ہیریٹیج انسٹٹیوٹ - فارن پالیسی ـ بارک اوباما:

آل سعود کا زوال آبنائے ہرمز کی بندش سے زيادہ خطرناک / آل سعود کا زوال قریب ہے / آل سعود ڈکٹیٹر ہے

ایک امریکی انسٹٹیوٹ نے جزیرہ نمائے عرب میں آل سعود کے زوال کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس خاندان کے زوال کے بعد تیل کی فراہمی کے لئے اس کا متبادل ڈھونڈنا بہت دشوار عمل ہوگا اور دنیا میں تیل کے طویل المدت بحران کا سبب ہوگا / آل سعود کا بادشاہی نظام بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے / عرب صحافی: جزیرہ نمائے عرب آل سعود سے چھٹکارا پا رہا ہے / اوباما: سعودی تیل پر ایک کامیاب حملےسے امریکی معیشت پر لرزہ طاری ہوگا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ہیریٹیج انسٹٹیوٹ نے ایک تحقیق کے ضمن میں جزیرہ نمائے عرب میں آل سعود کے زوال کے بعد کے زمانے کا جائزہ لیتے ہوئے ایسا واقعہ رونما ہونے کی صورت میں "ہنگامی اقدامات کی خاطر" بعض تجاویز پیش کی ہیں۔ ہیریٹیج مرکز کے محققین ایریل کوہن، ڈیوڈ کروٹزر، جیمز فلپس اور میکائیلا بیندیکووا نے اپنی آٹھ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں لکھا ہے کہ آل سعود کے زوال کا منظرنامہ آبنائے ہرمز کی بندش سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔اس رپورٹ میں امریکی محققین نے آل سعود کی قدر و قیمت کا باقاعدہ اعلان کیا ہے اور آل سعود کے زوال کے بعد کے انہیں اس خاندان کے زوال کا غم نہيں بلکہ تیل کی ترسیل کی فکر ہے اور آل سعود کی بقاء کی مغربی ضمانت کا سبب بھی تیل ہی ہے اور اس رپورٹ کا اصل مقصد بھی گویا سعودی خاندان کو ہر قیمت پر انقلاب کے خطرے سے بچانے کا تزویری منصوبہ ہی نظر آتا ہے کیونکہ اس رپورٹ میں استکباری حکومت کے محققین نے امریکہ کو الشرقیہ کے نہتے عوام سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے جہاں اصلاحات کے لئے انقلابی تحریک جاری ہے اور آل سعود نیز امریکہ و یورپ کو خدشہ ہے کہ یہ تحریک دوسرے علاقوں تک بھی پہنچ سکتی ہے چنانچہ ان لوگوں نے اپنی پیشنگوئی کے ضمن میں الشرقیہ کے عوام کی مکمل اور وحشیانہ سرکوبی کا منصوبہ پیش کیا ہے!۔ اس رپورٹ میں دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی بلاد الحرمین کے عوام کے انقلاب سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ عوامی انقلاب کے بعد غیرمسلم مزدوروں اور ملازمین کو اس سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا!۔امریکی محققین نے لکھا ہے کہ چنانچہ سعودی خاندان کو انقلاب کا سامنا کرنا پڑے تو تیل کی منڈی فوری طور پر روزانہ 84 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار سے محروم ہوجائے گی اور یہ صورت حال ایک سال تک جاری رہ سکتی ہے اور ایک سال جاری رہنے کے بعد اس صورت حال کو بہتر بنانے اور تیل کی مطلوبہ پیداوار کو بحال کرنے کے لئے دوسال کا مزید عرصہ درکار ہوگا۔رپورٹ تیار کرنے والوں نے واشنگٹن کو اس ضرورت کی یاددہانی کرائی ہے کہ سعودی عرب جیسے دوست و حلیف ممالک (!) کی مدد کے لئے اپنا اثر و رسوخ اور اپنے اوزار (!) بروئے کار لائے۔نیز انھوں نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ سعودی عرب اور خلیج فارس کی دوسری عرب ریاستوں کی طرف سے مدد کی درخواست کی صورت میں، ان ریاستوں میں اپنی افواج تعینات کرنے کے امکان کو ابھی سے مدنظر رکھے۔امریکی مح‍ققین کے اس منظرنامے میں پیشنگوئی کی گئی ہے کہ الشرقیہ کا علاقہ شیعہ اکثریتی علاقہ ہے اور یہ علاقہ جزیرہ نمائے عرب کے تیل کا منبع ہے اور یہاں کے عوام عرصے سے اپنے سیاسی اور سماجی حقوق کے لئے سرگرم عمل ہیں اور آل سعود کی سیکورٹی افواج انہیں شدت سے کچل رہی ہیں اور اگر وہ زبردست انقلابی تحریک چلائیں تو تیل کی پوری صنعت پر قبضہ کریں گے اور اس کے بعد آل سعود کا زوال یقینی ہوجائے گا اور سعودی شہزادے گرفتار ہونگے یا پھر مارے جائیں گے اور اس کے بعد یہ لوگ وہابیوں اور القاعدہ کے ساتھ مل کر وسیع البنیاد اتحاد تشکیل دیں گے اور تمام غیر مسلم مزدوروں اور ملازمین کو نکال باہر کیا جائے گا۔ اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو قطعی اقدامات پر آمادہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے کہ آل سعود کی سرنگونی کے بعد، نیا نظام حکومت اپنا تیل امریکہ اور یورپ کی بجائے چین کو فروخت کرے گا۔ہیریٹیج کے محققین نے لکھا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب میں انقلاب امریکہ کے لئے بہت مہنگا پڑے گا اور ہر گیلن تیل کی قیمت ساڑھے چھ ڈالر تک پہنچے گا جبکہ ہر بیرل کی قیمت 100 سے بڑھ کر 220 ڈالر تک پہنچے گی چنانچہ امریکی حکومت کو چاہئے کہ "خلیج فارس میں اپنے روایتی اڈوں سے رابطہ منقطع ہونے کے امکان کو مد نظر رکھے اور اپنی میزائل اور میزائل شکن پروگرام کو مزید تقویت پہنچائے تا کہ اس طرح کی کسی امکانی صورت حال کا مقابلہ کرسکے"۔ــ آل سعود کا زوال عنقریب ہےبعض بین الاقوامی اداروں کی تحقیقات کے مطابق ال سعود کی بادشاہت کا زوال قریب آن پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق: فارن پالیسی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ شواہد اور نشانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کا بادشاہی نظام بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔فارن پالیسی جرنل میں چھپنے والے مضمون میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ آل سعود خاندان کے ارکان ماضی سے کہاں زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آرہے ہیں۔یاد رہے کہ آل سعود کے 89 سالہ بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اسی ہفتے منسٹرز کونسل کے اجلاس میں حاضر ہونے کی بجائے اپنے محل میں بیٹھ کر وزراء کے اجلاس کی (ویڈیو کے ذریعے) صدارت کی جبکہ 78 سالہ ولیعہد نائف بن عبدالعزیز ـ جو برسوں سے سرطان خون (Blood Cancer) میں مبتلا ہیں اور ان کی جسمانی صورت حال بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔فارن پالیسی نے لکھا کہ نائف بن عبدالعزیز ایک ماہ قبل علاج معالجے کے لئے مراکش چلے گئے تھے جہاں سے وہ بعض میڈیکل ٹیسٹوں کے لئے امریکہ پہنچ گئے اور وہ حال ہی میں امریکہ سے واپس آگئے ہیں۔فارن پالیسی کے مطابق، نظر یوں آتا ہے کہ ضعیف العمر بادشاہ اور ولیعہد ـ جو بیمار بھی ہیں ـ اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہيں اور ولیعہد سلطان بن عبدالعزيز کے انتقال کے بعد وزیر دفاع بننے والے 76 سالہ "سلمان بن عبدالعزیز" ہی ملکی انتظام چلا رہے ہیں۔فارن پالیسی نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ اگر فرض کریں کہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے بادشاہ بنیں وہ بھی ضعیف العمر ہيں اور بہت لمبے عرصے تک حکومت نہیں کرسکیں گے۔واضح رہے کہ شہزادہ سلمان کو ایک دفعہ دل کا دورہ پڑ چـکا ہے اور اگر ان کی تصاویر کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کا بایاں بازو دائیں بازو کی مانند درست کام نہيں کرتا۔فارن پالیسی بوڑھے حکمرانوں کے گروہ کی جسمانی اور ظاہری صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: لگتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے اور عالم عرب کی قیادت کا دعوی کرنے والے ملک سعودی عرب کو استحکام تک پہنچنے کے لئے طویل اور دشوار گذار راستہ طے کرنا ہے۔اس وقت نہ صرف سلمان کی بادشاہت کو آل سعود کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو سلمان کا مستقبل بھی تاریک نظر آرہا ہے بلکہ یہ کہنا بھی بہت مشکل ہے کہ سلمان کے بعد آل سعود کے تاج و تخت کا وارث ہوگا چنانچہ آل سعود کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کی بھرمار ہے۔دوسری جانب سے اس صورت حال میں نائف اور سلمان کے درمیان سخت مسابقت کی بھی پیشن گوئی کی جاسکتی ہے۔آل سعود کو اندر سے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا اور عبدالعزیز بن سعود کے پوتے اور پڑپوتے بھی حکومت میں حصہ مانگ رہے ہیں اور یہ معاملہ سابق ولیعہد سلطان بن  عبدالعزیز آل سعود کے جنازے میں بھی شہزادوں کی لڑائی اور لاتوں اور مکوں کی صورت میں نمودار ہے۔واضح رہے کہ شام کے خلاف اسرائیل، آل سعود، امریکہ، فرانس، ترکی، قطر اور دوسرے مغربی اور بعض عرب ممالک نے مل کر جس سازش  کا آغاز کیا تھا اس کا مقصد بھی علاقے میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کا راستہ روکنا اور ڈوبتی ہوئی عرب بادشاہتوں کو نجات دلانا تھا لیکن بظاہر یہ ساری قوتیں بشمول القاعدہ وغیرہ، شام میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آرہی ہیں جبکہ عراق میں بھی اپنی سازشوں میں ناکام ہوچکی ہیں اور ایران کے خلاف مغربی دھمکیوں کا سلسلہ بھی، جو امریکہ و اسرائیل کے عرب حلیفوں سے قومی دباؤ کم کرنے کے لئے شروع ہوچکا تھا، اب ماند پڑگیا ہے چنانچہ فارن پالیسی اور ہیریٹیج انسٹٹیوٹ نیز علاقے کے سیاسی تجزیہ نگاروں کی یہ پیشنگوئی درست نظر آرہی ہے کہ آل سعود کا خاندان طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے کی صلاحیت کھوچکا ہے۔

ــ سعودی صحافی: جزیرہ نمائے عرب آل سعود سے چھٹکارا پا رہا ہےصحافی اور سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار، محمد زیاد نے آل سعود کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احتجاجی تحریک دیارالحرمین کو اپنے صحیح مقام پر لوٹائے گی کیونکہ آل سعود خاندان ایسی سرزمین پر حکومت کررہا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق، محمد زیادہ نے 21 مارچ کو کہا تھا کہ جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین آج اصولوں کی طرف واپسی اور آل سعود کی حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انھوں نے سعودی مفتی کی طرف سے سعودی عرب اور بحرین میں مظاہروں کی ممنوعیت پر مبنی فتوے کی شدید مذمت کی اور کہا: یہ مفتی سعودی عرب اور بحرین میں مظاہروں کو حرام سمجھتا ہے لیکن اسی اثناء میں شامی حکومت کے خلاف مظاہروں کو جائز سمجھتا ہے اسی اساس پر آل سعود کی حکومت جامعات میں طلبہ کو کچلتی ہیں۔محمد زیاد نے کہا آل سعود کے حکمرانوں کے امتیازی رویوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کہ آل سعود عوام کو القطیف اور دوسرے علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر کچل دیتی ہے، انہیں قتل کرتی اور اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالتی ہے اور انہیں شدید تر تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بناتی ہے۔زیاد نے غربت اور نادارای کو بھی آل سعود کے زوال کی ایک اور علامت قرار دیا اور کہا کہ سعودی معاشرے میں غربت گھر کر گئی ہے، قومی دولت شہریوں کے درمیان تقسیم نہیں ہوا کرتی اور بیشتر عوام غرب اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ آل سعود کے شہزادے تیل کے کنوؤں کے مالک بنے ہوئے ہیں اور حکمران خاندان کے اندر بدعنوانی بھی زوروں پر ہے۔واضح رہے کہ قطر کے امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی اور ان کے وزیر اعظم اور اندرونی حریف حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے کئی بار سعودی خاندان کا تختہ الٹنے اور پورے جزیرہ نمائے عرب پر حکومت کرنے کا عندیہ دیا ہے اور دوحہ میں وہابیوں کے پیشوا محمد بن عبدالوہاب کے نام پر مسجد بنا کر اعلان کیا ہے کہ قطر ہی وہابیت کا عالمی مرکز ہے اور ادھر حکومت تک پہنچنے سے مایوس متعدد سعودی شہزادوں نیز بعض مفتیوں نے بھی آل سعود کو ہٹانے کے سلسلے میں ال ثانی خاندان کو حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان کے دن واقعی بہت کم رہ گئے ہیں۔

ــ آل سعود کے بارے میں بارک اوباما کی اصل رائے: آل سعود ڈکٹیٹر ہےامریکی صدر اوباما ان دنوں آل سعود کے حامی ہیں اور یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ آل سعود کے سوا اس علاقے میں اورکوئی نہيں ہے جو امریکا کے مفاد میں اپنے مفاد کی قربانی دے سکے اور شاہ ایران اور حسنی مبارک کی جگہ امریکی پولیس مین کا کردار ادا کرسکے چنانچہ وہ سعودی بادشاہ کے قصیدے پڑھ پڑھ کر نہیں تھک رہے اور یہ بھی امکان ہے کہ جس طرح کہ وہ انتخابات سے پہلے تبدیلی کے نعرے لگا رہے تھے اور بعد اس نعرے سے پشیمان ہوگئے، آمروں، بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مذمت سے بھی نادم ہوگئے ہوں؛ امر مسلم ہے کہ یہ پشیمانی اسرائیل کے تحفظ اور امریکی صدارت کا تقاضا ہو لیکن انھوں نے صدارتی عہدے پر فائز ہونے سے قبل ایک کتاب لکھی تھی جس میں ان کے نسبتاً انقلابی نظریات مندرج ہیں۔بارک او


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی