شام میں جمہوریت کےلئےکوشاں مطلق العنان آل سعود کےکرتوت؛

سعودی عرب میں شیعہ باشندوں کی گرفتاریوں میں زبردست اضافہ / اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون

حالیہ ہفتوں میں القطیف میں شیعہ باشندوں کی گرفتاریوں میں اضافہ /ـ ایران کے خلاف یہودی ـ سعودی تعاون! / ــ آل سعود یمن میں ماہانہ 4 کروڑ ڈالر خرچ کررہا ہے / فتنہ انگیزیوں کے لئے اربوں ڈالر اور عوام غربت و افلاس سے دوچار / سعودی ولیعہد کا خفیہ دورہ امریکہ؛ آل سعود کی شام اور ایران کے خلاف اقدامات کے لئے واشنگٹن سے مشاورت/ آل سعود کے اذیتکدوں میں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "عدل برائے انسانی حقوق" مرکز نے منگل (6 مارچ 2012) کو شائع ہونے والی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے منطقۃالشرقیہ کے صوبہ القطیف میں پر امن مظاہروں میں شرکت کے الزام میں شیعیان اہل بیت (ع) کی وسیع گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔"عدل برائے انسانی حقوق" مرکز کے رکن "صادق الرمضان" نے کہا ہے کہ آزادیوں کو یقینی بنانا اور ملزموں پر مقدمہ چلانا، قیام عدل کے در اہم اور بنیادی عناصر ہیں اور سیکورٹی اقدامات کے ذریعے کسی معاشرے کے مسائل حل کرنا، ممکن نہيں ہے بلکہ شہریوں کے سیاسی اور شہری حقوق کی حمایت کے لئے ایک دائرہ کار معرض وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہ فروری میں صرف الشرقیہ کے علاقے میں 36 افراد اسیر کئے گئے ہيں اور اسی عرصے میں دو صحافیوں سمیت 19 افراد القطیف اور الاحساء میں گرفتار کئے گئے ہيں جن میں ایک اسیر کی عمر 16 سال سے کم ہے اور یوں آل سعود کی جیلوں میں قید بچوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ ایک مہینے کے دوران آل سعود کے ہاتھوں اسیر ہونے والوں میں سب سے نمایاں شخصیات، جو القطیف کے سعودی پولیس مرکز میں قید ہیں العوامیہ کے مرکز صحت کے سربراہ "ڈاکٹر عبدالکریم النعیم" اور اس مرکز کے نگران افسر عبدالعزيز المحسن ہیں۔ اس مرکز نے اپنی رپورٹ میں کچھ اسیروں کی رہائی کا بھی اعلان کیا ہے جن میں 5 سال سے مقدمہ کا انتظار کرتے ہوئے حبس بے جا کاٹنے والے والے ڈاکٹر سعید بن زعیر بھی شامل ہيں جن پر مقدمہ چلا تو بے گناہ نکلے، بری اور اور رہا کردیئے گئے لیکن اپنی عمر کے پانچ سال آل سعود کے اذیتکدوں میں گذار کر باہر آئے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر سعید بن زعیر 11 مہینے حبس بے جا میں رہ کر رہا ہوگئے اور شیخ مخلف بن دہام الشَمری 21 مہینوں کے بعد اور طاہر احمد شنر 3 مہینے اذیتکدوں میں رہ کر رہا ہوگئے.دریں اثناء ڈآکٹر یوسف الاحمد بری کردیئے گئے ہیں لیکن آل سعود کے گماشتوں نے ان کو ابھی تک رہا نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ فروری 2011 میں عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کے آغاز کے ساتھ ہی آل سعود کے خلاف بھی انقلاب کا آغاز ہوا لیکن یہ انقلاب شیعہ علاقوں تک محدود ہوگیا اور باقی لوگوں نے اعلان کرنے کے باوجود آل سعود کے سرکاری مفتیوں کے فتووں سے خوفزدہ ہوکر انقلاب کا ساتھ چھوڑ دیا اور الشرقیہ میں جمہوری عوامی تحریک بدستور جاری ہے اور فروری 2011 سے فروری 2012 تک اس علاقے سے حراست میں لئے جانے والے مردوں، خواتین اور بچوں کی تعداد افراد کی تعداد 550 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے باقی کو چھوڑدیا گیا ہے لیکن 170 مرد، خواتین اور بچے ہنوز اذیتکدوں میں پابند سلاسل ہیں۔"عدل برائے انسانی حقوق مرکز" نے آل سعود سے مطالبہ کیا ہے آل سعود کے ساتھ فکری اختلاف کی بنا پر گرفتار ہونے والے افراد کو فوری طور پر رہا کردے اور انسانی حقوق کے مدافعین پر لگائے گئے جھوٹے ملزموں کے الزامت واپس لے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے طول و عرض میں 4000 سے زائد سیاسی قیدیوں کی اطلاعات ہیں جن کو مقدمہ چلائے بغیر طویل عرصے سے جیلوں میں رکھا جارہا ہے۔ ــ ایران کے خلاف یہودی ـ سعودی تعاون!اسٹراٹفور گلوبل اسٹراٹیجک نے فاش کیا ہے کہ سعودی انٹیلیجنس ایجنسی ایران کے خلاف اسرائیلی موساد کے ساتھ قریبی تعاون کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ویکیلیکس نے  نے اسٹرافور کے بعض ایمیل پیغامات فاش کردیئے ہیں جن کا تعلق اپریل 2007 سے ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس ایجنسی اور صہیونیوں کی بدنام زمانہ موساد کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے اور ان کا خفیہ تعاون جاری ہے۔ ان ایمیل پیغامات کا تعلق اسٹراٹفور کے نائب سربراہ "فریڈ برٹن (Fred Burton )" اور ان کے رفقائے کار کے درمیان ایک مکالمے سے ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افراد آل سعود کے ساتھ تجارتی تعاون کرتے رہتے ہیں اور بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب فریڈ برٹن نے اپنے ایک تجزیہ نگار کو ایمیل پیغام دیا جو در حقیقت ایک انفارمشین سورس تھا جس کا نام ویکی لیکس سے فاش نہیں کیا۔ اس سورس نے انکشاف کیا کہ یہودی صہیونی موساد نے آل سعود کی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایران کے خلاف خفیہ کاروائیوں میں مشاورت اور تعاون کی پیشکش کی ہے اور یہ کہ آل سعود اور صہیونیوں کا مشترکہ انٹیلجنس تعاون مرکز "قبرص" میں واقع ہے اور آل سعود ایک طرف سے جہادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے تو دوسری طرف سے اسرائیل کے ساتھ وسیع تعاون کررہا ہے اور موساد کے بعض حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں نے آل سعود کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں مشترکہ نیز ذاتی مفاہمت نامے منعقد کئے ہیں اور وہ سب الگ الگ بھی اور مشترکہ طور پر بھی ایران کے ساتھ آل سعود کے ساتھ تعاون کررہے ہیں گوکہ یہ مفاہمت نامے بظاہر تجارتی ہیں اور اس سطح پر قریبی تعاون کے بعد آل سعود اور غاصب صہیونی ریاست کے درمیان تعلقات نہایت دوستانہ ہوگئے ہیں۔ اسٹراٹفور کمپنی کا سربراہ "ڈان کایکینڈل" (Don Kuykendall) بھی بورٹن کے پروگرام میں شریک تھا جس نے یہ سوال اٹھایا کہ "کہ سعودی وزارت خارجہ اور انٹیلجنس ایجنسی کو ہم نے اپنے کرائے کے اداروں میں شامل کرلیا ہے؟"۔ کایکینڈل کہتا ہے: میری تجویز یہ ہے کہ "اسٹراٹفور کے ایک رکن "مائیک بارکس" کو سعودی عرب روانہ کرکے اس کو وہاں کرائے کے ایجنٹ بھرتی کرنے اور [القاعدہ کے اصل سربراہ اور بش خاندان کے خاندانی دوست نیز 19 سال تک امریکہ میں سعودی سفیر کے عہدے پر قابض رہنے والے] بندر بن سلطان "دوستی کو فروغ دینے" کی غرض سے سعودی عرب روانہ کیا جائے۔ ان افراد کے لئے ایک لاکھ ڈالر کی رقم ناچیز سی رقم ہے اور میرے خیال میں ۔۔۔۔۔۔۔ (یہاں کایکینڈل عربوں کے بارے میں بھونڈے الفاظ ادا کرتا ہے جو قابل ذکر نہیں ہیں۔۔۔)بورٹن کے ساتھ ایمیل کا تبادلے کا کام مکمل ہوا تو اس نے طنز آمیز لہجے میں کہا: "یا ہم ان کرائے کے ایجنٹوں کے کٹے ہوئے سر چاہتے ہیں یا پھر کچھ بھی نہیں چاہتے ہیں۔ اور ہم جس شخص کو بھی ریاض بھیجیں گے اس کا سر بھی قلم کرسکتے ہیں۔ــ آل سعود یمن میں ماہانہ 4 کروڑ ڈالر خرچ کررہا ہےیمن کی عوامی کمیٹیوں کے بورڈ کے رکن نے کہا: سعودی خاندان یمن کے بااثر افراد کو ماہانہ چار کروڑ ڈالر ادا کرکے یمنی انقلاب کو ناکام بنانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کررہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یمنی انقلابی راہنما اور عوامی کمیٹیوں کے بورڈ کے بانی رکن "نائف الشرعبی" نے بدھ کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: امریکہ اپنی پالیسی "تعمیری لاقانونیت" کے تحت قوموں کے درمیان اختلاف ڈالنے کے ایجنڈے پر کام کررہا ہے تا کہ علاقے کے ممالک رونما ہونے والے واقعات کا انتظام و انصرام سنبھالنے سے عاجز اور بے بس ہوں اور اقوام سے اپنے اور صہیونی ریاست کے مفاد میں آسانی کے ساتھ فائدہ اٹھائے اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے سے باز رکھا جائے۔ انھوں نے کہا: یمن میں جاری بحران "ریاض کے مفاہمت نامے کا نتیجہ ہے جس کی بنیاد پر علی عبداللہ صالح اور ان کے دھڑے کو اقتدار میں برقرار رکھا گیا اور اس کے بعد انقلابی قوتوں کو الگ تھلگ اور تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر کام کیا اور اپنے کھیل کو تین میدانوں میں جاری رکھا:1۔ انقلابی قوتوں کو تقسیم در تقسیم کرکے بدنام کرنا2۔ ذرائع ابلاغ میں شمال کے حوثیوں اور جنوبی عوام کو بدنام کرنے کی مہم چلانا3۔ القاعدہ کو سرگرم اور فعال کرنا اور اس کی سرگرمیوں کے بہانے انقلابی تحریک کو ماند کردیں اور انقلاب کی خبروں کو القاعدہ کی خبروں کے سامنے بے وقعت کردیں۔انھوں نے کہا: ریاض مفاہمت نامے میں یہ تین نکات شامل تھے جن پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔الشرعبی نے کہا: القاعدہ علی عبداللہ صالح کی ایجاد کردہ تنظیم ہے جو انھوں امریکیوں کے مفادات کے تحفظ اور افغانستان میں سابق سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے استعمال کیا اور آج بھی القاعدہ یمن میں موجود ہے اور اس کی باگ ڈور علی عبداللہ صالح کے ہاتھ میں ہے۔یاد رہے کہ القاعدہ کی عراقی اور شامی شاخوں کی کمانڈ سعودی شہزادے بندر بن سلطان کے ہاتھ میں ہے۔ انھوں نے کہا: یمن میں امریکی سفارت خانے سے رد پوش ہونے والی اطلاعات کے مطابق یمنی القاعدہ تنظیم کو انقلابی قوتوں کے درمیان خلیج ڈالنے، یمن کی اندرونی فضا پر تسلط جمانے، یمنی نوجوانوں کو ان کے جائز مطالبات سے منحرف کرنے اور انقلاب کو بھول جانے پر آمادہ کرنے اور سیاسی و معاشی صورت حال سے منحرف کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: علاقے کے سعودی عرب سمیت بعض ممالک امریکہ کے نمائندوں کا کردار ادا کررہے ہیں؛ مثلا سعودی عرب یمن میں دن رات با اثر افراد کو بڑي بڑي رقوم ادا کرتا ہے اور مجموعی طور پر سعودی خاندان یمن میں ماہانہ 40 ملین ڈالر خرچ کررہا ہے تا کہ یمن میں امریکی اور سعودی مفادات کی حفاظت کی جاسکے اور یمن کو 1960 کے انقلاب کی صورت حال میں رکھا جاسکے اور آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔ نائف الشرعبی نے آخر میں کہا: یمن ابھی تک کوئی مہذب اور متمدنانہ ترقی نہیں کرسکا ہے کیونکہ علی عبداللہ صالح آل سعود کے تعاون سے یمنی عوام کو درپیش سیاسی اور معاشی مشکلات سے نکلنے کی کی اجازت نہیں دیتا اور ملک میں مسلسل سیکورٹی مسائل پیدا کرتا رہا ہے اور یمن کو امریکی و سعودی اڈے میں تبدیل کرتا آیا ہے۔ ــ سعودی عرب: فتنہ انگیزیوں کے لئے اربوں ڈالر اور عوام غربت و افلاس سے دوچاریمن، عراق، شام، بحرین، اور مصر سمیت شمالی افریقی ممالک کے انقلابات کو منحرف کرنے کے لئے فتنہ انگیزیوں اور پاکستان، افغانستان اور لبنان میں فرقہ واریت کو ہوادینے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے سعودی عرب کے عوام امتیازی سلوک، بے روزگاری اور بھوک اور افلاس میں مبتلا ہیں۔اطلاعات کے مطابق آل سعود آٹھ برسوں سے عراقی عوام کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اور کئی ممالک میں ہزاروں افراد کے قتل میں ملوث ہے، بحرین پر قبضہ جمائے ہوئے ہے، یمن میں مداخلت کرچکا ہے، مصر و تیونس کے انقلابات کو تباہ کرنے کے لئے اربوں خرچ کررہا ہے اور ان دنوں تو وہ جہاں الشرقیہ کے علاقے میں عوامی مظاہروں کو کچلنے میں ایک لمحہ بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور انقلاب بحرین کو کچلنے کے لئے آل خلیفہ کے پاس دس ہزار کرائے کے جلاد بھجوا چکا ہے، شام کے دہشت گرد ٹولوں کی مہربان بن کر بظاہر اس ملک میں جمہوریت کے قیام کے لئے کوشش کررہا ہے!! اور صدر شام کو عوام کی آواز سننے کی نصیحت کررہا ہے!! نہ مرے یہ بھی دیکھ لیا۔بحرین میں سعودی جرائم اور مظالم کی داستان دنیا بھر میں آل سعود کی بدنامی کا سبب بنی ہوئی ہے اور شیعیان اہل بیت (ع) کے ساتھ اس کا برتاؤ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلیوں کے اس لئے بہت زیادہ افسوسناک ہے کہ اسرائیل میں ذرائع ابلاغ کا وجود ہے [گوکہ انہیں آزادانہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے] لیکن سعودی عرب میں ذرائع ابلاغ


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی