امانت کے بارے میں چند شرعی باتیں

امانت کے بارے میں چند شرعی باتیں

امانت داری نہ صرف اسلامی شریعت میں پائی جاتی ہے بلکہ اسلام سے پہلے بھی امانت داری کو خاص اہمیت دی جاتی تھی اسی وجہ سے پیغمبر اسلام کو امانت داری کی بنا پر مشرکین مکہ نے محمد امین کا لقب دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
۱: اگر کوئی شخص اپنا مال کسی کو امانت کے طور پر دے اور اس سے کہے کہ یہ مال یا چیز تمہارے پاس بطور امانت رہے اور وہ بھی اسے قبول کر لے اس صورت میں قبول کرنے والے شخص پر امانت داری کے تمام احکام پر عمل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔( توضیح المسائل مراجع، مسئلہ، ۲۳۲۷)
۲: جس شخص نے امانت قبول کی ہے اس پر امانت کی حفاظت کرنا واجب ہے جبکہ حفاظت میں کوتاہی کرنا حرام اور ضمان کا موجب ہے۔( فرھنگ فقہ، ج۳، ص۳۱۷)
۳: جو شخص امانت کی حفاظت نہیں کر سکتا احتیاط واجب کی بنا پر اسے قبول نہ کرے۔ (توضیح المسائل مراجع، مسئلہ ۲۳۳)
۴: اجازت کے بغیر امانت میں تصرف کرنا حرام ہے۔
۵: اگر امانت دار کے پاس امانت کے لیے مناسب جگہ نہ ہو تو مناسب جگہ مہیا کرنا اس پر ضروری ہے مثال کے طور پر اگر امانت پیسہ ہے اور گھر میں رکھنا خطرے سے خالی نہیں ہے تو بینک میں رکھنا ہو گا۔( وہی حوالہ، مسئلہ، ۲۳۳۴)
۶: امانت دار اس طریقہ سے امانت کی حفاظت کرے کہ لوگ نہ کہیں اس نے امانت داری میں کوتاہی کی ہے۔ (وہی حوالہ)
۷: اگر امانت ضائع ہو جائے تو اس صورت میں اگر اس کی حفاظت میں کوتاہی کی ہے تو امانت دار پر واجب ہے کہ اس کا بدل دے اور اگر حفاظت میں کوتاہی نہیں کی اور اتفاقی طور پر ضائع ہوئی ہے مثال کے طور پر سیلاب آگیا تو امانتدار ضامن نہیں ہے اور اس کا بدل دینا بھی ضروری نہیں ہے۔ (وہی حوالہ، مسئلہ ۲۳۳۵)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی