مسئلہ تفتان قومی مسئلہ، حل کیا ہے ؟

مسئلہ تفتان قومی مسئلہ، حل کیا ہے ؟

بارڈر پر زائرین جو عشق امام حسین میں اپنی تمام جمع پونچی خرچ کر چکے ہوتے ہیں کو مزید اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ملت تشیع پاکستان کی متحرک و فعال تنظیموں کے سربراہان اگر اس مسئلہ کو ہنگامی موقعوں پر حل کرنے کی بجائے ہنگامی بنیاد پر حل کریں تو اس قومی مسئلہ سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
تحریر توقیر ساجد تقی
بائی روڈ ایران زیارات! کا سنتے ہی ایک غیر محفوظ اور خطرناک سفر یاد آتا ہے تو کبھی سرراہ دہشت گردی کے واقعات ،گزشتہ دنوں اربعین امام حسین(ع) کیلئے ایران عراق بائی روڈ سفر کرنے کا اتفاق ہو ویزا کے اعصاب شکن مراحل گزار کر کوئٹہ پہنچنے پر معلوم ہوا حکومتی سرپرستی میں آخری قافلہ گذشتہ روز ہی روانہ ہوا ہے بارڈر پر جانے کیلئے این او سی کیلئے 3 دن انتظار کرنا ہوگا لیکن حکومت اور موسم کا کیا اعتبار کہ کب بدل جائیں اور مشکلات کے پہاڑ کا سامنا کرنا پڑے کچھ دوستوں کے مشورہ پر طے پایا کہ سدابہار اڈا کی طرف رخ کیا جائے تاکہ باڈر کیلئے جلد اور مناسب گاڑی کا انتظام ہوسکے لیکن سدا بہار کمپنی کی بسیں ہی کیوں ؟کیونکہ زائرین و مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ماسوائے سدا بہار کمپنی کی بسوں کے تمام بسوں کے زائرین کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ دہشت گرد عناصر کو سدا بہار کی طرف سے بھتہ پہلے ہی پہنچادیا جاتا ہے زائرین سے سفر خیریت سے پہنچانے کی شرط پر دوگنا کرایہ وصول کرلیا جاتا ہے جس کی بنا پر زائرین کا سفر محفوظ اورکمپنی کا کاروبار چمکنے لگتا ہے سفر کا آغاز دن 10 بجے ہوا راستے میں لیویز اور ایف سی کے اہلکار گاڑی دیکھ کر ہی واپس لیجانے کا اشارہ کرتے ہیں چیک پوسٹ پر رکنے پر مسافروں کا شناختی کارڈ اور پوچھ گچھ کی جاتی ہے اگر گاڑی میں دیگر مسافروں کی طرح زائرین بھی ہوتو ڈرائیور و کنڈیکٹر کو ایک طرف لے جاکر لیویزہو یا ایف سی اہلکار فی کس 100روپے بھتہ لیا جاتا رہا نہ دینے پر گاڑی واپس اور مسافروں کو کہا جاتا آگے مت جائے آپ کے گلے کاٹ دئے جائیں گے کچھ دیر بعد بحث و تکرارکے بعد ڈرائیور اور ایف سی اہلکار میں معاملات طے پا جاتے ہیں نوشکی چیک پوسٹ پر بھاری بھتہ دینے پر میں نے ڈرائیور سے دریافت کیا آپ کا معاملہ کیسے طے پایا جواب آیا جتنا اس کا حق تھا دیا بس وہ حق سے زیادہ مانگ رہا تھا میں نے حیرت سے پوچھا کیا ایف سی والے بھی اس دھندے میں ملوث ہیں تو کہا ایف سی کیا یہاں سب لیتے ہیں قصہ مختصر ہر چیک پوسٹ پر زائرین کے نام پر ہزاروں روپے لوٹے گئے کوئٹہ سے تفتان تک زائرین کو کسی نہ کسی صورت لوٹ لیا جاتا ہے کسی کی جان تو کسی کا مال البتہ مال لوٹنے کے بہت سے حربے استعمال کئے جاتے ہیں اس طویل و کٹھن راستے میں جہاں راستے کی مشکلات تھی وہاں راستوں پر کالعدم تنظیم کی روڈ کے اطراف وال چاکنگ سفر کو غیر محفوظ بنارہی تھی نوشکی کے قریبی علاقوں میں وال چاکنگ کے مناظر ناقابل یقین تھے کہ اردگرد نیشنل ایکشن پلان نامنظور جیسے نعرے درج تھے جو سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت تھے10 گھنٹے کا طویل و مشکل ترین سفرطے کرنے کے بعد تفتان بارڈر پرپہنچے تو کالعدم سپاہ صحابہ کے20فٹ لمبے جھنڈے پر نظر پڑی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہے بغیر نہ رہ سکیں28دن بعد زیارات کا سفر گزارنے کے بعد پھر اسی تفتان بارڈر پرپہنچے تو اپنے ملک کا بارڈر کسی قید خانہ سے کم نہ تھاکسی بھی زائر کو کسی بھی صورت کوئٹہ جانے کی اجازت نہ تھی لیکن یہ خوف و گھٹن کی فضاء کو ختم کرنے کیلئے قومی و ملی تنظیمو ں کو فقط بیان بازیوں سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ کچھ عملی اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ مسئلہ تفتان ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے اب رہبران ملت کو فقط بیان بازی سے کام نہیں لینا ہوگا سنجیدگی سے زائرین کے اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا آئے روز تفتان بارڈر پر زائرین کو این او سی جیسی مشکلات کے پہاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے زائرین کا تعلق کسی گروہ ماتمی انجمن یا تنظیم سے ہولیکن بارڈر پر مشکلات پڑنے پر ان کی آخری امید تنظیموں تحریکوں کے رہنمائوں سے ہوتی ہے کہ وہ ہنگامی پریس کانفرنس یا احتجاج سے ہمیں مشکل کی اس گھڑی سے نکال سکتے ہیں اربعین امام حسین(ع) کے موقع پر کوئٹہ میں ہزاروں زائرین کو این او سی کے نام پر تنگ کیا گیا اورواپسی پر کانوائے کی تیس گاڑیا ں مکمل ہونے تک سخت سردی میں بارڈر پر محصور کردیا گیا بارڈر پر زائرین جو عشق امام حسین میں اپنی تمام جمع پونچی خرچ کر چکے ہوتے ہیں کو مزید اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ملت تشیع پاکستان کی متحرک و فعال تنظیموں کے سربراہان اگر اس مسئلہ کو ہنگامی موقعوں پر حل کرنے کی بجائے ہنگامی بنیاد پر حل کریں تو اس قومی مسئلہ سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے کوئٹہ میں زائرین کے بارڈر کے سفر کا آغاز پر مقامی تنظیموں کی طرف سے یادگار الواعی تقریب منعقد ہوتی ہے اگر ایسی ہی تقریبات بارڈر اور بارڈر کے راستوں پر سبیل یا امدادی کیمپ کے نام پر کی جائیں تو زائرین کی مشکلات حل ہوسکتی ہیں قائدین اس گھٹن کے ماحول کو پرروحانی و مزید جاذب سفر منانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اگر وہ کوئٹہ سے تفتان چیک پوسٹوں سے قبل زائرین کا والہانہ استقبال کریں تاکہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں کی حوصلہ شکنی ہوسکے ان مشکل حالات میں ایسا کرنا بظاہر مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں کیونکہ یہ قوم شہادت کو وراثت سمجھ جانتے ہوئے مشکل راہوں کو طے کرلیتی ہے لیکن ذلت و رسوائی کی بجائے عزت و استقامت کا راستہ اس عظیم ملت کا سرمایہ ہے کوئٹہ سے تفتان کانوائے کی روانگی پر رہبران ملت کی طرف سے پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جائے جس میں میڈیا کے تمام نمائندگان کو مدعو کیا جائے ایسے اقدامات سے رشوت،بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی لائی جاسکتی ہے اگر قائدین ان گزارشات پر نظر کریں اور جامعہ حکمت عملی بنائیں تو ہم اس قومی مسئلہ سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*