​ماہ رجب کی عظمت و فضیلت

​ماہ رجب کی عظمت و فضیلت

رجب کا مہینہ انتہائی عظمت والا مہینہ ہے کہ جس میں خدا کی بے انتہا رحمت ابر بہاری کی طرح برستی ہے اور اس کے اعمال خصوصی جزا اور پاداش اور دوگنے ثواب کے حامل ہیں ۔ اس مہینے میں روزہ رکھنا ، عمرہ بجا لانا ، شب بیداری کرنا اور زیارت اور دعا میں مشغول رہنا انسان کو سعادت کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ رجب کا مہینہ خداوند متعال کے فضیلت سے بھرے ہوئے مہینوں میں سے ایک ہے جس کی عظمت کے بارے میں  بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں اور علماء اور مراجع تقلید اور بزرگان دین نے اس مہینے کی عظمت کے بارے میں بہت تاکید کی ہے ۔

رجب کا مہینہ انتہائی عظمت والا مہینہ ہے کہ جس میں خدا کی بے انتہا رحمت ابر بہاری کی طرح برستی ہے اور اس کے اعمال خصوصی جزا اور پاداش اور دوگنے ثواب کے حامل ہیں ۔ اس مہینے میں  روزہ رکھنا ، عمرہ بجا لانا ، شب بیداری کرنا اور زیارت اور دعا میں مشغول رہنا انسان کو سعادت کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے ۔ جو لوگ اس مہینے کا احترام بحال رکھتے ہیں اور اس کا حق ادا کرتے ہیں ، قیامت کے دن عرش الہی سے  انہیں این الرجبیوں ،کے خطاب سے پکارا جائے گا اور ہزاروں فرشتوں کے ہمراہ ایک خاص نورانیت کے ساتھ وہ جنت میں داخل ہوں گے ۔

ماہ رجب کی بے شمار عظمت و فضیلت کو آئمہء معصومین ع کے  کلام میں بڑی تعداد میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے اس مہینے میں اہل عرفان  اور راہ حق کے متلاشی ماہ رجب جیسے مواقع کی قیمتی موتی کی طرح مراقبت کرتے ہیں اور آسانی کے ساتھ ان سے آگے نہیں بڑھتے اور اس کے شب و روز سے استفادہ کرتے ہوئے خدا سے زیادہ مانوس ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 

آیۃ اللہ العظمی میرزا جواد ملکی تبریزی:

مرحوم میرزا جواد آقا ملکی تبریزی اخلاق و عرفان کے بزرگ استاد  نےاپنی انتہائی نفیس اور بیش قیمت کتاب المراقبات میں ماہ رجب کی شرافت کے دلایل کے بارے میں لکھا ہے : ماہ رجب ایک حرمت والا مہینہ ہے ،اور دعا کا مہینہ ہے یہ مہینہ جاہلیت کے زمانے میں بھی اسی چیز کے لیے مشہور تھا اور اس دور کے لوگ بھی اس ماہ کا انتظار کرتے تھے تا کہ اس میں دعا کریں ۔ اسی طرح یہ مہینہ حضرت علی علیہ السلام کا مہینہ ہے ،چنانچہ روایات کی روشنی میں ماہ شعبان رسول خدا کا مہینہ ہے اور رمضان المبارک کا مہینہ خدا کا مہینہ ہے ۔

آیۃ اللہ العظمی قاضی طبا طبائی :

مرحوم آٰیۃ اللہ العظمی قاضی طبا طبائی رجب ،شعبان اور رمضان المبارک کے مہینوں میں اپنے شاگردوں کو یہ نصیحتیں کرتے تھے :

٭۔پہلی ؛ آپ کو چاہیے کہ اپنی فریضہ نمازوں کو ان کے نوافل کے ساتھ کہ مجموعی طور ۵۱ رکعتیں ہوتی ہیں ان کے بہترین اوقات میں بجا لائیں ،اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو ان میں سے ۴۶ رکعتیں ادا کریں ،اور اگر دنیا کے مشغلے تمہیں روک دیں تو نوافل ظہر ضرور پڑھیں کہ جسے  صلاۃ اوابین کہتے ہیں اور ظہر کی نماز کو بھی فضیلت کے وقت میں پڑھیں کہ قرآن میں جس کی تاکید کی گئی ہے اور صلاۃ وسطی سے مراد یہی نماز ظہر ہے ۔

