بلاد الحرمین میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں ميں اضافہ

طلبہ کے مظاہروں میں اضافہ / : آل سعود کے خلاف عوامی احتجاج؛ سینسر ٹوٹ گیا / وہابی تفکر کا زوال شروع ہوچکا / مجتہد آف ٹویٹر!" سعودی عرب کے بحران کو بھڑکاتا رہے گا / طالبہ کا قتل اور سعودی ذرائع ابلاغ کا ردعمل / وہابی تفکر کا زوال شروع ہوچکا ہے / شیعیان اہل بیت (ع) کو ایک صدی سے دباؤ کا سامنا / 13 لڑکیوں کا دم گھٹ گیا / نامہ نگاروں کی حمایتی کمیٹی کا مطالبہ: آل سعود نامہ نگاروں کو فورا رہا کرے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طلبہ اور طالبات پر آل سعود کے وحشیانہ حملے آل سعود کے شدید خوف اور حکمران خاندان کی طرف سے عوامی احتجاجی تحریک پر قابو پانے سے مایوسی کی علامت ہے۔ گذشتہ چند دنوں کی خبریں ملاحظہ ہوں:ــ سعودی عرب: طلبہ کے احتجاجی مظاہروں میں اضافہسعودی عرب کے ایک سیاسی راہنما نے بلقرین، تبوک، قسیم حتی کہ دارالحکومت ریاض میں طلبہ کے شدید احتجاجی مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود کی عدم جواہدہی احتجاجی تحریک میں وسعت کا سبب بن گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی سیاسی راہنما "احمد محمد آل ربح" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود کے سرکار اہل کاروں نے ابہا میں طالبات پر سرکاری فورسز کے حملوں کے حوالے سے طلبہ اور طالبات کے مطالبات کو مسترد کیا چنانچہ اب مظاہروں کا سلسلہ ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ آل ربح نے کہا: "الشرقیہ کے علاقے میں احتجاجی تحریک ایک سال سے جاری ہے اور ملک کے دوسرے علاقوں تک اس تحریک کا پھیل جانا فطری امرہے کیونکہ الشرقیہ کے عوام نے آل سعود کی ہیبت اور حکومت سے عوام کے خوف کی دیواریں ڈھا دی ہیں۔انھوں نے کہا: دلچسپ امر یہ ہے کہ دوسرے علاقوں میں عوامی تحریک جامعات (یونیورسٹیوں) سے شروع ہوئی اور عوام طلبہ اور طالبات کی تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا: تمام آسمانی اور زمینی قوانین عوام کے حق احتجاج اور حق اجتماع کو تسلیم کرلیا ہے لیکن آل سعود کے حکمران عوام کو ان کے خداداد حقوق سے محروم کررہے ہيں۔ آل ربح نے آل سعود کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں "ابہا" شہر کی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی شہادت کے بعد ان فورسزکے ہاتھوں 50 طالبات کے زخمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل سعود کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر نامی پولیس کے حملوں اور تشدد کے نتیجے میں متعدد طالبات بے ہوش ہوگئیں اور کئی حاملہ طالبات کے بچے ضائع ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود کے خلاف جامعات کے طلبہ کا احتجاج جاری رہے گا۔انھوں نے کہا: ابہا کے علاقے میں احتجاجی تحریک کے راہنماؤں نے مقامی سعودی حاکم سے ملاقات کی ہے اور اپنے مطالبات انہیں پیش کئے ہیں اور اتوار کے روز جامعات کے فارغ التحصیل افراد نے بلقرین، قسیم، ابہا اور تبوک میں مظاہرے کئے ہیں اور دھرنے منعقد کئے ہیں۔ یاد رہے کہ ریاض اور قسیم نجد میں واقع ہیں اور نجد آل سعود کا آبائی علاقہ ہے جہاں سے انھوں نے وہابی دین کی مدد سے حجاز اور الشرقیہ نیز جنوب اور شمال پر قبضہ کیا۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ عوام پر آل سعود کا دباؤ بڑھانے کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نامی بدنام زمانہ فورسز کو استعمال کیا جاتا ہے جو مفتیوں اور آل سعود کے درمیان واسطے کا کردار بھی ادا کرتی ہیں اور جہاں پولیس اور فوج کی طرف سے جمہوریت اور عوام کی طرف رجحان "کا خطرہ" محسوس ہوتا ہے وہاں ان فورسز کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور حال ہی میں طالبات پر حملوں کے لئے ان ہی کو استعمال کیا گیا کیونکہ انہیں وہابی اسلام کے مطابق عمل کرنے کا حکم ہوتا ہے اور اس راہ میں وہ حاملہ عورتوں تک پر حملے کرسکتے ہیں؛ آل سعود کے مخالف رہنما اس فورس کو آل سعود اور وہابی مفتیوں کی مشترکہ سیاسی جماعت اور مسلح فورس کا نام دیتے ہیں جس کا کردار طالبان اور دیگر دہشت گرد ٹولوں کے کردار سے ملتا جلتا ہے۔آل ربح کا کہنا تھا کہ آل سعود کے خلاف شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک کا ابھی آغاز ہے اور ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہورہی ہے؛ آل سعود نے ابھی تک ابہا یونیورسٹی کی طالبات کا جواب گولی اور لاٹھی سے دیا ہے اور یہ اقدام آل سعود کے خلاف احتجاجی تحریک میں وسعت کا باعث ہورہا ہے۔ ــ‌ سعودی عرب: آل سعود کے خلاف عوامی احتجاج؛ سینسر ٹوٹ گیا مصری روزنامے نے اپنے اداریئے میں لکھا: سعودی عرب کے عوامی احتجاجاب شدید ابلاغی سینسر کے باوجود ایک حقیقت میں تبدیل ہوچکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق مصری روزنامے "الانوار" کے چیف ایڈیٹر نے لکھا: سعودی عرب کے عوام کی احتجاجی تحریک نے ابلاغی بائیکاٹ کی دیواریں توڑ دی ہیں اور سعودی حکومت کے ہاتھوں گرفتار شخص سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر شہریوں کی بڑی تعداد کی طرف سے بھوک ہڑتال اور جدہ اور ریاض میں عوامی مظاہروں کے اعلان کے بعد یہ تحریک نئے مراحل میں تبدیل ہوگئی ہے۔  روزنامہ "الانوار" کے چیف ایڈیٹر "عادل الجوجری" نے اپنے روزنامے کے اداریئے میں لکھا کہ: نظر یوں آتا ہے کہ القطیف سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک خواتین کی ڈرائیونگ کے لئے اٹھنے والی تحریک نسوان، ابہا کی ملک خالد یونیورسٹی کی طالبات کے احتجاجی دھرنوں اور آل سعود کے مخالفین کی بھوک ہڑتال نے آل سعود کے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔انھوں نے کہا: آل سعود کے مخالفین نے اپنے اسیر ساتھی "محمد البجادی" ـ جو تین ہفتوں سے جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں ـ سے یکجہتی کے اظہار کے لئے دو دن تک علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا: دارالحکومت ریاض کی "حائر" نامی جیل میں پابند سلاسل سیاسی قیدی نہایت دشوار صورت حال میں قید کاٹ رہے ہیں اور اس اذیتکدے کو مخالفین کا سیاسی عزم و ارادہ توڑنے کے مقام میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ان اسیروں سے یکجہتی کے طور پر ان کے دوستوں نے دھرنوں، احجاجی مظاہروں اور بھوک ہڑتالوں کا سہارا لیا ہے۔الجوجری نے زور دے کر کہا ہے کہ سعودی عرب میں پہلی مرتبہ بھوک ہڑتال نہیں ہورہی ہے بلکہ اس سے قبل بھی وسیع دھرنوں اور ہڑتالوں کا اہتمام کیا جاچکا ہے اور "انقلاب جزیرۃالعرب خبررسان کمیٹی" کے نام سے اب ایک گروہ بھی ظہور پذیر ہوا ہے جو اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ اور طالبات کو دھرنوں اور ہڑتالوں کی دعوت دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ دریں اثناء سعودی ايئرلائنز کے بعض کارکنوں نے بھی ہڑتال کررکھی ہے تا کہ سعودی ائیرلائنز میں ہونے والی بدعنوانیوں  کے بارے میں تحقیق کرائی جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انھوں نے کہا: اس سے قبل ایک سال کے دوران الشرقیہ کے علاقے میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن ان کو ابلاغی بائیکاٹ کا سامنا تھا تا ہم اب یہ سلسلہ منطقۃالشرقیہ کی حدود سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گیا ہے چنانچہ اب اس احتجاجی تحریک کا ابلاغی و تشہیری بائیکاٹ آل سعود کے لئے ممکن نہيں رہا ہے اور اب احتجاجی تحریک کو شیعہ تحریک یا فرقہ وارانہ تحریک کا نام دینا ممکن نہيں ہے کیونکہ اب سعودی عرب میں رہنے والے تمام مسلمان اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ــ "مجتہد آف ٹویٹر!" سعودی عرب کے بحران کو بھڑکاتا رہے گاانٹرنیٹ پر سعودی شہزادوں کے درمیان شدید اختلافات کے انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکام میں اعلی ترین سطح پر بدعنوانی اور نہایت گہرے اندرونی اختلافات پائے جاتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق امریکی روزنامے فائننشل ٹائمز نے "ٹویٹر صارفین جرأتمندانہ انداز سے سیاسی منازعات کو ہوا دے رہے ہیں" کے زیر عنوان اپنی رپورٹ میں ایک سعودی صارف کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو "مجتہد" کے نام سے آل سعود کے شہزادوں کے درمیان موجودہ اختلافات کو فاش کررہا ہے اور آل سعود کے تمام شہزادوں کےناجائز و ناروا کرتوتوں پر سے پردہ اٹھاتا ہے اور ان پر تنقید کرتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے تمام انٹرنیٹ صارفین نے "مجتہد" کا نام سن رکھا ہے لیکن کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ مجتہد ہےکون، اس کا چہرہ کیسا ہے، کہاں رہتا ہے؟ لیکن سب اس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ فائننشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ کے ساتھ ایک نقابدار خاتون کی تصویر بھی شائع کی ہے جس کے ہاتھ میں موبائل فون بھی ہے اور لکھا ہے کہ اس نہایت جری صارف نے 2011 کے آخری مہینوں سے آل سعود کی اندرونی صورت حال کو افشاء کرنا شروع کیا ہے اور سب سے پہلی بار اس نے آل سعود کے بعض شہزادوں کی بدعنوانیوں اور اخلاقی برائیوں کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی اور اس کے بعد اس نے آل سعود کی ترسیم کردہ تمام حدود کو پھلانگ دیا ہے۔مجتہد نے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد کے بارے میں لکھا ہے: یہ شخص اپنے والد کی بادشاہت کے ایام میں تمام وزراء اور امراء سے زیادہ طافتور تھا لیکن اس نے عوام کی رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ فائننشل ٹائمز لکھتا ہے: عرب دنیا میں مجتہد کے دولاکھ پچاس ہزار پرستار ہیں جن میں عرب امارات کے ایک پروفیسر "عبدالخالق عبداللہ" بھی شامل ہیں اور عبدالخالق عبداللہ نے مجتہد کو "ویکیلیکس کا سعودی ورژن" قرار دیا ہے۔ روزنامے نے لکھا: سعودی عرب کے عوام مجتہد کی تحریروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کے مفتیوں کو شدید خدشات لاحق ہوگئے ہیں اور وہ مجتہد کے اقدامات سے سخت غضبناک ہیں۔یاد رہے کہ آل سعود کے درباری مفتیوں نے حال ہی میں فتوی دے کر ٹویٹر کے صارفین کو اس ویب سائٹ سے رجوع کرنے سے روکا ہے اور کہا ہے کہ "سچے مسلمان ٹویٹر استعمال نہیں کرتے اور اس فتوے کی خلاف ورزی بھی آل سعود کی  حکومت نے کی ہے اور اس کے 5،3 فیصد شیئرز خرید لئے ہیں تا کہ اس طرح ٹویٹر کے سعودی صارفین پر نظر رکھ سکیں!۔سعودی مفتی شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے کہا ہے کہ ٹویٹر بعض شہرت پسند لوگوں کے ہاتھ میں اوزار کی صورت اختیار کرگیا ہے جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر بہتان تراشی کرتے ہیں اور جھوٹ و افترا باندھتے ہیں۔ــ ایک طالبہ کا قتل اور سعودی ذرائع ابلاغ کا رد عملابہا شہر کی جامعہ ملک خالد میں آل سعود کی دینی پولیس کے ہاتھوں ایک طالبہ کے قتل اور 54 طالبات کے زخمی ہونے کی خبر ان دنوں بلاد الحرمین کے ذرا‏ئع ابلاغ کے اصلی موضوع میں تبدیل ہوچکی ہے۔اطلاعات کے مطابق، العالم نے اپنے نیوز ویب بیس پر ایک رپورٹ کے ضمن میں لکھا ہے کہ جامعہ ملک خالد کا سانحہ اور آل سعود کی دینی پولیس کی سفاکی کی وجہ سے سعودی عرب کے مشہور جرائد و اخبارات رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب میں رونما ہونے والے واقعات کو کوریج دینے لگے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق روزنامہ الوطن بھی ان ہی جرائد و اخبارات میں شامل ہے جس نے لکھا ہے کہ امریکی کالج "کیٹی" نے ملک خالد یونیورسٹی میں بدانتظامیوں اور طلبہ و طالبات کے ساتھ بدسلوکیوں کے منفی نتائج کے بارے ميں خبردار کیا تھا۔الوطن نے "جامعات کے سرہراہو! سیلاب تمہاری طرف آرہا ہے" کے تحت عنوان اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کی دوسری جامعات کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور اس روزنامے نے ملک خالد یونیورسٹی کے سانحے کی مذمت کی ہے۔ اس روزنامے نے سعودی حکام کو جامعات کی صورت حال کی نزاکت کا سبب قرار دیا ہے اور لکھا ہے: سیاسی حکام تعلقات اور سفارش کی بنیاد پر اپنے منظور نظر افراد کو جامعات پر مسلط کرتے ہیں، طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز کرتے ہيں، ان کی شکایات کو توجہ نہیں د


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی