نماز جمعہ کا خطبہ

نظام ولایت میں ہی انسان کی نجات پوشیدہ ہے: علامہ جواد نقوی

نظام ولایت میں ہی انسان کی نجات پوشیدہ ہے: علامہ جواد نقوی

خطبے کے اہم موضوعات: 1) پاکستان میں دہشتگردی ( چارسدہ یونیورسٹی حملہ) 2) دہشتگردی کے نا ختم ہونے کے وجوہات 3) پاکستان کا ایران و سعودی عرب تنازعہ میں کردار 4) سعودی ایران کشیدگی 5) سعودی عرب ایٹم بم کیوں خریدنا چاہتا ہے 6) ایٹم بم کس ملک سے خریدے گا اور کس ملک کا نام مشہور کریگا
7) ایران کا امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ 8) ایران نے کیا کھویا کیا پایا؟ 9) انقلاب کو ختم کرنے کے لئے ایران کے اندر سازشیں 10) رہبر معظم کا معاہدے کے بارے بیان

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کی انقلابی شخصیت حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ سید جواد نقوی کا جامعہ جعفریہ گجرانوالہ میں 22 جنوری 2016 کو نماز جمعہ کا خطبہ جس میں انہوں نے موجودہ حالات کا تجزیہ پیش کیا ہے:

تقویٰ سے دوری کے نتائج

 آج پوری دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس عدم تحفظ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تقویٰ سے دور ہیں، اسی وجہ سے دشمنوں کے نرغے میں ہیں، تفرقے کا شکار میں ہے، آپس میں دشمنیاں اور کدورتیں ہیں،فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور وہی ملت جوکسی زمانے میں پیشواتھی، انسانیت اور دنیا کی امامت کرتی تھی آج وہ غلامی اور محرومیت میں مبتلا ہے،اپنے ممالک میں بھی بے گانوں اور اجنبیوں کے غلام بنے ہوئے ہیں، اپنی سرزمینیں، قومیں، دولت و ثروت اور نسلیں سب دشمنوں کے اختیار دے دی گئی ہیں اور خود بھی ان کی نوکری پر مأمور ہیں یہ سب سے بڑی ذلت اور بے تقویٰ ہونے کی علامت ہے۔ آج سب سے زیادہ پریشانیاں اور مشکلات دنیائے اسلام اور امت اسلامیہ کو درپیش ہیں ان مشکلات سے نکلنے کا واحدراستہ تقویٰ ہے کہ جب یہ تقویٰ کی راہ اپنائیں، شیطانی راہوں، شیطانی سیاستوں، شیطانی حکومتوں، شیطانی پارٹیوں، شیطانی لیڈروں اورشیطانی افکار کوچھوڑ کر تقویٰ کی راہ اختیار کریں اور الہٰی نظام کی پناہ میں آجائیں ۔

الہٰی نظام ہی تنہا وہ نظام ہے جو اللہ تعالی نے مقرر فرمایا ہے جس نظام کے اندر نجات ہے اور وہ نظام امامت و ولایت ہے ،اس کا کوئی متبادل نظام نہیں ہے ۔یوں نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہوا ہے کہ تمہاری مرضی ہے کہ نظام امامت اپنالو یا اس کا کوئی متبادل نظام اپنا سکتے ہو، اس کو کوئی متبادل نہیں ہے ، انسان ولایت خدا میں ہے یا ولایت طاغوت میں ہے ـــ۔

الہٰی اور طاغوتی نظام

 دو نظام ہیں ؛ایک طاغوت کا نظام اور ایک اللہ کا نظام، اگر اللہ کے نظام میں ہوں گے تو اللہ تمہارا ولی ہے اوراگراللہ کی ولایت میں نہیں ہو تو پھر طاغوت اور شیطان تمہارے متولی ہوں گے ۔یہ بہت افسوسناک ہے کہ مسلمین اللہ پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن نظام اور سرپرستی طاغوت کی ہے۔ آج طاغوت باقاعدہ طورپر مسلمانوں اور حکومتوں کے سرپرست بنے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 اس وقت عالم اسلام میں پاکستان سب سے زیادہ، طاغوت پرستی اور شیطان زدگی کا نتیجہ دیکھ رہا ہے ۔چند روز قبل جو حادثہ ہوا وہ بہت ہی تلخ اور ناگوار تھا کہ خیبر پختونخواہ چارسدہ میں ایک یونیورسٹی کے اندر دہشت گرد داخل ہوئے اور وہاں پر طلاب کو شہید کیا ،مہمانوں کو شہید کیا ، ایک استاد بھی  شہید ہوئے ہیں ،یہ ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پیچھے باقاعدہ شیطان زدگی اور شیطان پرستی کی ایک پوری تاریخ ہے اور یہ سب طاغوت کی سرپرستی کا نتیجہ ہے ۔اب حالات یہاں تک جا پہنچے ہیں کہ اس کے باوجود کہ دہشت گردی کے ساتھ مقابلہ ہورہا ہے اور سارا ملک اور ملکی توانائیاں دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہورہی ہیں پھر بھی وہ جہاں چاہتے ہیں وہاں اپنے گھناؤنے اعمال انجام دیتے ہیں کیونکہ ان کی جڑیں مضبوط ہیں، ان کے سرپرست ان کی پشت پر موجود ہیں ان کے عوامل اور اسباب موجود ہیں۔

دہشت گردی سے نمٹنے کا طریقہ

کچھ عرصہ پہلے اشارہ کیا تھا کہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے اس کے آثار، نتائج اورمعلولات کے ساتھ جنگ فائدہ مند نہیں ہے ۔معلولات اور مسببات کے خلاف جنگ، شکست خوردہ جنگ ہے ،کسی بھی شئی کے آثار کے خلاف جنگ کرنے سے انسان شکست کھاجاتا ہے ،جب تک کہ اس کے اسباب وعوامل اوراس کے بنیادی عوامل کے خلاف جنگ نہ کی جائے۔ اگر ایک بیماری کے آثار کے خلاف جنگ کی جائے، مثلاً انسان کے جسم میں سرطان کے آثار رونما نہ ہونے دیں، اس طرح آثار ختم کرنے سے انسان کبھی بھی جنگ نہیں جیت سکتا۔ جب تک سرطان کی جڑیں ختم نہ ہوں سرطان ختم نہیں ہوتا،جب تک اس کے اسباب ختم نہ ہوں ،جب تک اس کے بنیادی محرکات کو کنڑول نہ کیا جائے انسان سرطان سے نجات نہیں پاسکتا ہے۔

ملک کے اندر یہ شجرہ خبیثہ اور یہ خباثت آج سے لگ بھگ تیس سال یا اس سے کچھ عرصہ پہلے شروع کی گئی ہے۔۸۰ کی دھا ئی میں ضیاء الحق نے یہ بیج کاشت کیا اوراس کے ساتھ کے ٹولے اور اداروں نے باقاعدہ طور پر حماقت آمیز اقدام کیا کہ افغان جنگ کو بنیاد بنایا اور ادھر سے تشیع کو نشانہ بنانے کے لئے دو طرح کے لشکر بنائے؛ ایک لشکر وہ جو افغانستان یا کشمیر میں لڑے گا اور دوسرا لشکر وہ کہ جو پاکستان کے اندر لڑے گا۔ ان کو داخلی اور خارجی، اندرونی اوربیرونی جہاد سکھایا گیا، کیمپ لگائے گئے، ان کو تربیت دی گئی۔ جن لوگوں نے یہ دہشت گردبنائے ہیں انہیں کوئی نہیں پوچھتا، ان پرکوئی کیس نہیں اور مقدمہ نہیں چلتا ہے، ان کا ذکر کہیں نہیں آتا ہے ۔جن مجرموں نے یہ پالیسیاں بنائیں، غیرریاستی لشکربنائے ،فوجیں بنائیں،ٹرورسٹ بنائے اوران کی حمایت کی، ان کا نام کیوں نہیںلیتے ؟اور وہ ممالک جنہوں نے پاکستان میںیہ خباثت پھیلائی ہے ان ممالک کانا م کیوں نہیں لیتے؟ ان ممالک سے تعلقات کیوں نہیںتوڑتے؟جن کے پیسوں اور حمایتوں سے، جن کی پلاننگ اور تربیت سے یہ سب کچھ شروع ہو ا ہے ان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، ان ممالک کی مداخلت پاکستان میں جارہی ہے اور ہم دہشت گردی کے نتائج کو کچلنا چاہتے ہیں۔اس طرح دہشت گردی ختم کرنا ممکن نہیں ہے،جب تک دہشت گردی کے اسباب ختم نہیں کئے جائیں۔

اسباب دہشت گردی

دہشت گردی کے دو قسم کے مہم اسباب ہیں؛ کچھ اسباب ملک کے اندر اورکچھ ملک سے باہر ہیں۔ ملک سے باہر وہ ممالک ہیں جنہوں نے اس دہشت گردی کواپنی ضرورت کے تحت فروغ دیا ہے، امریکہ کو افغانستان میں جنگ لڑنی تھی، پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپ لگائے ،پاکستان میں مجاہد پالے جو دہشت گرد بن گئے، دہشت گردی کاسب سے بڑا بانی امریکہ ہے اور جن ملکوں نے پیسہ لگا کر یہاں پر دہشت گردی کو فروغ دیا، لشکر بنائے اور ان کو بجٹ فراہم کیا وہ عرب ممالک ہیں، بالخصوص آل سعودنے کھلم کھلا، دن دھاڑے یہ کام کیا ہے اورپاکستان میںان کے مختلف مذہبی اور سرکاری ایجنٹ تھے جنہوں نے پاکستان میںدہشت گردی کی خباثت شروع کی ہے ۔یہ دہشت گردی کے علل و اسباب ہیں، ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھیڑتے، نہ پاکستان میں امریکہ کی مداخلت روکتے ہیں، نہ پاکستان میں آل سعودکی مداخلت روکتے ہیں، نہ ان سرکاری اہلکاروں کا نام لیتے ہیں کہ جنہوں نے یہ لشکر بنائے اوران کی سرپرستی کی ہے، نہ ان مذہبی عناصر اور مذہبی تعلقات کو چھیڑتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے مدرسوں اور اپنے ماحول میں یہ سب کچھ پالاپوسا ہے، بلکہ فقط اس کی شاخیں اور پتے کاٹنے میں مشغول ہیں۔ نتیجہ پھر یہی نکلتا ہے کہ کبھی پشاور میں اور کبھی چارسدہ میں حملہ ہوتا ہے اور پھر ایک المیہ یہ ہے کہ جب تک کسی سرکاری ادارے کے اسکو ل پر حملہ نہ ہواس کو دہشت گردی ہی نہیں سمجھتے ۔اگر امام بارگاہ پر حملہ ہوجائے ،ریلی پر حملہ ہوجائے، شخصیات پر حملہ ہوجائے ، مسجدوں پر حملہ ہوجائے ،جمعہ پر حملہ ہوجائے، عوامی اجتماعات پر حملہ ہوجائے تو دہشت گردی شمار ہی نہیںکرتے ہیں! بلکہ دہشت گردی صرف اسے شمار کرتے ہیں جو سرکاری املاک پر ہو۔

 بہر حال یہ بعض میڈیا والوں یا کچھ دوسرے لوگوں کی غلط سوچ ہے۔ درحقیقت یہ سب دہشت گردی ہے؛ چار سدہ کی یونیورسٹی پر حملہ ہو تو بھی دہشت گردی ہے ، پشاور اسکول پر حملہ ہو تو بھی دہشت گردی ہے، پشاور میں امامیہ مسجد پر حملہ ہو تو بھی دہشت گردی ہے، پاراچنار میں ہو تو بھی دہشت گردی ہے، نائیجیریایا یمین میں ہو تو بھی دہشت گردی ہے، کراچی اورپورے پاکستان میں جہاں پر بھی یہ کاروائی ہویہ سب ایک جیسی اور یکساں دہشت گردی ہے۔ یہ شجرہ خبیثہ ہے جو انہوں نے کاشت کیا ہے اورابھی بھی طالبان اور بعض دوسرے دہشت گروں کی سرپرستی کر رہے ہیں ،یہ وہ ممالک ہیں جو دہشت گردبناتے ہیں پھر انہی دہشتگردوں کے بہانے اگلی کاروائی کرتے ہیں۔

خود زنی کی اسٹراٹیجی

پہلے اشارہ کیا تھا کہ دو ہفتہ قبل پٹھان کوٹ ،انڈیا میں ائیر بس پر حملہ ہوا جس کا ذمہ دار انھوں نے پاکستانی لشکروں کو قرار دیا ۔اس کے بعد کاروائی بھی ہوئی اور وہی عرض کیا تھا کہ یہ ایک اسٹراٹیجی بن چکی ہے خودزنی کی ، یعنی اپنے اوپر حملے کرائواور پھر ان حملوں کے انتقام میں دوسرے ممالک پر چڑھائی کرو اور یہ توقع تھی کہ ایسا ہی ہوگا۔ پٹھان کوٹ کا حملہ یہ علامتیں ظاہر کر رہا تھاکہ پاکستان میں بھی کوئی بڑی کاروائی ہوگی ، وہاں پر کاروائی ہوئی ہے تو ادھر بھی ہونی چاہیے۔

 یہ سب اس وقت رکے گا جب اس کے اندر ونی و بیرونی تمام اسباب کو ختم کیا جائے اور اسباب ختم کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جتنے اہلکار جہاں بھی ہیں ،اگروہ قبروں میں بھی چلے گئے ہیں توان پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔ حمیدگل جیسے افراد پر مقدمہ چلایا جائے چونکہ ان کی وجہ سے یہ سب کچھ ہورہا ہے ،یہ ان کے کاشت کردہ پودے ہیں، جو زندہ ہیں ان پر مقدمہ چلایا جائے انھیں متعارف کروایا جائے اور ساری قوم کو یہ بتایا جائے کہ یہ وہ مذہبی چہرے ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے پاکستان کو دہشت گردی کا تحفہ دیا ہے اور قوم کو یہ بتایا جائے کہ عربی اور غربی ممالک چاہے ا مریکہ ہو یا آل سعود ہوا یہ پاکستان کی بدبختی کے ضامن ہیں۔ ایک طرف ان کے ساتھ دوستی لگائی جائے ،انہیں دوست کہاجائے ،انہیں سرپرست بنایا جائے، انہیں بڑا مانا جائے، ان کی چاپلوسی کی جائے اور ساتھ یہ توقع بھی رکھی جائے کہ پاکستان میں دہشت گردی ختم ہورہی ہے ،یہ خام خیالی ہے اس طرح دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔

پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی

 اسی ہفتہ ، دو تین دن پہلے اوباما نے ایک بیان دیا ہے جس پر پاکستان کے بعض سیاست دانوں نے رد عمل دکھایا ہے۔اس نے بیان دیا ہے کہ پاکستان کئی دھائیوں تک ناامن رہے گا، استحکام نہیں آئے گا۔ کئی دھائیاں یعنی کئی دہ سال، جیسے ابھی ۲۰۱۰ کی دھائی چل رہی ہے یہ ۲۰۲۰ تک یہ دس سال، ایک دھائی کہلاتی ہے، ۲۰۰۱ سے لے کر ۲۰۱۰ تک ایک دھائی ہے ، اوباما نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کئی دھائیوں تک ناامن رہے گایعنی ابھی مزید بیسیوں ،دسیوں سال ناامن رہے گا ،کچھ ہمارے لوگوں نے اسے رسمی طور پر جواب دیا کہ اوباما نے صحیح بات نہیں کی ہے کچھ نے گول مول تبصرے کئے ،یہ اوباما کی پیشن گوئی نہ سمجھیں وہ کوئی ولی اللہ ہے اور نہ اس نے کوئی ایسا تجزیہ اور تحلیل کیا ہے بلکہ اس نے اپنی پالیسی ظاہر کی ہے کہ دسیوں سال ناامن رکھا جائے گا ۔ ان کی مشرق وسطیٰ ، اپنے ممالک اور دیگر ممالک کے لئے جو پالیسیاں ہیں وہ تقاضا کرتی ہیں کہ پاکستان دسیوں سال ناامن رہے ،یہ امریکہ نے اپنی پالیسی کا اعلان کیا اور یہاں کسی نے کوئی جواب نہیں دیاکیونکہ ان کے اندر جواب د ینے کی جرأت نہیں ہے۔ آپ نے خبروں میں دیکھا کہ امریکی لانچوں نے ایران کی آبی حدودتجاوز کیا، دو چھوٹی کشتیاں اور لانچیں ایران کی سمندری حدود میں داخل ہوگئیں اور وہیں پر پاسدار گئے اور انہیں ہتھکڑیوں میں اسیر کرکے اپنے ملک کے اندر لے آئے اور پھر انہوں نے معافی مانگی اور عہد کیا کہ آئندہ ایسا نہیں کریںگے اور تصویریں نشر ہوئی ہیں، معافی کے بعد خود ان کو چھوڑا ، آپ اپنے ملک کا احترام بچائیں ، اپنے ملک کی حرمت اور تقدس بچائیں۔

پاکستانی قوم کی غیرت کو کیا ہوگیا ؟

 ایک شخص ساری دنیا میں آگ لگائے ہوئے ہے اور پاکستان کے بارے میں اعلان کرتا ہے کہ پاکستان کو دسیوں سال اور ناامن رہنا ہے ۔اس کا کیا جواب بنتا تھا ،یہاں عوام کو ردعمل دکھانا تھا ،مذہبی جو ہر مسئلے میں کود پڑتے ہیں ،دھرنے اور ریلی نکالتے ہیں ،یہ وقت پاکستان کے استحکام اور پاکستان کے تحفظ اور دفاع کا تھا یہ و قت پاکستان سے دفاع کا ہے ،روڈوں اورسڑکوں پر آنے کا وقت ہے، امریکی اداروں اور ایمبسیوں کے سفیر کو طلب کرو، امریکی سفیر کو پوچھوکہ کیوں پاکستان دسیوں سال اور ناامن رہے گا۔ پاکستان نے کیا گناہ کیا ہے؟ کیوں تم نے یہ پالیسی اعلان کی کہ باقی دنیا میں امن قائم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اور پاکستان کو دسیوں سال مزید ناامن رکھنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جب تک یہ وجوہات ختم نہیں ہوتیں ان پر قابو نہیں پایا جاتا اس طرف توجہ نہیں آتا اس وقت تک دہشت گردی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟

 شجاع رہنماوں کی ضرورت

 جرأت مند انسان اور جرأت مند سیاست مندچاہیے جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے ان کی کلائی پکڑسکے ان کی کلائی مروڑ سکے ،تاکہ ان کو جواب دے سکے کہ کیسے ممکن ہے کہ ہمار ملک دسیوں سال ناامن رہے، کیوں انہوں نے یہ پالیسی اعلان کی ہے کیوں تم نے پاکستان کو ناامن رکھنے کی سازشیں کی ہیں؟ دلیر لوگ چاہیے، غیرتمند لوگ چاہیے جو اپنے ملک کے متعلق ایسے غیر ذ مہ دارانہ بیانات پر نوٹس لیں اور اس کا جواب دیں ۔عوام کو بھی چاہیے، تعجب ہوتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کاموں پر جلسے جلوس کرنے والے، دھرنے دینے والے اتنے اہم مسئلہ کے اوپر بالکل ساکت و خاموش ہیں جیسے ان کے پیر نے بیان دیا اور وہ اس بیان کو سر آنکھوں پر لے رہے ہیں۔ آئندہ دسیوں سال پاکستان مزید غیر مستحکم اور ناامن رکھنے کے لئے گویااب اور بولی لگی ہے اور یہ اس کا ٹھیکہ لیں کہ اگر پاکستان کوناامن کرنا ہے تو پاکستان کی ناامنی کے لئے ہم حاضر ہیں ۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان پاکستان کی ثالثی

 ایک اور حرکت کہ جو گذشتہ ہفتہ انجام پائی ہے پاکستان کے وزیراعظم صاحب اور فوجی چیف صاحب سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کے لئے گئے ہیں ۔پہلے سعودی عرب گئے اور بعد میں ایران گئے ہیں اور کوشش کی ہے ان ملکوں کے اندر مصالحت کرائیںاور جو فضا بن چکی ہے سفارتی روابط ختم ہوگے ہیں اور اس میںمزید تلخی آ رہی ہے اپنا کردار ادا کریں ۔جو کچھ سعودی عرب پاکستان سے چاہ رہاتھا اس کے مقابلے میں پاکستان نے یہ بہترین قدم اٹھایا ہے۔ اس سے یہ تونہیں کہوں گا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مسائل حل ہوجائیں گے چونکہ سعودی عرب اور پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لئے دونوں کے ساتھ بہادری کی سطح پر تعلقات ہوناضروری ہے۔ جیسے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہیں ایسے ہی ایران کے ساتھ ہوں پھر تو ثالثی کا جواز بنتا ہے ،چونکہ دونوں طرف ایک جیسا اقدام ہے دونوں طرف ایک جیسا ماحول ہے، ایک جیسا اعتمادہے لیکن اگر ایک کے ساتھ دوستی ہواور ایک کے ساتھ نہ ہو تو وہاں ظاہر مصلحانہ کردار کی اتنی امید نہیں ہوتی کہ کچھ ہو پائے گا ۔

بہر کیف اچھی کوشش ہے اور پاکستان کے لئے بہت اچھی پالیسی ہے۔ ایران کو اس کا فائدہ ملے  یا نہ ملے ،سعودی عرب کو اس کا فائدہ ملے یا نہ ملے، خود پاکستان کے لئے یہ اچھی پالیسی ہے جو ہمارے ان سیاسی رہنماوؤں نے پاکستان کے لئے اختیارکی ہے۔ آپ توجہ فرمائیں پاکستان کی سیاسی پالیسیوں نے پاکستان کو ایسی جگہ جا پہنچایا ہے کہ اگر ایران اور سعودی عرب میں مزید مسئلہ بڑھتا ہے اورشدت اختیار کرتا ہے خدانخواستہ جنگ تک نوبت جا پہنچتی ہے کہ جس کے آثار ہیں اور نفی نہیں کی جاسکتی ،چونکہ سعودی عرب میں جنگ کا جنون پایا جاتا ہے کہ وہ ان کی ماموریت ہے وہ جنگ کے لئے پورے طور پر تیاری کررہے ہیں ،ابھی اس کا اشارہ کروں گا کہ وہ پوری تیاری میں ہیں کہ یکطرفہ طور پر حتماً یہ جنگ شروع ہو۔

سعودی عرب اور ایران کے مابین اگر یہ مسئلہ بڑھتا ہے اور شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کے لئے کوئی امن کا راستہ نہیں بچتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان جنگ میں شریک بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ کسی ایک فریق کا ساتھی بھی نہیں بن سکتا ہے اور دونوں کا ساتھ بھی نہیں دے سکتا ہے اور لاتعلق بھی نہیں رہ سکتا۔ انسان ایک ایسے مخمصہ میں پھنس جائے کہ یہاں آپ دونوں کا ساتھ بھی نہیں دے سکتے کسی ایک کا ساتھ بھی نہیں دے سکتے لاتعلق بھی نہیں رہ سکتے ایسی صورت میں ایک ہی راستہ بچ جاتا ہے کہ ان کے درمیان آپس میں تصادم نہ ہو ورنہ ہمارے لئے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ دونوں کا ساتھ نہیں دے سکتے ممکن نہیں ہے کہ اِن کی بھی مدد کریں اور اُن کی بھی مدد کریں یہ تو ناممکن ہے، ایک کا ساتھ دینے کے لئے بیانات تو ہیں اخباروں میں  کہ اگر کوئی مسئلہ بڑھتا ہے تو ہم سعودی عرب کا ساتھ دیں گے ،سعودی عرب کا دفاع کریں گے لیکن عملی طور پرجو اقدام ابھی شروع کیا ہے پاکستان کے لئے بہترین اقدام ہے ،سعودی عرب کا ایران کا فائدہ ہو یا نہ ہولیکن خود اپنے ملک کے لئے یہ بہترین پالیسی ہے جو انہوں نے اپنائی ہے کہ ہمیں پاکستان کو محفوظ رکھنا ہے ،ہماری ذمہ داری سب سے پہلے پاکستان کو محفوظ رکھنا ہے، پاکستانیوں کو،پاکستانی فوج اور عوام کا پہلا فریضہ پاکستان کو بچانا ہے ۔یہ نہ ہو کہ کسی اور ملک کی خاطر (جس طرح پہلے کیا اورسعودی عرب کی خاطر) اپنا ملک تباہ کرلیااور دہشت گردی فروغ پائی ۔یہاں پر یہ غلطی دوبارہ تکرار نہ ہوایک کا ساتھ دینے کے لئے رحجانات موجود ہیں لیکن پاکستان کو اس کے بہت شدید نقصانات ہیں اور توقع بھی نہیں کی جاتی کہ پاکستان کو اتنا شدید نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہوں۔

پاکستان لاتعلق بھی نہیں رہ سکتے کیونکہ خدانخواستہ اگر تصادم ہوتا ہے ایران پڑوسی ہے اور سعودی عرب پاکستان کے بقول وہ ان کا محسن ہے۔ سعودی عرب نے یہاں پر اتنی انویسمنٹ کی ہوئی ہے ،  ہر ایک کے اوپراتنے احسانات کئے ہیں لہذا وہ لاتعلق بھی نہیں رہ سکتے ہیں۔ وہ ساری دولت اور ثروت صرف کی گئی ہے وہ ایسے ہی دنوں کے لئے ہے اور ان کی پاکستان سے بہت زیادہ امیدیں ہیں۔ وہ کوئی اپنی فوج کے بھروسے پر تیاریاں نہیں کررہے، اپنے وسائل کی بدولت جنگ کی تیاریاں نہیں کررہے ،ان کی نگاہیں چند ملکوں پر لگی ہوئی ہیں۔ ان میں سرفہرست پاکستان ہے اور پاکستان کے بعد ان کی آنکھیں مصرپر لگی ہوئی ہیں لیکن مصر میں انہوں نے ابھی پیسے لگانے شروع کئے ہیں۔ اس سے پہلے مصر کے اوپر ہمیشہ رقابت رہی ہے ان کی اور مصر کی کہ عرب دنیا کی لیڈرشپ کس کو حاصل ہو ۔جمال عبد الناصر کے زمانے میں مصر خود عرب دنیا کا رہبر بننا چاہتا تھا اور ایک زمانے میں جمال عبد الناصر نے یہ لیڈرشپ لے بھی لی تھی اور وہ عرب دنیا کا رہنمابن گیا تھا اور اسے لیڈر مان لیا گیا تھا پھر اس کے بعد مصر کے حالات ناپائیدار رہے ، سیاست ناپائیدار رہی، تو دو لیڈر پیداہوئے ایک سعودی عرب جس نے خلیجی عرب ممالک کو اپنے ساتھ ملاکر رکھا اور ایک مصر تھا کہ دوسری عرب دنیا مصر کے محور میں متحد تھی ۔پس عرب دنیا کے دو لیڈر تھے سعودی عرب اور مصر، اس وجہ سے ان کی آپس میں رقابت ہے کہ عربوں کا رہنما کون ہے ،عربوں کا لیڈر کون ہے، کوئی کسی کے ماتحت نہیں ہونا چاہتا ہے ،نہ سعودی عرب مصر کے تحت اور نہ ہی مصر، سعودی عرب کے تحت جانا چاہتا ہے ۔ جب سے جنرل سی سی انتخاب ہوا ہے کہ ڈرامہ رچا کر الیکشن کروا کر، پرویز مشرف کی طرح  صدر بن گیا ہے اورضیاء الحق کی طرح صدر بن گیا ہے ۔اب انہوں نے اس کی طرف تھوڑا سا رخ کیا ہے اور یمن میں فی الجملہ اپنا اتحادی بنایا ہے۔ یمن کی جنگ میں مصر بھی شامل ہے محدود سطح تک شامل ہے بلکہ میڈیا میں ایک جوک بھی نشر ہوا ہے کہ سعودی فرمانرواںنے مصری فرمانرواں سی سی سے فون یا اپنے کسی آفیشل بندے کے ذریعے سے کہا گیا کہ سعودی عرب یہ عزائم رکھتاہے تو آپ اس کے لئے کچھ کریں ( ظاہراً کانفرنس میں شرکت کرنا تھی کہا کانفرنس میں شریک ہونا ہے ) تواس نے کہا  ٹھیک ہے ان سے کہو کہ اتنے بلین ڈالر میرے اکاونٹ میں ڈالو تو میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے تیار ہوں اور وہ اس کانفرنس میں شریک ہوا اور ڈالر وصول کیے۔ ظاہر ہے ابھی بھی وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب سے مصر پیسہ لے اور اپنے ملک کے لئے وہ خرچ کرے ۔

مصر سے ان کی توقع ہے، باقی ممالک ایسے ہیں جن کو مائکرو کنٹریز کہا جاتا ہے ؛مائکرو کنٹریز ان کو کہتے ہیں جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتی ہیں، مائکرواسکوپ لگائیں تو نظر آتی ہے ایسے جراثیم ہیںکہ جن کو مائکرو کہتے ہیں ، ان کو مائکرواسکوپ کے ذریعہ دیکھا جاتا ہے، بعض چیزیں نظر آتی ہیں جیسے چیونٹی وہ مائکرو نہیں ہے مائکرو ان چیزوں کو کہا جاتا ہے جو مائکرواسکوپ کے بغیر دکھائی نہیں دیتی ہیں تو سیاسی حوالے سے بعض ممالک بھی مائکرو کنٹریز ہیں جیسے جیبوتی ، کومور، بوتینا فاسو، کسی نے ان کا نام بھی سنا نہیں ہوگا، یہ مائکرو کنٹری ہیں ،یہ ممالک نقشے کے اندر مائکروسکوپ کے ذریعہ نظر آتے ہیں یہ سعودی عرب کی ٹیم ہے ،سعودی عرب کو ان سے تو توقع نہیں ہے کہ یہ مائکرو فوجیں آئیں گی اور آکر سعودی عرب کے اس اتحاد میں شامل ہوکر ایران پر اٹیک کریں گی، ظاہر ہے اس کو طاقت چاہیے اپنی فوج تو لڑ نہیں سکتی ، وہ شہزادوں کی فوج ہے اور شہزادے لڑنے کے لئے نہیں ہوتے ، کھانے پینے کے لئے اور پرفیوم استعمال کرنے کے لئے ہوتے ہیں، ان کی زیادہ تر نگاہیں ادھر ہیں کیونکہ انھوں نے اناونسٹمینٹ کی ہے، اب وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے سابقہ احسانا ت کا جواب دے لیکن پاکستان کبھی بھی اس کام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یہ بہترین حرکت تھی جو اس وقت انجام پائی ہے ،ہمارے وزیر اعظم صاحب اور جرنل صاحب دونوں مل کر سعودی عرب اور ایران گئے ہیں ۔بہر کیف جو بھی نتائج نکلے ہیں اس پالیسی کا اقدام پاکستان کے لئے نفع میں ہے اور اسی پر قائم رہنا چاہیے اور اس سے آگے نہیں بڑھے پہلے تو امید ہے کہ یہ تصادم نہ ہو۔

سعودی عرب کی ایٹمی پلاننگ

 لیکن سعودی عرب کی جنگ کی بھر پور تیاری ہے جو آثارسے ظاہر ہے ۔ جان کری امریکی وزیر خارجہ نے جو تازہ ترین بیان دیا ہے وہ تشویشناک ہے کہ سعودی عرب ایٹم خریدنے کے چکر میں ہے کہ ایٹمی حملہ کرے ۔ایک طرف سے ایران پر ایٹمی پابندیاں لگادی کہ یہ ایٹم بم نہ بنا سکے اور پھر انھوں نے اس کے سسٹم کو بلاک کیا کہ یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بہر کیف انھوں نے ایک طرف سے ایٹمی مسئلہ کو لاک کردیا کہ آپ کوکچھ نہیں بنانا ہے اور جو کچھ بنا چکے ہو وہ بھی بیچ دو ۔ایران نے بھاری پانی جو بنایا تھا انھوں نے وہ سارا ٹنوںکے حساب سے  بیچ دیا اورجو یورینیم انرچمنٹ کیا تھا وہ اسٹوروں میں رکھ دیا اور پابندیوں کی وجہ سے پلانٹ میں کنکریٹ بھروا دی ہے ، یہ سسٹم انھوں نے لاک کروادیا اور دوسری طرف سے سعودی عرب کے پاس ایٹمی توانائی نہیں ہے نہ علمی طاقت ہے اور ہی نہ بنا سکتا ہے لیکن پیسہ ہے اور پیسے کے ذریعہ سے خریدنا چاہتا ہے ۔جان کری نے یہ بیان دیا ہے کہ سعودی عرب کی نیت ہے کہ پاکستان سے ایٹم بم خریدے ، چونکہ سعودی عرب بیان دے چکاہے کہ یہ ایٹم بم ہمارا ہے کیونکہ ہمارے پیسے سے بنا ہے اور جان کری نے رہنمائی کی ہے اس سعودی وزیر کی کہ آپ کو اگر ایٹم بم خریدنا ہے تو آپ کو اس کا قانونی راستہ طے کرنا پڑے گا ۔یہ نہیں کہا کہ نہیں خرید سکتے ہو بلکہ کہا ہے کہ خریدنے کے لئے آپ کو اس کا قانونی راستہ طے کرنا پڑے گا، یعنی قانونی راستہ یہ ہے کہ آپ  پہلے یو این او سے اجازت لیں کہ آپ کو ایٹم بم چاہیے ۔

ظاہر ہے موجودہ حالات میں وہ کہیں گے کہ دفاع کے لئے ایٹم بم کی ضرورت ہے اور یو این او میں امریکہ اور اس کے حواری ہیں اور وہ اجازت دینے کے لئے بلینز ڈالر ان سے لیں گے ایٹم بم کی قیمت الگ ہوگی اور اجازت الگ ہوگی ۔ اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے رہنماؤں نے جو پالیسی اختیار کی ہے یہ پاکستان کے حق میں بہترین پالیسی ہے اور پاکستان کی بقاء کے خاطرانھیں اس کو جاری رکھنا چاہیے اس پر اصرار کرنا چاہیے پاکستان کا صرف نام استعمال کر رہے ہیں، پاکستان ان کو ایٹم بم نہیں دے گا یہ طے ہے لیکن سعودی عرب نے ایٹم بم اسرائیل سے یا لے لیا ہے یا لینا ہے، اسرائیل سے لیں گے اور پاکستان کا نام لگائیں گے ۔ چونکہ سعودی عرب کے حکمران اور خصوصاً یہ موجودہ باپ اور بیٹادیوانے ہیں ، یہ دیوانے ہیں یہ باقاعدہ رسماً پاگل ہیں، نہ کہ ان کو سرزنش کے طور پر پاگل کہا جاتا ہے بلکہ وہ واقعاً پاگل ہیں، ان کا دماغ کام نہیں کرتا ہے ،ان کا باپ تو ختم ہوگیا ہے، اس ذہن بالکل اکسپائر ہوگیاہے اور بیٹا بھی ایک جوان لا ابالی اور دیوانہ کہ جو اس چکر میں ہے کہ ہم یہ کام کریں ایٹم بم خرید کر ایک دفعہ پھینک دیں اور وہ اس سے ختم ہوجائے۔ یہ خدمت کرنے کے لئے اسرائیل حاضر ہے ، اسرائیلی وزیر اعظم نے بیان دیا ہے کہ یورپی یونین، یورپی ممالک اور حکمران اسرائیل کے ساتھ بات کرنے کا ادب عربوں سے سیکھیں ، چونکہ یورپ والے کبھی کبھار بیان دے دیتے ہیں جیسے سویڈن کی وزیرخارجہ نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل پر عدالتی مقدمہ ہونا چاہیے کیونکہ اس نے فلسطینیوں پرجنگی جنایات انجام دیئے ہیں ،ان کو سویڈن کی وزیر خارجہ کا بیان بہت برُا لگا اس طرح اور چند دو ممالک نے بیان دیا کہ اسرئیل فلسطینی عوام پر ظلم کر رہا ہے ان کو یہ بیان بہت برُے لگے، اس نے سویڈن کی وزیر خارجہ کو اشارہ دیا ہے کہ بات کرنے کا ادب عربوں سے سیکھو کہ دیکھو عرب ہمارے ساتھ کس طرح ادب سے بات کرتے ہیں۔ یہ اس نے خود سویڈن کی وزیر خارجہ کو ریفرنس دیا ہے۔

 اسرائیل چاہتا ہے کہ یہ کام ہو جائے چونکہ اگر یہ جنگ ہوتی ہے تو اسرائیل کے پاس ایٹمی طاقت موجود ہے ،وہ پہلے سے ہی آزاد ہے اور امریکہ کے شیلٹر کے نیچے بم بنا بھی چکا ہے اور بنا بھی رہا ہے۔ اس کے پاس ایٹمی طاقت ہے اور وہ  دنیا کے کسی ادارے کا رکن بھی نہیں ہے ،دوسری طرف وہ باپندیاں قبول بھی نہیں کرتا ہے، اس کا کوئی معاینہ یاچیکنگ بھی نہیں ہوتی اورنہ ہی اس کو کوئی روکتا ہے کیونکہ امریکہ اور یورپی یونین اس کے محافظ ہیں ظاہر ہے اگراسرائیل خود ایٹم بم استعمال کرتا ہے تو اس میں اس کی اپنی نابودی ہے ،وہ چاہتا ہے کہ یہ کام کوئی دوسراکرے اور اسے دنیا میں آل سعود سے بہتر نظر نہیں آتے، انھیں یقین ہے کہ یہ استعمال کریں گے۔ اب مشکل یہاں پر یہ ہے کہ جیسے میں نے کہاتھا کہ پاکستان کے لئے اب صورتحال یہ بن گئی ہے (نہ جای رفتن نہ پای ماندن)! یعنی نہ لا تعلق رہ سکتے ہیں اورنہ ہی اس جنگ میں شریک ہوسکتے ہیں، بہترین پالیسی یہ ہے کہ یہ نہ ہو کیونکہ تصادم ہوگا تو یہ جنونی ،جنون آمیز کاروائیاں کریں گے اور پاکستان شامل نہ بھی ہوا تو پاکستان کا نام استعمال کریں گے کہ ہم نے یہ ایٹم بم پاکستان سے لیا ہے کیونکہ پاکستان کا نام پہلے ہی دے چکے ہیں، پہلے ہی میڈیا میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کا ایٹم بم ہمارے پیسے سے بنا ہے وہ ہمارا ہے، ہمیں اپنے ملک میں ایٹم بم بنانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن جیسا میں نے عرض کیا کہ اصل کام جو انھوں نے کیا یا اس کے لئے میدان ہموار کر رہے ہیں کہ یہ اسرائیل سے ایٹمی ہتھیار لیں گے اور پاکستان کا نام بدنام کریں گے اور اس طرح سے ہمارے لئے مشکلات اور بڑھ جائیں گی اور ننگ و عار بھی ہے کہ پاکستان کا نام ایسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے لئے استعمال ہو اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ بہترین پالیسی ہے جو اس وقت سیاسی اور عسکری رہنماؤں نے اپنائی ہے ۔

ملک کی بقاء کے لئے اسی کے اوپر عمل پیرا ہوں اور اس کے ذریعہ سے اس تصادم کو بھی روکیں اور کم سے کم اپنے ملک کو ترجیح دیں اور سب سے زیادہ سعودی عرب اور ایران پر اپنے ملک کو ترجیح دنیا ہے چونکہ ان کی ذمہ داری پاکستان بچانا ہے۔ایران بچانا یا سعودی عرب بچانا نہیں ہے۔ ایرانیوں کی ذمہ داری ایران بچانا ہے ،سعودیوں کی ذمہ داری سعودی عرب بچانا ہے ،پاکستانیوں کی ذمہ پاکستان بچانا ہے نہ یہ کہ ہم کسی کی خاطر پا کستان ڈبوئیں ۔

امریکہ کی شیطانی پالیسی

اوباما کا  خطرناک بیان پالیسی کے طور پر اس وقت جاری ہواہے کہ کئی دہائیوں تک پاکستان نا امن رہے گا ۔یہ بہت ہی ظالمانہ بیان ہے اور بہت ہی شیطانی پالیسی کا اعلان کیا ہے اور ادھر سے جو جان کری نے بیان دیا ہے کہ یہ آل سعود ایٹم بم کو لینے کے چکر میں ہیں اور اس کے لئے ان کو قانونی راستہ طے کرنا پڑے گا ۔بہرکیف یہ یو این او سے قانونی طور پر سعو دی عرب کو اجازت بھی دلوا دیں گے جس طرح ہمیشہ سے امریکہ کا یہ موقف ہوتا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق بنتا ہے کبھی بھی نہیں کہا کہ فلسطینیوں کو حق بنتا ہے۔ امریکہ کے نزدیک فلسطینی جارح ہیں جوجارحیت کرتے ہیں اور اسرائیل فلسطینیوں کی وجہ سے ناامن ہے لہٰذا اسرائیل کو حق پہنچتا ہے کہ جو مرضی ہے فلسطینیوں کے ساتھ کرے اس کوکرنے دو ، یہی بیان انھوں نے ابھی بھی دیا ہے اور وہ آئندہ ان کو اس نقطے تک لے جائیں گے جہاں سے امریکہ چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو نابود کرنے کے لئے خدانخواستہ ان پاگلوں اور جنونیوں سے یہ حرکت کروائے کیونکہ مشرقی وسطیٰ اسلام کا گہوارہ ہے ۔

مسلمانوں کی ساری طاقت مشرقی وسطیٰ کے اندر ہے اور اگر امریکہ مشرقی وسطیٰ میں جنگ کروانے میں کامیاب ہو گیا تو سب کی اس میں تباہی ہے جیسا کہ اشارہ کیا تھا کہ ایران سے پابندیاں اٹھائی گئی ہے جو انھوں نے ایٹمی منصوبے کی وجہ سے عاید کی تھی کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام بند کرے ،چونکہ اس ایٹمی پلان سے ایٹم بم بنے گا اور ایران اگر ایٹمی طاقت ہوگیا اور اس نے ایٹم بم بنا لیا تو دنیا کے لئے خطرہ ہے اسرائیل خطرے میں ہے، عرب خطرے میں ہیں انھوں نے یہ حساسیت بنائی اور ایران پر پابندیاں لگائیں،ایسی کمرشکن پابندیاں کہ جنھوں نے ایرانی اقتصاد کو مفلوج کردیا اور ایران کے اندربحران پیدا ہوا۔ اس بحران سے نکلنے کے لئے ایران نے مذاکرات کئے اور پابندیوں کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ایران نے اپنا منصوبہ ختم تو نہیں کیا لیکن انھوں نے  ایران سے اپنا سب کچھ منوا لیا جو کچھ وہ چاہتے تھے اس کی ایٹمی طاقت کو تخریب کرنا یا ایٹمی پلانٹ روکنا تھا کہ وہ رکوانے میں کامیاب ہوگئے۔ جیسا رہبر معظم نے فرمایا: اس بحران سے نکلنے کے لئے ہمیں بہت سارے کام کرنے پڑے، انھوں نے اپنے ملک کے اندرونی مسائل کی خاطر منصوبہ بنایا ہوا تھا جو ایٹمی منصوبے کے حوالے سے تھا ،فوراً ہی دوسری پابندیاں لگادی ہیں کہ ایران میزائل بنا رہا ہے، اس جرم میں او ر پابندیاں لگادیں چونکہ معاہدہ کیا تھا اس کے مطابق کچھ پابندیاں اٹھالیں ، اب جوپابندیاں اٹھائی ہیں ان سے بھی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، ایک تو یہ کہ ان کا ایٹمی منصوبہ بلاک کردیا اور دوسروں کو اسرائیل کا گاہک بنادیا کہ آپ کو  اگر ایٹم بم چاہئے نام پاکستان کا استعمال کرو لیکن اسرائیل سے خریدو۔

 ایک تیر کئی شکار کی پالیسی

 امریکہ کی ایماء پر یہ کام ہونے جارہا ہے کہ ایران پر لگی پابندیاں اٹھانے کا ایک اور فائدہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ اور خبرگان رہبری کے الیکشن ہو رہے ہیں ۔خبرگان رہبری   اہل خبرہ ۸۰ یا ۲۸ افراد کی ایک کونسل ہے جس میں سارے مجتہدین ہیں۔ ان کا کام رہبر تشخیص دینا، امت کے سامنے اس شخصیت کو متعارف کروانا ہے جو رہبری کے لئے کوالیفائی کرتے ہیں ،چونکہ یہ بڑی اہم کونسل ہے اور ایک مہینے کے بعد اس کے بھی الیکشن ہونے والے ہیں ۔دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے بھی انتخابات ہونے والے ہیں اور اگلے سال امریکہ کے اندر بھی صدارتی الیکشن ہونے والے ہیںلہذا یہ جو معاہدہ ہوا ہے اس سے کوششیں کر رہے ہیں کہ دونوں جگہ پر دونوں ملکوں میںانتخابات کے لئے اس کارڈ سے استفادہ کریں اور انتخابات کے لئے ان کی کوشش یہ ہے کہ پابندیاں اٹھانے کا سہرا ایران کے اندر ایسے افراد کے گلے میں ڈالا جائے کہ یہ لوگ ہیں کہ جنھوں ایرانی اقتصاد کو بچایا ہے ،ایرانی مہنگائی ختم کی ہے ،ایران میں ڈالر کا ریٹ بہتر کیا ہے، ایران میں کچھ تجارت بحال ہوئی ہے، ان کے دوسری دنیا کے ساتھ روابط قائم ہوئے ہیں، اس سب کا ذمہ دار ان لوگوںکو قرار دیں کہ جو مغرب نواز وامریکہ نواز ہیں، جوامریکہ دوست ہیں ان لوگوں کو کریڈٹ دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کو عوام ملک کے لئے خیر سمجھ کر ووٹ دیں او ر پارلیمنٹ میں آجائیں اور پھر آہستہ آہستہ ایران کے اندر جو انقلابی گروہ ہے اس کو تنہا کردیں اور نہایتاً اس کو ضعیف کرکے ختم کردیا جائے۔ سیاست میں اس گروہ کا عمل دخل ختم کردیں۔

یہ امریکہ شیطان کی منحوس پالیسی ہے ایک تیر سے کئی شکار کرنے جارہا ہے کہ ایران کا ایٹمی منصوبہ روک کر اسرائیل کا ایٹمی منصوبہ بڑھانے کی کوشش میں ہے اور مشرقی وسطیٰ میں یہ فساد پھیلانے کے چکر میں ہے، دوسری طرف سے ایران کے اندر اپنا پسندیدہ گروہ لانے کے چکر میں ہے کہ چار پانچ سال تک پابندیاں لگائی رکھی جائیں، پابندیاں اٹھانے سے اپنے ہمنوا اور امریکہ نوازوں کو لانا چاہتا ہے کہ ایران کی سیاست میں عمل دخل کرے پارلیمنٹ میں ان کی اکثریت ہوجائے اور پھر امریکہ کے ساتھ دوستی اور پورا ایران امریکہ کے حوالے ہوجائے جیسا کہ انقلاب سے پہلے تھا، یہ اس کاایک ہدف ہے ، دوسرا ہدف یہ ہے کہ خبرگان کونسل کے بھی الیکشن ہورہے ہیں کہ وہ مجتہدین پر مشتمل ہوتی ہے جنھیں عوام چنتے ہیں ہر علاقے کے عوام ووٹ کے ذریعہ سے ان مجتہدین کو رائے دیتے ہیں اور یہ مجتہدین پھر رہبر تشخیص دیتے ہیں ۔رہبر کا الیکشن نہیں ہوتا بلکہ اگر ضرورت پڑ جائے تو وہ رہبر کو تشخیص دیتے ہیں، جیسے امام راحل امام خمینی ؒکی رحلت ہوئی اور اس کے بعدکونسل نے مقام معظم رہبری کو تشخیص دیا کہ یہ رہبری کے لئے دوسروں سے زیادہ موزوں ہیں اور پھر اس طرح سے لوگ رہبر کی بیعت کرلیتے ہیں اور رہبر کو قبول کرلیتے ہیں ۔اس کونسل کا کام تشخیص دینا ہے ،یہ بڑی اہم کونسل ہے اور اس وقت امریکہ سمجھتا ہے اور ساری دنیا جانتی ہے کہ انقلاب کا راستہ فقط رہبر معظم کے ذریعہ سے باقی ہے،انقلاب کا اصل رکن اس وقت یہ شخصیت ہیں، یہ بزرگوار ہیں جو انقلاب سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں،جوکسی قسم کے کمپرومائز کے لئے نہ امریکہ اور نہ ہی عربوں کے ساتھ تیار نہیں ہیں۔ اور اسی طرح نہ غربیوں کے ساتھ ، نہ ایران کے اندر کسی کے ساتھ اور نہ ہی ایران کے باہر کسی کے ساتھ سمجھوتا کرنے کے لئے تیار ہیں ،ایساشخص جو کسی سازش کو قبول کرنے لئے تیار نہیں ہے، ایک قدم انقلاب سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہے، جو انھوں نے خود بیان دیا تھا کہ میں ڈپلومیٹ نہیں ہوں میں انقلابی ہوں اور سفیروں جیسی بات یا وزیروں جیسی بات نہیں کروں گا ،میں انقلابی ہوں اورانقلابی بات دوٹوک ہوتی ہے واضح ہوتی ہے ،اس لئے ہمیشہ رہبر معظم نے  جو بھی انقلاب کا راستہ تھا بالکل دوٹوک الفاظ میں واضح بیان کیا یہ ساری دنیا کو پتہ ہے ایران کے اندر بھی باہر بھی کہ انقلاب کا راستہ اگر امام راحل کے بعد قائم ہے تو اسی ہستی کے ذریعہ سے ہے اس وقت کوشش یہ ہے کہ یہ سرحد بھی عبور کی جائے اس ہدف کوبھی نشانہ بنایا جائے کہ مجلس خبرگان میں اپنی پسند کے لوگ لے جائیں ،وہی لوگ جو امریکہ کی طرف مائل ہیں امریکہ نواز ہیں یا اقتدار اور شہرت پسند ہیں،جو انقلابی روح اور انقلابی مزاج نہیں رکھتے ہیں، انقلاب کی طرف زیادہ رجحان نہیں ہے بلکہ یا قوم پرست ہیں ایرانیت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں یا امریکہ نواز ہیں یا خودخواہ ہیں اور خود پرست ہیں۔

سیاست دانوں کی یہی کمزوریاں ہوتی ہیں، ایسے لوگوں کو کونسل میں لا کر ان کے ذریعہ سے ایک اجلاس اور میٹنگ کرکے موجودہ رہبر معظم انقلاب کو اَن کوالیفائی کردیا جائے ۔یہ امریکہ کا منصوبہ ہے اور دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ جس طرح ایک دن امام خمینیؒ اس دنیا سے چلے گئے( خدا رہبر معظم کو طول عمر اور صحت و سلامتی عطا فرمائے) لیکن یہ امیدیں باندھے ہوئے ہیں کہ جس طرح امام خمینیؒ کے بعد امیدیں تھیں کہ آپ کی آنکھ بند ہوگی اور انقلاب اسلامی ختم ہوجائے گا کیونکہ بعد میں  ان کے پاس کوئی نہیں ہے ، ہمیں یاد ہے اس وقت میڈیا میں کھلم کھلا اس بات کا اظہار کرتے تھے ابھی بھی صورتحال یہی ہے کہ رہبر معظم کے بعد کوئی نہیں ہے اور آپ کے بعد ان کے لئے میدان کھلاہوا ہے اس کے لئے تیاریاں کررہے ہیں کہ یہ خبرگان تشکیل دیں اور اس میں اپنے من پسند افراد کو داخل کرکے رہبری کو بھی ہدف قرار دیں اور انھوں نے رہبری کے لئے عجیب و غریب قسم کے منصوبے بنائے  ہوئے ہیں۔

جانشین خمینیؒ کے مقابلے میں خاندان خمینیؒ

 ایک کام رسول اللہ (ص) کے جانشین امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ ہوا کہ پہلی جنگ، جنگ جمل لڑی گئی اور پھربعد میں دوسری جنگیں صفین وغیرہ لڑی گئیں ، جنگ جمل بڑی پیچیدہ جنگ ہے، جنگ جمل میں جانشین رسول اللہ  (ص) ؑ کے مقابلے میں زوجہ رسول اللہ  (ص) کو لے کر آئے ،امیرالمؤمنینؑ کے مقابلے میں جانشین رسول ؐ کے مقابلے میں خاندان رسولؐ لے کر آئے ، اس وقت ایران کے اندر بھی یہی نقشہ امام خمینیؒ کے جانشین کے مقابلے میں ،امام خمینیؒ کا خاندان لے کر آئے ہیں امام خمینیؒ کے پوتے کو تیار کیا ہے کہ ہم آپ کو مجلس خبرگان میں رکن بناتے ہیں اور بعد میں آپ کو رہبر بنادیں گے۔مجلس خبرگان چونکہ مجتہدین کی کونسل ہے، انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر یہ آنا چاہتے ہیں تو شوق سے آئیں لیکن مجتہد اور فقیہ ہونا ضروری ہے اور اگر اجتہاد مسلم نہیں ہے تو امتحان دینا پڑے گا ،آپ اجتہاد کا امتحان دیں اگر پاس ہوجاتے ہیں پھر آپ آسکتے ہیں ،الیکشن میں حصہ لیں اگرپبلک نے آپ کو ووٹ دے دیا تو آپ اس کونسل کے رکن بن جائیں گے لیکن انھوں نے امتحان نہیں دیا اور وہ امتحان کے بغیر الیکشن لڑناچاہتے ہیں کہ دوسروں نے ابھی تک دباؤ ڈالا ہے کہ چونکہ یہ امام خمینیؒ کے پوتے ہیں ان سے امتحان نہ لیا جائے ،چونکہ امام کے خاندان سے تعلق ہے اس وجہ سے کہا کہ ان سے امتحان لینا امام خمینیؒ کی توہین ہے۔

 اس طرح کے مسائل چھیڑ کر چاہتے تھے کہ ایک جنگ شروع کریں ،۔ظاہر ہے اس کونسل نے جو کوالیفائی کرتی ہے اورنمائندوں کی صلاحتیں چیک کرتی ہے انھوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ جو امتحان دے گا وہ اگلے مرحلے کے لئے حق رکھتا ہے اور انھوں نے امتحان نہیں دیا تو انھیں روک لیا گیا کہ آپ الیکشن نہیں لڑسکتے ۔

یہ ایران کے اندر کا ایک نمونہ پیش کررہا ہوں اور باہر تو آپ دیکھ رہیں جو کچھ کررہے ہیں مشرق وسطیٰ میں، آل سعود جنگی جنون میں مبتلا ہے اور ہر قیمت پر یہ جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ جنگ شروع ہو لیکن ادھر سے ایک تو امریکہ نے یہ عالمی دباؤ اوراقتصادی پابندیاں لگائی ہیں ایران پر ،سیاسی طورپر شدید دباؤ رکھا ہوا ہے اور ادھر سے جنگی دباؤ  کے لئے آل سعود کو تیار کیا ہے کہ یہ جنگ کے لئے تیار ہوجائے اور اس نے مائکرو ممالک کو ملا کر ۳۴ ممالک کا لشکر تشکیل دیا ہے کہ ان کے ذریعہ سے جنگ کرنے آئے گا اور ملک کے اندر یہ فضا بنائی ہوئی ہے ۔ یہ ان کا شیطانی منصوبہ یہ ہے کہ الیکشن جیتنے کے لئے بھی پابندیاں اٹھائی جائیں ،جان بوجھ کے یہ اعلان معاہدہ اس موقعہ کے لئے روکا ہواتھا کہ الیکشن سے دو تین ہفتے پہلے ہم پابندیاں اٹھائیں گے لوگ ناچنا شروع کردیں گے کہ ایران سے پابندیاں اٹھ گئیں اور پھر ہم کہیں گے کہ پابندیاں رہبر کی وجہ سے نہیں اٹھیںہیں یہ اس گروہ کی وجہ سے اٹھی ہیں کہ جو امریکہ سے دوستی چاہتا ہے تو اگر ان لوگوں کو ووٹ دو تو امریکہ آئندہ بھی تمہارے اوپر ایسی نوازشیں کرے گا پابندیاں لگاکر اٹھاتا رہے گا ۔

رہبر معظم نے خوبصوت مثال دی ، چونکہ کچھ لوگ امریکہ کا شکریہ ادا کررہے ہیں کہ انھوں نے پابندیاں اٹھادی ہیں تو رہبر نے ان کو ڈانٹا کہ احمقو، بیوقوفو! کہ گھر تمہارا ہے اورتمہارے گھر پر آکر ایک ڈاکو اورایک مافیا بندوق کے سہارے قابض ہوگیا کہاکہ یہ پلاٹ مجھے دے دو اور آپ نے کوشش کی عدالت گئے جرگہ بلایا پنچایت گئے بات چیت کی دباؤ بڑھایا مذاکرات کئے اور اس کے ذریعہ وہ ظالم راضی ہوگیا لیکن نکلتے ہوئے بھی اس نے کہا کہ آدھا پلاٹ میں رکھوں گا آدھا تمہیں دوں گا اور اب جب وہ آپ کا آدھا گھر چھوڑ کے نکل رہا ہے توآپ اس بات پر اس کا شکریہ ادا کررہے ہو کہ تیرا بہت شکریہ کہ تو نے ہمارا گھر غصب کیا تھا اب نکل رہا ہے آدھا تیرے پا س ہے ہم تیرے شکر گذار ہیں۔ رہبر معظم نے فرمایا: یہ ذلت اور بے غیرتی ہے، وہ مذمت کے قابل ہیں، اس کو پابندیاں لگانے کا کیا حق بنتا تھا جتنے حقوق سارے ممالک کے ہیں وہ ہمارے بھی ہیں ! یہ اس وقت خطے کے اندر شرارت اور شیطنت ہے جو امریکہ انجام دے رہا ہے، مسلمان ممالک کے اندر ماحول خراب کررہا ہے تاکہ اس طرح اسرائیل کوبھی تحفظ دے اور عربوں کو بھی اکسا رہا ہے خصوصاً یہ جنونی جو اس وقت سعودیہ کے اندر ہے ، چونکہ امریکہ کا مقصدبھی یہی ہے کہ نیا مڈل ایسٹ بنائے اور مڈل ایسٹ کی طاقتیں جو ہیں ان کو توڑدے۔

عالم اسلام کے بارے میں شیطانی منصوبے

 آپ حضرات نے پڑھا یاسناہوگا کہ دوسری جنگ عظیم تک ایک عثمانی سلطنت تھی پہلے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی تھی ،پہلے پورے دنیائے اسلام کی ایک حکومت تھی اس ایک حکومت میں کچھ علاقے الگ ہوگئے جیسے عرب دنیا اور ترکی اورکچھ علاقے عثمانی حکومت کے تحت تھے جو ایک بڑی حکومت تھی اور اس وقت دنیامیں جو بڑی طاقتیں تھیں اس میںایک روس بڑی طاقت تھا اور ایک امریکہ بڑی طاقت تھا یاامریکہ سے پہلے برطانیہ تھا ، تین بڑی طاقتیں دنیامیں تھیں۔ مسلمان حکومتوں میں عثمانی سلطنت طاقتور تھی ان کے حکمران ترک نژاد تھے اور ان کا دارالخلافہ بھی ترکی میں تھا ۔اس وقت عرب ممالک جتنے بھی تھے وہ عثمانی حکومت کے ماتحت تھے ۔ دنیا کی تین بڑی طاقتیں تھیں، جنگ عظیم پر آ کر تیسری بڑی طاقت ختم کر دی گئی ،عثمانی طاقت توڑ کے چھوٹے چھوٹے مائیکرو ملک بنائے گئے کویت ،قطر و بحرین جو مائیکروسکوپ سے نظر آتے ہیں ایسے ممالک تشکیل دے کر یہ طاقت ختم کر دی گئی اور اس وقت ان کو اطمینان ہوا کہ ہم نے مشرقی وسطیٰ میں مسلمانوں کی تیسری طاقت کو ختم کر کردیا ہے، اب دوہی طاقتیں ہیں روس اور امریکہ۔ بعد میں روسی طاقت بھی ختم ہوئی ،اب روس دوبارہ سر اٹھا رہا ہے لیکن اس دوران یہ ہوا کہ کچھ نئی طاقتیں وجود میں آ گئیں جیسے تیل کی طاقت، مشرقی وسطیٰ میں آنے سے عرب ممالک میں تیل کی طاقت آ گئی یا انقلاب اسلامی برپا ہونے سے خود ایران جو پہلے امریکہ کا کٹ پتلی حکمران تھا اور امریکہ کی ایک کالونی کے طور پر تھا اب انقلاب اسلامی کے آنے سے وہ بھی ایک طاقت بن گیا ہے۔ صدام ایک طاقت بن گیا تھا ان طاقتوں کو بھی ختم کرنا ان کے مقاصد میں ہے ۔امریکہ کا قطعی ارادہ ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں کوئی بھی طاقت نہ ہو ۔نہ اقتصادی طاقت ہو ،نہ سیاسی طاقت ہو، نہ اسلامی طاقت ہو، نہ فوجی طاقت ہو، یہ کمزور اور ضعیف رہیں، کمزور کرنے کا ایک ذریعہ فوجی حملہ ہے۔ جیسے عراق پر خود حملہ کر کے ایک طاقتور حکومت ختم کر دی۔وہاں پر صدام اگرچہ ظالم تھا اور مسلمانوں کے لئے ایک فتنہ تھا لیکن اس علاقے کے لئے ایک سیاسی اورفوجی طاقت کے طور پر تھا ،اسے خود نابود کر دیا اور عراق کو افراتفری کا شکار کر دیا اور اس میں لشکر داعش بنا کر مزید اس کو کمزور کر دیا اب چاہ رہا ہے کہ عراق تین عراق  میں تقسیم ہوجائے ۔کرد عراق،شیعہ عراق اور سنی عراق ۔یہ باقاعدہ امریکہ نے رسماً اعلان کیا ہے کہ عراق ٹوٹنا چاہیے، ابھی بھی بار بار اصرار کرتا ہے کہ عراق کے مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے سوائے اس کے کہ تین ملک بن جائیں کردستان،سنی استان،شیعہ استان ۔تین ملکوں میں اس کو بانٹ دیں۔

سعودی عرب کو بھی چاہتا ہے کہ یہ ملک ختم ہو جائے کیونکہ اس کے پاس جو تیل اور انرجی کی طاقت ہے یہ خطرناک ہے ،اگرچہ بر سر اقتدار خاندان ان کا وفادار، غلام اور نوکر ہے لیکن یہ مطمئن نہیں ہیں کیونکہ یہ تیل اورگیس کی طاقت کسی بھی وقت دوسرے کے ہاتھ آ سکتی ہے، اس لئے ا س کو بھی ختم کرنا ضروری ہے اور سب سے اہم طاقت آئیڈیالوجی ہے جو اسلامی طاقت ہے۔ اس وقت انقلاب کی طاقت ایران کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے لیکن اب اس کی پالیسی یہ ہے کہ ختم کرنے کے لئے جنگی ماحول بنایا جائے تاکہ سعودی حکومت ایران کے اوپر حملہ کرے اور اسرائیل ان کی مدد کرے اور دوسرے لیں اور اس طرح سارے اسلامی ممالک آپس میں لڑ کر کمزور ہو جائیں اور پھر حاکمیت ان کی قائم ہو جائے ۔یہ ان کا مشرق وسطیٰ کے لئے منصوبہ ہے ،آل سعود اس منصوبے پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ شاہی خاندان کے اندر شدید اختلاف ہے ،کچھ اس طرف متوجہ ہیں کہ یہ منصوبہ جو بنایا جا رہا ہے اور ہمیں سہانے خواب دکھائے جا رہے ہیں اس سے ہم خود بھی نابود ہو جائیں گے اور بعید نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں شاہی خاندان کے اندر ایک جنگ شروع ہو جائے یہ بہت قریب لگ رہا ہے۔ اگر امریکہ یابرطانیہ نے ثالثی کر کے ان شہزادوں میں صلح و مصالحت نہ کروائی تو بہت جلد ان کے اندر آپس میں مسلّحانہ تصادم ہو گا اور جو کچھ امریکہ چاہتا ہے کہ بہت کچھ برباد کروا کے ان کو نابود کرے شاید یہ اپنے ہاتھوں سے اس بربادی سے پہلے ہی نابود ہو جائیں گے۔ یہ ا ن کے اندر کی کہانی ہے جو ان کے آپس کے شدید اختلاف ہیں اس لئے پاکستان کے لئے بھی یہ اہم مسئلہ ہے ۔پاکستانی قوم، میڈیا ، سیاستدان،حکمران،حکومت سب کے سب، اس خاندان کے اندر جو کچھ ہونے والا ہے، اس سے پاکستان کو بچا کر رکھیں کیونکہ اس میں پاکستان کا زیادہ نقصان ہو گا اگر اس سے آگے بڑھتے ہیں۔ بہرکیف خداوند تبارک و تعالیٰ انشاء اللہ تمام شیاطین سے امت اسلامیہ و سرزمین اسلامیہ کو محفوظ فرمائے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*