٭۔دوسری ؛ نوافل شب کے بارے میں خاص طور سے جان لیں کہ : ان کو انجام دینا مومنین اور سالکین معبود کی نظر میں واجبات میں سے ہے اور اس کو پڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ! اور تعجب ہے ان لوگوں پر کہ جو کمال کے مراتب میں سے کسی مرتبے تک پہنچنا چاہتے ہیں لیکن رات میں قیام کرنے اور نوافل ادا کرنے سے غافل ہیں ! ہم نے کہیں نہ دیکھا اور نہ سنا ہے کہ کوئی نماز شب کے بغیر کمال کے کسی مرتبے تک پہنچا ہو ۔

٭۔تیسری ؛ تمہیں نافلہء شب میں قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہیے کہ نوافل  انسان کے حرکت دیتے ہیں اور اس کی رفتار میں تیزی لاتے ہیں اور یہ اس کے لیے بہت مفید ہے قرآن کو  غنا میں پڑھنا انسان کو خدا کے نزدیک کرتا ہے ! برخلاف حرام غنا کے کہ جو آدمی کو لہو میں مبتلا کرتی ہے ۔ پس جس قدر ہو سکے راتوں میں قرآن کی تلاوت کریں ،اس لیے کہ قرآن کی تلاوت مومنین کی شراب ہے ۔

٭۔چوتھی ؛ وہ اذکارو اوراد کہ جو تم کرتے ہو ان کی پابندی کرو ،اور سجدہء یونسیہ کی پابندی کرو اور حضرت یونس کا ذکر پڑھو ،یعنی لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ،سجدے میں پانچ سو سے ایک ہزار مرتبہ پڑھو ۔

٭۔پانچویں ؛ مشہد اعظم کی زیارت کرو کہ جس سے مراد امیر المومنین ع کا حرم مطہر اور آپ کی نورانی قبر ہے ،اسی طرح اہل بیت ع کے دیگر مشاہد مشرفہ اور مساجد معظمہ کی زیارت بھی کرو جیسے مسجد الحرام ،مسجد النبی ، مسجد کوفہ ، مسجد سہلہ ،اور بطور کلی کوئی بھی مسجد ،اس لیے کہ مومن مسجد میں ایسا ہی ہے جیسے مچھلی پانی میں ،!

٭۔چھٹی ؛ اور اپنی واجب نمازوں کے بعد تسبیحات حضرت صدیقہء طاہرہ صلوات اللہ علیھا کو ترک نہ کرنا اس لیے کہ ان تسبیحات کو ذکر کبیر کی ایک قسم قرار دیا گیا  ہے ۔

٭۔ساتویں ؛ اللہ کی راہ کے سالک کا ایک اہم وظیفہ وتر کی قنوت میں حضرت حجت صلوات اللہ علیہ کے ظہور کے لیے دعا کرنا ہے ۔ بلکہ ہر روز اور تمام اوقات میں اور ہر دعا میں حضرت کے ظہور کے لیے دعا کرنی چاہیے ۔

٭۔آٹھویں ؛ ایک اور اہم اور لازمی وظیفہ ،جمعے کے دن زیارت جامعہ پڑھنا ہے جو جامعہء کبیرہ کے نام سے مشہور ہے ۔

٭۔نویں ؛ ضروری ہے کہ قرآن کی تلاوت حتما ایک پارے سے کم نہ ہو ۔

٭۔دسویں ؛ جتنا ہو سکے اپنے نیک بھائیوں اور مومنوں کی ملاقات کے لیے جائیں ،اس لیے کہ وہ واقعی بھائی ہیں کہ پورے راستے میں انسان کے ساتھ ہوتے ہیں اور اپنی رفاقت کے ذریعے انسان کو نفس کے تند و تاریک راستوں اور گھاٹیوں سے  عبور کراتے ہیں ۔

٭۔گیارہویں ؛ اہل قبور کی زیارت کا التزام برتیں لیکن ہر روز  اور لگاتار نہیں بلکہ ہفتے میں ایک دن ، اور ہاں  رات میں قبور کی زیارت کے لیے نہ جائیں ۔

امام خمینی (رہ): 

ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی حضرت آیۃ اللہ العظمی روح اللہ الموسوی الخمینی ماہ رجب کی فضیلت اور اس ماہ کی دعاوں کے بارے میں معتقد ہیں : یہ دعائیں جو مہینوں کی ہیں ، دنوں کی ہیں خاص کر ماہ رجب و شعبان اور ماہ مبارک رمضان میں دعائیں ہیں اگر کوئی اہل ہو تو یہ اس قدر انسان کی روحانی تقویت کرتی ہیں  اور انسان کے لیے راستہ کھولتی ہیں اور نورانیت دیتی ہیں  تا کہ وہ اس بشر کو تاریکیوں سے نکال کر نور میں داخل کرے کہ جو ایک معجزہ ہے !
اسی طرح امام خمینی رہ ایک جگہ اشارہ فرماتے ہیں ؛ رجب ،شعبان اور رمضان المبارک کے ان تین مہینوں میں بے شمار برکتیں انسان کو نصیب ہوتی ہیں بشرطیکہ کوئی ان سے بہرہ مند ہو سکے ۔البتہ ان سب چیزوں کی ابتدا ء پیغمبر ص کی بعثت کا دن ہے  یہ سب جہات بعثت کے بعد ہیں ۔ ماہ رجب میں بعثت کی عظیم تاریخ ،اور مولا علی علیہ السلام کی اور دوسرے اماموں کی ولادت ہے ۔ماہ شعبان میں حضرت سید الشہداء سلام اللہ علیہ اور حضرت صاحب الزمان ارواحنا لہ الفداء کی ولادت ہے ، اور ماہ رمضان المبارک میں قلب پیغمبر ص پر قرآن کا نزول ہے ۔ان تین مہینوں کی عظمت و شرافت زبان و بیان عقل و فکر میں نہیں سماتی ، ان مہینوں کی برکتیں وہ دعائیں ہیں جو ان مہینوں میں وارد ہوئی ہیں۔ 

مقام معظم رہبری حضرت امام خامنہ ای:

ماہ رجب کی فضیلت کے بارے میں مقام معظم رہبری  حضرت امام خامنہ ای فرماتے ہیں ؛ ماہ رجب ایک سنہری موقعہ ہے یہ دعا کا مہینہ ہے توسل کا مہینہ ہے توجہ کا مہینہ ہے استغفار کا مہینہ ہے کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ مجھے استغفار کی ضرورت نہیں ہے ۔پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں ؛ انہ لیغان علی قلبی و انی لاستغفر اللہ فی کل یوم سبعین مرہ ، بلا شک پیغمبر ص بھی روزانہ ستر مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے ۔ استغفار سب کے لیے ہے  خاص طور سے ہمارے لیے کہ جو ان مادی تحرکات اور مادی دنیا میں غرق ہیں اور آلودہ ہیں ۔استغفار کسی قدر اس آلودگی کو پاک کرتا ہے اور دور کرتا ہے ۔ استغفار کا مہینہ ہے ۔انشاء اللہ موقعے کو غنیمت جانیں ،میں اس ماہ کی آمد پر آپ کو مبارک باد کہتا ہوں ،انشاءاللہ ہم پر اور آپ پر یہ مہینہ مبارک ہو اور جب ہم شعبان میں داخل ہوں تو ہم خدا کی توفیق سے کچھ کام کر چکے ہوں ۔
اسی طرح مقام معظم رہبری ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ؛ رجب  زیادہ تر نماز کا مہینہ ہے ،شعبان زیادہ تر دعا اور روزے کا مہینہ ہے ،ان تین مہینوں میں جس قدر ممکن ہو معنوی ذخیرہ جمع کریں اس کا تعلق جوان روح سے ہے اور یہی چیز تمہارے لیے باقی رہنے والی ہے ،معاشرے کی ساری چیزیں ایسی ہی ہیں ،جس چیز کا تعلق جوانوں سے ہو وہ پہلے تو باقی رہنے والی ہوتی ہے اور ثانیا ہمیشہ تر و تازہ رہتی ہے ۔

آیۃ اللہ العظمی عبد اللہ جوادی آملی:

آیۃ اللہ العظمی عبد اللہ جوادی آملی فرماتے ہیں ؛ رجب کا پر برکت مہینہ درپیش ہے جس قدر ہو سکے ماہ رجب میں روزہ رکھیں خاص کر وہ لوگ جو جوانی کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایام اعتکاف اور روز مبعث کے روزوں کو فراموش نہ کریں ،درس و بحث بھی اپنی جگہ پر ایک کام ہے لیکن اصل کام کچھ اور ہے ،اگر اس بنیادی کام کو انجام دیں گے تو اس وقت علم و طہارت کی لذت محسوس کریں گے ،اگر طہارت کی لذت چکھ لیں تو کوئی چیز اس کی جگہ نہیں لے سکتی ،اگر ساری دنیا بھی اسے دے دیں تو وہ اسے کاٹ کھانے کو دوڑے گی ۔
اسی طرح آ یۃ اللہ جوادی آملی ماہ رجب کے بارے میں تاکید کرتے ہیں ؛ یہ صحیح ہے کہ ہم نے جو کچھ برے کام کیے ہیں ان کی وجہ سے ہمارے اندر توفیق نہیں رہی ہے لیکن توفیق دینے والا اب بھی بخشنے والا ہے پس اس سے توفیق طلب کریں ، استحقاق طب کریں ،لیاقت طلب کریں اور خدا سے دعا کریں کہ وہ توفیق عطا کرے اور مظروف کو ظرف میں ڈال دے ۔

آیۃ اللہ العظمی وحید خراسانی:

شیعوں کے اس مرجع تقلید نے ماہ رجب کی فضیلت کے بارے میں فرمایا ؛ ماہ رجب کے پہلے سات دن کے روزے جہنم کے سات دروازوں کے بند ہوجانے کا باعث بنتے ہیں اور شیعہ روایات میں اس مہینے کی اہمیت پر بہت تاکید کی گئی ہے۔ 
اسی طرح آپ نے زور دے کر کہا کہ تین رجب کو امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے سلسلے میں  عزاداری منائی جائے ؛امام علی نقی علیہ السلام کا ارادہ خدا کے ارادے سے متصل ہے ،دسویں امام ع کی شیعوں پر خاص نظر عنایت ہے جو بہت سوں کی ہلاکت سے نجات کا باعث بنی ہے ۔

آیۃ اللہ العظمی شبیری زنجانی:

حضرت آیۃ اللہ العظمی شبیری زنجانی ماہ رجب کی فضیلت کے باب میں فرماتے ہیں ؛ جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے ،ماہ رجب میں اعمال خیر کا ثواب بہت زیادہ ہے پس بہتر ہے کہ انسان اس ماہ میں ایک عبادت کا انتخاب کرے کہ جو تمام عبادتوں سے افضل ہے۔ایک عبادت کہ جس کی انجام دہی پر ہماری تشویق کی گئی ہے وہ ضرورتمندوں کی حاجت پوری کرنا ہے ۔ہم سب کو اپنے آس پاس والوں کی مشکل کے سلسلے میں ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے ۔

استاد شہید مرتضی مطہری:

استاد مرتضی مطہری ماہ رجب کی اپنی یادوں کے بارے میں لکھتے ہیں ؛ ہم جب بچے تھے تو اپنے گھر میں ماہ رجب کے آنے کا انتظار کرتے تھے ،اور اس ماہ کی آمد سے چند روز پہلے ہر جگہ اسی ماہ کا ذکر ہوتا تھا ،اس کی پہلی رات کو رجب کا چاند دیکھنے کے لیے ہم مسجد میں اکٹھے ہوتے تھے ۔
استاد نے اسلامی سنتوں کی ثقافت کے موجودہ نسل تک منتقل کیے جانے کے اہتمام جیسے ماہ رجب کا احترام اور اس کے غنیمت مواقعے سے استفادہ کرنے کے اہتمام  کے منتقل نہ کیے جانے پر ایک پیغام میں تنقید کی ہے ؛ یہ مہینہ استغفار عبادت اور روزے کا مہینہ ہے لیکن ان سنتوں کو ہمارے یہاں فراموش کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے بچے اب آہسہ آہستہ قمری مہینوں کے نام بھی بھول رہے ہیں اور ان کو نہیں گنوا سکتے ، لیکن بہر حال اسلامی سنتوں کے بیان کی ذمہ داری ہماری گردن سے ساقط نہیں ہوتی ۔

آیۃ اللہ میر باقری:

آیۃ اللہ سید مھدی میر باقری ماہ رجب کو با اہمیت بتاتے ہوئے تصریح کرتے ہیں ؛ ماہ رجب کے ابتدائی دنوں کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شروع کریں ۔آپ خدا کے حضور میں انسانیت اور اخلاق کا بے مثال نمونہ ہیں ۔ان دنوں میں امام حسین علیہ السلام کے کاروان میں شامل ہو جائیں اور اپنے دن کا آغاز ان کی یاد سے کریں ۔آپ تمام بشریت کے لیے نمونہ ہیں ۔ اس طرح روایات میں آیا ہے کہ ان دنوں کا ایک بہترین عمل سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت پڑھنا ہے ۔جانتے ہیں اس کا مطلب کیا ہے ؟ یعنی تمام معنوی کامیابیاں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہیں اگر ماہ رجب شعبان اور رمضان کو درک کرنا چاہتے ہو تو ان مہینوں کا آغاز امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کریں اور آپ کے وسیلے سے بندگی کی حقیقت کو سمجھیں۔

.......
/169

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*