سعودی عرب میں عوامی تحریک زوروں پر / آل سعود کے ہاتھوں ایک نوجوان شہید، کئی زخمی

قطیف میں آل سعود کے ہاتھوں ایک نوجوان شہید کئی زخمی/ قطیف میں احتجاجی ریلیاں / برطانوی وزير اعظم آل سعود کا مہمان / بدنام زمانہ پولیس کا سربراہ برطرف / آل سعود ایران کے خلاف فوجی کاروائی کا مخالف/ آل سعود امریکی شطرنج کی بساط کا ایک مہرہ / ایک شیعہ عالم دین کا انتقال۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشرقی جزیرة العرب میں آل سعود کے مظالم کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کے مظاہروں کے دوران آل سعود کے گماشتوں نے اپنی درندگی جاری رکھتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید اور کئی دیگر کو زخمی کردیا جبکہ گذشتہ جمعے کو بھی الشرقیہ کے مختلف شہروں میں "زلزلۃالاحرار" کے عنوان سے احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئیں اور مظاہرے ہوئے۔ ــ قطیف میں آل سعود کے گماشتوں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو شہید اور تین کو زخمی کردیاآل سعود کے گماشتوں نے جمعرات (12 جنوری) کی شام کو اربعین حسینی کی آمد آمد پر، فائرنگ کرکے ایک 22 سالہ نوجوان کو شہید کردیا۔عینی شاہدین اور قانونی ذرائع نے بتایا کہ القطیف میں آل سعود کے جلادوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرکے 22 سالہ نوجوان عصام محمد ابوعبداللہ کو شہید کردیا۔ قطیف کے نوجوان کے بدن کے مختلف حصوں پر گولیوں کے نشانات تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کر جلادوں نے انہیں ٹارگٹ کرکے شہید کیا ہے اور انہیں شہید کرنے کی نیت سے ہی گولیاں چلائی ہیں۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق آل سعود کی سیکورٹی فورسز کی بکتر بند گاڑیوں کی یورش کے پر عوام نے بھی اپنا دفاع کرتے ہوئے ان کی طرف پتھر پھینکے۔ادھر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آل سعود کے گماشتوں نے پرامن اور نہتے مظاہرین پر جنگی گولیوں سے فائرنگ کی جس سے  "محمد السعید"،"مرسی الربح" اور "عبداللہ الصویمل" زخمی ہوئے۔القطیف شہر میں جھڑپوں سے قبل القطیف صوبے کے شہروں العوامیہ، الشویکہ، القدیح اور سیہات کے علاقوں میں احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ جاری رہا؛ عوام نے سیاسی قیدیوں کی رہائی، ملک میں سیاسی اصلاحات کا نفاذ اور فرقہ وارانہ امتیازات کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور آل سعود خاندان کی شخصی و خاندانی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ عصام محمد ابوعبداللہ کی شہادت پر، آل سعود کے خلاف عوامی انقلاب کے شہیدوں کی تعداد چھ ہوگئی ہے جبکہ اس عرصے میں ہزاروں افراد گرفتار اور مقدمے کے بغیر آل سعود کے اذیتکدوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آل سعود کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کی تعداد 30 ہزار افراد سے تجاوز کرگئی ہے۔ ــ القطیف میں ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہاالقطیف کے عوام نے ایک نوجوان کی شہادت کے دوسرے روز کل جمعہ کے روز احتجاجی ریلیاں نکالیں۔اطلاعات کے مطابق جزیرةالعرب کے مشرق میں واقع شیعہ اکثریتی علاقے القطیف میں ایک نوجوان کی شہادت کے دوسرے روز جمعہ کے روز عوام نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے۔ جمعہ کی 13 جنوری 2011 کی شام کو قطیف کے شارع الثورہ پر عوام نے احتجاجی ریلی نکالی اور سعودی سیکورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بننے والے 22 سالہ نوجوان عصام محمد ابوعبداللہ کی شہادت پر شدید احتجاج کیا۔عینی شاہدین اور قانونی ذرائع نے بتایا کہ القطیف میں آل سعود کے جلادوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرکے 22 سالہ نوجوان عصام محمد ابوعبداللہ کو شہید کردیا۔ قطیف کے نوجوان کے بدن کے مختلف حصوں پر گولیوں کے نشانات تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کر جلادوں نے انہیں ٹارگٹ کرکے شہید کیا ہے اور انہیں شہید کرنے کی نیت سے ہی گولیاں چلائی ہیں۔ جھڑپوں میں تین نوجوان زخمی ہوئے۔ــ برطانوی وزير اعظم آل سعود کا مہمان؛ برطانیہ آل سعود کو ہتھیار فروخت کرے گابرطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون جمعہ 13 جنوری کو دارالحکومت ریاض پہنچے جہاں آل سعود کے شہزادوں نے ان کا استقبال کیا۔اطلاعات کے مطابق  ڈیویڈ کیمرون آل سعود کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور ولیعہد نائف بن عبدالعزيز سے ملاقات کرکے ریاض ـ لندن باہمی تعلقات اور علاقائی مسائل پر بات چیت کریں گے۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ  ڈیویڈ کیمرون کا یہ دورہ آل سعود اور سلطنت برطانیہ کے درمیان تعلقات کے فروغ کا موجب بنے گا۔ 2011 کے ابتدائی مہینوں میں برطانیہ کی وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد  ڈیویڈ کیمرون کا یہ پہلا دورہ ریاض ہے۔آل سعود کے ایک قریبی ذریعے نے ذرائع کو بتایا ہے کہ  ڈیویڈ کیمرون کے ساتھ جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے سودے کے بارے میں بات چیت ہوگی۔ برطانیہ اور امریکہ جو اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گذر رہے ہیں ان دنوں عرب ریاستوں کو دھڑا دھڑ ہتھیار فروخت کررہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عرب ریاستوں کو اتنے ہتھیاروں کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے جبکہ روایتی دشمن اسرائیل کے ساتھ ان کے قریبی دوستانہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ برطانیہ کے اسکائی نیوز ٹیلی ویژن نے بھی کہا ہے کہ ڈیویڈ کیمرون آل سعود کے حکمرانوں کے ساتھ ایران اور شام کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے۔ــ سعودی عرب: بدنام زمانہ پولیس کا سربراہ اپنے عہدے سے ہٹادیا گیا ہےسعودی بادشاہ نے جمعہ کے روز امربالمعروف اور نہی عن المنکر پولیس کے سربراہ شیخ عبدالعزیز بن حمین الحمین کو کوئی وجہ بتائے بغیر برطرف کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق کبار علماء بورڈ کے سابق نائب سیکریٹری جنرل اور امیر ریاض کے سابق مشیر خاص عبداللطيف بن عبدالعزيز آل الشيخ، کو ہیئت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جو بعض ذرائع کے مطابق سابق سربراہ کی نسبت میانہ روی کی جانب مائل اور اعتدال پسند تصور کئے جاتے ہیں۔ سعودی بادشاہ نے بن حمین کو 2009 میں اس بورڈ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔سعودی عرب میں اصلاحات کے حامی حلقوں نیز انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کارکنوں نے بارہا ہیئت امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ بعض سیاسی اور ابلاغی ذرا‏ئع نے اس تبدیلی کو آل سعود کی اعلی سطحی تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ ــ آل سعود خاندان شطرنج کی علاقائی بساط پر امریکہ کا مہرہ علاقے میں عرب انقلابات کے رونما ہونے اور علاقے میں امریکہ کا منظور نظر علاقائی توازن بگڑ جانے کے باعث واشنگٹن نے علاقے میں شطرنج کی نئی بساط پھیلا کر آل سعود کو مہرے اور پیدل فوج کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکے۔ اطلاعات کے مطابق مصر کی "قومی ناصری کانگریس" کے مؤسسین بورڈ کے وکیل "صلاح الدین الدسوقی" نے کہا: علاقے کے انقلابات نے علاقے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور امریکہ آل سعود سمیت خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے حکمران خاندانوں اور دیگر عرب حلیفوں کی مدد سے علاقے کے بدلتے ہوئے حالات کو اپنے قابو میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔ الدسوقی نے سعودی وزیر خارجہ سعود بن فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کے حالیہ دورہ امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سعود الفیصل نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں تیونس اور مصر میں اسلام پسند قوتوں کی فتح اور شام و ایران کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ انھوں نے فلسطینی مزاحمت تحریک کے خاتمے میں آل سعود کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر امریکہ آل سعود کی مدد سے غزہ میں حماس کی مزاحمت توڑنے میں کامیاب ہوجائے تو گویا وہ فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے اس کو دبانے میں کامیاب ہوجائے گآ تاہم امریکیوں اور صہیونیوں کی طرف سے آل سعود کو دیا گیا ٹاسک بہت مشکل ٹاسک ہے کیونکہ فلسطینی سعودی یا قطری منظرنامے کے مطابق کھیلنے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔ــ سعودی عرب: بزرگ شیعہ عالم دین کا انتقال پرملالعرب ذرائع کے مطابق شیہ عالم  دین "شیخ حمزہ مسلم بن عود" 110 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں انتقال کرگئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق انتقال کرنے والے عالم دین نے اپنی ایک صدی سے زائد پربرکت زندگی قرآن اور فقہ و مقاماتِ اہل بیتِ عصمت و طہارت علیہم السلام کی تدریس میں گذار دی۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مدینہ منورہ کے بزرگ شیعہ عالم دین شیخ حمزہ مسلم بن عود، ایک صدی پر محیط دینی، تبلیغی اور قرآنی خدمات کے بعد 110 سال کی عمر میں داعی اجل کو لیبک کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔شیخ حمزہ مسلم بن عود کے مدینہ منورہ کے تمام مسلم فرقوں کے بزرگوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور گذشتہ ستر برسوں سے "مدرسۃ الکتاب" میں قرآن و فقہ اور مقامات اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تدریس و تبلیغ میں مصروف عمل رہے ہیں۔شیخ حمزہ مسلم بن عود نے ہندوستان جا کر دو سال تک قرآن مجید اور متعلقہ علوم کی تدریس میں گذار دیئے اور اپنی پوری عمر میں کبھی بھی حج بیت اللہ ترک نہیں کیا۔ شیخ حمزہ مسلم بن عود کی نماز جنازہ جمعرات (12 جنوری 2012) کے دن صبح شیخ کاظم العَمری کی امامت میں ادا ہوئی اور انہیں جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔

..........

/110


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی