شہرالسیہات کے امام جمعہ نے آل سعود کی شیعہ مخالف کانفرنس کی مذمت کردی

جزیرہ نمائے عرب کے شہر السیہات کے امام جمعہ نے آل سعود کے زير اہتمام شیعہ مخالف کانفرنس کے انعقاد کی مذمت کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق منطقۃ الشرقیہ کے شہر السیہات کے امام جمعہ "حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نمر" نے اپنے ایک بیان میں شیعہ مخالف کانفرنس کے انعقاد کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سعودی قلمرو میں مسلمانوں کے اتحاد اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے کہا ہے: اس وقت امت مسلمہ حساس دور سے گذر رہی ہے اور مسلمانوں کے درمیان صلح و آشتی کے سائے میں یکجہتی، ہمدلی، محبت اور پرامن بقائے باہمی کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی ہے لیکن بعض افراد یہ جانتے ہوئے بھی ـ کہ خداوند متعال اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں نہایت تاکید کرکے زمان جاہلیت کی باتیں دہرانے سے منع کررہے ہیں ـ امت کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے اور دراڑیں پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نمر نے کہا ہے: عصر جاہلیت کی ایک عینی علامت ـ جو آج کل ظہور پذیر ہوگئی ہے ـ  ریاض میں "شیعہ حقائق اور سنی معاشروں کے اس کی جانب سے لاحق خطرات" کے عنوان سے نام نہاد علمی کانفرنس ہے جو بدھ سے جمعہ تک " سعود البابطین" نامی ثقافتی مرکز میں منعقد ہوئی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس کانفرنس میں حاضرین نے مسلمانوں کے درمیان اختلافی نقاط کو نمایاں کرکے ان پر زور دیا اور اس کانفرنس کے عنوان اور اس میں حاضر افراد کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کانفرنس جذبات کو مشتعل کرکے اختلافات کو ہوادینے پر زور دے رہی ہے؛ اور اس کانفرنس کے شرکاء اور منتظمین نے تکفیر کی تلوار سے ملکی یکجہتی کو دولخت کرنے پر وار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا ہے: اس کانفرنس کے شرکاء نے سنیوں کو اہل تشیع کے خلاف اکسانے اور مشتعل کرنے کی کوشش کرکے مذہبی فتنہ پھیلانے کی بھرپور کوشش کی اور اہل تشیع کے عقائد کو الٹ پلٹ کر پیش کیا اور قومی وحدت ویکجہتی کو نقصان پہنچانے کا بندوبست کیا۔ سید حسن نمر نے اس کانفرنس کے انعقاد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کانفرنسوں کے انعقاد کے لئے سرکاری اجازت نامہ جاری کرنے کا سرکاری عمل نہایت مذموم ہے؛ میں اس عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں اور خبردار کرتا ہوں کہ ملکی عوام مزید تفرقوں اور معاشرتی دراڑوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ اور دین اسلام کی شریعت مقدسہ، عقلیت کا فلسفہ اور قومی مفادات متعلقہ لوگوں اور معاشرتی گروہوں پر فرض عائد کرتے ہیں کہ وہ اس تکفیری لابیوں اور گمراہ افکار و نظریات کے خلاف قیام کریں اور ان کا راستہ روکیں۔اس شیعہ عالم دین نے حکومت کو قوی یکجہتی کو تقویت پہنچانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں کو اپنے شہریوں کے درمیان الفت و محبت کو فروغ دینا چاہئے اور شیعہ اور سنی مکاتب کو یکسان طور پر محترم سمجھنا اور اسلامی معاشرے کی اس تقسیم بندی کو تسلیم کرنا چاہئے اور انہیں شیعہ، سنی، اسمعیلی، امامی اور اشعری کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہئے۔ انھوں نے اپنے بیان کے آخر میں اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہوئے کہا ہے کہ: میں اللہ تعالی سے التجا کرتا ہوں کہ ہمارے وطن اور ہمارے ہموطنوں کو افراط و تفریط اور انتہاپسندی اور لاپرواہی کی دو انتہاؤں سے دور رکھے اور اس ملک کو پر امن رکھے۔ آمین۔۔۔۔

110


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی