علامہ جواد نقوی کا سیاسی و سماجی خطبہ

علامہ جواد نقوی کا سیاسی و سماجی خطبہ

امام حسن عسکر ی ؑ کا فرمان ہےجناب سیدہ کی عظمت اور مقام کے لئے بارے میں فرماتے ہیں : نحنُ حُجَجُ اللّهِ عَلى خَلقِهِ وَ فاطمةُ حُجةٌ عَليَنا۔ ہم خلق کے اوپر اللہ کی حجت ہیں اور فاطمہ ائمہؑ کے اوپر اللہ کی حجت ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ سید جواد نقوی کا گزشتہ جمعہ(۲۶ فروری) کا دوسرا خطبہ:

تقویٰ بہترین توشہ
   بندگان خدا!آپ سب کو اور اپنے نفس کو تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی زندگی میں تقویٰ اختیار کریں ، زندگی کے ہر شبعہ میں ،ہر میدان میں اور ہرقدم پر تقویٰ الہیٰ اختیار کریں  ” فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى” (بقرہ/ ۱۹۷)تقویٰ انسانی حیات کے لئے بہترین توشہ ہے جو انسانی حیات کو مقصد تک پہنچاتا ہے اگر تقویٰ نہ ہو انسان حالت فسق و فجور میں پہنچ جاتا ہے، دین سے باہر چلاجاتا ہے، نظام الہٰی سے لا تعلق  اوربیگانہ  ہوجاتا ہے اور فسق و فجور انسان کی ہلاک کا باعث  بنتاہے ۔انفرادی طور پر انسان تقویٰ  ترک کردے تو فاسق و فاجر ہے اور اگر اجتماعی طور پر تقویٰ کو ترک کردے تووہ ملت و قوم فاسق و فاجر ہے ۔
اجتماعی زندگی میں تقویٰ کی ضرورت
اجتماعی میدانوں کے لئے تقویٰ فردی میدانوں سے زیادہ لازمی  اور ضروری ہے چونکہ انسان کی حیات کا زیادہ حصہ اجتماعی حیات ہے  بہت کم حصہ فردی حیات ہے اگر ہم حیات انسانی کا جائزہ لیں تو ۹۰ فیصد حیات انسانی اجتماعی امور ہیں اور ۱۰ فیصد فردی امور ہیں ۔ اجتماعی امور جتنے بھی ہیں وہ باتقویٰ و دین کے سایہ میں ہونےچا ہیے  اصل دین اسی  شعبہ کو سنوارنے  کے لئے آیاہے ،فردی زندگی سنوارنا مشکل نہیں ہے، اجتماعی زندگی کو منظم کرنے اور اس کو قوانین کے تحت لانے کے لئے قانون ہوتا ہے ۔ملکی قوانین بھی اجتماعی حیات کو منظم کرنے کے لئے ہوتے ہیں ، فردی زندگی کے لئے بہت کم  قوانین  ملک کے اندر ہوتے ہیں بلکہ ا س  پہلو سے فرد کو آزادی دے دی جاتی ہے، فردی زندگی میں وہ آزاد ہے جیسے انتخاب کرے کرسکتاہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی فردی زندگی کےبہت سارے معاملات انسان کے سپر د کردیئے ہیں کہ یہ تیری فردی زندگی  ہےاس میں تجھے اختیاردےدیا گیا ہے ۔مباحات وہ امور ہیں جن کا اختیار اللہ نے خود انسان کو دے دیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے مباحات کے لئے کوئی قانون و ضابطہ نہیں بنایا ہےکرو یا نہ کر و اس کا اختیار انسان کو دیا ہے جی چاہتا ہے کرو، جی نہیں چاہتا ہے تونہ کرو، اپنا موڈ دیکھو ،اپنا جی دیکھو،اپنا ذوق و شوق دیکھو، پسند ہے تو کردو اور اگر پسند نہیں ہے تو نہ کرو۔ لیکن جن شعبوں میں انسان کو پابند کردیا ہے کہ یہاں تیرا جی نہیں چلےگا، یہاں تیرا موڈ نہیں چلے گا ،یہاں جو اللہ نے مقرر کردیا ہے  ہے اس کی آپ کوپیروی کرنی ہے ۔” وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا”(حشر/۷) اور جو کچھ بھی رسولؐ تمہیں دے دے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ۔ یہاں اپنی مرضی اختیار نہیں کرسکتے ہو اور یہ سب اجتماعی میدان ہیں۔
اجتماعی زندگی میں فقدان دین کے نقصانات
 اللہ تعالیٰ نے دین کو اس طرح سے بنایا ہے کہ اس  کا  زیادہ حصہ اجتماعی زندگی سے مربوط ہے اور کم حصہ فردی زندگی سے مربوط ہے، لیکن دین شناسی میں یعنی دینی مطالعات ،  دینی تعلیمات دینی اور دینی  نصاب میں الٹا ہوگیا ہے دینی  نصاب  کا ۹۰ فیصد حصہ فردی دین ہے اور ۱۰ فیصد سے بھی کم اجتماعی دین ہے بلکل دین شناسی کا معاملہ الٹا ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے جیسے دین بنایا تھا ویسے ہی اس کو پڑھنا  ،سمجھنا اور اپنانا چاہیے تھا لیکن ہم نے اپنی سہولت کی خاطر اجتماعی زندگی میں دین کو چھوڑ دیا ہے، اجتماعی زندگی میں دین کا  زیادہ حصہ اجتماعی ہے، سیاسی اور اجتماعی حصہ سیاست و حکومت ہے ،اس کےلئے دین نے ہدایت مقرر فرمائی ہے لیکن ہمیں دین کے اس اجتماعی حصے سے محروم کردیا گیا ہے۔ہماری زندگی یا آبائی ہے یا غربی ہے یا ہندی ہے یا کسی اور قوم کی دیکھا دیکھی اجتماعی امور اپنا لئے ہیں اور دین کو فقط فردی عبادتوں و رسومات کےا ندر منحصر کردیا ہے اور جب اجتماعی زندگی سے دین نکل جاتا ہے تو تباہی و بربادی ہوجاتی ہے، جس طرح علامہ  اقبالؒ نے فرمایا: “جداہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی “یہ چنگیزیت کہ جس نے دنیا کے اندر قتل و غارت اورلوٹ کھسوٹ  کا بازار گرم کیا ہے  یہ سب اس وجہ سے ہے  کہ دین انسان کی زندگی سے باہر چلاگیا ہے اور سیکولرازم نے آکر  اس کو انسان کے لئے ضروری بھی قرار دیا ہے کہ انسان کی  اجتماعی زندگی دین سے خالی ہو ،تقویٰ سے دور ہو۔  اگر انسانی زندگی دین و تقویٰ سے دور ہو جائے،اگر انبیاؑ و ائمہؑ ،علماء و اولیا ءکے اختیار سےاجتماعی زندگی باہر نکل جائےاور وہ فقط  چند مخصوص فردی اعمال کی حد تک منحصر رہ جائے تو تمہاری زندگی چنگیزیت  کے چنگل میں چلی جائے گی۔ قتل و غارت ،چنگیز، شداد ،فرعون اور ظالمین تمہارے اوپر مسلط ہوجا ئیں گے جو تمہارے اوپر پر رحم نہیں کھائیں گے  اور آج کی چنگیزیت نے تمام انسانیت بالخصوص مسلمین کو اپنےگھیرے میں لے لیاہے یعنی  جن مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرناچاہیے تھا، دین خدا اختیار کرنا چاہیے تھا اس سے دوری و بیزاری، جہالت و لاتعلق ہونے کے نتیجے میں چنگیزیت کے اختیار میں چلے گئے ہیں آپ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اسلامی ممالک سب کے سب اس وقت کسی نہ کسی طریقے سے بالواسطہ یا بلاواسطہ یا اسلامی ممالک نہیں بھی ہیں ان میں مسلمین مقیم ہیں وہ بھی  چنگیزیت کے چنگل میں ہیں۔
آل سعود کی چنگیزیت
مشرق وسطیٰ کہ جو عالم اسلام کاگہوارہ اور مرکز ہے اس وقت چنگیزیت، ظلم و ستم، تعدی اورفتنوں کی زد میں ہے۔ نام نہاد مسلمان حکمران بالخصوص عرب  اور عربوں میں بھی بالاخص آل سعود  ایسے بدترین چنگیز ثابت ہوئے ہیں کہ جنہوں نے تاریخ کے تمام ظالمین کا نہ فقط چہر ہ روشن کردیا ہے بلکہ ظلم و بربریت میں ان پر بھی سبقت لے گئے ہیں۔پاکستان کے اندر ہر قتل و غارت کے پیچھے اس منحوس خاندان کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں جو بھی ناحق قطرہ گرا ہے اس کے پیچھے یقینا آل سعود کا ہاتھ ہے اور اس میں کسی قسم کے شک  و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات تعصب اور جذبات کی بنیاد پر نہیں کر رہا بلکہ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ جس پر میڈیا، سیاستدان حتی ہر طبقے نے آنکھیں بندکررکھیں ہیں۔قوم کے ٹھیکدار اس ظالم و جابر خاندان کے متعلق کچھ بھی نہیں کہتے اور یہی وجہ ہے کہ عوام بھی یہ سمجھتی ہے کہ یہ اتنے بڑے مجرم نہیں ہیں درحالیکہ یہ تاریخ بشریت کے سب سے سیاہ مجرم ہیں۔ یمن میں آل سعود نے اتنا ظلم کیا ہے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے یورپی یونین کے جلاد ممالک نے بھی ان کے اوپر پابندیاں لگانے اور اسلحہ نہ بیچنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اب وہ اپنے ڈیپو خالی کر چکے ہیں۔ دنیا میں پہلے نمبر پراسلحے کا سب سے بڑا خریدارآل سعود جبکہ دوسرے نمبر پر انڈیا ہے۔ یہ دو ملک کئی سالوں سے اسلحے کی خریداری میں مسلسل ٹاپ پر ہیں یہاں تک کہ اپنے ملک کی درآمدکا ۷۰ یا ۸۰ فیصد حصہ اسلحہ خریدنے  میں لگا دیتے ہیں اور ظاہر کہ اب یہ اسلحہ استعمال تو ہونا ہے لیکن ان دونوں ملکوں نے اسے استعمال کہاں کرنا ہے ۔ آل سعود نے تو یمن کے مسلمانوں پر یہ استعمال شرو  ع کردیا۔اب سوریہ میں بھی استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں ان کا بس نہیں چلا۔
کفن چوروں کی انجمن
 یورپی یونین وہ جلاد و منافق یونین ہے کہ علامہ اقبالؒ نے  جسے مردہ و کفن چور قراردیا ہے۔اب یہی بات اگر ایک طالب علم کہے تو لوگ معمولا اس کو اہمیت نہیں دیتے۔ علامہ اقبال ؒسے جب یہ پوچھا گیا کہ  یہ اقوام عالم کی  جمعیت و  انجمن جو بنی ہے ، یہ کیا ہے   تو علامہ نے شعر میں اس کا جواب اس طرح سےبیان کیا:
من ازین بیش ندانم که کفن دزدی چند. بهر تقسیم قبور انجمنی ساخته اند
مجھے اتنا پتہ ہے کہ چند کفن چوروں نے قبرستان میں مردے تقسیم کرنے کے لئے ایک انجمن  بنالی ہے اور ایک دوسرے کو مخاطب کر کے کہتے ہیں  کہ اس قوم کومیں لوٹوں گا اُس کو تو لوٹ، اِس مردہ قوم کو میں لوٹو ں گا اُس کو تو لوٹ۔ یہ کفن  چور و مردہ چور پہلے مردہ قوموں پر ڈاکہ مارتے ہیں اور پھر ان کو لوٹتے ہیں ۔ آج لوٹنے کے لئے انہوں نے یہی کام کیا،  اپنے اسلحہ کے سارے ڈپو خالی کرکے بیچ دیئے، منافع کمالیا اور منافع کماکے اب دنیا کے سامنے اپنے آپ کو حقوق بشر کا سب سے بڑا حامی ثابت کرنے کے لئے آوازیں نکالنا شروع کر دی ہیں کہ سعودی عرب چونکہ یمن میں حقوق بشر کی خلاف ورزی کر رہا ہے لہذا اس پر پابند ی لگائی جائے۔ آل سعود نے  وہاں پر اس قدر ظلم کیا ہے  کہ اب  اس کے اپنے حامی اور ساتھی بھی اس ننگ کو تحمل نہیں کر پا رہے اور اسی وجہ سے ظاہری طور پر پابندیوں کے لئے ایک قرارداد انہوں نے منظور کرلی ہے لیکن یہ تفصیل نہیں بتائی کہ یمن میں انہوں نے کس قدر تباہی مچاکے اسے خاکستربنادیاہے۔ اس جنگ کے آغاز میں ہی انہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنی فوج کہ جو دنیا کی اناڑی ترین فوج ہے کو ٹریننگ دے رہے ہیں تا کہ یمن میں یہ اصل جنگ لڑ سکیں اور اب امریکہ و آل سعود دونوں ایک دوسرے کو اس  اصلی جنگ کی طرف دھکے دے رہے ہیں، امریکہ سعودی عرب کو دھکا دیتا ہے کہ تم آگے جا کر اصلی جنگ کرو لیکن اس ڈرپوک فوج میں زمینی جنگ کی  جرات نہیں ہوتی۔ سوریہ کے بارے میں یہ معاہدہ طے پاگیا ہے کہ وہاں اب چنگزیت ختم کی جائے۔ اس ملک میں یہ فتنہ انہوں نے اس امید سے کھڑا کیا تا کہ سوریہ اورحزب اللہ کہ جو انقلاب کے دو بازوہیں انہیں کاٹ کر اسرائیل کا تحفظ کرسکیں لیکن ان ایک سو بیس ممالک کے دہشت گردوں کی مالی و تسلیحاتی مدد اور اقوام متحدہ کی حمایت کے باوجود یہ نہ فقط انقلاب کے بازو نہیں کاٹ سکے بلکہ اپنی ٹانگیں بھی تڑوا بیٹھے اور اب ان ٹوٹی ہوئی ٹانگوں سے بھاگنا اور بچنا چاہتےہیں۔ ان دہشت گردوں پر انہوں نے جتنا خرچ کیا ہے اتنا اپنے ممالک کی  افواج اور پولیس پرخرچ نہیں کیا۔اس لشکر کو انہوں نے بہت مہنگے داموں بنایا ،مسلح اور ٹرینڈ کیا ہے۔ ہمارے لئے یہ لشکری دہشت گرد و جلاد ہیں لیکن بنانے والوں کے لئے یہ بہت عظیم سرمایہ ہیں۔ابتدا میں انہوں نے تین یا چار فریقی اتحاد ٹیرارزم کے مقابلے کے لئے بنایا اور ان کا سفایا شروع کیا لیکن جب انہیں یقین ہوگیا کہ اب ان کا خاتمہ ہوجائے گا تو اب اس سرمائے کو بچانے  اور جنگ بندی کے لئے انہوں نےمذاکرات شروع کردیئے۔   جنگ بندی جو ۲۷ فروری سے شروع ہونے والی ہے  یہ درحقیقت  داعش، جبہۃ النصرۃ اور احرارالشام کو بچانے کے لئے ہے۔ وہ سرمایہ جو آل سعود ،قطر، ترکی ،برطانیہ، یورپی یونین ، امریکہ اور سب شیاطین نےمل کر سوریہ حاصل کرنے کے لئے  لگایا تھا  اسے خرچ کرنے کے بعد اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگرہم اس سرمائے کو بچالیں تو یہی غنمیت ہے۔ اب یہ شیاطین اس جلاد گروہ کو کہیں اور منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوریہ کی تازہ ترین صورتحال ہے جہاں کل سے یہ نیا مرحلہ شروع ہونے والا ہے ۔
عراق کی تازہ  ترین صورتحال
 عراق میں اب یہ چاہتےہیں کہ وہاں سوریہ والا ماحول پیدا نہ ہو چونکہ سوریہ میں بشار الاسد کی مقامی حکومت نے ایران اور حزب اللہ پر نہ فقط داروزے کھولے ہیں بلکہ ان سے مدد مانگی ہے ۔ بشارالاسد ۲۴گھنٹے اس یلغار کی مقاومت کرنے کے قابل نہیں تھا اور نہ ہی ابھی ہے، حزب اللہ نے یہ مقاومت کی ہے اور ایران نے اس کی پشت پناہی کی ہے جبکہ روس بعد میں اپنے مفاد کی خاطر اس میں شامل ہوا ہے چونکہ  ا س کے  عالمی تناظر میں مفاد ہیں۔ روس اپنی کھوئی حیثیت حاصل کرنے کے لئے  اپنے مقام اور پلیٹ فارم پر واپس آیا ہے ۔عراق میں انہوں نے داعش کو مکمل طور پر پر سکون ماحول فراہم کیا لیکن ان کے مقابلے کے لئےمراجع کےحکم  اور فتوی پر الحشد الشعبي نامی عوامی فوج بنائی گئی کہ جس میں شیعہ سنی دونوں شامل ہیں ۔ مگر جلد ہی یہ بہانہ بنا کر  کہ اگر یہ فورس عراق میں لڑے گی تو  شیعہ سنی جنگ شروع ہو جائے گی  لہذا اس پر پابندی لگائی جائے، اس کو روک لیا گیا۔ یہ وہ فورس ہے جنہوں نے وقت دیا تھا کہ ہم اتنے عرصہ میں سوریہ سے پہلے عراق میں داعش کا صفایا کردیں گے لیکن استکباراور اس کے چیلے نہیں چاہتے کہ عراق میں داعش جیسے جلاد گروہ کا خاتمہ ہو اوروہ سرمایہ جس پر بیلینز ڈالرز لگائے گئے ہیں وہ الحشد الشعبيکے ہاتھوں نابود ہوجائے۔ اسی  لئے الحشد الشعبيکو ممنوع قرار دیا گیا۔اس عوامی فورس کہ جو اگرچہ علماء کے کنڑول میں ہے لیکن فقط  اس لئے کہ عراق ٹوٹنے نہ پائے  اور کردستان ، سنی و شیعہ صوبے میں تقسیم نہ ہو جائے کہ جو دشمن کا پہلےسے بنایا ہوا نقشہ تھا اسی مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کرلی ہے۔ اس عوامی فورس پر پابندی کے نتیجے میں دہشت گرد زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوتے چلے گئے اوروہ شہر جو پہلے الحشد الشعبينے آزاد کروائے تھے  داعش نے دوبارہ قبضہ میں لے لئے،فلوجہ دو مرتبہ آزاد ہوا  لیکن دہشت گرد دوبارہ اس میں گھس آئے ہیں، انبار اس فورس نے   آزاد کروایا  لیکن یہ جلادپھر اس میں گھس آئے اسی طرح  رمادی آزاد کروایااور انہوں نے دوبارہ قبضہ کرلیا عراق کو  امریکی اور برطانیوی تربیت یافتہ فوج کے ذریعے سے آزاد کرانا چاہتے ہیں جس کے دور دور کے امکانات نہیں ہیں ترکی باقاعدہ اپنی فوجیں لے کر عراق کے اندر گھس گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کو مدد دے اور ان کو بچائے،  ترکی نے سب سے زیادہ  ظالمانہ کردار ادا کیا  ہے اس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں دہشت گردوں اور داعش کو بنانے،پالنے اور اس کو بچانے میں سب سے منحوس کردار ادا  کیا ہے انہوں نے  عراق اور سوریہ سے تیل  چرایا ہے ترکی نے چوری کا پیڑولیم خریدا ہے اور اس کو اپنے ملک کے اند ر استعمال کیا ہے وزیر اعظم کے بیٹے نے یہ جنایت کی ہے ترکی حکومت نے دو ملکوں میں چوری کی ہے اور اس کے علاوہ ان کو راستہ بھی دیا ہے تمام یورپ سے دہشت گرد  ترکی کے راستے سے سوریہ اور عراق کے اندر آتے ہیں اور باقاعدہ ان کو تحفظ دیا جا رہا ہے یہ ترکی کا کردار ہے بعض علما نے  ترکی کے بارے میں فتویٰ نے دیا ہے اور بعض  خاموش ہیں عراقیوں کے بہت ہی جید  اور با نفوذ علما میں سے آیت اللہ العظمیٰ سید کاظم حائری  قم کے اندر موجود ہیں  کہ جوشہیدصدر رضوان اللہ تعالی  علیہ کے شاگردوں میں سے ہیں انہوں نے کہاہے کہ اگر ترکی  عراق سے نہیں نکلتا   اور اپنی فوجیں نہیں نکالتا تو باقاعدہ اس کے خلاف بھی جنگ اور جہاد کیا جائے یہ ان کا باقاعدہ فتویٰ ہے لیکن دیگر علماء ابھی تک حالات کا جائزہ لے رہے ہیں عراق کے اندر ان کی زیادہ  تقویت کی گئی ہے اور ان کو  مضبوط کیا گیا ہے یہ عراق کی تازہ صورتحال تھی  کہ جو پیش ہوئی ہے ۔
ایرانی الیکشن میں دشمن کا مطمح نظر
 ایران میں دو اہم الیکشن ہورہے ہیں  ایک پارلیمنٹ  اور دوسرا مجلس خبرگان رہبری کا الیکشن ہے ،  آپ کے لئے  پارلیمنٹ  شناختہ شدہ ادارہ ہے جیسے پاکستان میں بھی ہےاور وہاں پر بھی ہے ۔ مجلس خبرگان رہبری شناختہ شدہ نہیں ہے  مجتہدین کی ایک کونسل ہے  کہ جس میں سب مجتہد ہیں  اس کے آئین میں شرط ہے کہ اس میں صرف مجتہد رکن بن سکتا ہے ،مجتہدین کی اس کونسل کوعوام چنتے ہیں، ووٹ دیتےہیں اور اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے نزدیک عادل ،امین    اور با بصیرت ہیں جو ملک کے لئے رہبر تشخیص دیتے ہیں اگر رہبر کی وفات ہوجائے یا کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس صورت میں یہ کونسل بعد والا رہبر چنتے ہیں لہٰذا اس کونسل کی بڑھی اہمیت ہے  انقلاب اسلامی کے بعد ابھی تک اس کےتین یا چار دفعہ الیکشن ہوچکے ہیں  لیکن جتنی حساسسیت اس وقت اس کونسل کے اوپر ہے  اتنی پوری تاریخ انقلاب میں نہیں تھی تاریخ انقلاب میں ان کے لئے اتنی  زیادہ حساسیت نہیں تھی آٹھ سال کے لئے ان کو چنا جاتا ہے  اس وقت جو  رہبر اور ایران کے لئے  جو نقشہ بنایا گیا ہے اس میں اس کونسل کا بہت اہم  کردار دیفائنڈ کیا گیا ہے کہ یہ کونسل مرکزی کردار ادا کرسکتی ہے لہٰذا ایک جملہ رہبر معظم  تکرارفرما رہے ہیں کہ شیطانی طاقتیں، اسلام دشمن، شیعہ دشمن اورانقلاب دشمن طاقتیں یہ چاہتے ہیں کہ نفوذ کریں اور  اپنے افراد سیاست اور مجلس خبرگان کے اندر داخل کریں اور جو شخصیت اس وقت ملک کے اندر اس فکر کو لیڈ کررہے ہیں وہ  ہاشمی رفسنجانی صاحب ہیں اتنی بڑی عظیم شخصیت کہ جو پہلے انقلاب  کے  بہت بڑے مضبوط ستون و سہارا تھے آٹھ سال ملک کے صدر رہے ہیں  اور پارلیمنٹ کے اسیپکر رہے ہیں آٹھ سال یا  اس سے زیادہ عرصہ میں جنگ میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے ، انقلاب میں ان کا اہم کردار  رہا ہے  رفسنجانی صاحب  ہر میدان میں ایک بڑی جانی پہنچانی سیاسی شخصیت ہیں،  ان کاسیاسی کردار  بہت مرکزی رہا ہے اور وہ کردار ثانوی بھی نہیں تھا لیکن اس وقت یہ شخصیت اپنے افراد سمیت وہ نقشہ پیش لارہے ہیں تاکہ  امریکہ ،برطانیہ اور یورپی یونین  کی خشنودی حاصل کی جائے رفسنجانی صاحب کو امریکہ اور برطانیہ والے معتدل کہتےہیں۔
معتدل کون ؟
 رہبر معظم نے اس  لفظ کی تشریح کی ہے کہ معتدل سے ان کی مراد منحرف ہے یعنی انقلاب سے ہٹے ہوئے شخص کو اپنی اصطلاح میں معتدل کہتےہیں یہ میانہ رو  اور معتدل آدمی ہے یعنی انقلاب سے ہٹا ہوا ہے  جیسے مثلاً آپ ایک مؤمن بتا رہے تھے کہ ان کودو دن وقت نہیں ملا  اور ان کی  داڑھی بڑھ گئی اور انہوں نے بلیٹ نہیں لگایا ویسے بلا ناغہ استرا لگاتے ہیں اور قضا نہیں کرتےتھے  تو ان کے تھوڑے سے بال اُگ آئے انہیں آئینے میں دیکھا تو  بال اچھے لگے، کہتےہیں  کہ میں نے  اسی بڑھی ہوئی شیو کا خط بنالیا جونہی خط بنایا تو اس کے بعد گھر میں گیا  سب سے  پہلے بیگم نے کہا کہ تو تو  مولانا ہوگیا ہے بڑے ہوئے بالوں سے خط بنانے سے کہا کہ تو تو مولانا ہو گیا ہے ۔  انہوں نے یہ اس لئے کہا  کیونکہ داڑھی رکھنا شدت پسندی ہے ، خط بنانا شدت پسندی ہے اگر نماز پڑھی لی تو کہتے ہیں  کہ تو متشدد ہوتا جارہا ہے یہاں تک دین کو پہنچادیا ہے کہ نمازپڑھنا  تشدد اور شدت پسندی ہے ، داڑھی رکھنا  شدت پسندی ہے ، روزہ رکھنا شدت پسندی ہے اور کوئی دینی و مذہبی کام کرنا یہ سب شدت پسندی ہے اب ان کی نظروں میں میانہ رو مسلمان کون ہے کہ جو شدت پسند نہ ہو ، شدت پسند کون ہےجو نماز پڑھتا ہو بس جو یہ کہتے ہیں کہ معتدل ہے یعنی  وہ منحرف ہے انہوں نے یہ کارڈ استعمال کیا ہے لہٰذا ان کی کوشش یہ ہے اور اس وقت امیدیں لگائیں بیٹھے  ہیں جیسے امام خمینیؒ کے بعد امیدیں لگائیں بیٹھے تھے اور بعد میں  ان کوسخت مایوسی ہوئی، یہ تصور کررہے تھے کہ انقلاب امام کی وجہ سے قائم ہے اور امام   کے جانے کے بعد انقلاب ختم ہوجائے گا جیسے صد ر اسلام میں کفار حضور(ص)کے جانے کے دن کا انتظار کررہے تھے کہ جس دن یہ رسول (ص) دنیا سے چلے جائیں گے یہ دین خود ہی ختم ہوجائے گا لیکن  روز غدیر جب رسول اللہ (ص) نے اعلان ولایت کیا تو آیت نازل ہوئی :الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ     (مائدہ/۳)آج کافر مایوس ہوگئے ہیں چونکہ رسول اللہ(ص) نے اعلان ولایت کردیا تو انہیں پتہ چل گیا کہ دین تو انشورڈ ہوگیا ہے لہذا اب یہ رسول (ص) دنیا سے چلے بھی گئے تو دین ختم نہیں ہوگا اس لئے آج مایوس ہوگئے انہوں نے انقلاب اسلامی  سے بھی یہی امیدیں باندھی ہوئی تھیں کہ امام خمینی ؒ دنیا سے جائیں گے  تو یہ سلسلہ خود ہی ختم ہوجائے گا لیکن تدبیر الہٰی زیادہ  کارآمدثابت ہوئی اور وہ انقلاب پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا  اور ایک ایسی شخصیت میسر آئی اب یہ لوگ اس شخصیت  کے جانے کے دن کے انتظار میں ہیں کہ ان کی عمر اتنی ہوگئی ہے محاسبات کررہے ہیں کہ ان کی عمر اتنی  ہوگئی ہے اور ان کی جسمانی حالت ایسی ہے یہ ایسے ہیں یہ کچھ عرصہ کے لئے ہیں یہ دشمنوں کی تدبیریں ہیں۔  لہٰذا یہی کونسل جو ابھی سلیکٹ ہوگی یا الیکٹ ہوگی اس کے ارکان ہی آئندہ کا رہبر انتخاب کریں گے لہٰذا اس کونسل پر بہت شدت کے ساتھ حساسیت ہے حتی بی بی سی نے ایران میں باقاعدہ اس کونسل کے کانڈیڈیٹ  کے لئے کمپین چلائی ہے ، بی بی سی پرشین چینل نے کمپین چلائی ہے  اور اس میں تین کینڈیڈیٹ کو کہا ہے کہ ان کو  ہر گز ووٹ نہ دیں پچھلے ہفتے بتایا بھی تھا کہ اس نے  ریاضی فارمولا بتایا ہے کہ یہ تین مجتہد ہر قیمت پر ہارنے چاہیے  چونکہ اگر  یہ تین اس کونسل میں گئے  تو پھر ہمارا منصوبہ ناکام ہے یہ تین وہ ہیں  کہ اگرآج اس وقت ان کی زحمتوں کا  حق اداکیا جائےتو کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حیثیت  انقلاب اوررہبر کے لئے وہی ہے جوامیر المؤمنینؑ کے لئے عمار یاسر کی تھی ۔ عمار ِیاسر شمشر زن نہیں اورتلوار کےدھنی نہیں تھے لیکن جب عماریاسر شہید ہوگئے تو امیر المؤمنینؑ اپنی فوج میں  کھڑے ہوکر اور رو کر یہ فرمایاکہ :این این عمار؟ عمار کہاں ہیں؟ مجھے عمار نظر نہیں آتا، عمار شمشیر مارنے والے نہیں کہتے سپر  اور ڈھال کوکہتےہیں کہ   جو رہبر کی طرف آتا ہوا تیر اپنے سینے پر جھل لے وہ عمار یاسر ہیں۔ بعض اوقات مالک اشتر کی ضرورت ہوتی ہے جو دوسرے پر وار کرے اور بسا اوقات عمارکی ضرورت ہوتی ہے کہ جو دوسروں کےوار کو اپنے سینہ پر سہ لے  یہ وہ ہستیا ں ہیں ، یہ وہ شخصیات ہیں کہ وہاں پر جن کی حیثیت  عمار یاسر والی ہے کہ جن کے نام  آیت اللہ محمدیزدی ، آیت اللہ احمد جنتی اور آیت اللہ مصباح یزدی  ہیں آج اس کونسل کے الیکشن ہیں جس پر  ملک کے اندر و باہر بہت حساسیت ہے ہر طرف ناظرین اس الیکشن میں  بڑی امیدیں لگاکر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن جیسے اللہ کی تدبیر غالب آئی  اور دشمنوں کی تدبیرناکام ہوئی ہے  مکروہ و مکر اللہ”  واللہ خیر المکارین”  یہاں بھی ان کی تدبیرناکام ہوگی انشاء اللہ۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں
ایک اہم موضوع  جواس وقت  سرفہرست جارہا ہے اور روز بروز مسئلہ پیچیدہ تر ہوتا جارہا ہے اور اس میں شدت آتی جارہی ہے جس سے ہم لوگ بےخبر ہیں اور ہمارا میڈیا آگاہ نہیں کررہا وہ بھارت کے اندر مسلمین کے مقابلے میں  اٹھنے والے فتنے ہیں جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض ممالک اسلامی نہیں ہیں لیکن  وہاں پرمسلمانوں کے لئے فتنے اور  آگ جلائی جارہی ہے جس میں اس وقت بھارت سرفہرست ہے اس موجودہ حکومت کے آنےسے اس شدت  پسندی میں اور اضافہ ہوا ہے اسرائیل کااثر و رسوخ بڑھا ہے ا س وقت اسرائیل کا  جتناگہرا تعلق بھارت سے ہے  اتنا کسی اور سے نہیں ہے  اس وقت سب سے  اسرائیل بھارت کا بڑا تجارتی و سیاسی پاٹنر ہے جس نے  بھارت کے اندر  اپنےقدم جما لئے ہیں اور بہت سارے  ،مسلمانوں کے خلاف کے ہونے والے اقدامات کے پیچھے اسرائیلی افراد ہیں کہ جو  اس وقت بھارت میں موجودہیں بھارت میں دن بہ دن مسلمانوں کے لئے فضا کشیدہ ہوتی جارہی ہے، پیچیدہ ہوتی جارہی ہے اور سیاسی اور اجتماعی فضا میں شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے  اوراس حد تک  شدت پسندی  بڑھتی جا رہی ہےجہاں یہ علاقہ محفوظ تھا اب ا س کی طرف توجہ زیادہ بڑھتی جارہی ہے بھارتی مسلمانوں کے لئے آنے والے ایام میں ہماری دعا یہ ہے کہ خداوند انہیں اور ہرجگہ مسلمانوں کو محفوظ رکھے لیکن حالات یہ بتاتے ہیں کہ اب  بھارت کی طرف  رخ ہے اور اس وقت جو شدت پسند تنظیمیں ہیں ان کا رخ بھی بھارت کی طرف ہے ۔ ایک طرف شیوہ سینا جیسے   شدت پسند  بے رحم ہندو ہیں کہ جو گائے کا گوشت کھانے پرگردن کاٹ دیتے ہیں اورایک طرف تکفیری لشکر جواپنا ہم فکر نہ ہونے پر گردن کاٹ دیتے ہیں تو بھارتی مسلمان  ایسے دو تشدد کے درمیان آنے والے ہیں اس لئے ان کی حالت زیادہ مشکل تر ہوتی جائے گی ایک طرف یہ تشدد یہ شدت پسندی  چونکہ  ابھی ان کو عراق اور سوریہ سے نکال کر محفوظ کریں گے یہ   ٹیرورزم کے  حامی ممالک  ترکی ، قطر،آل سعود،  برطانیہ ،امریکہ اور یورپی یونین نے ان کو بچا کر فرانس وغیرہ کسی امن کی جگہ منتقل کرنا ہے جہاں پر ان کے لئے نیا میدان ہو اور اس کے لئے بھارت بھی اہمیت رکھتا ہے اور جیسے آثار نظرآرہے ہیں یہ  دو طرح  کا تشدد ہے اور بالکل ہی ظالمانہ تشدد کہ مسلمانوں کو جس کی بیت  چڑھانے کے لئے منصوبہ بندی کی گئی  ہے کہ اللہ تعالی اس میں انہیں ناکام کرے اور بھارتی مسلمانوں کو زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہے بھارتی مسلمان رہنماؤں  کو زیادہ آگاہی اور بیداری کی ضرورت ہے اور یہ نہ ہوجائے کہ ان کا حال بھی پاکستان جیسا ہوجائے کہ پھر اس تشدد کے اندر اتنے آجائیں  اورپھنس جائے کہ پھر نکلنے کے لئے کوئی امید ہی نظر نہ آئے ان کے یہاں آغاز ہے  ، آج  تیس سال بعد پاکستان میں اس کے خاتمے کے لئے حکومتی اور غیر حکومتی ساری توانائیاں صرف کی جارہی ہیں کہ یہ  دہشت گردی کاناسور پاکستان سے  ختم کیا جائے اور جیسے اشارہ کیا کہ اس کے خاتمے کے لئے ایک محکمہ کافی نہیں ہوتا ہے بلکہ پوری ملت کا ارادہ چاہیے اور ملت کا ارادہ خود نہیں بنتا ہے بلکہ ارادہ سازی کی جاتی ہے اور کروائی جاتی ہے حکومتی،دینی اور میڈیا کے ذرائع سے ملت کا ارادہ بنایا جائے اس وقت میڈیا بعض اوقات دہشت گردوں کا ترجمان بن جاتا ہے لال مسجد کے خطیب کو لاکر کبھی ایک اس کا انٹرویو کررہا ہے اور کبھی دوسرا اس کا انٹرویو کررہا ہے اور کبھی تیسرا اس کا انٹرویو کررہا ہے یعنی اس کے افکار ملت کو سنانے کے لئے چینلز میں مقابلہ شروع ہوجاتا ہے   اور دہشت گردی کے خلاف قوم کی راے بنانے کے لئے آپس میں مقابلے نہیں کرتے علما ء اور دیگر منابع ہیں کہ جہاں ملت کا ارادہ بنایا جاتا ہے اس کے بغیر  پاکستان سے  دہشت گردی ختم ہونا ناممکن ہے  اور ملک میں اس زیادہ تحمل کی گنجائش نہیں ہے ، دہشت گردی یہی پر ختم ہونی چاہیے۔
حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی عظمت
 یہ ایام جو گزر رہے ہیں ایام فاطمیہ ہیں،جناب سیدہ  سلام اللہ تعالی علیہا کی شہادت سےدو تاریخیں تاریخ میں،ہسٹری میں ذکرکی جاتی ہیں ایک تاریخ شہادت جناب سیدہ ۱۳جمادی الاول اور دوسری۳ جمادی الثانی ہے۱۳ اور ۳ کے درمیان کاعرصہ فاطمیہ کہلاتا ہے ایام فاطمیہ ہیں جو ابھی اس طرح سے نہیں ہے جیسے دیگر ایام کے لئے اہتمام کیا جاتا ہے مؤمنین ان ایام کے لئے کم اہتمام کرتے ہیں ان ایام میں  اہتمام کریں کہ ۱۳ جمادی الاول سے ۳ جمادی الثانی تک جو درمیان میں عرصہ گزرتا ہے دو عشرے یہ فاطمیہ کے عشرے ہیں اگر ہوسکے تو گھروں کے اندراورحسینیہ میں مجالس برپا کریں چونکہ جو مقام خداوند تبارک و تعالی ٰنے بی بی کے مقرر فرمایا ہے وہ بہت عالی و ارجمند مقام ہے اس مقام سے ہم آشنا نہیں ہیں فقط ایک حدیث سے اس مقام کی طرف اشارہ کرتا ہوں کہ امام حسن عسکر ی ؑ کا فرمان ہےجناب سیدہ کی عظمت اور مقام کے لئے بارے میں فرماتے ہیں :    نحنُ حُجَجُ اللّهِ عَلى خَلقِهِ وَ فاطمةُ حُجةٌ عَليَنا (تفسیر اطیب البیان  جلد 13 ص 225   ) ہم خلق کے اوپر اللہ کی حجت ہیں اور فاطمہ ائمہؑ کے اوپر اللہ کی حجت ہیں یہ کافی ہے بی بی کے اس مقام  اور دیگر مقامات کو سمجھنےاور درک کرنے کے لئے یہ کافی ہے رسول اللہ (ص) کے فرامین اور تاریخ میں بی بی کی جوقدر و منزلت رسول  اللہ(ص) کے یہاں تھی کہ بچین میں رسول اللہ (ص) کی بیٹی ہیں لیکن رسول اللہ (ص) احتراماً کھڑے ہوتے تھے  اگر بی بی ساری مجلس و محفل میں یاخطبہ کے دوران آجاتیں تو رسول اللہ (ص) خطبہ روک کر احترام فاطمہ پہلے بجالاتے تھے  ظاہر ہے یہ احترام فقط بیٹی ہونے کے ناطے نہیں تھا بلکہ یہ وہ اہتمام تھا جو اللہ کی طرف سے کیا گیا تھا تاکہ رسول اللہ (ص) امت کو بتائیں کہ یہ وہ ہستی ہے جس کے لئے  رسول(ص) کو احترام کا کہا گیا ہے کہ آپ احترام کریں اس لئے میں سب کے سامنے احترام بجالاتا ہوں رسول اللہ (ص)یہ فرماتے تھے کہ میں آپ لوگوں کے سامنے اس لئے یہ احترام بجا لاتا ہوں کہ آپ کو بھی یہ آگاہی ہوجائے آپ کو بھی معلوم ہوجائے اور بی بی اس قدر باعظمت ہے کہ حضرت خدیچہؑ جب اس دنیا سے رحلت فرما رہی تھیں تو جو رسول اللہ (ص)کو تین وصیتیں کیں، ان میں سے دو حضرت زہر ا کے بارے میں تھیں ان میں اسے ایک وصیت یہ تھی کہ جناب خدیجہؑ نے رسول اللہ (ص)کی خدمت میں عرض کی یار سول اللہ(ص) پہلے یہ فرمائیں کہ آپ مجھ سے راضی ہیں یا نہیں رسول اللہ(ص) نے فرمایا کہ اس زمین پر اگر کسی سے راضی ہوں تو آپ ہیں آپ  سے دل سے راضی ہوں اور حقیقتاً ایسے ہی تھا کہ حضرت خدیجہؑ نے رسول اللہ(ص) کی امر نبوت اور تبلیغ دین میں جو معاونت کی وہ بے نظیر و بے مثال ہے جو عموماً  بیان نہیں کی جاتی ہے اور پھر بی بی نے فرمایا :یا رسول اللہ(ص) مجھے معلوم ہے کہ میرے بعد آپ  شادی کریں گے تو میری یہ خواہش ہےکہ ایسی خاتون سے شادی کریں کہ وہ میری بیٹی کو نا ستائے پھر ایک نام بتایا کہ اگر ہوسکےتو ان سے شادی کر لیں تاکہ وہ میری بیٹی کا خیال رکھے اور معلوم نہیں جناب خدیجہ ؑکو کیسے آنے والے حالات کا علم ہوا اور پھر بی بی فرماتی ہیں کہ یا رسول اللہ(ص) خیال رکھنا کہ میری بیٹی کو کوئی مارے نہیں ،خیال رکھنامیری بیٹی کو کوئی منہ پر طمانچہ نہ مارے،میری فاطمہ کو کوئی منہ پر طمانچہ نہ مارے۔ عزیزان  پھرایک دن آگیا جب یہی فاطمہؑ طمانچہ کھایا ہوا چہرہ لے کررسو ل اللہ(ص) کی قبر اطہر پر آکربین کرنے لگیں، رونے لگیں یا رسول اللہ  (ص)  صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبُ لَوْ أَنَّهَا صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا “جب بی بی رسول اللہ(ص) کے پاس جاتی تھیں اس طرح سے جاتی تھیں جب رسول اللہ (ص) حیات میں تھے تو بی بی جب بھی غمگین ہوتیں تو رسو ل اللہ (ص) کی پناہ میں جاتی تھیں اور روایات میں لکھا ہے کہ بی بی کے ملنے کا انداز یہ ہوتا تھا کہ اپنا سر رسول اللہ (ص)کے سینہ پر جاکر رکھ دیتی تھیں اور رسول اللہ (ص) بی بی کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور اسی دست شفقت سے رسول اللہ(ص) کے سینہ  پر سر رکھنے سے سکون مل جاتا روتی ہوفاطمہ مسکراتی ہوئی واپس چلی جاتی تھیں روایات میں لکھا ہے کہ ایک دن قبر رسول (ص) پر آئیں اور اسی طرح سر رکھا جس طرح سینہ پر سر رکھتی تھی بابا کی قبر پر سر رکھ کر فرمایا:بابا اس وقت تو چھوٹی تھی چھوٹے چھوٹے مصا ئب ہوتے تھے اور آپ کا سینہ میری پناہ تھی اور آج جب مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں تو آپ کا سینہ نہیں ہے تو رسول اللہ (ص) کی قبر پر سر رکھ دیا اورفرمایا :  صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبُ لَوْ أَنَّهَا صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا ”  اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں بحق فاطمہ، بحق سر فاطمہ امت اسلامیہ کو ظلم و ستم سے نجات عطا فرما، ان ظالمین کوظلم سمیت نیست و نابود فرما،خداوندا امت اسلامیہ کو فتنوں سے رہائی عطافرما،ان فتنہ گروں کو فتنوں سمت نیست و نابود فرما، فتنہ تکفیریت اور داعش کومحو فرما، امت اسلامیہ میں اتحاد و اتفاق قائم فرما،خداوند بحق محمد و آل محمدحزب اللہ کو کامیابی عطا فرما،سید مقاومت سید حسن نصر اللہ کی حفاظت فرما، رہبر معظم انقلاب اسلامی کا سایہ دراز فرما، انقلاب اسلامی کو دشمنوں کے شر سے محفوظ فرما۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی