آل سعود کی نااہلی سے منیٰ حاجیوں کی قتلگاہ بنا

آل سعود کی نااہلی سے منیٰ حاجیوں کی قتلگاہ بنا

عید قربان کے دن ہزاروں حاجی قربانی بن گئے ،وہ لوگ جنہوں نے اپنے دلوں کو صیقل کر لیا تھا اور اللہ کے خانہء امن کی پناہ میں جا رہے تھے تا کہ بڑے شیطان کو کنکریاں مار یں ۔لیکن یہ راستہ درمیان میں ہی ان کی قربانگاہ میں تبدیل ہو گیا اور دنیا سے مونہہ موڑے ہوئے سینکڑوں افراد دنیا سے پرواز کر گئے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یہ حادثہ مکہ میں رونما ہوا، اگر چہ اس کا یقین کرنا ممکن ہے سخت ہو اس لیے کہ آیا  اکیسویں صدی میں اس قدر ترقی اور ٹیکنالوجی اور فنی مہارت کے ہوتے ہوئے ،ایسے ملک میں کہ جہاں کھربوں ڈالر بڑے بڑے منصوبوں پر خرچ ہوتے ہیں ایسا حادثہ پیش آئے کہ جس میں اس قدر جانیں جائیں ۔جب کہ سعودی عرب نے کعبہ  کے بالکل بغل میں دنیا کے سب سے  اونچےہوٹل بنائے ہیں  اور وہ اسی اطراف میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت کا ریکارڈ بھی توڑنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کے پاس زائروں کا انتظام کرنے کی توانائی نہ ہو !

شاہ سلمان اقتدار پر آنے کے وقت سے ہی بادشاہ حوادث میں تبدیل ہو گیا ہے ،شاہ عبد اللہ کی جگہ بیٹھنے کے چند ماہ بعد ہی کہ ایران کے ایک خطیب جمعہ آیت اللہ جنتی نے جس کو شاہ قارون کہا تھا ،فقیر اور مظلوم ملک یمن پر حملے کا آغاز ہو گیا ،وہ حملہ کہ جو اب تک یمن کے ہزاروں بے گناہوں کو بچوں بوڑھوں اور عورتوں سمیت موت کے مونہہ میں دھکیل چکا ہے ۔اور یمن کو افراتفری اور دہشت گردی کے ایک ویرانے میں اس حملے نے تبدیل کر دیا ہے ۔

مغربی ایشیاء کے علاقے کے تمام بحرانوں میں اور اس سے بھی بڑھ کر سعودیوں کے نشانات نمایاں تر ہو گئے ہیں اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس کو حملہ آور خارجی سیاست کا نام دیا ہے۔ دولت اسلامی[اسرائیلی] عراق و شامات( داعش) جیسے کھلے دہشت گردوں اور النصرہ گروہ اور لبنان کے دہشت گردوں کی کھلی حمایت اپنے علاقائی رقیبوں کے سلسلے میں سعودی عرب کے اندر چھپے کینے کی نشاندہی کرتی ہے ۔

ابھی کرین کے گرنے کے واقعے میں مرنے والوں کا غم ہلکا نہیں ہوا تھا کہ سعودی عرب کی نالایقی اور بے تدبیری سینکڑوں مرنے والوں کی صورت میں ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ۔اس حادثے کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ دنیا بھر کے 4700   حاجیوں کے اس حادثے میں شہید ہونے کی وجہ سے قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے ایران میں تین دن کے عام سوگ کا اعلان کیا ۔

سعودی عرب کے ہوائی اڈے پر دو ایرانی نوجوانوں پر ہوئے سعودی پولیس کے حملے کے بعد آل سعود نے معذرت خواہی تک نہیں کی تا کہ دنیا کے عام مسلمانوں کو ان حملوں کا پتہ نہ چلے اور اس کی ذمہ داری آل سعود پر عائد نہ ہو ،ایران کی طرف سے اس کا پیچھا کرنے کے باوجود مجرم پولیس والوں کے خلاف سعودی حکومت کی طرف سے کوئی حکم صادر نہیں ہوا ہے ،لیکن اگر کوئی خارجی کارکن اسی طرح کی کاروائی کرتا رہا ہے تو اس کی گردن اڑا دی جاتی رہی ہے مثال کے طور پر دو فلیپینی  ملازموں کو پھانسی دینے کے بعد گھنٹوں ہیلیکاپٹر کے ذریعے گھمایا جاتا رہا تا کہ دوسرے کاریگروں کو عبرت حاصل ہو ۔

منی میں جمعرات کے دن جو حادثہ یا جرم ہوا ہے اس میں اگر چہ 4700 حاجیوں کی جان چلی گئی ہے لیکن سعودیہ والے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ لوگوں کی بھیڑ اور بد نظمی کو اس حادثے کی اصلی وجہ قرار دیتے ہیں ۔جب کہ دسیوں سال سے منی میں عبادت کا یہ سلسلہ جاری ہے تو اب کسی تجربے اور اتنے عظیم حادثے کی گنجائش نہیں ہے ۔

اسی طرح بھیڑ کی جو دلیل سعودیہ والے پیش کرتے ہیں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔پوری دنیا میں سالانہ دسیوں پروگرام اور فیسٹیول منعقد ہوتے ہیں کہ جن میں لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں لیکن سعودیہ جیسے حادثے وہاں رونما نہیں ہوتے ۔

گذشتہ ۳۰ برسوں میں سعودی عرب میں حج کے زمانے میں بیشمار مرگبار حادثے رونما ہوئے ہیں ۔سال 1987 میں آل سعود کے حکام کے دستور سے بے رحم سعودی فوجیوں نے مشرکین سے اظہار بیزاری کے پروگرام میں سینکڑوں حاجیوں کو قتل کر دیا اور اس بھانک جرم کی قربانی بننے والے اکثر حاجی ایرانی تھے ۔جس کے بارے میں امام خمینی رہ نے فرمایا تھا کہ: اگر صدام  کے مظالم کو بھلایا جائے لیکن  آل سعود کے مظالم کو بھلانے کی گنجائش نہیں ۔

شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا یہ میدان سعودیوں کے ذریعے مسلمانوں کی قتلگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔سال ۱۹۹۴ میں اسی عمل کے دوران ۲۷۰ حاجی مارے گئے تھے ۔اس کے تین سال بعد ،حاجیوں کے خیموں میں آگ لگنے کی وجہ سے ۳۴۰ افراد مارے گئےاور ۱۵۰۰ زخمی ہوئے ۔ سال ۱۹۹۸ میں میں بھی سعودیوں کی نالایقی اور بے تدبیری کی وجہ سے شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران ۱۸۰ حاجی مارے گئے ۔یہ حادثہ حاجیوں کے ایک پل کے اوپر سے گرنے کی وجہ سے رونما ہوا تھا ۔سال ۲۰۰۶ میں بھی ۳۶۰ حاجی سعودیوں کی نالایقی کی وجہ سے لقمہء اجل بن گئے ۔

بار بار حادثے رونما ہونے کے بعد بھی سعودیوں نے ان راستوں کو پر امن بنانے کے سلسلے میں کچھ نہیں سوچا شیطان کو کنکریاں مارنے کی طرف جانے والے راستے ،اور کنکریاں مارنے کی جگہ بہت تنگ ہیں اور وہ اتنی بھیڑ کے لیے کافی نہیں ہیں ۔معماری کی اس مشکل کے بارے میں اب تک بہت سارے انجینیر اور ماہرین اظہار نظر کر چکے ہیں لیکن سعودیہ والے ان کو نہیں مانتے ،اور انہوں نے اس مقام کے اطراف میں صرف غول پیکر کرین لگا رکھے ہیں اور خانہ کعبہ کی مذہبی شکل و صورت کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ،اسی کعبے کے اطراف میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے بڑے بڑے ہوٹلوں اور اونچی عمارتوں کی تعمیر نے کعبے کی بنیادی صورت کو بدل دیا ہے ۔

حج کے اعمال کے اطراف کا ڈھانچہ اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ ہر سات آدمیوں کے لیے ایک مربع میٹر جگہ ہے اور جن اعمال میں بھیڑ بڑھ جاتی ہے تو جگہ اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ ذرا سی حرکت بھی دم گھٹنے کا باعث بن سکتی ہے ۔جمعرات کے حادثے میں جس راستے پر حاجی شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے جا رہے تھے اس کو کسی نا معلوم وجہ بند کر دیا گیا اور دوسرے راستے حد سے زیادہ بھیڑ نے سینکڑوں حاجیوں کو موت کے مونہہ میں دھکیل دیا ۔بعض ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ اس راستے کو سعودی حکام کے ایک قافلے کے گذرنے کے لیے بند کیا گیا تھا کہ جس کاروان میں ولی عہد کا جانشین بھی تھا ۔

تقریبا ۱۰۰ کرینیں اب بھی کعبے کی مسجد اعظم کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں جن کو تعمیرات کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے رکھا گیا ہے ،لیکن ۲۵ لاکھ حاجیوں کی سعودی حکام کو کوئی پرواہ نہیں ہے ۔وہ کرینیں اب بھی حاجیوں کے سروں پر لٹکی ہوئی ہیں اور معلوم نہیں ہے کہ موسم کے خراب ہو جانے کی صورت میں اب ان کو کس مصیبت کا سامنا ہونے والا ہے ۔ ایک طرف سعودیوں نے مکہ میں ۳۵ ارب ڈالر سے زیادہ کے خرچ والے منصوبے شروع کر رکھے ہیں تو دوسری جانب اس شہر میں حاجیوں کی سہولت کے انتظامات بالکل ناکافی ہیں ،کعبے کے سب سے قریبی ایمرجینسی اسپتالیں صرف ۵۲ بیڈ ہیں اور اس سے تھوڑا بڑا ہسپتال کعبے سے چار میل کے فاصلے پر ہے جس میں صرف ایک بلیڈ بینک ہے مکہ میں جو آگ لگنے کی حالیہ واردات ہوئی تو امداد رسانی کی کمی کی وجہ سے طائف سے مدد پہنچنا تھی جو مکہ سے ایک گھنتے کے فاصلے پر ہے ۲۵ لاکھ حاجیوں کے لیے یہ وسایل حیرتناک حد تک کم ہیں ۔

خانہ خدا جو خدا کا بیت امن ہے سعودیوں کی جاہ طلبی کے چلتے غربت کا شکار ہے مکہ میں بڑے بڑے ہوٹلوں اور اونچی اونچی عمارتوں کے درمیان خانہ کعبہ پتھروں کے صحراء میں ریت کے ایک ذرے کی مانند لگتا ہے یہ وہ جگہ ہے جس کو سعودیوں نے مسلمانوں کے مقتل میں تبدیل کر دیا ہے جو ہزاروں آرزووں کے ساتھ اپنے خدا سے لو لگائے ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

زیارت اربعین کی خبریں
دنیا میں عزائےحسینی کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی

All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License