سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛

آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ

28 افراد دو ہفتوں کے دوران گرفتار/ سعودی وزارت داخلہ کی دھمکیاں / آل سعود کا آہنی مکا/ آل سعود: شیعیان الشرقیہ کا صفایا کریں گے / سعودی اہلکاروں کا موقف سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف / آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ / بھوکوں کا انقلاب آل سعود کو چیلنج / سعودی خاندان کا علاج؛ گرجاگھر کا صدقہ! / کویتی اسپیکر کا بیان آل سعود کو جھٹکا / ٹویٹر کے صارفین کے خلاف سعودی مقتی اعظم کا فتوی / آل سعود کے اختیارات محدود ہونے چاہئیں / آل سعود کے حکمران رائے عامہ کو گمراہ کررہے ہیں/ آل سعود پر گومگو اور حیرت کی کیفیت طاری ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق سعودی وزارت داخلہ کی طرف سے نہتے مظاہرین کے خلاف آہنی مکے پر مبنی پالیسی کا اعلان اور آل سعود سے وابستہ روزنامے کی طرف سے شیعیان الشرقیہ کو قتل عام کی دھمکی آل سعود کے سیاسی دیوالیہ پن اور عوام کے سامنے بالکل بے بسی کی علامت قرار دی گئی ہے۔ گدشتہ چند روز میں آل سعود کے زير قبضہ مسلمانوں کی مقدس ترین سرزمین کے باسیوں پر کیا گذری؟ انھوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے کیا کیا اور آل سعود نے ان کے جواب میں کیا اقدامات کئے؟ مطالعہ فرمائیں:ــ سعودی عربي دوہفتوں کے دوران 28 افراد آل سعود کے ہاتھوں گرفتارسعودی عرب میں انسانی حقوق کے ذرا‏ئع کے حوالے سے سرگرم ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ چارہفتوں کے دوران آل سعود کے گماشتوں نے دو نوجوانوں کو شہید، 12 کو زخمی اور 28 کو گرفتار کرلیا ہے۔ اسی مدت میں آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں 12 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ اکثر زخمیوں کو بدن کے فوقانی حصے میں گولیاں لگی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کے بادشاہ اور ولیعہد (جو وزیر داخلہ بھی ہیں) نے الشرقیہ کے عوام پر رحم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور سیکورٹی فورسز کو عوام کو جان سے ماردینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی بحرین پر مسلط آل خلیفہ حکومت کی مانند، حکومت عوام کے خلاف میدان جنگ میں اتری ہوئی ہے ورنہ جس طرح بحرین میں کوئی حکومت نہیں ہے اور جارحین اور عوام کے درمیان جنگ کی سی کیفیت ہے الشرقیہ کے علاقے میں بھی یہی صورت حال ہے اور یہاں بھی جارحین اور عوام کے درمیان جنگ کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے اور یہاں بھی بحرینی عوام کی مانند عوام اپنے خالی ہاتھوں اور پر امن جدوجہد کے ذریعے مسلح آل سعود اور اس کے اندرونی اور بیرونی کرائے کے قاتلوں کو بے بس کئے ہوئے ہیں۔ان ذرا‏ئع نے بتایا کہ آل سعود کی فورسز نے شیعہ علاقوں میں چیک پوسٹ اور ناکے لگائے ہیں جن کی سابقہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اٹھائیس افراد کو ان ہی چیک پوسٹوں اور ناکوں پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اکثر اسیر القطیف میں گرفتار ہوئے ہیں جن کی عمریں 16 سے 45 برس کے درمیان ہیں اور ان افراد کو الدمام، الاحساء اور القطیف میں واقع سعودی اذیتکدوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ اسیروں میں سن سے مشہور اور نماياں شخصیات میں سے قلمکار "نذیر الماجد" اور انسان حقوق کے شعبے میں فعال راہنما "فاضل المناسف" شامل ہیں جن کو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ آل سعود کے اذیتکدوں میں اسیری کی زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ ــ سعودی وزارت داخلہ کا دھمکی آمیز بیان/ آل سعود کی تشویش کی علامتآل سعود کی وزارت خارجہ نے اپنے دھمکی آمیز بیان میں ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ عوامی تحریک کو کچل دے گی۔ اطلاعات کے مطابق آل سعود کی وزارت داخلہ نے منطقۃالشرقیہ کے پر امن مظاہروں پر روا رکھے جانے والے سعودی جبر و تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لئے دعوی کیا ہے کہ "سیکورٹی فورسز جدید دہشت گردی (!) اور بیرونی قوتوں سے وابستہ (!) اقلیت کو شدت کے ساتھ کچل دیں گی اور یہ کہ بیرونی دنیا سے وابستہ اقلیت اپنے مقاصد تک نہیں پہنـچ سکے گی۔ واضح رہے کہ منطقۃ الشرقیہ میں شیعیان اہل بیت (ع) کی مطلق اکثریت ہے اور آل سعود کے پاس ان کی بیرون ملک وابستگی کا کوئی ثبوت ہوتا تو اس کو پیش کرنے سے ہرگز اجتناب نہ کیا جاتا اور پھر آل سعود پوری دنیا میں دہشت گردی کا اصل مجرم ہے یہ نہیں معلوم کہ اس خاندان کے افراد نہتے اور پر امن مظاہرین کو جدید دہشت گرد اور ان کے پر امن احتجاج کو جدید دہشت گردی کا نام دے کر کس کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں؟ الشرقیہ کے عوان کہتے ہیں کہ ہرگز خدا کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھکیں گے اور یہ کہ وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔سعودی عرب کے معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کا یہ موقف الشرقیہ کے علاقے میں عوامی احتجاج کے دوام سے آل سعود کی شدید تشویش کی علامت ہے کیونکہ اس علاقے کے عوام آل سعود کے شدید ترین اقدامات اور بے رحمانہ و غیر انسانی درندگی کے باوجود اپنی تحریک گذشتہ ایک سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان مبصرین کا کہنا ہے کہ الشرقیہ کے عوام کی تحریک کے باعث سعودی عرب کے سنی اکثریتی علاقوں کا خوف بھی زائل ہوگیا ہے اور وہ بھی آل سعود کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے لگے ہیں گو کہ انہیں کوئی کوریج نہیں دی جاتی اور ان کو مولوی اور مفتی حضرات یعنی وعاظ السلاطین کے فتوؤں کی بنیاد پر مکمل میڈیا بائیکاٹ اور زبردست جبر و تشدد کا سامنا ہے لیکن مظاہرے بدستور جاری ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے تمام باشندے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آل سعود کی مکمل ہماہنگی اور حکومت کی جانب سے ان کی مکمل اطاعت سے تنگ آچکے ہیں اور دوسری طرف سے معاشرتی طبقوں میں وسیع خلیج حائل ہوئی ہے۔ عوام غریب، بے گھر اور بے روزگار ہیں اور ملک کی پوری دولت یا تو آل سعود کے ہاتھوں میں ہے یا پھر ان کی بادشاہت کا تحفظ کرنے والوں کو بھی کچھ حصہ دیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب کے تمام طبقات حکومت سے سخت ناراض ہیں۔

ــ مظاہرین کے لئے آل سعود کا آہنی مکا/ شرمناک حد تک ہرزہ سرائیایک سعودی سیکورٹی اہلکار نے القطیف میں عوامی مظاہروں کو "جدید دہشتگردی" سے تعبیر کیا ہے جس میں "گمراہ ہونے والے" لوگ شرکت کررہے ہیں!اطلاعات کے مطابق آل سعود کی وزارت خارجہ کے اس اعلی اہلکار نے دعوی کیا ہے کہ القطیف میں جو کچھ ہورہا ہے ایک قسم کی نئی دہشت گردی پر مبنی اقدامات میں شمار ہوتے ہیں!!آل سعود کی وزارت داخلہ کے اس اہلکار نے عوام کے پر امن مظاہروں کو ایسے حال میں دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے کہ اس خاندان کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود اپنے ملک میں مظاہروں کو کچلنے اور بحرین پر جارحیت کا ارتکاب کرنے کے باوجود شام میں جمہوریت کے نام پر ہر قسم کی مداخلت کررہے ہیں، وہاں دہشت گردوں کی مالی اور فوجی حمایت کرتے ہیں اور شام کے عوام کو جمہوریت اور آزادی کے حصول کی تلقین کرتے ہیں اور ان کو حمایت کے پیغامات بھیجتے ہیں!!!سعودی اہلکار نے کہا کہ صوبہ القطیف میں سیکورٹی اہلکاروں اور گمراہ شدہ افراد کے درمیان جھڑپوں کا مشاہدہ کررہے ہیں اور گمراہ افراد کا احتجاج جدید دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ سعودی اہلکار نے ہزاروں گرفتاریوں اور عوام کو قلع قمع کرنے کے سعودی اقدامات کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا کہ اگر القطیف میں حالات نازک ہوجائیں تو سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز اپنی پوری طاقت استعمال کرکے آہنے مکے سے مظاہرین کو کچل دیں گی۔ سعودی اہلکار نے دعوی کیا کہ مٹھی بھر افراد جو بیرونی قوتوں سے وابستہ ہیں، اجنبی قوتوں کے اشاروں پر سرگرم عمل ہیں اور ان لوگوں کے اقدامات کا سبب عالم اسلام اور عالم عرب کے سلسلے میں آل سعود کے اقدامات ہی ہیں۔سعودی اہلکار نے البتہ یہ نہيں بتایا کہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کی صف میں کھڑا ہونا اور آل خلیفہ کی حقاظت کی خاطر بحرین پر جارحیت کرنا عالم اسلام اور عالم عرب کی خدمت کیونکر ہوسکتی ہے۔ سعودی اہلکار نے الشرقیہ میں عوام کے قتل عام، بحرین میں عوام کے قتل عام میں آل خلیفہ کا ہاتھ بٹانے اور عراق اور شام نیز پاکستان میں دہشت گردوں کو مسلح کرکے ہزاروں افراد کا قتل عام کرانے کی طرف اشارہ کئے بغیر نہایت وقیحانہ انداز سے کہا ہے کہ الشرقیہ کے مظاہرے آل سعود کو ان لوگوں کے خلاف اقدامات کرنے سے نہیں روک سکتے جو اپنی ملت کا خون بہا رہے ہیں!!!!!!!!!!

ــ سعودی روزنامے نے الشرقیہ کے عوام کو قتل عام کرنے کی دھمکی دیسعودی وزارت داخلہ اور اس وزارت کے ایک اہکار کی طرف منطقۃالشرقیہ کے عوام کو آہنی مکے سے نمٹنے کی دھمکیوں کے بعد ایک سعودی روزنامے نے ایک قدم آگے بڑھا کر الشرقیہ کے عوام کا قتل عام کرنے اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آل سعود سے وابستہ روزنامے "الاقتصادیہ" نے العوامیہ کے عوام کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ احتجاجی مظاہروں سے باز نہ آئیں تو ان کو اجتماعی طور قتل کیا جائے گا۔ آل سعود نے اپنے ٹوٹوں پر پلنے والے قلم فروش قلمکاروں کو اس قدر آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ عوام کی پرامن تحریکوں کے بارے میں اس لب و لہجے میں بات کرتے ہیں اور انہیں قتل عام کی دھمکیاں دیتے ہیں۔روزنامہ الاقتصادیہ کا چیف ایڈیٹر "سلمان الدوسری" انتہاپسند اور شیعہ دشمن وہابی ہے جس نے اس سے قبل بھی کئی بار اپنے اداریوں میں انتہاپسندی اور تکفیر نیز قتل و غارت کی دھمکیوں کے ذریعے الشرقیہ کے عوام کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی ہیں۔دریں اثناء العوامیہ ویب سائٹ نے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت کی عادت ہے کہ جب بھی الشرقیہ کے عوام اپنے حقوق کے لئے کوئی پر امن اقدام کرتے ہیں یہ حکومت نہ صرف عوامی مطالبات کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتی بلکہ عوام کو کچل دیتی ہے اور ان کے مطالبات نظر انداز کرنے کی خاطر عوامی تحریک کو ایران سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے اور دنیا والوں کو جتاتی ہے کہ گویا سعودی عرب کے عوام بادشاہوں کی سی زندگی گذار رہے ہيں اور تیل کی دولت سعودی شہزادوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں نہیں بلکہ عوام کی جیب میں ڈال دی جاتی ہے۔ الدوسری کے روزنامے کے وہابی تجزیہ نگار "علی الجحلی" نے لکھا ہے کہ آالعوامیہ کے عوام نے اگر اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھی اور اگر عوام نے مظاہروں کو کچلنے میں آل سعود کے ساتھ تعاون نہ کیا تو ان کو مکمل طور پر نیست و نابود کیا جائے گا۔واضح رہے کہ العوامیہ اور مجموعی طور پر الشرقیہ کے تمام علاقوں کے عوام سعودی عرب کے پرچم اٹھا کر سعودی عرب کے اندر رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق مانگ رہے ہیں۔

ــ سعودی اہلکاروں کا موقف سیاسی دیوالیہ پن کا اعترافسعودی عالم دین نے آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے الشرقیہ کے علماء اور مظاہرین پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موقف سعودی اہلکاروں کی سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی عالم دین "شیخ غازی الشبیب" نے شیعہ عالم دین شیخ الصفار کے خلاف سعودی ذرائع ابلاغ کی یلغار اور آل سعود کی وزارت داخلہ کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا یا موقف درحقیقت سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف اور مسائل حل کرنے کے لئے منطقی روش اپنانے سے فرار کی کوشش ہے۔ منطقۃالشرقیہ کے اس نامور شیعہ عالم دین اور دینی راہنما نے سعودی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں گھٹن کے ماحول کے خاتمے کے لئے تعمیری حکمت عملی اپناتے ہوئے موجودہ بحران کا خاتمہ کریں اور وزارت داخلہ کے اہلکاروں نیز ذرہئع ابلاغ کو اشتعال انگیز بیانات دینے سے روک لیں۔ انھوں نے کہا: شیعہ راہنما اس سے قبل حکومت کو ضروری نصیحتیں کرچکے ہیں اور موجودہ بحران کے حل کے لئے ض


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی