے قسمت کا فیصلہ کرے۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اسلامی سرزمین ـ جس کو خداوند عالم نے حرمین شریفین کے صدقے تکریم بخشی ہے ـ اقتدار کی پرامن منتقلی، دولت کی منصفانہ تقسیم، ظلم و ستم کا خاتمہ اور مختلف ممالک کے ساتھ مستحکم تعلقات کا قیام، اس سرزمین کے باسیوں کا فطری حق ہے۔ اخوان المؤمنین کے بیان میں زور دے کے کہا گیا ہے کہ "اخوان المؤمنین برائے آزادی حجاز" تبدیلی کی خواہاں اسلامی تحریک کا نام ہے اور یہ تبدیلی صرف اس وقت حقیقت کا روپ دھارے گی جب عالم اسلام میں تمام جرائم اور درندگیوں کا سرچشمہ یعنی آل سعود کی حکومت بدل دی جائے یا وہ خود کنارہ کشی اختیار کرے اور اس ملک کا اقتدار اس ملک کے مسلم عوام کے سپرد کی جائے اور تمام کفار سرزمین حجاز کو خیر باد کہہ دیں۔ اخوان المؤمنین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تنظیم اپنی خفیہ تحریک کا اغاز کرچکی ہے اور اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کرے گی اور اس تحریک میں واپسی کا کوئی تصور نہیں ہے۔

تبصرہ:

سرزمین وحی کے باسیوں پر آل سعود اور ان کے وہابی شرکا‏ئے کار مولویوں اور مفتیوں کے ظلم س ستم کا طویل سلسلہ کس کو نہيں معلوم! اس سرزمین کے مسلمانوں کے تمام تر حقوق کی پامالی اور اس ملک کی پوری دولت پر ایک ہی خاندان کا ناجائز قبضہ کس کو نہيں معلوم؛ یہی تو وجہ ہے کہ سرزمین مقدس کو بچانے کے لئے ہر زمانے میں تحریکیں اٹھتی ہیں، صدائیں بلند ہوتی ہیں اور تنظیمیں بنتی ہیں جن کو آل سعود کے حامی اور حاشیہ نشین مفتیوں کے فتؤوں اور وہابی افواج کی تشدد آمیزیوں کے ذریعے کچل دیا جاتا ہے یا پھر عوام کی کروڑوں کی دولت خرچ کرکے ان صداؤں کو کچل دیا جاتا ہے اور گلے بند کئے جاتے ہیں یا پھر سر تن سے جدا کئے جاتے ہیں؛ اسی بنا پر حالیہ ڈيڑھ سال کے عرصے میں جہاں علاقے میں اسلامی بیداری کی تحریکیں شروع ہوئی ہیں آل سعود کے خلاف متعدد تحریکیں اٹھی ہیں جن میں سے بعض کو پیسوں کے زور سے بٹھا دیا گیا اور بعض کے قائدین اور فعال کارکنوں کو جیلوں میں بند کرکے آل سعود کے خلاف تحریک کو روک دیا گیا جبکہ بعض کو مجرمانہ عالمی خاموشی کے سائے میں فتل کیا گیا ہے یا قتل کیا جاتا ہے۔ بلاد الحرمین کے کم از کم 30 ہزار شہری بغیر مقدمے کے سعودی اذیتکدوں میں پابند سلاسل ہیں۔ تا ہم بعض تحریکیں سیاسی اور پر امن جدوجہد کو جاری رکھے ہوئی ہیں اور اسی اثناء میں تنظیم اخوان المؤمنین برائے آزادی حجاز معرض وجود میں آئی ہے جس نے اعلانیہ طور اپنے اہداف و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد آل سعود کی حکومت کو تبدیل کرنا یا کنارہ کشی پر آمادہ کرنا، ملکی عوام کو تمام غصب شدہ حقوق واپس لوٹانا، دولت کی منصفانہ تقسیم، اقتدار عوام کے سپرد کرنا اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مستحکم دوستانہ تعلقات بحال کرنا ہے یہ وہی اسلامی بیداری کی تحریکوں کے اہداف ہیں جو بعض ملکوں میں حاصل ہوسکے ہيں اور بلاد الحرمین سمیت متعدد ملکوں میں دبائے جارہے ہیں یا پھر انہیں شام میں فساد اور بلووں کے ذریعے وقتی طور پر خاموش کیا گیا ہے اور اخوان المؤمنین برائے آزادی حجاز نامی تنظیم کو امید ہے کہ مختلف تنظیموں اور مختلف علاقوں کے عوام کی پرامن جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنے طرز کی جدوجہد کرکے آل سعود کو اسلامی بیداری کی ہمہ گیر تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی