بلادالحرمین کی عمومی صورت حال؛

العوامیہ میں شیعہ رہائشی علاقوں پر سعودی افواج کی فائرنگ

العوامیہ میں عوام کے گھروں پرفائرنگ/ شیعیان الشرقیہ کا اسیر مصری وکیل کی حمایت میں مظاہرہ / مصری پارلیمان کے سربراہ ریاض کے دورے پر/ ایران کے خلاف سعودیوں کا نیا دعوی اور تردید/ ایران کے خلاف آل سعود کی اشتعال انگیزیاں / فلسطین اور عراق کی مدد جرم ہے / سعودیوں نے مصر کا انقلاب تسلیم نہيں کیا / سعودیوں کو انتباہ؛ مصر بدل چـکا ہے/ ایک اسکینڈل: مصر میں آل سعود کی وسیع مداخلت / سعودی مبلغ: ایم بی سی ٹی وی خطرناک ترین منشیات/

 اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نجد و حجاز اور شمال و مشرق و جنوب پر قابض آل سعود خاندان بوکھلاہَٹ کا شکار ہے اور اب اس کو عوامی احتجاج کا سلسلہ روکنے کے لئے کوئی ترکیب نہیں سوجھ رہی ہے۔ اس کو اندر سے مختلف علاقوں میں مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں کا سامنا ہے تو باہر سے بحرین، یمن اور مصر میں انقلاب کا سامنا ہے اور ساتھ ساتھ مشرق وسطی کے واقعات اور اسلامی جمہوریہ ایران کی بے تحاشا ترقی اور پیشرفت کا بھی سامنا ہے۔ آل سعود کو معلوم ہے کہ ایران کی ترقی علاقے کے عوام کے مفاد میں ہے اور ایران کے اندر اسلامی ممالک کے خلاف کسی اقدام کا تصور بھی ممکن نہیں ہے اور اس ملک کا آئین بھی کسی بھی ایسے خدشے کی نفی کررہا ہے اور اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ امریکہ آل سعود یا کسی بھی شاہی خاندان یا وفادار ڈکٹیٹر کا وفادار نہیں ہوتا لیکن وہ امریکہ اور اسرائیل کے مفاد میں ایران کے خلاف ہر علاقائی اور بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ آل سعود نے اسرائیل مخالف مزاحمت کو کمزور کرنے اور اسرائیل کو سیکورٹی دینے کے لئے شام میں بھی مداخلت کا راستہ اپنایا ہے اور وہاں بھی اس کو مسلسل شکست کا سامنا ہے اور ساتھ ساتھ ان تمام سازشوں میں آل سعود کے شراکت دار قطر کی طرف سے بھی سعودی بادشاہ اور دیگر حکمرانوں کو خطرات کا سامنا ہے؛ چنانچہ امریکی اور برطانوی فوجی اور لاجسٹک امداد اور تزویری مشاورت کی سہولت حاصل ہونے کے باوجود اس کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کا علاج تو علاقائی ہے لیکن آل سعود کی نظریں پھر بھی واشنگٹن پر جمی ہوئی ہیں اور امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے میدان میں آل سعود اور قطر کے آل ثانی خاندان کے درمیان مسابقت کی کیفیت سب پر عیاں ہے اور یہ سب صرف آل سعود کی حکمرانی کو تحفظ دینے کے لئے ہے لیکن کہیں سے بھی اس قسم کے کسی تحفظ کا امکان نظر نہ آنے کی وجہ سے حیرت، بوکھلاہٹ اور تذبذب اور پراگندگی نے آلیا ہے جبکہ اندر سے خاندانی چپقلشیں بھی ہيں بادشاہ بوڑھے ہیں تو ولیعہد بھی 78 سال کے ہیں اور پھر کئی سیاسی شخصیات نے ایک تحریک چلائی ہے اور ولیعہد کے ساتھ بیعت نہ کرنے کی دعوتیں دی جارہی ہیں اور دانشوروں نیز مفکرین کی یہ تحریک آل سعود کے خلاف الشرقیہ اور دوسرے علاقوں میں جمہوری اور اصلاحی تحریک سے مل کر  اس خاندان کو درپیش مسائل میں اضافہ کررہی ہے۔ جنوب میں یمن ہے جس کو آل سعود نے تناؤ کی کیفیت میں مبتلا کررکھا ہے کیونکہ یمن میں استحکام کی صورت میں یہ ملک جنوب کے تین مقبوضہ صوبوں سے سعودی انخلاء کا مطالبہ کرسکتا ہے اور اس طرح کے لاتعداد مسائل عبدالعزیز کے بیٹوں کی حکمرانی کے لئے شدید خطرات پیدا کررہے ہیں۔
...............
یہاں گذشتہ کئی دنوں میں بلاد الحرمین میں رونما ہونے والے واقعات قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں:

ــ العوامیہ میں عوام کے گھروں پرفائرنگ
جمعرات کی صبح کو آل سعود کے گماشتوں نے منطقۃالشرقیہ کے صوبہ القطیف کے شہر العوامیہ میں عوام کے گھروں اور گاڑیوں پر اندھادھند فائرنگ کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں نے الشرقیہ کے عوام کو خوفزدہ کرنے کی غرض سے العوامیہ شہر پر حملہ کرکے عوام کی گاڑیوں پر فائرنگ کی ہے جہاں سنہ 2011 کے ابتدائی مہینوں سے مسلسل احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور قیدیوں کی رہائی، بحرین سے آل سعود کی افواج کے انخلاء، بلاد الحرمین میں انسانوں کی عزت و وقار کی بحالی، سیاسی اصلاحات اور آئینی بادشاہت کے قیام نیز آزادانہ انتخابات کے ذریعے منتخب حکومت کے قیام اور عدلیہ کی مکمل خودمختاری کا مطالبہ کررہے ہيں اور اس سلسلے میں ان کو سینکڑوں زخمیوں، متعدد شہیدوں کی قربانی دینی پڑی ہے اور ہزاروں افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔
العوامیہ کے عوام نے بدھ کی شب مظاہرے کئے، جمعرات کی شب اور جمعہ کی شب بھی مظاہروں کا اعلان ہوچکا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جمعرات کی فائرنگ عوام کو خوفزدہ کرنے اور مظاہروں میں شرکت نہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ہوئی ہے۔
دریں اثناء آل سعود کے کارندوں نے منگل کے روز العوامیہ کے 35 سالہ رہائشی محمد صالح المبیوق کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی بنا پر اغوا کرکے خفیہ مقام پر منتقل کیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو کسی قسم کی اطلاعات دینے سے انکار کیا ہے۔
العوامیہ کے عوام نے کل رات کو "اتحاد برائے حریت و انصاف" کی دعوت پر مظاہرے کئے ہیں جو شام کے وقت ساڑھے سات بجے العوامیہ کے مرکز صحت کے سامنے سے شروع ہوئے تھے۔ آج دن کے وقت بھی صفوی' کے علاقے میں مظاہرے ہوئے ہیں جن کا عنوان "ضائع شدہ حقوق" رکھا گیا تھا۔ ریلی کا آغاز مسجد ال ابراہیم سے ہوا اور آج رات کے لئے بھی اسی مقام پر مظاہرے کا اعلان ہوا ہے۔
کل جمعہ کو بھی اسی عنوان سے مظاہروں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ یہ مظاہرے ربیعیہ کے شارع الاحرار سے شروع ہونگے جبکہ الشرقیہ کے علاقے میں مظاہروں کا یہ ہفتہ نماز جمعہ کے بعد القطیف شہر میں شارع "الثورہ" اور قبرستان "الدبابیہ" سے شام ساڑھے چار بجے کے مظاہرے پر اختتام پذیر ہوگا۔
ــ سعودی عرب: شیعیان الشرقیہ کا اسیر مصری وکیل کی حمایت میں مظاہرہ
الشرقیہ کے عوام نے آل سعود کے اذیتکدوں میں اسیر مصری قانوندان کی گرفتاری پر احتجاحی مظاہرہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے تیل سے مالامال مگر محروم شیعہ علاقے "منطقۃالشرقیہ" کے عوام نے آل سعود کے اذیتکدوں میں بےگناہ مصری وکیل احمد الجیزاوی کی گرفتاری پر احتجاج کیا اور آل سعود کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
سعودی عرب کے شیعہ باشندوں نے سعودی عرب کی حکومت کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے تمام مصری شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور مصر میں ان کے منتظر خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

ــ بحران زدہ تعلقات؛ مصری پارلیمان کے سربراہ ریاض کے دورے پر
مصری ذرائع نے کہا ہے کہ اس ملک کی انقلابی پارلیمان کے سربراہ مصر اور سعودی عرب کے درمیان رونما ہونے والے تنازعات کا حل ڈھونڈنے کے لئے جمعرات کو سعودی عرب کے دورے پر گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کئی پارلیمانی دھڑوں کے سربراہان بھی اس دورے میں سعد الکتاتنی کے ہمراہ ہیں۔ اور ان کے دورے کا مقصد دو ملکوں کے بگڑتے ہوئے تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔
الکتاتنی اس دورے کے دوران سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور بعض دیگر حکام سے ملاقات اور بات چیت کریں گے اور دو ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لئے راہ حل پر بات چیت کریں گے۔
واضح رہے کہ آل سعود نے مصر اسی ہفتے مصر میں اپنے سفارتخانے اور کئی قونصلخانوں کو بند کرکے اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات عملی طور پر منقطع کرلئے ہیں۔ 
سعودی حکمرانوں نے حال ہی میں ایک مصری وکیل کو اپنے بادشاہ کی توہین کا الزام لگا کر گرفتار کرلیا اور ان کو قید اور کوڑوں کی سزا سنائی اور جب سعودیوں کو مصریوں کے نہ ختم ہونے والے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تو ان پر منشیات کی حامل گولیاں سعودی عرب اسمگل کرنے کا الزام لگایا اور شاید آل سعود ان الزامات کے ذریعے مصری عوام کو الجیزاوی کی حمایت ترک کرنے پر آمادہ کرنا چاہتے تھے لیکن ان الزامات کے بعد مصریوں کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہوا اور انھوں نے سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اور مصر میں آل سعود کی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جس پر آل سعود نے مصر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ہی منقطع کرلئے۔

ــ ایران کے خلاف سعودیوں کا نیا دعوی اور فوری تردید
مصری عوام کی طرف سے سعودی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے موقع پر سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر نے بوکھلاہٹ کی انتہا پر دعوی کیا کہ مصر میں ایک تین رکنی ایرانی ٹیم کو حراست میں لیا گیا ہے جس نے سعودی سفیر پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ابھی تک سعودی عرب اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے عوام اور باخبر حلقے امریکہ میں سعودی سفیر کے قتل کے سلسلے میں ایران پر لگائے گئے الزامات پر ہنس ہی رہے تھے کہ آل سعود نے ایک نیا دعوی کیا اور قاہرہ میں سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر نے الزام لگایا کہ مصری حکومت نے سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کے لئے آئی ہوئی ایک تین رکنی ایرانی ٹیم کو گرفتار کرلیا ہے۔
لندن سے شائع ہونے والے سعودی روزنامے "الحیات" نے قاہرہ میں سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر "سامی جمال الدین" کے حوالے سے دعوی کیا کہ حال ہی میں مصر کے خفیہ اداروں نے ایک نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اس کے تین ایرانی اراکین کو گرفتار کرلیا ہے جس نے مصر میں سعودی سفیر  اور عرب لیگ میں آل سعود کے مستقل مندوب "احمد القطان" پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
جمال الدین نے دعوی کیا کہ مصری حکام نے آل سعود کے اعلی اہلکاروں کو اس انکشاف کی خبر دی لیکن آل سعود نے اس مسئلے کو راز میں رکھنے کو ترجیح دی۔
یہ جعلی خبر ایسے حال میں الحیات میں شائع ہوئی ہے کہ مصر میں آل سعود کے خلاف اٹھنے والی نفرت کی لہر میں مزید شدت آئی ہے اور عوام نے سعودی اور اسرائیلی سفیروں کی مصر سے جلاوطنی کا مطالبہ کیا ہے۔ مصری عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ آل سعود کے ہاتھوں گرفتار مصری شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان پر آل سعود کی بے انصاف عدالتوں میں مقدمات نہ چلائے جائیں۔ لیکن دوسری طرف سے باخبر ذرائع نے خبر دی ہے کہ مصریوں کے ان مطالبات کے جواب میں آل سعود کے وزير خارجہ سعود الفیصل نے دھمکی دی ہے کہ سعودی عرب میں گرفتار مصریوں کو ہلاک کرکے تابوتوں میں مصر لوٹایا جائے گا۔
بہرحال سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر کے دعوے کے ایک روز بعد مصر کے سرکاری ذرائع نے سعودی سفارتکار کی جانب سے خبرسازیوں کی شدت سے تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی بھی ایرانی گروپ مصر میں گرفتار نہیں ہوا ہے۔
مصر کے خبررساں ادارے و ٹیلی ویژن نیٹ ورک "الشرق الاوسط" نے مصری حکومت کے ایک ذمہ دار اہلکارے کے حوالے سے لندن کے سعودی روزنامے الحیات کے دعؤوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا مصر میں ایسا کوئی ایرانی گروہ گرفتار نہیں ہوا ہے جس نے سامی جمال الدین کے بقول، سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
الشرق الاوسط خبررساں ادارے نے زور دے کر کہا کہ سامی جمال الدین کے تمام دعوے بالکل جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور سعودی سفیر سفارتی مشن کی سربراہی سنبھالنے سے گذشتہ ہفتے مصر سے نکل جانے تک، کسی قسم کا حملہ نہيں ہوا ہے۔

ــ آل سعود ایران دشمنی میں پیش پیش؛ علاقے میں اشتعال انگیزیاں
خلیج فارس کے علاقے میں چالیس سال قبل پیدا ہونے والی ریاست متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایرانی جزائر کے بارے میں مضحکہ خیز دعؤوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کی طرف سے ایران کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر مبنی بیانات کے بعد آل سعود نے علاقے میں کشیدگی پیدا کرنے کے لئے وسیع اقدامات عمل میں لانے شروع کردیئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آل سعود کے متازعہ ولیعہد نائف بن عبدالعزیز نے خلیج فارس تعاون کونسل کے وزراء کے حالیہ اجلاس میں سفارتی آداب کو پامال کرتے ہوئے شرارت آمیز لب و لہجے میں دعوی کیا ہے کہ وہ خلیج فارس کی ریاستوں کے خلاف کسی بھی دھمکی آمیز اقدام کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اور یہ کہ کسی ریاست کے خلاف بیرونی جارحیت تمام خلیجی ریاستوں کے خلاف جارحیت سمجھی جاتی ہے۔
نائف نے خلیج فارس کے ایرانی جزائر کے بارے میں تمام عالمی اور علاقائی اسناد اور دستاویزات کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران نے تین جزیروں پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ امارات نے آج تک ایسا کوئی دعوی نہيں کیا ہے۔
سعودی ولیعہد نے بحرین کے اوپر اپنی جارحیت کی طرف اشارہ کئے بغیر بحرین میں ایران کے کردار کی مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ بحرین کے شیخ حمد بن عیسی نے بھی ایسا ہی دعوی کیا تھا کہ ایران بحرین میں مداخلت کررہا ہے لیکن ان کے اپنے بنائے گئے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بحرین میں ایران کی طرف سے کسی بھی قسم کی مداخلت کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے بحرین میں آج تک کسی قسم کی مداخلت نہیں کی ہے۔ جبکہ بحرین ان دنوں سعودی عرب کے قبضے میں ہے اور آج کل آل سعود کی کوشش یہ ہے کہ کسی بہانے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کا اعلان کردیں جبکہ شمالی افریقہ سے لے کر پاکستان اور انڈونیشیا تک آل سعود کے خون سے رنگے ہاتھ ہر ذی شعور انسان کو واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔

ــ سعودی عرب: فلسطین اور عراق کی مدد جرم ہے
ایک مصری خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر فلسطین اور عراق کو مالی امداد پہنچانے کے جرم میں گذشتہ چار برسوں سے آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مواصلات کے ایک مصری انجنئر "عبداللہ الدمرداش" کی زوجہ "محترمہ اسراء کمال الدین" نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر 2008 سے کسی عدالتی کاروائی یا فرد جرم عائد کئے بغیر آل سعود کے اذیتکدوں میں اسیری کی زندگی گذار رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: سعودی اہلکار میرے شریک حیات کو گرفتار کرکے مجھے کرکے تفتیش کے لئے لے گئے اور مجھ سے عراق اور فلسطین کے حوالے سے میرے شوہر کے موقف کے بارے میں سوالات پوچھے اور مجھ سے میرا پاسپورٹ چھین لیا تا کہ میں سعودی عرب سے باہر نہ نکل سکوں اور عبداللہ پر دباؤ بڑھایا جاسکے؛ اور مجھے دھمکی دی کہ اگر میں اپنے شوہر کی رہائی کے لئے کوئی اقدام کروں تو وہ مجھے بھی گرفتار کریں گے۔
محترمہ اسراء نے کہا: ہم نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے رابطہ کیا اور ریاض میں مصری سفارتخانے سے بھی رابطے میں رہے اور درخواست کی کہ میرے شوہر کے اوپر لگائے گئے الزامات کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور تین مہینوں کے بعد مصری سفارتخانے نے ہمیں بتایا کہ میرے شوہر کو عراق اور فلسطین کو امداد پہنچانے کی پاداش میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی قومی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی اس موضوع کی تصدیق کرلی ہے۔
انھوں نے کہا: سعودی اہلکاروں نے گذشتہ چاربرسوں میں صرف دو بار مجھے اپنے شوہر سے پانچ منٹ تک بات کرنے کی اجازت دی ہے۔
اسراء نے کہا: میں نے سعودی عرب میں گرفتار مصری باشندوں کے اہل خانہ کے ہمراہ اب تک 50 مرتبہ سعودی سفارتخانے کے سامنے دھرنوں میں شرکت کی ہے لیکن مختلف جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے عمل میں لائی گئی تمامتر کوششیں اب تک بے ثمر رہی ہیں۔

ــ سعودی حکمرانوں نے مصر کے انقلاب کو تسلیم نہيں کیا
ایک مصری تجزیہ نگار نے آل سعود کی طرف سے سعودی سفارتخانے پر مصری مظاہرین کے حملے کے بارے میں مبالغہ آرائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سعودیوں کے اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کو مصر میں انقلاب اور موجودہ تبدیلیوں کا یقین نہیں آسکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مصری تجزیہ نگار "حسن عبدربہ المصری" نے کہا سعودی سفارتخانے پر مصری عوام کے حملوں کے بارے میں آل سعود کے مبالغہ آمیز موقف سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ابھی تک مصر میں انقلاب اور تبدیلیوں کا یقین نہیں ہوسکا ہے اور وہی مصر کے عوامی انقلاب کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
انھوں نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ مصر کے ساتھ دو طرفہ مسائل حل کرنے کے لئے فوری طور پر سفارتی کوششوں کا آغاز کرے۔

ــ سعودی عرب کو انتباہ؛ مصر بدل چـکا ہے
عرب دنیا کے نمایاں قلمکار "عبدالباری العطوان" نے مصر اور سعودی عرب کے تعلقات میں موجودہ بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصری حکام کو جان لینا چاہئے کہ مصر کی حالت بدل چکی ہے اور ڈکٹیٹر حسنی مبارک کا دور قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق عرب دنیا کے مشہور قلم کا عبدالباری العطوان نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے "القدس العربی" کے اداریئے میں "سعودی عرب کو انتباہ؛ مصر بدل چـکا ہے" کے تحت لکھا:  انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ریاض اور قاہرہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی کیفیت مصری وکیل اور انسانی حقوق کے شعبے کے فعال راہنما احمد الجیزاوی کو جدہ ائیرپورٹ ميں عبداللہ بن عبدالعزیز کی توہین کا الزام لگا کر  گرفتار کرنے اور اس کے بعد ان پر منشیات اسمگل کرنے کا الزام لگانے کی وجہ سے شدت اختیار کرگئی ہے۔
انھوں نے مزيد لکھا: قاہرہ اور دوسرے شہروں میں آل سعود کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور دھرنوں کے بعد عبداللہ بن عبدالعزيز کی طرف سے عجلت میں مصر میں سعودی سفارتخانے کی بندش کے غیر متوقعہ اعلان کے بعد سے مصری حکام تعلقات کی بحالی کے لئے کوششیں کررہے ہيں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تناؤ آج ہی وجود میں نہيں آیا اور الجیزاوی کی گرفتاری برف کی اس پہاڑی کی چوٹی ہے جو مصر اور سعودی عرب کے تعلقات میں پہلے کھڑا کیا گیا تھا۔ 
انھوں نے لکھا: مصر میں عوام نے انقلاب کا آغاز کیا تو آل سعود نے اس کی بری طرح مخالفت کی اور اس کی مسلسل مخالفت کی، انقلاب کے خلاف مسلسل سازشیں کیں اور حسنی مبارک کے اقتدار کے تحفظ میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور ہر وسیلے سے استفادہ کیا جس کی وجہ سے مصر جدید اور آل سعود کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے مصر کے انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے امریکی صدر سے رابطہ کیا اور مصر میں فوری امریکی مداخلت اور جمہوری تبدیلیوں کا راستہ روکنے کی درخواست کی!۔
عجب ہیں یہ سعودی خاندان کے حکمران بھی، ایک طرف سے اسلام کے ہیرو بنتے ہیں اور دوسری طرف سے مسلمانوں کی کامیابی سے نہ صرف پریشان ہوتے ہیں بلکہ انہيں ناکام بنانے کے لئے سرمایہ خرچ کرتے ہيں؛ دیکھئے:
العطوان نے کہا: مصر میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تو 75 سے زائد نشستیں اسلام پسندوں نے جیٹ لیں اور یہ بات آل سعود کو اچھی نہيں لگی اور ان کی ناراضگی میں شدت آئی کیونکہ آل سعود کے حکمران اخوان المسلمین سے نفرت کرتے ہيں اور سعودی ولیعہد نائف بن عبدالعزيز نے اخوان المسلمین کو اس علاقے کے لئے ایک آفت اور آسیب قرار دیا ہے۔
عبدالباری العطوان نے کہا: مصر تبدیل ہوگیا ہے اور عرب اقوام بھی بدل چکی ہیں اور وہ جو انقلاب مصر سے پہلے خاموش رہا کرتے تھے مزید خاموش نہيں رہیں گے۔

ــ ایک اسکینڈل کا انکشاف: مصر میں آل سعود کی وسیع مداخلت
مجلہ الاہرام کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے آل سعود کی طرف سے قاہرہ میں سعودی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی بندش پر مطلق العنان سعودی حکمرانوں کے خلاف وسیع انکشافات کرلئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق "اسامہ الدلیل" نے انکشاف کیا کہ سعودی خاندان مصر میں انقلاب کے خلاف فعال بیرونی عناصر کو مالی کو مالی امداد کی فراہمی کے مقدمے میں اہم ترین ملزمان میں شامل ہے لیکن سعودی اٹارنی جنرل کے دفتر نے ابھی تک اس موضوع کو فاش نہیں کیا ہے۔
انھوں نے کہا: اس کیس میں جو کچھ ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا ہے یہ ہے کہ "امریکہ اور یورپ نے مصر میں سول سوسائٹی سے متعلق بعض اداروں کو مالی امداد فراہم کی ہے" لیکن سعودی عرب اور قطر نے مصر میں وہابی اور سلفی اور بعض اسلام پسند گروہوں کو جو مالی امداد دی ہے اس کے بارے میں ابھی تک کچھ بھی بتانا گوارا نہيں کیا گیا ہے۔
الدلیل نے کہا: سعودی عرب اور قطر عرب ممالک میں جمہوری نظامات کا تختہ الٹنے  اور ان ممالک کو شیعہ اور سنی اور مسلم اور عیسائی جیسے گروپوں میں تقسیم کرنے کی امریکی سازش پر عملدرآمد کررہے ہیں تا کہ ان مذاہب اور ادیان کے پیروکار ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے رہیں۔
انھوں نے کہا: مصر میں آل سعود کی مداخلت اور سعودی حکومت کی طرف سے مصر کے مختلف گروپوں کو مالی امداد کی فراہمی ابھی تک ذرائع ابلاغ کی زینت نہیں بن سکی ہے لیکن اس اسکینڈل کے باوجود آل سعود کے حکام مصر میں اپنے سفارتی دفاتر بند کرکے اس ملک پر اپنا دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ــ سعودی مبلغ: ایم بی سی ٹی وی خطرناک ترین منشیات
ایم بی سی ٹی وی چینلز کا تعلق سعودی بادشاہ کے ارب پتی بھتیجے ولید بن طلال سے ہے جو سنہ 2002 سے دبئی کے میڈیا سٹی میں سرگرم عمل ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی خاندان ایک طرف سے اسلام کے نام پر خونخوار وہابیت کی ترویج میں مصروف ہے تو دوسری طرف سے عرب دنیا کے نوجوانوں کو بے حیائی میں دھکیلنے کے لئے وسیع سرمایہ کاری کررہا ہے جس کا ذریعہ ایم بی سی ٹیلی ویژن کے مختلف چینلز ہيں جن سے وہابی مفتی چشم پوشی کرتے ہیں کیونکہ ایم بی سی چینلز کا سربراہ سعودی بادشاہ کا بھتیجا ولید بن طلال ہے وہی جو بلاد الحرمین کے عوام کی تیل کی دولت سے 12 ارب ڈالر کا مالک بن چکا ہے اور مختلف زبانوں میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایم بی سی ٹی وی کے مختلف چینلز استعمال کررہا ہے۔
سعودی مبلغ "سعد البریک" نے آل سعود کے بادشاہوں اور شہزادوں کے خلاف وہابی مفتیوں کی ستر سالہ خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ایم بی سی نیٹ ورک عرب نوجوانوں کے لئے خطرناکترین منشیات سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ گوکہ حال ہی میں آل سعود نے ایک نام نہاد ثقافتی میلے میں فسق و فجور کے مظاہرے کئے تو بعض مفتیوں نے عبداللہ کے بیٹے المعتب کے خلاف اعتراض آمیز لہجے میں گلہ کیا تھا جنہیں آل سعود نے خاموش کرایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ البریک ـ جو خود بھی فرقہ واریت پر یقین رکھتے ہیں اور حال ہی میں شام کے دہشت گردوں کی ہلاکت پر ان کے مگرمچھ کے آنسؤوں کا ایک کلپ بھی بڑا مشہور ہوچکا ہے ـ بہت جلد اپنے موقف سے مکر جائیں لیکن ان کا موقف کسی حد تک صحیح ہے گوکہ ایک فاسد نظام حکومت کے ہوتے ہوئے اس نظام حکومت کے کسی ایک کرتوت کو موضوع بنانے کا مفہوم یہ ہے کہ تنقید کرنے والا شخص اس نظام سے ناراض نہيں ہے حتی ممکن ہے کہ اس نے یہ اعتراض نظام حکومت کے تحفظ کے لئے کیا ہو۔
انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے: مجھ سے ایک نوجوان نے پوچھا کہ عرب نوجوانوں کے لئے سب سے زیادہ خطرناک منشیات جو انسان کو تباہ و برباد کردیتے ہیں، کونسے ہیں تو میں نے کہا: "ایم بی سی ٹی وی چینلز تمام مسلم اور عرب نوجوانوں کے لئے خطرناکترین اور تباہ کن ترین منشیات ہیں ۔
ایم بی سی ٹی وی چینلز کا تعلق سعودی بادشاہ کے ارب پتی بھتیجے ولید بن طلال سے ہے جو سنہ 2002 سے دبئی کے میڈیا سٹی میں سرگرم عمل ہے۔


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی