بلادالحرمین کی تازہ ترین صورت حال/ ایک سیاسی راہنما کی رہائی کے لئے مظاہرے

سیاسی راہنما کی رہائی کے لئے مظاہرے / العوامیہ میں موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کی ریلی / الشرقیہ میں تین مزید گرفتاریاں/ نوجوانوں کی طرف سے وہابی تسلط کی مخالفت/ بلادالحرمین کے نوجوانوں کی سعودی نظام کی مخالفت / اصلاح پسند شہزادہ بھی بدعنوان نکلا / تیل سے مالامال عرب ملک میں رہائش کا بحران / بچوں کی گرفتاریاں جاری / جامعہ تبوک کے کارکنوں کا احتجاجی دھرنا/ سعودی شہزادے نے قیمتی شراب ایک گھونٹ میں پی لی / بلاد الحرمین کے عوام وہابی طرز سلوک سے نفسیاتی بیماریوں کا شکار / امارات کی طرف سے آل سعود کو تنبیہ۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف سے عیاش سعودی شہزادے یورپ، امریکہ اور خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں میں مہنگی شراب کی بوتلیں چڑھا رہے ہیں اور اسلامی اقدار کو بے تشخصی کی عالمی منڈی میں نیلام کررہے ہیں تو دوسری طرف سے تیل کے لحاظ سے دنیا کے مالدار ترین ملک میں ـ جس کو آل سعود خاندان سعودی عرب کا نام دیا ہے ـ عوام کو مکان اور رہائش کے سلسلے میں شدید بحران کا سامنا ہے اور نا اہل حکمران ہر روز موجودہ صورت حال سے ناراض عوام کو کچلنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کررہے ہیں؛ عوام آل سعود کے ہاتھوں اپنے وسائل کی لوٹ کھسوٹ پر احتجاج کررہے ہیں اور نااہل سعودی شخصی حکمران انہیں کچل رہے ہیں تا کہ اپنا تسلط پھر بھی جاری رکھ سکیں؛ عوام کی طرف سے پرامن جنگ جاری ہے اور آل سعود اپنی پولیس اور بدنام زمانہ مذہبی پولیس سے اپنی امیدیں باندھے اپنے لئے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں جو عوام کے مستقبل کی تاریکی کی ضمانت ہے لیکن عوام کی سوچ آل سعود سے مختلف ہے اور وہ ایسے مستقبل کے لئے جدوجہد کررہے ہیں جس میں آل سعود یا کسی بھی دوسرے مطلق العنان حکومت کا تصور تک نہ ہوگا۔گذشتہ چند دنوں کے دوران سعودی عرب کی مجموعی صورت حال:ــ سعودی عرب: ایک سیاسی راہنما کی رہائی کے لئے احتجاجی مظاہرےایک سیاسی و سماجی راہنما کی عدم رہائی پر عوام کے مسلسل مظاہرے الشرقیہ کے علاقے میں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے تیل سے مالامال الشرقیہ کے علاقے میں پرسوں رات بھی احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور مظاہرین سے نامور سیاسی و سماجی راہنما "محمد صالح الزنادی" کی رہائی کا مطالبہ کیا جن کو سعودی گماشتوں نے زخمی کرنے کے بعد گرفتار کرلیا ہے۔ دریں اثناء بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد صالح الزنادی جیل میں شہید کئے گئے ہیں لیکن ان اطلاعات کی غیرجانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔امر مسلم یہ ہے کہ سعودی عرب میں عوامی احتجاج جاری ہے اور یہ بھی مسلم ہے کہ سعودی خاندان عوام کی ممکنہ عمومی احتجاجی تحریک کے خوف سے لرزہ بر اندام ہے۔

ــ سعودی عرب: العوامیہ میں موٹرسائیکل سوار نوجوانوں کی احتجاجی ریلیپرسوں رات منطقۃالشرقیہ کے صوبہ القطیف کے شہر العوامیہ کے انقلابی نوجوانوں نے موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر آل سعود کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔اطلاعات کے مطابق یہ ریلی العوامیہ شہر کی مختلف سڑکوں پر نکالی گئی اور اپنے جائز مطالبات کے حق میں نیز آل سعود کے امتیازی رویوں کے خاتمے اور علاقے کے تاحیات حکمران محمد بن فہد کی برطرفی پر مبنی نعرے لگائے۔ ان اطلاعات کے مطابق محمد بن فہد گذشتہ تین عشروں سے الشرقیہ پر مسلط ہیں اور ان کے دور کے آغاز سے لے کر اب تک اس علاقے کے سینکڑوں افراد امتیازی پالیسیوں کا شکار ہوکر شہید، زخمی اور ہزاروں قید کرلئے گئے ہیں۔ منطقۃالشرقیہ کے عوام محمد بن فہد کو اپنے گھروں اور دکانوں سے چوریوں اور ڈکیتیوں نیز علاقے میں بدامنی، عوام کی زرعی اور شہری زمینوں کی ضبطی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ آل سعود پورے ملک میں زمینوں کی ضبطی میں ملوث ہے کیونکہ خاندان کے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہر سعودی بچہ پیدا ہوتے ہی بلاد الحرمین میں رہنے والے مظلوم عوام کے کاندھے پر بوجھ بن جاتا ہے، امیر کہلاتا ہے اور اس کو وسیع زمینیں اور عوامی دولت مختص کردی جاتی ہے۔ ــ سعودی عرب: منطقۃالشرقیہ میں تین مزید نوجوان گرفتارآل سعود کی جبر و تشدد کی پالیسی اور نوجوانوں کی گرفتاریاں جاری ہیں اور آل سعود کے گماشتوں نے الشرقیہ کے علاقے میں تین مزید نوجوان گرفتار کرلئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آل سعود کے گماشتوں نے 31 مارچ کو شہر قطیف کے محلے الشویکہ میں 21 سالہ نوجوان  حسن منصور الزوری کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا؛ 3 اپریل کو شہر صفوی سے 18 سالہ ماجد علی ملا اور احمد عبداللہ صالح کو گرفتار کیا جن کے بارے میں ان کے خاندانوں کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔آل سعود کی سیکورٹی ایجنسیوں نے لوگوں کو تنگ کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کے لئے "جزیرہ تاروت" میں ناکے لگائے اور شہریوں کی بلاوجہ تلاشی کے بہانے ان سے بدسلوکی کی اور مناخ القدیم کے علاقے میں زبردست ہوائی فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلایا۔

ــ سعودی عرب: بلادالحرمین کے نوجوان وہابی تسلط سے اکتا گئے ہیںایک عرب تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ ملک کی نئی نسل کے درمیان ملک کی سیاسی اور سماجی نظام کی وہابیت سے وابستگی سے سخت ناراض و نالاں ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی تجزیہ نگار و سیاسی راہنما فؤاد ابراہیم نے کہا کہ 21سو افراد نے ایک بیان پر دستخط کئے ہیں جس میں دین اور سیاست کو آل سعود سے وابستہ کئے جانے کی روش پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی اکثریتی نوجوان آبادی ملک کے سیاسی نظام کی وہابی علماء سے وابستگی کے رجحان سے تھک چکی ہے اور رفتہ رفتہ ملک میں فیصلہ سازی کا اختیار حاصل کرنے کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔انھوں نے کہا: یہ بیان سعودی نوجوانوں کے لئے ایک نیا آغاز ہے اور یہ تبدیلی محض فکری سطح پر دینی اداروں کی مرجعیت کی سرخ لکیر سے عبور کرنے کی وجہ سے ہی نہیں ہے بلکہ سعودی عرب کی سطح پر ایک بہت بڑی سیاسی تبدیلی ہے کیونکہ یہ بیان ملک کے سب سے بڑے طبقے کی جانب سے شائع ہوا ہے اور اس طبقے کے سامنے موجودہ عظیم دیواروں کو منہدم کرچکا ہے اور یہ مسئلہ حکومت اور معاشرے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔انھوں نے کہا: مذکورہ بیان کا مضمون نئی نسل اور نئی فکر کا پتہ دے رہا ہے جو موجودہ زمانے کی زبان میں بات کررہی ہے، موجودہ زمانے کی ضروریات سے آگہی رکھتی ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نسل جزیرہ نمائے عرب پر عشروں سے مسلط نظام کے ساتھ اپنا تعلق توڑ رہی ہے۔ فؤاد ابراہیم نے کہا: جزیرہ نمائے عرب میں نئی افکار اس ملک کی نوجوان نسل کی فکری ترقی اور تبدیلی کی دلیل ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں اب تہذیبی و ثقافتی اعتبار سے نئے رجحانات جنم لے چکے ہیں جو ملک میں مطلوبہ نظام حکومت کے قیام کی جانب قدم بڑھا رہے ہيں اور ایسی صورت حال کی نوید دے ہے ہیں جس میں فکر اور سوچ کی آزادی ہوگی اور ملک میں کھلا سیاسی ماحول قائم ہوگا۔اس سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ سعودی عرب کا معاشرہ عنقریب آل سعود کے خلاف علم انقلاب اٹھا کر رہے گا اور عقیدے و رائے کی آزادی کے حق کا بھرپور استعمال کرے گا۔

ــ سعودی عرب: نوجوان سعودی نظام کے خلاف ہوچکے ہیںسعودی تجزیہ نگار نے 21 سو سعودی نوجوانوں کی طرف سے مشترکہ بیان کی اشاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے عوام کے تمام معاملات میں حکومت کی دینی و سیاسی مداخلت کے خلاف یہ بیان جاری کیا ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے تجزیہ نگار عمل الباہلی نے کہا کہ نوجوانوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے کے سیاسی و سماجی احتیاجات میں اضافہ ہورہا ہے۔انھوں نے کہا: آج سعودی عرب میں تمام سیاسی، سماجی اور اقتصادی شخصیات اس ملک کے لئے ترقی اور پیشرفت اور ترقی و پیشرفت کے لئے سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کے بیان میں مشہور سعودی شخصیات کے نام ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی نوجوان ملک میں اصلاحات کے لئے بالکل سنجیدہ ہیں اور انھوں نے اپنی توجہ ملک کے مستقبل پر مرکوز کی ہوئی ہے حالانکہ اس سے قبل کے بیانات پر مشہور سیاسی و سماجی شخصیات کے دستخط دکھائی دے رہے تھے اور پھر نوجوانوں نے پہلی بار حکومت اور علماء کی طرف سے لوگوں کی عام زندگی سے لے کر مذہبی و سیاسی معاملات میں مداخلت کے خلاف بیان جاری کیا ہے جو بہت اہم ہے۔انھوں نے کہا: ملک ميں فکری تبدیلیاں کب کی آچکی ہیں لیکن آل سعود کی حکومت نے ان تبدیلیوں کے ساتھ معقول رویہ اختیار کرنے میں ناکام رہی اور اب جو بات یہاں تک پہنچی ہے تو ملکی سطح پر نوجوان میدان میں آچکے ہیں چنانچہ میرا بھی خیال ہے اور کئی دیگر مبصرین کا بھی خیال ہے کہ عربی انقلابات سعودی عرب پر اپنے اثّرات مرتب کررہے ہیں حتی کہ کئی سعودی حکمرانوں سے بھی سنا گیا ہے کہ عربی انقلابات اس ملک کے معاشرے پر اثرانداز ہورہے ہیں؛ اس کے باوجود اس نئے بیان کا ایک خاصہ یہ ہے کہ یہ بیان جامعات کے طلبہ و اساتذہ نے جاری کیا ہے۔ الباہلی نے کہا: بیان پر دستخط کرنے والوں میں درجنوں خواتین کے دستخط دکھائی دے رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی خواتین بھی دوسرے ملکوں کی طرح ملی سیاست اور سماجی امور میں کردار ادا کرنے کی خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی گروہوں نے اپنی آراء پرامن انداز سے بیان کیں لیکن اکثر مواقع پر حکومت نے سخت رویہ اپنایا۔ــ سعودی عرب: اصلاح پسند شہزادہ بھی بدعنوان نکلا سعودی بادشاہ کے بھائی ـ جو ملک میں بنیادی اصلاحات کا حامی کہلوانے پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں ـ کو خاندانی تقسیمات میں عوام کی دو کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر زمین کا ایک ہی پلاٹ مختص کیا گیا ہے اور اس نام نہاد اصلاح پسند شہزادے نے دعوی کیا ہے کہ یہ ان کا اپنا حق تھا۔اطلاعات کے مطابق، رہائش اور مکان کے حوالے سے بحران کا شکار ہونے والے ملک میں، سعودی حکومت نے سعودی بادشاہ طلال بن عبدالعزیز کے قرضوں کے عوض انہيں سعودی عرب کی 2 کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر زمین مختص کردی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طلال بن عبدالعزیز کا ایک مکان حکمران خاندان نے فروخت کیا تھا اور حکمرانوں کے لئے اس مکان کی قیمت کی ادائیگی ممکن نہ تھی چنانچہ حکمران شہزادوں نے ـ عام طور پر مصر میں قیام پذیر نام نہاد اصلاح پسند شہزادے کو ـ 2 کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر زمین کا تحفہ دیا اور اس کے کاغذات طلال بن عبدالعزیز کے نام کردیئے۔واضح رہے کہ آل سعود کے درمیان جزیرہ نمائے عرب کی زمینوں کی بندربانٹ کی وجہ سے عوام کو رہائش کے حوالے سے شدید بحران کا سامنا ہے اور رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ طلال بن عبدالعزیز کو عوام کے خزانے سے دوکروڑ بیس لاکھ میٹر مربع زمیں پر 40 ہزار سے زیادہ بے گھر لوگوں کو گھر بنا کر دیئے جاسکتے ہیں اور شہزادہ طلال ان لوگوں میں سے تھے جو اس سے قبل عوام کو مکان کی سہولت نہ دیئے جانے پر بظاہر حکومت سے ناراض تھے!۔ طلال بن عبدالعزیز نے اس عجیب سودے کی خبریں منکشف ہونے کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ زمین کا ذاتی حق ہے۔یاد رہے کہ طلال بن عبدالعزیز سعودی عوام کی دولت سے ارب پتی بننے والے ولید بن طلال کے والد ہیں جنہوں نے مصر میں کئی لاکھ ہیکٹر عوامی زمینوں پر قبضہ کررکھا ہے اور انھوں نے بظاہر اس زمین کی قیمت سابق آمر حسنی مبارک کو ادا کی ہے۔آل سعود کی طرف سے عوام کی زمینیں غصب کرنے کا مسئلہ جزیرہ نمائے عرب کے عوام کیا ب


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی