اشکوں کا راز (فلسفہ عزاداری) آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں

اشکوں کا راز (فلسفہ عزاداری) آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں

اشکوں کا راز/ شہدائے کربلا کی عظمت كا راز.

حرف اول :

عاشورا اور قیام امام حسین علیہ السلام سے متعلق سن ۶۱ھ سے آج تک اس واقعے کے چشم دید گواہوں ، ائمہ اطہار علیہم السلام اور خطباء و شعراء کی زبان و قلم سے بہت کچھ  لکھا اور کہا گیا ہے لیکن ابھی تک اس وادی کے اسرار و رموز کو بیان نہیں کیا گیا ہے  اور بہت کچھ کہنا باقی ہے ۔

بقول مولانا روم کے

گر بگویم شرح این معنی تمام        صد قیامت بگذرد وین نا تمام

" اگر اس معنی کی مکمل تشریح کروں تو سو قیامتیں گزر جانے کے بعد بھی  اس کی شرح نا مکمل رہ جائے گی ۔ "

گزشتہ چند سالوں میں یعنی انقلاب اسلامی سے پہلے اور اس کے بعد بھی  اس عظیم واقعہ کے بارے میں بہت کچھ  لکھا  اور کہا گیا ۔ لیکن آج بھی  امت مسلمہ کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اس واقعہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر کرے ۔

عاشورا ایک عجیب درس ہے اور حقیر کی نظر میں آج کی سسکتی اور دم توڑتی دنیا کا علاج صرف یہ ہے کہ وہ سید الشہداء حسین ابن علی علیہما السلام کا درس پڑھے  ، اسے سمجھے  اور پھر  اس پر عمل کرے ۔

ایران کی عظیم قوم اگر صرف اتنا کام کر سکے کہ اپنی زندگی اپنے انقلاب ، اپنی جنگ، اپنے سماج اور اپنے معاشرے میں اس عظیم درس کو دنیا کے سامنے جلوہ گر کر سکے تو یہ سب سے بڑی خدمت ہوگی دنیا کی ستمدیدہ اقوام کے لئے ( ۱ )

آزادی پسند امام

گزشتہ چند صدیوں کی بنسبت آج حسین ابن علی علیہما السلام کی شخصیت زیادہ معروف و مقبول ہے ۔ آج کے حالات میں جب بھی  کوئی بے غرض مفکر اور دانشور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتا ہے تو واقعہ کربلا پر پہنچ کر سر تسلیم خم کر دیتا ہے ۔ وہ افراد جن کا بظاہر اسلام سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ لیکن آزادی ، عدالت ، عزت ، سر بلندی اور دوسرے انسانی اقدار کے قدر داں ہیں وہ سب آزادی ، عدالت ، استقلال ، برائیوں سے مقابلے اور جہالت کے خلاف جنگ میں امام حسین علیہ السلام کو اپنا رہبر و پیشوا مانتے ہیں ۔ ( ۲ )

مقصد قیام ؟

امام حسین ( ع ) سے کہا جاتا تھا  پورا مکہ اور مدینہ آپ کا احترام کرتا ہے ۔ اور یمن میں آپ کے اتنے چاہنے والے ہیں ۔ کہیں بھی  چلے جائیے تا کہ نہ آپ کو یزید سے کوئی مطلب ہو اور نہ یزید کو آپ سے کوئی سروکار ۔

اتنے شیعہ ، اتنے چاہنے والے ، اتنے پیرو کار آرام سے زندگی بسر کیجئے ، خدا کی عبادت کیجئے اور اس کے دین کی تبلیغ کیجئے آخر یہ قیام کس لئے ؟ آپ کا کیا مقصد ہے ؟

کیا آپ کا مقصد حکومت تھا  ؟

بعض لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد یہ تھا  کہ یزید جیسے فاسق و فاجر انسان کو حکومت سے بر طرف کر کے خود حکومت کریں ۔ ہم نہیں کہتےکہ یہ بات بالکل غلط ہے البتہ آدھی صحیح ہے ۔  ان افراد کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے سوچا قیام کرتے ہیں اگر کامیاب ہوگئے تو حکومت اپنےہاتھ میں لے لیں گے اور اگر کامیاب نہ ہوئے تو واپس آجائیں گے ۔ یہ بات بالکل غلط ہے ۔

جی ہاں ! جو حکومت کی غرض سے قیام کرتا ہے وہ وہیں تک آگے بڑھتا  ہے جہاں تک ممکن ہو لیکن جہاں اس نے دیکھا  کہ اب آگے بڑھنا  نا ممکن ہے تو پلٹ آتا ہے ۔ اگر کسی کا مقصد حکومت قائم کرنا ہے تو اسے وہیں تک جانا چاہتے جہاں جانے کا امکان ہے لیکن جہاں سے آگے بڑھنا  ممکن نہ ہو عقلمندی یہی ہے کہ پلٹ آئے ۔

جو شخص یہ کہتا ہے امام حکومت علوی کے قیام کے لئے اٹھے  تھے  اور اس کی مراد یہ ہو جو ہم نے بیان کیا تو اس کا نظریہ صحیح نہیں ہے اس لئے کہ امام حسین علیہ السلام کے قیام سے کہیں بھی  یہ بات سمجھ  میں نہیں آتی ۔

تو پھر  کیا قیام کا مقصد شہادت تھا  ؟

بعض لوگ کہتے ہیں یہ حکومت و کومت سب بیکار کی باتیں ہیں امام حسین علیہ السلام جانتے تھے  کہ وہ حکومت کا قیام عمل میں نہیں لا سکتے وہ تو اس لئے آئے تھے  تا کہ خدا کی راہ میں قربانی دیں اور شہید ہوجائیں ۔

ایک مدت تک لوگ اسی نطریہ کے قائل تھے  ۔ بعض لوگ شاعرانہ تعبیروں کے ساتھ  اسے بیان کرتے بلکہ بعض بزرگ علما بھی  اس کے قائل ہوگئے تھے  ۔ وہ سب کہتے ہیں کہ امام عالی مقام نے دیکھا  کہ اب زندہ رہنے کا کوئی مقصد نہیں لہٰذا شہادت کے ذریعہ ہی کچھ  کیا جائے ۔

اسلام اس کی بھی  اجازت نہیں دیتا اس لئے اسلام اس بات کا قائل نہیں کہ جاؤ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالو اور قتل کر دیئے جاؤ ۔ شریعت اور دین نے جس شہادت کی بات کی ہے اس شہادت کا مطلب یہ ہے انسان ایک عظیم مقصد کی خاطر قیام کرے اور اس راہ میں اپنی جان بھی  دیدے ۔ یہ ہے وہ شہادت جسے اسلامی اور دینی شہادت کہا جا سکتا ہے شہادت یہ نہیں ہے میں دوڑ کر میدان میں جاؤں تاکہ شہید کر دیا جاؤں یا شاعرانہ تعبیر میں کہا جائے کہ میرا خون ظلم و ستم کے ایوان ہلا دے اور اسے منہ کی کہانے پڑے ۔ امام حسین علیہ السلام کے عظیم قیام کا مقصد یہ بھی  نہیں تھا  جو کہا جاتا ہے ۔

ایک واجب کو انجام دینا

لہٰذا نہ کلی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے امام عالی مقام نے حکومت کے لئے قیام کیا اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے ان کے قیام کا مقصد شہادت تھا  ۔

میری نظر میں جو لوگ " حکومت " یا " شہادت " کے قائل ہیں انہوں نے ہدف اور نتیجہ کو ملا دیا ہے ۔ امام کے قیام کا مقصد یہ نہیں تھا ،امام کے قیام کا مقصد کچھ  اور تھا  البتہ اس ہدف تک پہنچنے کے لئے انہیں ایک ایسا راستہ طے کرنا تھا  جس کا نتیجہ دو ہی چیزیں تھی ں حکومت یا شہادت امام حسین علیہ السلام ان دونوں چیزوں کے لئے آمادہ تھے  ۔ انہوں نے حکومت کے مقدمات کو بھی  فراہم کر لیا تھا  اور شہادت کی آمادگی بھی  کر چکے تھے  ۔ اب جو بھی ہاتھ آتا وہی صحیح تھا  ، اس میں کوئی عیب نہیں تھا  لیکن ان میں سے کوئی بھی  مقصد نہیں تھا  بلکہ نتیجہ تھا  ۔ ہدف کچھ اورہوتا ہے ۔

اگر امام حسین علیہ السلام کے صحیح ہدف کو بیان کرنا ہے تو اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ امام عالی مقام کے قیام کا ہدف ایک ایسے واجب کی انجام وہی تھا  جو امام حسین علیہ السلام سے پہلے کسی نے انجام نہیں دیا تھا  یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم امام علی علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام نے بھی  ۔ ( ۳ )

اسلام کا ایک رکن

اسلام کے عملی احکام کا صرف ایک حکم جسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیان کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا تھا ۔ اور یہ اسلامی نظام کے ارکان کا ایک اہم رکن ہے ۔ اور وہ حکم اور رکن یہ تھا  کہ جب بھی  یہ اسلامی نظام اور اسلامی معاشرہ کی گاڑی پٹری سے نیچے آجائے اور اس کانظام بالکل الٹ جائے تو اس وقت امت مسلمہ کی ذمہ داری کیا ہے ؟ اگر بانی اسلام تمام اسلامی احکام و قوانین بیان کرتے لیکن صرف یہ ایک حکم بیان نہ کرتے تو ان کا کام ناقص رہ جاتا لیکن انہوں  نے یہ بھی  بیان کر دیا تھا۔وہ مسلمانوں سےکہہ کر گئے تھے  اگر کسی وقت بھی  اسلامی معاشرہ اسلام کے دائرے سے باہر نکل جائے اور صاحبان قدرت و ثروت ، مسلم نما منافقین یا کوئی بھی  اسلامی سماج کا رخ بدلنا چاہے تو  اس کے مقابلے میں امت مسلمہ کو کیا کرنا ہوگا ؟ پیغمبر اکرم ( ص ) یہ کہہ کر گئے تھے  لیکن خود عمل نہیں کر سکے کیونکہ پیغمبر اکرم ( ص ) جب تک با حیات تھے  تب تک امت مسلمہ اور اسلامی معاشرے میں ایسا کوئی انحراف پیدا نہیں ہوا تھا  ۔ اسلام کا یہ رکن پیغمبر اکرم ( ص ) نے اس لئے بیان کیا تھا  کیونکہ ان کے بعد ان کے جانشینوں کے زمانے میں ایسا ہونا عین ممکن تھا  چاہے وہ کسی بھی  جانشین کے زمانے میں ہوتا ۔ جس امام کے زمانے میں بھی  یہ صورتحال پیدا ہوتی اسے وہی کرنا ہوتا جو پیغمبر نے بتایا تھا  ۔ اگر امیر المومنین علی علیہ السلام کے زمانے میں ہوتا تو وہ ویسا ہی کرتے جیسا پیغمبر ( ص ) نے بتایا تھا  یا اگر امام علی نقی علیہ السلام یا امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں ہوتا تب بھی  ان کی یہی ذمہ داری تھی  ۔ اب چونکہ یہ صورتحال امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں پیش آئی لہٰذا ان کی ذمہ داری تھی  کہ وہ اس پر عمل کرتے ۔ تاکہ اسلامی نظام اور اسلامی سماج کو دوبارہ اسی حالت پر لے آتے جہاں پر وہ پہلے تھا  ۔ یہ امام عالی مقام کی ذمہ داری تھی  اور واقعہ عاشورا کی واقعیت اور حقیقت یہی ہے ( ۴ )

ہمارےانقلاب کی گاڑی

امام حسین علیہ السلام نے  ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا : " ایہا الناس " اے لوگو ! یعنی اے وہ لوگو ! جو میرے ساتھ  ارو میری تحریک حقیقت اور مقصد کوسمجھنا چاہتے ہو، اور اے وہ لوگو ! جو آج دشمن بن کر ہمارے سامنےکھڑے ہو اور اے غیر جانبدارغافلو! جن تک میرے حسین کے قیام کی خبر پہنچے گی لیکن تمہیں معلوم نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قیام کیا ۔ اور اے وہ لوگو ! جو اسلام کے احکام اور خدا کی شریعت کو جاننا چاہتے ہو ہماری تحریک سے بے خبر ہو ۔

تم سب جان لو ! " ایھا الناس ان رسول اللہ قال من رأی سلطاناً جائراً مستحلاً لحرم اللھ ناکثاً لعھد اللہ یعمل فی عباد اللھ بالجوروالعدوان فلم یغیرعلیھ بقول ولا فعل کان حقا علی اللہ ان یدخلھ مدخلھ " یہ پیغمبر اکرم ( ص ) کے کلمات ہیں میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں ، یہ وہی حکم ہے جو پیغمبر نے دیا ہے اور میں اس حکم پر عمل کر رہا ہوں اور وہ حکم یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی بھی  یہ دیکھ  کہ معاشرے کی باگ ڈور کی ایسے شخص کے ہاتھوں  میں ہے جو لوگوں پر ظلم و ستم کرتا ہے ۔ اس کے دل میں لوگوں کی نسبت بغض و عداوت اور کینہ ہے ۔ اسے لوگوں سے کوئی لگاؤ نہیں اور لوگوں سے بالکل محبت نہیں کرتا ۔ اسے اس سے سروکار نہیں ہے معاشرے کی مصلحت کیا ہے بلکہ اسے اس سے مطلب ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے اور اس کا فائدہ کس چیز میں ہے ۔ جو بھی  ایسے شخص کو بر سر حکومت دیکھے  اور اس کے خلاف قیام نہ کرے بلکہ بت بنا دیکھتا رہے تو خدا کو حق ہے کہ قیامت کے دن اسے بھی  وہی سزا دے جو اس ظالم کی ہوگی ۔ یہی وہ انجن تھا  جس نے ہمارے انقلاب کی گاڑی کو آگے بڑھایا ۔ ( ۵ )

سب سے بڑا ہنر

امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والوں اور پیرو کاروں میں بہت سے امام حسین (ع) اور ان کی تحریک کو سمجھ  چکے تھے  ( اس لئے امام کے نقش قدم پر چل پڑے ) اور بعض نہیں سمجھ  پائے تھے  ( اس لئے وہ قافلۂ حسینی سے پیچھے  رہ گئے ) ۔

دشمن تو خیر دشمن تھے  ۔ دشمن ایسے تھے  جیسے ایک گہرا سمندر ہو اور اس کی خطرناک  اور سرکش موجیں ۔ دوستوں میں بعض دانا تھے  جو امام کی معرفت حاصل کر چکے تھے  اسی لئے ان حساس لمحوں میں حسین ابن علی کو تنہا نہیں چھوڑ ا اور بعض امام کے پاس ہوتے ہوئے انہیں نہ سمجھ  پائے اور غلطی کر بیٹھے  ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ ابن جعفر کو اسلام اور خاندان پیغمبر سے محبت نہیں تھی  ؟ یہ سب تو پیغمبر اکرم ( ص ) کے دامان محبت میں پروان چڑہے تھے  لیکن یہاں غلطی کر بیٹھے  ۔ نہیں جانتے تھے  کہ وہ سر زمین جس کا دفاع واجب ہے کہاں ہے اور وہ چیز جس کے لئے فدا کاری کرنی چاہئے کون سی ہے ؟ مدینہ ہی میں رہے تا کہ چار مسئلے بیان کر سکیں لیکن اسلام مجسم ، قرآن ناطق ، فاطمہ کے لخت جگر حسین کو تنہا چھوڑ  دیا ۔

بعض لوگ کربلا تک آئے ، جنگ کی، امام کا دفاع بھی  کیا لیکن آخری لمحوں میں امام کی خدمت میں آکر کہنے لگے : مولا ہم سے جہاں تک ہو سکتا ہے آپ کا دفاع کیا اب اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم خدا حافظی کریں ( اور اپنے گھروں کو جائیں ) امام نے بھی  اجازت دے دی اور کہا بسم اللہ آپ لوگ جا سکتے ہیں ۔ بہت سے افراد تھے  جو اس وقت خاموش رہے اور بیٹھے  رہے جب اسلام کےلئے سب سے بنیادی اور ضروری دفاع کا وقت تھا  ۔

آج بھی  جو لوگ اسلام کا دم بہرتے ہیں ، اسلام کی باتیں کرتے ہیں اور اسلام کے دعویدار ہیں ، ان میں سے بہت سے نہیں جانتے کہ اسلام کہاں ہے اور کہاں اسلام کا دفاع کرنا چاہئے ۔ سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ انسان صحیح وقت اور جگہ کو پہچانے۔ حبیب ابن مظاہر جیسے افراد نے اچھی  طرح پہچان لیا تھا  ( اس لئے آخری دم تک امام کا ساتھ  نہیں چھوڑ ا ) جناب زینب نہ صرف خود بلکہ اپنے بچوں کو بھی  لے کر آگئیں ۔ جب کہ ان کے شوہر عبد اللہ ابن جعفر مکہ یا مدینہ میں بیٹھے  رہے اور کربلا نہیں آئے ۔ جناب زینب یہ کہہ سکتی تھیں کہ میں اپنے بھائی  کے ساتھ  جا رہی ہوں بچوں کو باپ کے پاس چھوڑ  کے جاتی ہوں لیکن وہ بچوں کو بھی  لے کر آئیں اور ان کے دونوں بیٹے کربلا میں شہید ہوگئے ۔

یہ وہ لوگ ہیں جو بصیرت رکھتے  ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں پر کیا کرنا ہے۔ ( ۶ )

سچائی کا خاتمہ ہو جاتا

امام عالی مقام جانتے تھے  کہ اگر انہوں نے یہ قیام نہ کیا تو ان کا یہ سکوت اور خاموشی رضامندی کی علامت بن جائے گی اور پھر  اسلام پر کیا مصیبت آن پڑے گی ۔ جب ایک طاقت معاشروں یا کسی ایک معاشرے کے تمام وسائل پر قبضہ کر لے اور طغیان و بربریت کا راستہ پر گامزن ہو جائے، ایسے موقع پر حق و حقیقت کے علمبردار اگر خاموش بیٹھے  رہیں اور ان کے مقابلے میں کھڑے نہ ہوں تو گویا وہ بھی  اس طاقت کے عمل سے راضی ہیں چاہتے در حقیقت وہ راضی ہوں یا نہ ہوں ۔ یہی وہ گناہ  تھا جو اس وقت بنی ہاشم کے بہت سے بزرگوں اور صدر اسلام کی اہم شخصیات کی اولاد نے انجام دیا ۔ لیکن امام حسین علیہ السلام کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی  اس لئے آپ نے قیام کیا ۔

واقعہ کربلا کے بعد جب قافلۂ حسینی واپس مدینہ میں آیا ۔ ( یعنی مدینہ مدینے سے نکلنے کے دس ، گیارہ مہینے بعد ) ایک شخص امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور کہنے لگے : دیکھا  کیا ہوا ؟ کیا ملا وہاں جاکر ؟ امام نے اس کے جواب میں فرمایا: سوچو اگر نہ جاتے تو کیا ہوتا ؟!

جی ہاں ! اگر نہ جاتے تو کیا ہوتا ! جسم تو زندہ ہوتے لیکن سچائی دم توڑ چکی ہوتی ، روح فرسودہ ہوجاتی ، ضمیر مردہ ہوجاتے عقل و خرد کا جنازہ نکل جاتا اور اسلام کا نام و نشان باقی نہ رہتا ۔ ( ۷ )

علما سے خطاب

اس وقت کے علما کا ایک گروہ تشکیل ہوا جنہوں نے پیغمبر اسلام کو دیکھا  تھا  ، جو ان کے صحابی تھے  ، جنہوں نے خود پیغمبر  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یا ان افراد سے حدیثیں تھیں جو پیغمبر سے حدیثیں نقل کرتے تھے  ۔ وہ افراد جو لوگوں کی نگاہوں میں قابل احترام تھے  اور دانشوران قوم کہے جاتے تھے  ۔ انہیں افراد میں سے کچھ  کو حسین ابن علی نے منی کے میدان میں اکٹھا  کیا اور ان سے ایک مفصل گفتگو کی ۔ گفتگو کے آخر میں امام عالی مقام آسمان کی طرف رخ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ( اللھم انک تعلم انھ لم یکن ما کان منا مناسفۃ فی سلطان ) ۔

خدایا تو بہتر جانتا ہے کہ جو کام ہم نے شروع کیا ہے ، جو قدم ہم نے اٹھ ایا ہے ، جو باتیں ہم کہتے ہیں یہ ان اہداف و مقاصد کے لئے نہیں ہیں جو عام طور سے دنیا طلب ، جنگجو اور لشکر کشی کرنے والے افراد کے ہوا کرتے تھے  یا ہوا کرتے ہیں ( و لکن لنری المعالم من دینک ) ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ پرچم اسلام کو پہچانیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دین کی ان پوشیدہ علامتوں قرآن و اسلام کی فراموش شدہ اقدار ، اہداف اور اصولوں کو دوبارہ زندہ کریں جن پر بہت زیادہ گرد و غبار پڑ گیا ہے ( و نظھر الاصلاح فی بلادک ) اور ہمارا ارادہ ہے کہ تیری سر زمین اور تیرے شہر میں اصلاح کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی معاشروں کو آباد کریں ، اس ظلم ، اس طبقاتی اختلاف غرباکا شدید فقر اور افراد کی حد سے زیادہ دولت نہ رہے ۔ انسان ظلم کا شکار نہ ہو ، نا انصافی اور روا داری نہ رہے اور سب کچھ  ٹھیک  ہوجائے ۔ (ویامن المظلومون من عبادک) اور ہماری تحریک کا مقصد یہ ہے کہ تیسرے ستمدیدہ اور مظلوم بندوں کو امن و امان اور سکون دلائیں ۔

وہ ایسا زمانہ تھا  کہ جو بھی  حکام وقت کی عیش و نوش اور ہوسرانیوں کے خلاف آواز بلند کرتا تھا  اسے سخت سے سخت سزا دی جاتی تھی  ( ۸ )

 شہدائے کربلا کی عظمت كا راز

تمام شہداء برابر نہیں ہیں بلکہ بعض شہادتیں بعض دوسری شہادتوں سے افضل و برتر ہیں ۔ شہدائے کربلا اس لئے دوسرے شہدا پر افضلیت نہیں رکھتے  کہ وہ بھوکے  پیاسے شہید ہوئے ۔ ایسے بہت سے شہدا ہیں جو آخر وقت تک تشنہ لب رہے ۔ بلکہ شہدائے کربلا کی فضیلت اس حساس موقع پر شہید ہونا ہے ۔ ان حالات میں اگر یہ واقعہ پیش نہ آتا اور یہ شہادتیں نہ دی جاتیں تو دین کی بساط الٹ کر رہ جاتی ۔ جو کام جتنا حساس ہو اتنا سخت بھی  ہوتا ہے ۔ اسی لئے اس بات کا یقین کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ حسین ابن علی علیہما السلام پانچ مہینے یا اس سے کچھ  زیادہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سر گرداں رہے تا کہ سب لوگ جان لیں ( کہ کیا ہونے والا ہے اور وہ کیا کرنے والے ہیں ) اور سب جان بھی  گئے کوفی ، عراقی ، حجازی سب کو معلوم ہوگیا تھا  ۔ اور امام صرف چالیس پچاس لوگوں کے ساتھ  کربلا میں وارد ہوئے ۔ کیونکہ سب اسی دن امام کے ساتھ  نہیں آئے تھے  بلکہ بہت سے بعد میں آئے تھے  اور کچھ  تو شب عاشور یا صبح عاشور امام سے ملحق ہوئے تھے  ۔ ان چالیس آدمیوں کا امام کے ساتھ  رہنا یقینا بہت سخت تھا  اس لئے کہ دشمن کے اتنے بڑے سیلاب کے سامنے ڈٹے رہنا معمولی بات نہ تھی بلکہ اس کےلئے  مضبوط ارادوں والام دل ہونا چاہئے۔

پیغمبر کے زمانے کی طرح نہیں تھا  کہ پیغمبر خودہاتھ میں پرچم لے کر نکلتے تھے  اور سب لوگ ہنستے اور مسکراتے ہوئے ۔ پیغمبر کی ہمراہی میں نکلتے تھے  اور میدان جنگ میں پہنچ جاتے تھے  ۔ آج تمام اصحاب پیغمبر ( ص ) گہروں میں بیٹہ گئے تھے  عبد اللہ بن عباس ، عبد اللہ بن جعفر اور دوسرے افراد منہچھپا کر بیٹہ گئے تھے  جب کہ یہ لوگ پیغمبر کے قرابتداروں میں سے تھے  ۔

صرف ایک چہوٹا سا شجاع بہادر ، نڈر ، کفر کی آنکھوں میں آنکھیں  ڈالنے والے اور اسے حقارت کی نظر سے دیکھنے  والا گروہ آمادہ تھا  کہ تمام چیزوں کو نچھاور  کر کے پیغمبر کے نواسے پر اپنی جان قربان کرے ۔

شہدائے کربلا کی اہمیت کی وجہ یہ ہے ۔ چونکہ اس وقت یہ فیصلہ بہت سخت اور دشوار تھا  ۔ اسی لئے ابن زبیر ، ابن عمر ، ابن جعفر اور ابن عباس جیسے افراد اس قافلہ میں شامل نہ ہوسکے اور یہ سب ایک صف میں تھے  ان میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ کوئی یہ تصور نہ کرے کہ عبد اللہ ابن جعفر اور عبد اللہ ابن عباس دوسروں سے الگ تھے  ۔ جی نہیں ایسا نہیں ہے ! نا فرمانی نافرمانی ہے چاہے وہ کوئی بھی  کرے ۔ ان سب نے نافرمانی کی تھی  کسی میں بھی  جرائت نہیں تھی  کہ حسین ابن علی کا ساتھ  دے سوائے ان چند افراد کے ۔

ہم پوری تاریخ میں شہدائے کربلا جیسے عظیم شہدا تلاش نہیں کر سکتے ۔ آج بھی  ویسے ہی دن ہیں آج ہمارے شہدا بھی  بہت عزیز اور با عظمت ہیں لیکن جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا تھا  ( لا یوم کیومک یا ابا عبد اللہ ) کوئی دن کربلا کے دن کی طرح نہیں ہوسکتا ۔ تاریخ میں آج تک ایسا دن نہیں آیا ۔ اسلام سے پہلے ، صدر اسلام میں اور اس کے بعد سے آج تک ہمیں ایسا کوئی دن نہیں ملتا جو کربلا کی طرح ہو ۔ یہی وجہ ہے امام حسین علیہ السلام کو سید الشہداء اور بقیہ شہدائے کربلا کو شہدائے تاریخ کا سردار کہا جاتا ہے جو سب سے عظیم اور سب سے برتر ہیں ۔ ( ۶۷ )

چراغ ہدایت

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حدیث مبارکہ یقینا اس نے سنی ہوگی 

( ان الحسین مصباح الھدیٰ و سفینۃ النجاہ )

بے شک حسین ( ع ) ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے ۔ یہ صرف کسی ایک خاص زمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر زمانے میں ایسا ہی ہے ۔ البتہ بعض زمانوں میں خاص طور پر اس کا جلوہ نظر آتا ہے ۔ جب واقعہ عاشورا پیش آیا یہ انہیں زمانوں میں سے تھا  ۔ علی و فاطمہ کے لخت جگر کا چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہونا ان لوگوں کی سمجھ  میں آگیا جو ان کی معرفت حاصل چکے تھے  ۔ امام حسین واقعہ عاشورا سے دس سال پہلے امام بن چکے تھے  آپ اس وقت بھی  چراغ ہدایت اور کشتی نجات تھے  لیکن یہ بات لوگوں کے لئے اتنی واضح اور روشن نہیں تھی  واقعہ عاشورا میں واضح طور پر جلوہ گر ہوئی ۔ آج بھی  وہی زمانہ ہے ۔ آج سے سو سال بلکہ پانچ سو سال کی بنسبت امام عالی مقام کا چراغ ہدایت ہونا زیادہ سمجھ  میں آتا ہے۔ آج جب ہم کہتے ہیں کہ یہ زمانہ عصرتحریک اور عصر انقلاب ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آج حسین ابن علی پھر  سے ایک ماہتاب عالم تاب بن کر چمک اٹھے  ہیں ( جو تیرہ سو سال سے اس امت کے دل میں ، ہماری مجسدوں امامباڑوں اور ہماری مجالس و محافل میں ایک چراغ بن کر چمک رہے تھے  ) جیسے واقعہ کربلا کے وقت بہت سے افراد تھے  جو اس چراغ کی نورانیت کو نہ دیکھ  سکے آج بھی  ایسے افراد ہے جو دل افروز چراغ عالم تاب کو نہیں دیکھ  پا رہے ہیں ۔ ( ۹ )

غیر  جانبدار لوگ

پیغمبر اکرم ( ص ) نے ارشاد فرمایا : جب بھی  معاشرے پر ایساحاکم ہو جائےجو حلال خدا حرام اور حرام خدا کو حلال کر رہا ہو ، خدا کے عہد و پیمان کو پائمال کر کے لوگوں پر ظلم و ستم ڈہا رہا ہو اور کینہ و دشمنی کی بنیاد پر لوگوں سے بدسلوکی کر رہا ہو ، توجو انسان اس صورتحال کو دیکھ  رہا ہو، اپنی زبان و عمل سے اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے ( کان حقا علی اللہ ان یدخلھ مدخلھ ) خدا کو حق ہے کہ اس شخص کو بھی  وہیں رکہے جہاں اس ظالم کا ٹہکانہ ہے اور اسے بھی  اس کے ساتھ  عذاب میں مبتلا کرے ۔ آج بہت سے اسلامی ممالک میں ظالم و جابر حاکموں کی حکومت ہے جو حلال خدا کو حرام اور حرام الٰہی کو حلال کرنے میں لگے ہیں ۔ خدا کے عہد کو توڑ کر امریکہ سے عہد و پیمان کرتے ہیں ۔ ایسے ممالک میں وہ لوگ جو خاموش تماشائی بنے ہیں اور اس علم کے مقابلے اپنی کوئی ذمہ داری نہیں سمجھ تے یہ لوگ در حقیقت کس زمرے میں ہیں ؟ یہ سب قوت و طاقت جو خدا کی ملکیت ہے ان افراد کےہاتھ سے نکل کر غیروں کے ہاتھ میں جارہی ہے ۔ جہاں پر اتنا فساد ہو ظلم و زیادتی اور نا انصافی ہو وہاں خاموش اور بے پروا   رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے اپنی معنوی قوت کو روک لیا ہے اور اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کر رہا ہے ۔ یہ پیغمبر اکرم ( ص ) کا بیان ہے کسی اور کا نہیں ۔ حسین ابن علی کا قیام بھی  اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس ظلم و زیادتی اور فساد کے مقابلے اپنی قوت و طاقت کا استعمال کیا اور انسانیت و تاریخ کو اس بات کا سبق سکھایا  کہ اگر تمہارے سماج میں اس طرح کی صورتحال پیش آئے تو تمہیں کیا کرنا  چاہیے ! ( ۱۰ )

جہالت اور گمراہی کے خلاف جنگ

امام حسین علیہ السلام کی زیارت اربعین میں ایک جملہ ہے جو اس زیارت کے دوسرے بہت سے جملوں کی طرح پر معنی اور غور طلب ہے اور وہ جملہ یہ ہے ( و بذل مھجتھ فیک ) یہ ایک زیارت ہے لیکن اس کے ابتدائی جملے دعائیہ کلمات ہیں جس میں انسان خداوند متعال سے مخاطب ہو کر کہتا ہے ( و بذل مھجتھ فیک ) یعنی اے پروردگار ! حسین ابن علی نے اپنی جان اور اپنا خون تیری راہ میں قربان کیا ( لیستنقذعبادک من الجھالۃ ) تاکہ تیرے بندوں کو جہالت کی دلدل سے باہر نکالے ( و حیرۃ الضلالۃ ) اور گمراہی میں سر گرداں ہونے سے بچائے ۔

یہ سکہ کا ایک رخ ہے جسے حسین ابن علی ( ع ) کہا جاتا ہے سکے کے دوسرے رخ کا تعارف اس جملے کے ذریعے کروایا جا رہا ہے ( و قد تزاورعلیھ من غرتھ الدنیا و باع حظھ بالارذل الادنیٰ ) یہ وہ لوگ تھے  جنہیں زندگی کے فریب نے خود میں مشغول کر دیا تھا  ۔ مادی دنیا ، اس کی زرق و برق اور خواہشات نفسانی نے انہیں خود سے غافل بنا دیا تھا  ( و باع حظھ بالارذل الادنیٰ ) انہوں نے سعادت و خوشبختی جیسے عظیم سرمایہ کو ، جو خدا  خلقت کے ساتھ  ہر انسان کو عطا کرتا ہے ، بہت نا چیز اور حقیر داموں میں بیچ دیا تھا ، یہ ہے حسینی تحریک کا خلاصہ ۔ اگر چہ امام حسین علیہ السلام کا ظاہری مقابلہ یزید سے تھا  لیکن در حقیقت ان کا مقابلہ اس کم عمر کے یزید سے نہیں تھا  بلکہ ان کا مقابلہ جہالت ، ذلت ، گمراہی اور انسان کی زبوں حالی سے تھا ۔ امام حسین علیہ السلام ان چیزوں سے مقابلہ کر رہے تھے  ۔ ( ۱۱ )

دین کے لئے فدا کاری

عاشورا کا سب سے پہلا سبق دین اور خدا کی راہ میں فدا ہوجانا ہے ۔ عاشورا کا یہ  سب سے واضح درس ہے ۔ ان سخت و حالات میں امام عالی مقام نے تمام مسلمانوں بلکہ تمام عالم بشریت ، تمام آزاد منش افراد چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ، کو یہ درس دیا کہ اگر انسان کا شرف ، اس کی آزادی اور استقلال ، انسانی اقدار اور مسلمانوں کا دین خطرے میں پڑ جائے تو ان سخت شرائط میں بھی  دین کا دفاع ایک اسلامی اور انسانیفریضہ ہے۔  یہ نہ کہا جائے کہ حالات سخت ہیں یہ بہانہ نہ بنایا جائے کہ بہت مشکل ہے ۔ ہو سکتا ہے اور  دین کا دفاع ہمیشہ اور ہر حال میں کیا جا سکتا ہے ۔حسین ابن علی ( ع ) نے محکم ارادے ، جذبۂ فداکاری اور شہادت طلبی کے ذریعہ ان سخت حالات میں دین کا دفاع کا جب وہ بالکل اکیلے تھے  ۔ بنی ہاشم اور قریش کے بزرگوں اور اصحاب کی اولاد نے بھی  امام کا ساتھ  نہ دیا ۔ مکہ میں عبد اللہ ابن زبیر ، مدینہ میں عبد اللہ ابن جعفر اور عبد اللہ ابن عمر یعنی وہ افراد جن کے باپ صدر اسلام کی قد آور اور نامی شخصیتیں تھیں اور لوگوں کی چشم امید ان پر لگی ہوئی تھی ۔ یہ وہ لوگ جن سے لوگوں کی امیدیں وابستہ تھیں لیکن یزیدی ظلم کے مقابلے اٹھ  کھڑے ہونے پر تیار نہ ہوئے اور پیغمبر کی نصرت پر آمادہ نہ ہوئے ۔ کیا حسین ابن علی ان کی نصرت کی امید لگائے بیٹھے  تھے  ؟ کیا ان کے مدد نہ کرنے سے امام اپنے عمل سے دستبردار ہوجاتے ؟ نہیں امام نے ایسا کچھ  بھی  نہیں کیا ۔ جب بیچ راستے ہی میں امام کو خبر ملی کہ اب کوفے والے ان کا ساتھ  نہیں دیں گے اور وہ اکیلے رہ گئے ہیں تو وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ جب کربلا کے اس بیابان میں ان کے تمام ساتھ ی شہید ہوگئے اورصرف چند خواتین یا بچے باقی بچے تو اس وقت بھی  دفاع اور جہاد کو جاری رکھا  ۔ اگر آخری وقت تک امام راضی ہوجاتے اور سر تسلیم خم کر دیتے تو یزیدی فوراً مان لیتے ۔ لیکن امام اس کے آگے جہکے نہیں ۔ یہ ایک عظیم درس تھا  کربلا کے واقعہ کا۔ ( ۱۲ )

جب دینداروں کی قلت ہوجائے

عاشورا کا ایک درس یہ بھی  ہے کہ اس نے افراد کو دو حصوں میں تقسیم کردیا کوفے کے بہت سے بزرگوں اور رؤسائے شہر نے امام حسین ( ع ) کو خط لکہ کر بلایا تھا  اور یہ دعوت اس وقت دی تھی  جب امام مدینہ سے نکل چکے تھے  ۔ لوگوں کو  خبر نہیں تھی  کہ ماجرا کیا ہے ؟ ان کے وہم و گمان میں بھی  نہیں تھا  کہ ایک سخت امتحان اور دشوار مرحلہ سے گزرنا ہوگا ۔ مکہ سے بہت سے افراد امام کے ساتھ  نکلے تھے  لیکن انہیں معلوم نہیں تھا  کہ اس تحریک کا انجام کیا ہوگا ۔ اگرچہ بظاہر راستہ دشوار نظر آرہا تھا  لیکن ابھی  حقیقت حال سے بے خبر تھے  ۔ جیسے ہی حقیقت دہیرے دہیرے ظاہر ہونے لگی حق و حقیقت کے طرفدار کم ہونے لگے ۔ سختیوں نے اہل دنیا کو بہگا دیا ۔ جیسے کہ خود امام فرماتے ہیں (الناس عبید الدنیا و الدین لعق علی السنتھم فاذامحسوا بالبلاء قلت دیانون) اس وقت صورت حال بالکل یہی تھی  ۔ جب مشکلات سامنے آتی ہیں تو دینداروں کی تعداد میں کمی ہونے لگتی ہے اور جب تک آرام اور سکون ہے دعویدار بہت ہوتے ہیں ۔ اس وقت مکہ ، مدینہ ، کوفہ اور پورے عالم اسلام میں بہت سے افراد تھے  جن کا دعویٰ تھا  کہ وہ دین کے پیرو کار ہیں اور بے چوں و چرا اس پر عمل کرنے والے ہیں ۔ بہت سے لوگ تھے  جو حسین ابن علی ( ع) کو فرزند رسول کے عنوان سے پہچانتے تھے  ، مانتے تھے  اور ان سے محبت بھی  کرتے تھے  لیکن جب امام حسین علیہ السلام مکہ سے نکلنے لگےتو ان میں سے بہت سے امام کے ساتھ  آنے پر تیار نہ ہوئے ۔ آپ یہ تصور نہ کریں کہ عبد اللہ ابن جعفر امام کو نہیں مانتے تھے  یا بنی ہاشم کے وہ افراد جو امام کے ساتھ  نہیں آئے امام کو امام نہیں سمجھتے تھے  ۔ جی نہی؛ ایسا نہیں ہے ۔ یہ سب حسین ابن علی کو اپنا امام مانتے تھے  انہیں فرزند رسول اور ایک عظیم انسان سمجھ تے تھے  لیکن ان کا ساتھ  دینے پر آمادہ نہ ہوئے چونکہ بہت سخت تھا  امام کا ساتھ  دینا ۔ ( ۱۴ )

صبر جمیل

امام حسین علیہ السلام اپنا سب کچھ  اپنا سب سے قیمتی اور عظیم سرمایہ میدان میں لے کر آگئے تا کہ دین کا دفاع کریں اور پھر  صبر بھی  کیا ۔ امام کا یہ صبر بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ ہم نہیں جانتے " صبر " کسے کہتے ہیں ۔ صبر کی حقیقت کو صبر کی جگہ سمجھ ا جا سکتا ہے ۔ بہت سی بزرگ شخصیتیں ، محدثین ، برجستہ افراد عقلا ، ہمدرد ، سب بار بار آتے تھے  اور امام سے کہتے ہیں آپ ایک ایسا کام کرنے جا رہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ خود آپ کا بھی گھاٹا ہوگا  اور خاندان پیغمبر کو بھی  ۔ اور آپ کے اس کام سے اہل حق ذلیل و رسوا ہونگے ۔

اس طرح کی باتیں کرتے تھے  ۔ جب امام نے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا اور بہت سے افراد کو معلوم ہوا تو اخلاقی رکاوٹیں شروع ہوگئیں اور شب عاشور تک جاری رہیں ۔ لیکن امام عالی مقام نے ان تمام چیزوں کے مقابل صبر کیا وہی صبر جس کا میں نے تذکرہ کیا ۔ امام خمینی ( رح ) نے بھی  اسی طرح صبر کیا ۔ جب آپ نے تحریک شروع کی تو آپ سے کہا جاتا تھا  : " آقا یہ جوان نابود ہوجائیں گے ۔ قتل کردئے جائیں گے ، حکومت اور نظام خطرہ میں پڑ جائے گا " لیکن آپ نے صبر کیا ۔ ان خیر خواہوں کی نصیحتوں کے آگے صبر کرنا بہت عظیم کام ہے ۔ صبر کرنے کے لئے بہت قوت و طاقت درکار ہے ۔ صبر صرف جسمانی مشکلات اور اذیتوں کے مقابل نہیں ہے ۔ مصلحت پسندی اور مصلحت تراشی جیسے دباؤ کے مقابلے صبر اور صحیح ، اورواضح راستے سے جدا نہ ہونا وہ صبر جمیل ہے جسے امام حسین ( ع ) نے انجام دیا ۔ ( ۱۵ )

سب کچھ  قربان کردیا

ایک محدث یا ایک مفسر وہ شخص ہوتا ہے لوگ جس کے پاس آتے ہیں ۔ اس کے علم سے فیضیاب ہوتے ہیں اور اس کی نصیحتوں کو سنتے ہیں ۔ اس طرح کے افراد تھے  ، اس طرح کے نمایاں افراد تھے جو لشکر حسینی میں شامل تھے  ۔ البتہ ان بہتر افراد کے ساتھ  کچھ  خواتین ، کچھ  بچے ، بہنیں ، بیویاں ، بیٹیاں حرم اہل بیت ، امام حسین علیہ السلام کے اعزا و اقارب یہ سب تھے  جنہیں امام اپنے ساتھ  لائے تھے  ۔ ان سب کو لائے تاکہ اسلام اور خدا کی راہ میں قربانی دیں ۔ امام حسین ( ع ) کو آغاز سفر ہی سے اس واقعہ کی توقع تھی  ۔ امام حسین ( ع ) کا قیام اس شخص کی طرح نہیں تھا جو موت سے فرار اختیار کر رہا ہو ۔ بلکہ وہ اس شخص کی طرح تھے  جو مسکرا کر موت کا استقبال کر تا ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ امام حسین علیہ السلام حکومت کے خواہاں نہیں تھے  ، یا کوفہ کو اپنے کنٹرول میں نہیں لینا چاہتے تھے  یا یہ کہ وہ صرف ایک کہیل تماشا کر رہے تھے  ، امام حسین علیہ السلام یقیناً کوفہ کی حکومت کے لئے نکلے تھے  لیکن اپنی شہادت کو بھی  دیکھ  رہے تھے  اور جو افراد ان کے ساتھ  تھے  اور ان کی بات سنتے تھے  ان سے فرمایا کرتے تھے  ( ألا ومن کان باذلا فینا محجتھ و مؤطئا الی لقاء اللہ نفسھ … ) وہ شخص جو حاضر ہے کہ ہماری راہ میں اپنا خون   دے ،خود بھی  حاضر تھے  کہ اپنا خون دیں، مکمل طور سے آمادہ تھے  ۔ وہ شخص جس نے اپنے نفس کو آمادہ کر لیا ہے خدا سے ملاقات کے لئے ۔ امام نے اپنے کو آمادہ کر لیا تھا  کہ خدا سے ملاقات کریں اور جانتے تھے  کہ شہید ہوجائیں گے اور انہیں یہ  امیدبھی تھی  کہ شہادت سے پہلے اپنے مقصد تک پہنچ جائیں گے ۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس جو کچھ  تھا  سب لے کر آئے اس خونخوار دشمن اسلام اور قرآن کے سامنے ، کیونکہ جانتے تھے  کہ اس قربانی سے راستہ کہل جائے گا ۔ ( ۱۶ )

تلوار ہمیشہ تیار رہے

ایک روایت کے مطابق شب عاشور امام حسین علیہ السلام تنہائی میں ایک شعر گنگنا رہے تھے  جس کا مفہوم یہ تھا  کہ اب ان کا وقت آخر آگیا ہے جناب زینب سلام اللہ علیہا وہیں کھڑی تھیں لہٰذا یہ سن کر گریہ کرنے لگیں ۔ روایت میں یہ بھی  ہے کہ امام حسین علیہ السلام اس وقت اپنی تلوار کو صیقل کر رہے تھے  ۔ یعنی امام حسین علیہ السلام یہ نہیں کہہ رہے تھے  کہ کل تو ہم جانا ہی ہے اب چاہے ایک گہنٹے پہلے یا ایک گہنٹہ بعد میں لہٰذا اگر تلوار تہوڑی کند بھی  ہے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ جی نہیں ! راہ خدا میں جہاد کرنے والے کی تلوار کند نہیں ہونی چاہئے یعنی اس کی قوت و طاقت بہت اعلیٰ و ارفع ہونی چاہئے ۔ ( ۱۹ )

زینبی کردار

جناب زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت غم و اندوہ اور تیمار داری میں ہی خلاصہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک مسلمان خاتون کا مکمل نمونہ تھیں ۔ یعنی وہ آئیڈیل جسے اسلام نے خواتین کی تربیت کے لئے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے ۔ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی شخصیت ، ایک ہمہ گیر شخصیت ہے ۔ عالم و دانا ، صاحب معرفت اور ایک نمایاں انسان کہ جب بھی  کوئی ان کے سامنےکھڑا  ہوتا ہے ان کی علمی و معنوی عظمت اور معرفت کے آگے سر تسلیم خم کر دیتا ہے ۔

ایک مسلم خاتون جس پہلو کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ہے یہی ہے یعنی اسلام کو اپنے وجود میں بسانا ۔

ایمان کی برکت اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردینے سے ایک مسلمان عورت کا دل اس قدر گشادہ ہو جاتا ہے اور وہ اتنی مضبوط ہوجاتی ہے کہ بڑے بڑے حادثات اس کے آگےگھٹنے  ٹیک دیتے ہیں ۔

زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زندگی کا یہ پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہے ۔ عاشورا جیسا عظیم واقعہ زینب کو جھکا نہیں سکا ۔ یزید اور ابن زیاد جیسے ظالم و ستمگر افراد کی ظاہری حشمت اور جاہ و جلال زینب کو نہ للکا رسکے ۔ زینب نےہمیشہ اور ہر جگہ اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا  ۔ ان کا وطن مدینہ ہو یا سخت امتحان و آزمائش کی آماجگاہ کربلا یا پھر  یزید و ابن زیاد کا دربار ہر جگہ زینب ثابت قدم اور سر بلند رہی اور باقی سب ان کے آگے سرنگوں ہوگئے ۔ یزید اور ابن زیاد جیسے مغرور اور ستمگر افراد اس دست بستہ اسیر کے سامنے ذلیل و خوار ہوگئے ۔

زینب کبریٰ کی شخصیت میں ایک طرف صنف نسواں کی عطوفت و مہربانی ہے او ردوسری طرف ایک مومن انسان کے دل میں پائی جانے والی متانت ، عظمت اور سکون و پایداری ، ایک مجاہد راہ خدا کی صاف اور گویا زبان ۔ ایک پاک و خالص  معرفت ،جو ان کی زبان و دل سے نکلتی اور سننے والوں کو مبہوت کردیتی ہے ۔

ان کی نسوانی عظمت ، جھوٹے  بزرگوں کو حقیر و پست بنا دیتی ہے اسے کہتے ہیں نسوانی عظمت ! حماسہ اور عطوفت سے مرکب وہ عظمت جو کسی فرد میں بھی دیکھنے  کو نہیں ملتی ۔

وہ ہستی جو اپنی متین شخصیت اور پایدار روح کے ذریعہ تمام ناگوار حوادث کو سر کر جائے اور بہڑکتے ہوئے شعلوں کو شجاعت و بہادری سے اپنے پیروں تلے روند ڈالے ۔ لوگوں کو درس دے اور انہیں بیدار کرے ۔ ساتھ ہی اپنے زمانے کے امام کو ایک مہربان ماں کی طرح تسلی و تشفی دے ۔ اور ان نازک حالات اور طوفان ھوادث میں یتیم بچوں کی حفاظت اور ان کی تسلی و تسکین کے لئے ایک محکم دیوار بن جائے ۔

اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ جناب زینب سلام اللہ علیہا ایک ہمہ گیر شخصیت تھیں ۔ اسلام ایک عورت کو اسی طرف لے جانا چاہتا ہے ۔ ( ۲۰ )

ہنر مندانہ گفتگو

میری نظر میں جناب زینب کو ادبیات و ہنر کے ذریعہ عظیم واقعات وحوادث کی حفاظت کرنے اور انہیں بچانے کا بانی کہا جاسکتا ہے ۔

اگر جناب زینب نہ ہوتیں اور ان کے بعد دوسرے اہل حرم جیسے امام سجاد علیہ السلام نہ ہوتے تو تاریخ میں واقعہ کربلا کا نام نہ ہوتا ۔

سنت الٰہی یہی ہے کہ اس طرح کے واقعات تاریخ میں باقی رہیں ۔ البتہ سنت الٰہی کایہ  ایک شیوہ اور طریقہ ہے ۔ تاریخ میں ان واقعات کی بقا کا طریقہ یہ ہے کہ صاحبان اسرار ، اہل درد اور وہ افراد جو ان حقائق سے مطلع ہیں وہ دوسرے کو ان سے آگاہ کریں ۔ اس لئے اپنی یاد داشت کو بیان کرنا ، انہیں مدون کرنا اور حقائق کو دوسرے تک منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس کا اپنا ایک مقام و مرتبہ ہے ۔ ہنرمندانہ بیان اور گفتگو اس کی ایک بنیادی شرط ہے جیسے کوفہ و شام میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات حسن بیان اور جذابیت کے اعتبار سے ایک ہنر مندانہ گفتگو تھی  ۔ ایک ایسی گفتگو کہ کوئی بھی  ایسے نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ جب ایک مخالف اس گفتگو کو سنتا ہے تووہ  ایک تیز تلوار کی اس پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ ہنر کا اثر اپنے مخاطب سے وابستہ نہیں ہوتا ۔ وہ چاہے یا نہ چاہے ہنر اپنا کام کر دکھاتا  ہے شام میں جناب زینب اور امام سجاد نے اپنے فصیح و بلیغ اور ہنر مندانہ گفتگو کے ذریعہ یہی کام کیا ۔ ( ۲۱ )

تین بنيادی عناصر

امام حسین علیہ السلام کے قیام میں تین بنیادی عنصر پائے جاتے ہیں :

عنصر منطق و عقل ، عنصر عزت و حماسہ ، عنصر مہر و عطوفت:

عقل و منطق کا عنصر امام عالی مقام کے خطبات اور بیانات میں صاف نظر آتا ہے ۔واقعہ سے پہلے سے یعنی مدینہ سے کربلا تک امام کے نورانی بیانات کا ایک ایک جملہ ایک محکم اور پایدار عقل و منطق کی حکایت کرتا ہے ۔ اس منطق کا خلاصہ یہ ہے جب حالات سازگارہوں ، اسباب فراہم ہوں اور موقع غنیمت ہو تو مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیام کرے ۔ چاہے اس میں خطرات ہوں یا نہ ہوں ۔ جب اساس دین خطرے میں ہو اور آپ اپنی زبان و عمل سے اس کا مقابلہ نہ کریں تو خدا یہ حق رکھتا  ہے کہ اس غیر ذمہ دار انسان کے ساتھ  ویسا ہی سلوک کرے جیسے اس ظالم اور ستمگر کے ساتھ  کرے گا ۔

عنصر عزت و حماسہ

دوسرا عنصر ، حماسہ ہے ۔ یہ  مجاہدت اور یہ مقابلہ اسلامی عزت و وقار کے ساتھ  ہو " العزة للہ و لرسولھ و للمومنین " کیونکہ عزت صرف خدا ، اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے ۔ اس قیام اور جہاد میں ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اپنی اور اسلام کی عزت کی حفاظت کرے ۔ اس مظلومیت کے اوج پر آپ کو ایک چہرہ نظر آتا ہے ایک حماسی اور صاحب عزت چہرہ ۔ اگر ہم آج کےسیاسی اور فوجی مقابلوں اور جہاد پر نگاہ ڈالیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ وہ افرادہاتھ میں بندوق لے کر میدان جنگ کے لئے نکل پڑے ، بسا اوقات انہوں نے خود ذلیل کیا ہے ۔ لیکن واقعہ عاشورامیں ایسا کچھ بھی  نہیں ہے ۔

جب امام حسین ( ع ) ایک شب کی مہلت مانگتے ہیں تو عزت مندانہ طریقے سے مہلت لیتے ہیں ۔ جب ھل من ناصر کہہ کر نصرت طلب کرتے ہیں وہاں بھی  عزت و اقتدار ہے ۔ مدینہ سے کوفہ تک کے راستے میں جب مختلف افراد سے ملتے ہیں ، ان سے گفتگو کرتے ہیں اور انہیں اپنی نصرت کی دعوت دیتے ہیں یہ ضعف و ناتوانی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ بھی  ایک نمایاں اور دلیرانہ عنصر ہے ۔

( اسی زمانے میں ) مدرسہ فیضیہ میں عاشور کے دن امام خمینی ( رح ) کے اس یادگار خطاب کو یاد کیجئے ۔ ایک عالم جس کے پاس نہ کوئی مسلح فوجی ہے نہ کوئی ہتھیار لیکن پھر  اس عزت و وقار کے ساتھ  گفتگو کرتا ہے کہ اپنی عزت کے آگے دشمن کو گہٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ یہ ہے عزت کا مقام و مرتبہ ۔

عنصر مہر و عطوفت

عاشورا کا تیسرا عنصر مہر و عطوفت ہے ۔ جو خود اس واقعہ میں بھی  نظر آتا ہے اور اس کے بعد بھی  نظر آتا ہے ۔ اس عنصر کا بہت اہم رول رہا ہے جس نے عاشورائی اور شیعہ تحریک کو دوسری تحریکوں سے ممتاز بنا دیا ۔ عاشورا صرف ایک عقلی اور استدلالی تحریک نہیں ہے بلکہ اس میں عتق و محبت، نرمی و مہربانی اور گریہ و اشک کا عنصر بھی  پایا جاتا ہے ۔ جذبات و احساسات کی طاقت بہت عظیم طاقت ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ ہمیں حکم دیتا ہے رونے کا رلانے کا اور اسے واضح اور روشن کرنےکا ۔ زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کوفہ و شام میں ایک گفتگو کرتی ہیں لیکن ساتھ  میں مرثیہ بھی  پڑھتی ہیں امام سجاد شام کے منبر پر جاکر عزت و افتخار کے ساتھ  حکومت وقت کو پکارتے ہیں لیکن مرثیہ پڑھتے ہیں ۔ جذبات اور احساسات کے ماحول میں بہت سے ایسےحقائق کو سمجھا جاسکتا ہے جو دوسری جگہوں پر سمجھ  میں نہیں آتے ۔ ( ۲۲ )

عاشورا ایک عید

واقعہ کربلا کو ایک وقت ہم مصیبت کی آنکہ سےدیکھتے ہیں جس میں تمام مصیبتیں پائی جاتی ہیں ہم اس کا انکار نہیں کرتے بلکہ اس کی تأئید کرتے ہیں ۔ اور ہمارے لئے اس کی بہت زیادہ برکات تھی ں ( اور ہیں ) اور یہ اس واقعہ کا جذباتی ، احساساتی اور عاطفی پہلو ہے ۔ امام حسین کون تھے  ؟ کیوں قتل کیے گئے ؟ کیسے قتل کئے گئے ؟ کن لوگوں نے انہیں قتل کیا ؟ اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ۔

لیکن ایک بار آپ عاشورا کو اس نگاہ سےدیکھتے ہیں کہ اسلام مر رہا تھا  عاشورا نے اسے زندہ کیا ۔ اس خون اور اس شہادت کے ذریعہ دم توڑتا اسلام پھر  سے زندہ ہوگیا ۔ جب آپ اس نگاہ سے عاشورا کودیکھیں گے تو آپ بھول  جائیں گے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تھا  ۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا ؟ آپ بھول  جائیں گے کہ امام حسین علیہ السلام جیسی کسی شخصیت کا قتل ہو ۔ کیونکہ اس واقعہ کا یہ مثبت پہلو اتنا صاف ، شفاف اور حاوی ہے کہ تمام منفی پہلووں کوچھپا دیتا ہے ۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو سید ابن طاووس کہتے ہیں : " اگر یہ درد و غم اور مصیبتیں نہ ہوتیں تو ہم عاشور کے دن نیا لباس پہنتے اور اسے ایک عید کے طور پر مناتے " ۔ ( ۲۴ )

خون کی خاصیت

دنیا کی بزرگ اور نمایاں شخصیات جب ایک عظیم مقصد کی راہ میں شہید ہوجاتی ہیں وہ اگرچہ اس تحریک ، اس انقلاب یا اس معاشرے کو اپنے فقدان کے ذریعہ ایک اہم اور گرانقدر شخصیت سے محروم کر دیتی ہیں لیکن اپنی فداکاری اور اپنے خون و شہادت کے ذریعہ اس تحریک کو زندہ کر جاتی ہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے تاریخ میں ہمارے شہدا کا وجود رہا ہے جس کی ایک واضح مثال واقعۂ کربلا ہے ۔

امام حسین علیہ السلام جیسی بے مثل اور گرانقدر شخصیت جب اس دنیا سے اٹھ  جاتی ہے اگرچہ معاشرہ کا اس شخصیت سے محروم ہونا نا قابل جبران نقصان اور خلا کا باعث ہے لیکن ان کی قربانی اتنی عظیم ہے کہ تحریک حسینی زندہ جاوید بن جاتی ہے ۔ یہ ہے قربانی اور فداکاری کی تاثیر ۔ یہ ہے خون کی خاصیت ۔ جب دعوے انسانوں کے خون سے جامہ عمل پہن لیتے ہیں تو ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجاتے ہیں۔ ( ۲۵ )

عزا برپا کرنے والے غافلو

مولانا روم نقل کرتے ہیں کہ ایک شاعر شہر حلب میں داخل ہوا ۔اس نےدیکھا  کہ پورے شہر کے در و دیوار سیاہ پوش ہیں ۔ اس نے سوچا شاید کوئی بادشاہ ، شہزادہ ، سردار یا شہر کا کوئی معزز انسان دنیا سے چل بسا ہے ۔ کسی سے پوچھا  کہ آخر کون مرگیا جو پورا شہر سیاہ پوش ہوگیا ہے ؟ اس شخص نے اس پر ایک نگاہ ڈالی اور پوچھا  کیا تم اس شہر میں اجنبی ہو ؟ جواب دیا : ہاں ! بولا : میں سمجھ  گیا تھا  کہ تم اجنبی ہو اسی لئے پوچہ رہے ہو ۔ یہ محرم کا مہینہ ہے ۔ حسین ابن علی علیہ السلام کی شہادت کا مہینہ ہے اسی لئے ہم سب سیاہ پوش ہوگئے ہیں ۔

اب شاعر نے اس سیاہ پوش کے جواب میں شعر کہنا شروع کہا کہ  جب یہ لوگ جو  درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ہیں اور حسین ابن علی شہید کئے گئے ہیں تو یہ ان کی  خوشی اور جشن کا دن ہے ۔

زانکہ ایشان خسرو دین بودہ اند   وقت شادی شد جو بگستند بند

 سوی شاد روان دولت تاختند       کندہ و زنجیر را انداختند

وہ شہید ہوکر خوش ہوئے لہٰذا ان کے دوستوں کو بھی  ان کی شہادت پر خوش ہونا چاہئے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کو آج کیوں معلوم ہوا کہ حسین شہید ہوئے ؟ آج معلوم ہوا تو عزاداری بپا کر رہے ہیں ؟ ان چند سو سالوں میں ( چوتھی  اور پانچویں صدی میں ) دنیائے اسلام یہ نہ سمجھی کہ حسین ابن علی شہید ہوگئے  اور انہیں کیوں شہید کیا گیا ؟ تم خواب غفلت کا شکار تھے  ۔

پس عزا برخود کنیدای خفتگان   زانکھ بد مرگسیت این خواب گران

حقیقت ہے جو لوگ جو یہ نہ سمجھ  پائے کہ حسین کیوں شہید ہوئے ۔ جو یہ نہ سمجھ  پائے کہ وہ علم جو حسین ابن علی علیہما السلا کے ہاتھوں  میں تھا  وہ کیوں بلند کیا گیا اور حسین کو ماننے والوں کی ذمہ داری کیا ہے ، انہیں خود پر رونا چاہئے جب بھی  حسین کے نام پر آپ کے دل میں سوزش ہو اور آپ گریہ کریں تو آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کیوں گریہ کر رہے ہیں ۔ آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس عزاداری اور ان اشکوں کا کیا پیغام ہے ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی  غافل رہیں اور پھر  خود پر گریہ کریں اور حسین ابن علی کو نہ سمجھ  پائیں ۔ ( ۲۸ )

چہلم

چہلم کی اہمیت کس وجہ سےہے ؟ کیا صرف اس لئے کہ امام عالی کی شہادت کے چالیس دن گذر چکے ہیں ؟ آخر اس کی کیا خاصیت ہے ؟ چہلم کی خصوصیت یہ ہے کہ اس دن سید الشہداء کی شہادت کی یاد تازہ ہوئی اور یہ بہت اہم چیز ہے ۔ فرض کیجیےاگر تاریخ میں یہ عظیم واقعہ رونما ہوتا یعنی حسین ابن علی اور ان کے باوفا ساتھیوں کی شہادت ہوجاتی اور بنی امیہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے یعنی جس طرح انہوں نے امام عالی مقام اور ان کے ساتھ یوں کے جسمہائے مبارک کو خاک و خون میں غلطاں کیا اسی طرح اس وقت کے لوگوں اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں سے ان کی یاد بھی مٹا دیتے تو کیا ایسی صورت میں اس کا شہادت کا اسلام کو کوئی فائدہ پہنچتا ؟

یا یہ فرض کریں کہ اس وقت اس کا ایک اثر ہوتا لیکن کیا آنے والی نسلوں پر اور مستقبل کی بلاؤں ، مصیبتوں ، تاریکیوں اور یزیدان وقت پر بھی  اس کا کوئی خاص اثر ہوتا ؟

ایک قوم کی مظلومیت اس وقت دوسری ستمدیدہ زخمی اقوام کے لئے مرہم بن سکتی ہے جب یہ مظلومیت ایک فریاد بن جائے ۔ اس مظلومیت کی آواز دوسرے لوگوں کے کانوں تک بھی  پہنچے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڑی طاقتیں ایک آواز پر دوسری آواز بلند کرتی ہیں تاکہ ہماری فریاد بلند نہ ہونے پائے ۔ اسی لئے وہ بے تھا شا پیسہ خرچ کر رہے ہیں تاکہ دنیا نہ سمجھ  پائے کہ تحمیلی جنگ کیا تھی  ، کیوں پیش آئی ، اس کا محرک کون تھا  ، کس کے ذریعہ تھوپی گئی ۔ اس وقت بھی  استکباری طاقتوں کی پوری کوشش تھی  کہ جو بھی  جتنا بھی  خرچ ہو کسی بھی  طرح سے حسین کا نام ، ان کی یاد ، ان کی شہادت اور کربلا و عاشورا لوگوں کے لئے درس نہ بننے پائے اور اس کی گونج دوسری اقوام کے کانوں تک نہ پہنچے ۔ البتہ شروع میں خود ان کی بھی  سمجھ  میں نہیں آیا تھا  کہ یہ شہادت کیا کرسکتی ہے لیکن جتنا زمانہ گزرتا گیا ان کی سمجھ  میں آنے لگا ۔ یہاں تک کہ بنی عباس کے دوران حکومت میں امام عالی مقام کی قبر کو منہدم کیا گیا ۔ اسے پانی سے گھیر دیا گیا ۔ تاکہ اس کا کوئی نام نشان باقی نہ رہے ۔ یہ ہے شہداء اور شہادت کی یاد کا اثر ۔ شہادت اس وقت تک اپنا اثر نہیں دکہاتی جب تک اسے زندہ نہ رکھا  جائے گا اس کی یاد نہ منائی جائے اور اس کے خون میں جوش نہ پیدا ہو اور چہلم وہ دن ہے جب پیغام حسینی کو زندہ رکہنے کا پرچم لہرایا گیا اور وہ دن ہے جب شہداء کی بقا کا اعلان ہوا اب چاہے امام حسین (ع) کے پہلے چہلم میں اہل حرم کربلا آئے ہوں یا نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ چہلم وہ دن ہے جب پہلی بار امام حسین کے زائر،ان کی زیارت کو آئے ۔ پیغمبر اسلام اور مولائے کائنات کے اصحاب میں سے جابر ابن عبد اللہ انصاری اور عطیہ آئے امام کی زیارت کے لئے ۔ جابر اگرچہ نابینا تھے  لیکن عطیہ کاہاتھ پکڑ کر امام حسین علیہ السلام کی قبر  پر آئے اور زار و قطار رونے لگے ۔ امام حسین علیہ السلام سے گفتگو کی ، درد دل بیان کیا ۔ امام حسین ( ع ) کی یاد کو زندہ کیا اور زیارت قبور شہدا کی سنت کا احیاء کیا ۔ ایسا اہم دن ہے چہلم کا دن ۔ ( ۳۰ )

جوقوم اسیر ہے

ہمارے ملک میں لوگ امام عالی مقام کو جانتے اور پہچانتے تھے  اور ان کی تحریک سے واقف تھے  ۔ ان کے اندر حسینی روح تھی  اس لیے جب امام خمینی ( رح ) نے فرمایا کہ محرم وہ مہینہ ہے جب شمشیر پر خون کی فتح ہوگی تو لوگوں نے تعجب نہیں کیا اور یہی ہوا بھی  خون شمشیر پر فتح پاگیا ۔ کئی سال پہلے یعنی انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے ایک نشست میں حقیر نے اسی بات کو سمجھ انے کے لئے مولانا روم کی زبانی ایک مثال دی اور وہ مثال یہ تھی  کہ ایک شخص تھا  جس نے گھر میں ایک طوطا پال رکھا  تھا  ۔ ایک بار اس نے ہندوستان سفر کا ارادہ کیا ۔ جب وہ اپنے اہل و عیال سے رخصت ہونے  لگا تو اپنے اس طوطے کے پاس بھی  گیا اور اس سے کہا : میں تمہارے وطن ہندوستان جارہا ہوں ( تمہیں اپنے ہم وطنوں سے کچھ  کہنا ہے ) طوطے نے کہا : جب وہاں پہنچو تو فلاں جگہ جانا وہاں میرے بہت سے ساتھی ہوں گے ان سے میرا حال زار بیان کرنا اور کہنا تمہاری طرح کا ایک طوطا میرے گھر میں بھی  ہے جسے میں نے پنجرے میں بند کر کے رکھا  ہے ۔ ( میرا یہ پیغام پہنچا  دینا) اس کے لئے علاوہ مجھے  کچھ  نہیں کہنا ہے ۔ جب وہ ہندوستان پہنچا اور اس جگہ گیا تو دیکھا  کہ درختوں پر بہت سےطوطے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ان کودیکھ  کر کہنے لگا : اے پیارے اور شیریں زبان طوطو ! میں تمہارے لئے ایک پیغام لایا ہوں ۔ تمہارا ایک ساتھ  میرے گھر میں پنجرے میں بند ہے ۔ بہت خوش و خرم ہے ۔ اچھے  سے اچھا کھانا  کھاتا ہے ۔ اور خوب مزے کرتا ہے اس نے تم سب کو سلام کہا ہے ۔

جیسے ہی تاجر نے یہ پیغام سنایا سب طوطےپر پھڑ پھڑا کر  زمین پر گر پڑے ۔ تاجر آگے بڑھا اور دیکھا  کہ سب مر گئے ہیں ۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ آخر میں ایسی بات کیوں کہی جسے سن کر انہوں نے اپنی جان دے دی ۔ لیکن اب تو ہوچکا تھا  کچھ  کیا بھی  نہیں جاسکتا تھا  لہٰذا وہ پلٹ آیا جب گہر آیا تو پنجرے کے پاس جاکر طوطے سے کہنے لگا : میں نے تیرا پیغام تیرے ساتھیوں تک پہنچایا ۔ پوچھا :انہوں نے کیا جواب دیا : کہا: جیسے ہی انہوں نے تیرا پیغام سنا پروں کو پھڑ پھڑاتے ہوئے درختوں سے زمین پر گرے اور مر گئے ۔ جیسے ہی تاجر کی باتیں ختم ہوئی اس طوطے نے بھی  اپنے پر پھڑ پھڑائے اور پنجرے ہی میں ڈھیر ہوگیا ۔ تاجر کو اس بات کا بہت افسوس ہوا اور سوچنے لگا اب تو یہ مر چکا ہے یہاں رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ لہٰذا اس نے پنجڑہ کہول کر اسے پیروں سے پکڑا اور چہت کی طرف اچھا ل دیا ۔ جیسے ہی تاجر نے اسے اوپر اچھا لا وہ اڑتا ہوا ایک دیوار پر جاکر بیٹہ گیا اور تاجر سے مخاطب ہوکر کہنے لگا : بہت بہت شکریہ تم نے خود مجھے  آزادی دلائی ہے ۔ میں مرا نہیں تھا  بلکہ میں نے اپنے کو مردہ بنا لیا تھا  اور یہ درس میں نے اپنے ساتھیوں کے عمل سے سیکھا تھا  ۔ جب ان کو تمہاری زبانی پتہ چلا کہ میں پنجرے میں قید ہوں تو انہوں نے سوچا کہ مجھ سے کس طرح کہیں کہ کیا کروں تاکہ  آزاد ہوجاؤں ؟ انہوں نے عملاً مجھے  بتایا کہ اپنی نجات کے لئے کیا کروں۔ انہوں نے مجھ سے کہا مر جاؤ تاکہ زندگی پاؤ اور میں نے تمہاری زبانی ان کا یہ پیغام سمجھ  لیا ۔ یہ ایک عملی پیغام تھا  جو اتنی دور سے مجھ تک پہنچا تھا  اور میں نے اس سے سبق حاصل کیا ۔ تقریبا بیس سال پہلے ، میں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے مخاطب ہوکر کہا : عزیزان گرامی ! امام حسین (ع) کس زبان میں کہیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟ حالات ویسے ہی ہیں ۔ زندگی وہی ہے ۔ اسلام بھی  وہی اسلام ہے  لہٰذا امام حسین علیہ السلام نے عملا بتایا کہ کیا کرنا  چاہئے ۔ اگر امام عالی مقام اپنی زبان سے ایک لفظ بھی  نہ کہتے تب بھی ہمیں سمجھ  جانا چاہئے تھا  کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے ۔ وہ قوم جو اسیر ہے ، وہ قوم جو قید و بند میں ہے ۔ وہ قوم جس کے حکام فساد کا شکار ہیں ۔ وہ قوم جس پر اسلام کے دشمن حکومت کر رہے ہیں اور اس کی باگ ڈورہاتھ میں لیتے ہوئے ہیں اسے بہت پہلے سمجھ  جانا چاہئے کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے ۔ کیونکہ امام عالی مقام نے عملاً بتا دیا کہ ایسے حالات میں کیا کرنا چاہئے ۔ اسے زبان سے نہیں کہا جاسکتا تھا  ۔ اگر سوبار بھی  زبان سے یہ بات کہتے اور خود نہ جاتے تو ناممکن تھا  کہ یہ پیغام تاریخ سے گزر کر ہم تک پہنچتا ۔ صرف نصیحت کرنا اور زبان سے کہنا تاریخ سے آگے نہیں بڑھتا  کیونکہ ہزاروں طرح سے ان باتوں کی توجیہ اور تاویل کی جاتی ہے ۔ لہٰذا عمل ہونا چاہئے اور وہ بھی  ایسا عظیم سخت اور فداکاری کے ساتھ  کہ جیسا امام عالی مقام نے انجام دیا ۔ ( ۳۱ )

بعثت بغیر ہجرت

آج ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ اقوام عالم کو یہ سمجھ ائیں کہ وہ بعثت جس میں ہجرت نہ ہو وہ اسلام کامل نہیں ہے ۔ وہ دین جس میں دین کی سیاسی طاقت احکام الٰہی کا نفاذ ، اسلامی نظام کی بنیاد اور معاشرے کے پہلواگر قرآن کے مطابق نہ ہوں تو وہ کامل اسلام نہیں ہے بلکہ ایک ناقص اسلام ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جس سے آج عالمی استکبار اور اس کے حواری سخت خائف ہیں ۔

آپ نے دیکھا  ہوگا مکہ کے حادثہ میں ، اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی  یہ بات واضح اور روشن تھی  ۔ اس مادی دنیا کے حکمران اور عالمی استکبار کے نو کر اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ جتنا ممکن ہوسکے یہ ثابت کریں کہ دین کا سیاسی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دین معاشرے کی باگ ڈور نہیں سنبہال سکتا اور معاشرے کے سیاسی و اجتماعی مسائل احکام خدا کے ذریعہ حل نہیں کئے جاسکتے ۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ دین کو سیاست سے بالکل الگ رکہیں ۔

سن ۶۱ ہجری میں واقعہ کربلا ہجرت پیغمبر کا تسلسل تھا  فرق صرف یہ ہے کہ پیغمبر ایک اسلامی اور دینی نظام کی بنیاد ڈالنا چاہتے تھے  اور امام حسین علیہ السلام اس نظام کو زندہ کرنا چاہتے تھے  کیونکہ یہ نظام بنی امیہ اور دشمنان دین کے ہاتھوں  انحراف کا شکار ہوگیا تھا  ۔

یہ ہے واقعہ عاشورا کی صحیح تفہیم اور مسألہ ہجرت کی صحیح تفسیر ۔ محرم انہیں خصوصیات کی وجہ سے اسلامی معاشرے بالخصوص شیعہ معاشرے میں ایک خاص اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ البتہ جیسا کہ پہلے بھی  عرض کیا یہ صرف شیعوں سے مخصوص نہیں تھا  غیر شیعہ اسلامی ممالک میں بھی  محرم ، عاشورا اور مصیبت اہل بیت لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے جس کی ایک لمبی داستان ہے ۔ ( ۳۲ )

انجمن ، صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں

انجمن، حسین ابن علی ، مجلس عزا ، سینہ زنی ، نوحہ و ماتم وغیرہ کے نام پرجذباتی اور فکری اجتماع کا نام ہے ۔ یعنی بعض لوگ جمع ہوتے ہیں ان کاموں کے لئے اور ان کے کام کی بنیاد جذبات اور فکر دونوں ہیں صرف جذبات نہیں ۔ اگر صرف جذبات ہوں تو اس کا زندگی میں کوئی رول اور اثر نہیں ہوتا اور اسی طرح اگر خشک فکر ہو بغیر جذبات کے تو یہ نفوذ اور بقا نہیں رکھتی  ۔ فکر اس وقت شاداب ہوتی ہے جب جذبات سے ہم آہنگ ہوجائے ۔ اور اس محور بھی  سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی ہے ۔ ایک ایسا چشمہ جو کبھی  خشک نہیں ہوسکتا ایک ایسا دریا جس کی گہرائی تک انسان نہیں پہنچ سکتا البتہ فکر ب اور جذبات دونوں کے ساتھ ۔ ( ۳۷ )

محرم کے ان شب و روز کی قدر سمجھئے اور عزاداری کیجئے اور اس عزاداری میں امام عالی مقام سے درس حاصل کیجئے ۔ عزاداری صرف رونے کا نام نہیں ہے ۔ گریہ ایک وسیلہ ہے دلوں کی پاکیزگی قلوب کی طہارت اور حسین ابن علی کی عظمت کو سمجھ نے کا ۔ اس عزاداری سے درس لینا چاہئے ۔ انشاء اللہ خدا سید الشہداء علیہ السلام کی نظر لطف و عنایت کو اس قوم کی طرف موڑے اور ان کی دعا کو ہمارے حق میں قبول فرمائے اور ہمیں واقعی شیعہ ، اہل بیت کاحقیقی پیرو کار اور سچا مسلمان       قرار دے ۔ ( ۳۶ )

شیعہ سنی اتحاد

عزاداری کبھی  بھی  شیعوں سے مخصوص نہیں رہی ہے بلکہ ہر وہ مسلمان جس کے دل میں اہل بیت کی محبت رہی ہے ان کے مصائب بر غمگین  اور عزادار رہا ہے ۔ اور انہوں نے مختلف طریقے سے اس محبت اور عشق کا اظہار کیا ہے مرثیہ خوانی کے ذریعہ ، مذہبی انجمنوں میں عزاداری بپا کر کے اور مجلس و ماتم کے اجتماع کی شکل میں ۔ مراسم عزا نہایت مقدس اور محترم ہیں ہم اپنے ملک میں ہمیشہ صحیح شکل اور پر امن صورت میں ان مراسم کے حامی اور محرک رہے ہیں اور ہمارا اعتقاد ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی  جہاں جہاں موالیان اہل بیت رہتے ہیں یہ مراسم نہ صرف یہ کہ ان کی انجام دہی میں کوئی حرج  نہیں ہے بلکہ بہت اچھا  ہے اور قابل قدر ہے ۔ البتہ شیعہ سنی دونوں کو اس بات کا خیال رکھنا  چاہئے کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے عالمی استکبار کو اختلاف کی آگ بھڑکانے کا موقع ملے ۔ ان مراسم میں کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے دوسرے فرقوں کی توہین ہوتی ہو ۔ برادران اہل سنت کو اس بات کی طرف مکمل توجہ دینی چاہئے کہ آج عالم استکبار کا مقصد اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف ڈالنا ہے جیسے شیعہ سنی میں اختلاف ۔ لہٰذا اس دشمن سے دہوکہ نہ کہائیں ۔ عاشورا تاریخ اسلام کا ایک عظیم سانحہ ہے اور محرم میں  امام حسین ان کے اصحاب با وفا اور ان کی اولاد کی شہادت کی یاد منانا ہمارا ایک اسلامی فریضہ ہے اور صرف وہی لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ جو حسین ابن علی اور بزرگان دین کے مقصد سے نا آشنا ہیں یا پھر  مخالف ہیں ۔ عالمی استکبار شدت سے عزاداری اور عاشورا سے خائف ہے اسی لئے اس کی مخالفت کرتا ہے ۔ ( ۶۸ )

 

پروگرامنگ ضروی ہے

محرم و صفر بہت حساس اور اہمیت کا حامل مسألہ ہے ۔ محرم و صفر کے لئے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ہے ایک خاص پروگرامنگ ۔ مثلا ایک کمیٹی بنائی جائے جو محرم آنے سے پہلے اس کے بارے میں پروگرامنگ کرے کہ آنے والے محرم و صفر میں حالات کو مد نظر رکھتے  ہوئے کون سے موضوعات اہم ہیں ۔ ان سے متعلق مواد و مطالب اکٹھا کئے جائیں اور ایک مرکز یا ایک Instituteانہیں علما و ذاکرین اور خطبا و واعظین کے حوالے کرے ۔ ان سے کہا جائے کہ مثلا آج ان موضوعات اور ان مطالب کو بیان کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس سے بھی  بڑھ کر کہا جائے کہ اس لہجہ ، اس روش اور اس سیاست کی ضرورت ہے ۔

ایک ایسی پروگرامنگ ابھی  تک نہیں ہوسکی ہے ۔ البتہ پہلے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پروگرامنگ کی کیسے جاتی ہے ۔ کہاں سے شروع کی جائے ؟ اس سلسلے میں کن لوگوں سے رائے لی جائے ؟ اور حاصل شدہ مواد کو کس طرح مختلف افراد تک پہنچایا جائے ۔ قرآنی موضوعات حدیثی موضوعات ، عالمی ، مسائل وغیرہ ۔ بہر حال آج ہمارے پاس اسلامی جمہوریہ کا نظام ہے ۔ آج ہم ایک مجموعہ کی شکل میں ہیں ۔ یک و تنہا نہیں ہیں ۔ آج ہمارے پاس ایک نظام ہے ۔ آج ہمارے  لئے یہ نقص و عیب کی بات ہے کہ تبلیغ کا موسم آئے ، ہمارے پاس افرادی قوت بھی ہو لیکن اس کے لئے ہم نے پہلے سے کوئی پروگرامنگ نہ کی ہو ۔ ( ۳۸ )

سب کافریضہ ہے

اگر میں پورے ملک کی مجالس عزا اور عزاداری کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا  چاہوں تو یہ فیصلہ سو فیصد صحیح نہیں ہوسکتا ۔ لوگوں کی محبت ، خلوص ، ارادت ، وفاداری اور ایمان کے بارے میں کوئی شک و شبہہ  نہیں ہے ۔ بعض اہل منبر اور مجالس بہت جذاب اور امتیازی حیثیت کی حامل ہیں ۔ بعض عزاداریاں بہت اچھی ہیں لیکن سب کچھ  یہی نہیں ہے ۔

آج ہمیں پوری کوشش اور ہمت کرنی چاہئے کہ انہیں مجالس عزا کی برکت سے حسین ابن علی کے دئے ہوئے درس کو اپنی پوری قوت و توانائی کے ساتھ  معاشرے کے ذہنوں میں اتاریں کیونکہ آج بحمد للہ ہماری زندگی کی فضاؤں میں            امام حسین ( ع ) ، جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا ، جناب علی اکبر ، حضرت ابو الفضل العباس اور دوسرے بزرگ افراد موجودہیں اور زندگی کا درس دینے والے یہ سب معلم ہمارے درمیان زندہ ہیں (بل احیاء) یہ وہ کام ہے جو میرا ، آپ کا ، نوحہ خواں کا ، خطیب کا ، ماتمی دستوں کا سب کافریضہ ہے ۔ ہمارے پاس ایک خاص ہنر ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے ۔ کوئی بھی  مذہب یا قوم ایک تو اسے اس طرح مجسم نہیں کر پائی جس طرح ہم نے کیا ہے  اور دوسرے یہ کہ اسے بقا نہیں دے سکی اس طرح کہ ایمان و جذبات  ایک ساتھ  مل جائیں اور ایک زندہ تحریک کو وجود میں لائیں جو دن بدن اور زندہ ہوتی جائے ۔ آپ کی آج کی عزاداریاں حقیر کی جوانی کے ایام کی عزاداریوں سے زیادہ پر جوش اور بہترین ہیں اور یہ فیضان اسی طرح جاری ہے ۔ اب اس کی برکتیں بھی  ظاہر ہونی چاہئیں ۔ ( ۳۹ )

تبلیغ ،  حاکمیت اسلام کے زمانے میں

چند صدیوں سے ایران اور دنیا کی ان جگہوں پر  جہاں موالیان و پیروان اہل بیت رہتے ہیں ، ماہ محرم میں تبلیغ کی سنت جاری و ساری ہے ۔

اسلام کی حاکمیت کے زمانے اور عدم حاکمیت کے زمانے میں تبلیغ میں کافی فرق پایا جاتاہے ۔ ان دونوں زمانوں میں تبلیغ کا بنیادی فرق یہ ہے کہ حاکمیت اسلام کے زمانے میں دین مسائل زندگی کے ایک مجموعہ کو کہا جاتا ہے جس میں سیاست بھی  ہے ، حکومت کی باگ ڈور سنبھالنا اور چلانا بھی  ہے خارجہ تعلقات کے مسائل بھی  ہیں ، دنیا کے مختلف گروہوں کے مقابل مسلمانوں کا اپنا نقطہ نظر بھی ہے ، اقتصادی مسائل بھی  ہیں لوگوں کے ایک دوسرے سے روابط اور زندگی کے مختلف امور میں اخلاق کی رعایت بھی  ہے ۔ دین ایک مجموعہ ہے جو انفرادی اور اجتماعی مسائل کو شامل ہیں ، اس میں وہ مسائل بھی ہیں  جو سب مل کر انجام دیتے ہیں اور وہ مسایل بھی ہیں جو اگرچہ اجتماعی ہیں لیکن ایک ایک شخص بھی بھی انہیں انجام دے سکتا ہے اور وہ مسائل بھی  ہیں جو دنیا اور ملک کی تقدیر کےساتھ  جڑے ہیں ۔ جب ہم تبلیغ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے ان تمام مسائل کی تبلیغ ۔

آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تبلیغ اس تبلیغ سے کتنی مختلف ہے جو ہم اسلامی اور الہی حکومت کے قیام سے پہلے کیا کرتے تھے  ۔ اس وقت اتنا ہی کافی تھا  کہ ہم جس چیز کی تبلیغ کرنا چاہتے اس سے صحیح طور پر آشنا ہوں جو ایسا ہوتا تھا  اسے ایک اچھا  مبلغ کہا جاتا تھا  ۔ لیکن آج اگر پوری دنیا اور کم از کم اپنے معاشرے کے حالات سے اچھی  طرح واقف نہ ہوں تو ہم ایک اچھے  مبلغ نہیں بن سکتے چاہے اس موضوع کے بارے میں ہماری معلومات کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہوں ۔

آج ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں جو بات کہنی ہے وہ کہاں سے مربوط ہوتی ہے ۔ عالمی سطح پر یا ملکی سطح پر ۔ یہ کس گروہ کے حق میں ہے اورکس گروہ کےخلاف ،بالکل ایک میدان جنگ کی طرح ۔کبھی  انسان ایک دشمن سے روبرو ہوتا ہے اور دفاع کرتا ہے  یہ دفاع کی ایک قسم ہے ۔ اور کبھی  چند کلو میٹر کا پورا مورچہ اس سے رو برو ہوتا ہے اور وہ دفاع کرنا چاہتا ہے ہر دفاع کی نوعیت دوسری ہوگی ۔کبھی مصلحت آگے بڑھنے کی ہوتی ہے اور کبھی  پیچھے ہٹنے کی ۔ کبھی  ایسا بھی  ہوتا ہے کہ انسان یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ وہ دشمن پر حملہ کر رہا ہے لیکن در حقیقت وہ خود کو نشانہ بنائےہوتا ہے ۔ (۴۰)

زمانے کی ضرورت کو پہچانیں

یہ راہ جاری ہے ۔ اب کون اس مشینری کو ، اس تحریک اور اس شگفتہ و شاداب قافلہ کو آگے بڑہائے گا ؟

( اس کا جواب ہے ) مبلغ حضرات جن میں سر فہرست انبیائے الٰہی اور بندگان صالح تھے  ۔ بالکل ایک شمع کی طرح جو پروانوں کو متحرک کرتی رہتی ہے ۔

چون شمع تازیانھ ای پروانھ ایم ما    عشاق را بھ تیغ زبان گرم می کنیم

ایک مبلغ اپنی زبان ، اپنے دل ، اپنی جان ، اپنی روح ، اپنی ہمت اور اپنی روشن نگاہ کے ساتھ  آگے بڑھتا  ہے ۔ ہر زمانے میں دینی مبلغ کا ہنر یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو اس کی ضرورتوں سے آگاہ کرے ۔ اس لئے زمانے کی ضرورتوں کی شناخت بہت ضروری ہے ۔ معیارات بہت اہمیت رکھتے  ہیں۔ شیطان اہل دین کی جماعتوں میں ہمیشہ تحریف کا سہارا لیتا ہے اور غلط راستہ دکھاتا  ہے ۔ اگر اس کے لئے یہ کہتا ممکن ہوتا کہ " دین کو چھوڑ  دو " تو وہ ایسا ہی کرتا ہے   تا کہ شہوتوں اور مضر پروپیگنڈوں سے لوگوں کے دینی ایمان کو سلب کر لے ۔ اگر اس سے یہ کام نہ ہوسکے تو دین کی چیزوں کو الٹا بنا کر پیش کرتا ہے ۔ جیسے آپ ایک سڑک پر چلے جا رہے ہوں ( آپ کو کسی ایسی جگہ جانا ہو جہاں کا راستہ خود آپ کو معلوم نہ ہو ۔ اب سڑک پر اس راستے کی راہنمائی کے لئے کوئی راہنما پتہر لگایا گیا ہو لیکن کوئی خائن آکر اس پتہر کا رخ دوسری طرف موڑ دیتا ہے ۔ ( ۴۲ )

منبرکا بیان انسان ساز اور فکر ساز ہونا چاہئے

واقعہ عاشورا کو صرف تاریخ میں نہیں سمجھ نا چاہئے بلکہ ہر زمانے میں دیکھ نا چاہئے، یزیدی شخصیت کے عناصر کہاں پائے جاتے ہیں پھر  اس وقت اس  کےمقابلے میں حسینی شخصیت کے عناصر کو میدان میں اتارنا چاہئے ۔ لہٰذا معرفت اور شناخت نہایت ضروری ہے ۔ انجمنوں ، مجالس اور عزاداریوں کی ایک ذمہ داری اسی مسالہ کی تبیین و توضیح ہے ۔

البتہ ان کی دوسری ذمہ داری قرآن ، دین اور ان اسلامی معارف کے بیان کی ذمہ داری ہے جن پر امام حسین قربان ہوئے ۔ امام حسین ( ع ) اور دیگر ائمہ نے اپنے آپ کو فدا کیا تا کہ یہ معارف باقی رہیں ۔ ان مجالس میں یہ چیزیں بتائی جانی چاہئیں ۔ آپ ان مجالس کا ان نشستوں سے موازنہ کیجئے جن میں ایک انسان دو گہنٹے تک بیٹھتا  ہے لیکن آخر میں دیکھتا ہے کہ اسے کچھ  حاصل نہیں ہوا ۔ ہماری بعض مجالس بھی  ایسی ہی ہیں ۔ لہٰذا صرف یہ کافی نہیں ہے کہ مجالس ہو بلکہ اس میں مجلس کی روح بھی  ہونا چاہئے اب یہ کیسے حاصل ہوگی ؟

( اس طریقہ یہ ہے کہ ) سب سے پہلے آپ کے اہل منبر اور آپ کی مجالس کارساز ہوں ۔ یعنی اس طرح کی مجالس ہوں کہ اگر ایک انسان تین سال تک آپ کی مجالس میں شرکت کرے تو تین سال بعد وہ ایک عام آدمی نہ ہو بلکہ وہ ایک آگاہ ، آشنا اور معلومات رکہنے والا انسان ہو ۔ منبر کو انسان ساز اور فکر ساز ہونا چاہئے ۔ البتہ یہ بات مجھے  منبروں پر بھی  کہنی چاہئے اور کہتا بھی  ہوں ۔ لیکن آپ لوگوں سے کہنا بھی  ضروری سمجھ تا ہوں کیونکہ آپ خطیب کا انتخاب کرتے ہیں ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خود نوحہ خوانی اور سینہ زنی وغیرہ میں بھی  جدید حسینی مسائل ،معرفت و آگاہی کی فضا ہونا چاہئے ۔ شاید آپ میں بہت سے لوگوں کو یاد ہوا اور ممکن ہے بہت سے افراد کو یاد نہ ہو کہ انقلاب سے پہلے کا آخری محرم ایسا تھا  کہ اس میں جو نوحے وغیرہ پڑھے  جاتے تھے  اور ان کی جو کیسٹیں نشر ہوتی تھیں وہ ایسے نوحے ہوتے تھے  جن میں طاغوتی نظام کی مذمت پائی جاتی تھی  ۔ مجھے  اس زمانے میں شہر بدر کر دیا گیا تھا  شیراز اور رفسنجان سے میرے لئے یہ کیسٹیں لائی گئیں اور میں نے سنا ۔ آپ ان کیسٹوں کو سنیں ۔ عزاداری اس طرح کی ہونی چاہئے ۔ ان دنوں مجالس میں برسر اقتدار طاغوتی نظام کی بات ضرور ہوتی تھی ۔ آج الحمد للہ طاغوتی نظام نہیں ہے ۔ لیکن بہت سی دوسری باتیں اور موضوعات ہیں جنہیں بیان کرنے کی ضرورت ہے ۔

یہ تمام مسائل جن کی طرف آج اسلامی جمہوریہ توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے دین کے بنیادی مسائل ہیں اور سب کے سب حسینی بھی  ہیں مثلاً عدالت ، برائیوں سے مقابلہ ، عالمی استکبار سے جنگ ، بے انصافی سے مقابلہ صالح افراد انتخاب اور ان کو محور بنانے کا مسألہ وغیرہ یہ سب مسائل ہمارے ماتمی دستوں میں آنا چاہئے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب نوحہ ، مصائب ، گریہ اور نالہ و شیون سے سازگاری رکھتے  ہیں ؟ جی ہاں ! اس لئے کہ یہ تمام چیزیں واقعہ کربلا کے عناصر ہیں ۔ یہ ایک عجیب اور چند عناصر کی ترکیب ہے ۔ ( ۴۳ )

اس تبلیغ کا مقصد انسان سازی ہے

ہماری تبلیغ میں ان تینوں عناصر یعنی عطوفت ، منطق اور حماسہ کا اہم رول ہونا چاہئے ۔ صرف جذباتی پہلو کو اجاگر اور عقل و منطق کے پہلو کو نظر کرنا کربلا کے واقعہ میں پوشیدہ ہے  اس تحریک کومحدود کرنے کے مترادف ہے اور اسی طرح حماسہ کے پہلو کو نظر انداز کرنا بھی  اس عظیم واقعہ کو چھوٹا کرنے اور ایک قیمتی گوہر کو توڑنے کے مترادف ہے ۔ تمام خطباء مقررین اور شعرا کو اس نکتہ کی توجہ دینی چاہئے ۔

تبلیغ کا کیا مطلب ہے ؟ تبلیغ یعنی پہونچانا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ پہونچایا جائے ۔ کہاں پہنچایا جائے ؟ کان تک پہنچایا جائے ؟ جی نہیں ! بلکہ دل تک پہنچایا جائے ! ہماری بعض تبلیغیں کانوں تک بھی  نہیں پہنچتیں ۔ کان بھی  انہیں درک نہیں کر پاتے ۔ جب کان نے درک کرلیا تو وہ ذہن کے حوالے کرتا ہے ۔ صرف یہیں تک محدود نہ رہا جائے بلکہ یہ پیغام دل تک پہنچے ، اس میں راسخ ہوجائے اور سامع کے اندر ایک انقلاب آجائے ۔ یہ ہے تبلیغ کا مقصد ہم اس لئے تبلیغ کرتے ہیں تاکہ جس موضوع کو بیان کر رہے ہیں وہ مخاطب کے دل میں اتر جائے ۔ اور وہ موضوع کیا ہو ؟ ہر وہ چیز جو امام عالی مقام کی جان ، عزت و ناموس اور اہل حرم کی نظر میں ایک قدر کے عنوان سے پہچانا گیا ۔ اگر چہ تمام انبیائے الٰہی ، اولیائے خدا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی سب نے یہی کیا لیکن اس کا مظہر کامل حسین ابن علی کی شخصیت ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دینی اقدار ، دینی اخلاق اور ان تمام چیزوں کی تبلیغ کریں جو دین کی بنیاد پر انسانی شخصیت میں اثر انداز ہوتی ہیں تاکہ ہمارا مخاطب اسی دینی شخصیت میں بدل جائے ۔ آپ قرآن کریم کی آیات کودیکھیں ( تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ) انسان سازی ہی اس تبلیغ کا مقصد ہے اور یہ بہت بڑا کام ہے ۔ ( ۴۴ )

برا دفاع ، خطرناک ہے

مخاطب کے دل و دماغ اور فکر و روح کو تعمیر ، آباد اور سیراب کرنا چاہئے ۔ البتہ اس کے لئے ایک باطنی سر چشمہ کی ضرورت ہے ۔ ہمارے اندر کچھ  ہونا چاہئے تاکہ مخاطب پر اثر انداز ہو ورنہ یہ کام نا ممکن ہے ۔ اور وہ باطنی سرچشمہ ہے عقل و منطق ۔ ہمارے پاس سالم عقل و منطق ہونی چاہئے تاکہ کوئی ہے معنی بات نہ کہیں ۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ناقص اور برے دفاع کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے بالکل صحیح کہتے ہیں ۔ جب دین کا دفاع کمزور اورغیرمحکم ہوگا تو اس کا اثر خود دین پر حملہ کرنے سے زیادہ خطرناک ہے ۔ ہمیں اس سے خدا کی پناہ مانگنا چاہئے ۔ ہم جو کچھ  بھی  تبلیغ کے نام پر کہہ رہے اس میں ہرگز کوئی عبث ، بے معنی اور بچکانہ بات نہیں ہونی چاہئے ۔ کبھی  ایسا ہوتا ہے کہ کسی کتاب میں کوئی ایسی حکمت یا اخلاقی بات ہوتی ہے جس کی کوئی سند نہیں ہوتی ۔ یہاں سند کی ضرورت نہیں ہے اسے بیان کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن کبھی  ایک ایسی بات ہوتی ہے جو مخاطب کے فہم و تصور سے بہت بعید ہوتی ہے ایسی بات نہیں کہنی چاہئے کیونکہ یہ بات اسے اصل مطلب سے بھی  دور کردے گی اور اس کے دل و دماغ میں دین اور اس مبلغ دین کی کوئی اہمیت نہیں رہ جائے گی اور وہ یہ تصور کرے گا کہ اس کے پاس عقل و منطق نام کی کوئی چیز نہیں ہے جب کہ ہمارے کام کی بنیاد منطق ہے ۔ لہٰذا منطق اس تبلیغ کا اصل عنصر ہے ۔ ( ۴۸ )

بیان ہنر مندانہ ہونا چاہئے

میری نظر میں منبر کی بہت اہمیت ہے ۔ آج انٹرنیٹ ، سیٹلائٹ ، ٹیلی ویژن اور دوسرے ذرائع ابلاغ بہت زیادہ ہیں لیکن ان میں سے کوئی منبر نہیں ہے ۔ منبر یعنی آمنے سامنے ہوکر گفتگو کرنا یہ اپنا ایک اہم اور واضح اثر رکھتا  ہے جو کسی بھی  دوسری چیز میں نہیں ہے ۔ اس کی حفاظت اور بقا بہت ضروری ہے کیونکہ بہت اہم چیز ہے یہ البتہ بیان ہنر مندانہ ہونا چاہئے تاکہ اثر انداز ہو ۔ امام سجاد علیہ السلام ایک جگہ خداوند متعال سے فرماتے ہیں ( تفعل ذالک یا الٰھی بمن خوفھ اکثر من رجائھ لا ان یکون خوفھ قنوطا ) میرے اندر خوف امید سے زیادہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں مایوس ہوں یہ ایک عام دستور العمل ہے جو بیان کیا جارہا ہے ۔ امید کے ساتھ  دل میں خوف بھی ہونا چاہئے بلکہ خوف زیادہ ہونا چاہئے۔

یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم صرف آیات رحمت کو پڑہیں ( جب کہ ان آیات بشارت میں سے بہت سی مومنین کے ایک خاص گروہ کے لئے ہیں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ) اور لوگوں کو غفلت کا شکار بنائیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوکہ لوگ اس خیال خام میں پڑجائیں کہ وہ معنویت میں غرق ہیں جب کہ وہ واجبات دین اور ضروریات دین سے غافل ہوں ۔ قرآن کریم میں بشارت مخصوص ہے مومنین سے لیکن انداز یعنی ڈراناسب کے لئے ہے ۔ انذار کا تعلق مومنین سے بھی  ہے اور کافرین سے بھی  ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رو رہے ہیں ایک شخص عرض کرتا ہے اے اللہ کے نبی خدا فرماتا ہے ( لیغفرک لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ) پھر  آپ رو کیوں رہے ہیں ؟ جواب دیا : ( اولا اکون عبدا  شکورا ) یعنی اگرمیں اس مغفرت کا شکر ادا نہ کروں تو مغفرت کی بنیاد کمزور ہوجائے گی بہر حال انذار ہمارے دل و سماعتوں پر حاکم ہونا چاہئے ۔ راستہ بہت دشوار ہے، انسان کو چاہئے کہ خود کو یہ راستہ طے کرنے اور منزل تک پہنچنے کے لئے تیار کرے ۔ ( ۴۹ )

قمہ زنی ایک خلاف شریعت عمل ہے

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات عزاداری کے سلسلے میں بے بنیاد ، غلط اور خرافاتی باتیں کہی جاتی ہیں ۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ بات غلط نہ بھی  ہو لیکن صحیح بات بھی  اگر غیر مستند اور بے بنیاد طور پر کہی جائے یا ایسی بات کہی جائے جو لوگوں کے ایمان کو کمزور کرتی ہو اور مخاطبین کی سمجھ  سے باہر ہو تو وہ بھی  نقصان دہ ہے ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اگر کوئی عالم یا کوئی ذمہ دار شخصیت ایک حق بات کہے تو یہ کہہ کر ایک تحریک کھڑی کی جائے کہ اس بات سے عزاداری پر حرف آرہا ہے ( اور عزاداری خطرے میں ہے ) جیسا کہ ہم نے دیکھا  کہ قمہ زنی کے معاملے میں ایسا ہی ہوا ۔ ہماری نظر میں قمہ زنی یقینی طور پر ایک خلاف شریعت عمل تھا  اور ہے ۔ ہم اس کا اعلان کر چکے ہیں اور علماء و بزرگان نے بھی  اس کی حمایت کی ہے لیکن بعد میں ہم نے دیکھا  کہ ملک کے بعض حصوں میں اس کا الٹا کیا جارہا ہے ۔ اگر قمہ زنی میں کوئی حرج  نہ بھی ہو اور حرام نہ بھی  ہو تب بھی  واجب تو نہیں ہے ۔ پھر  آخر ان چیزوں پر اتنا زور کیوں دیا جاتا ہے جن میں سے بعض خرافات ہیں ؟ اور وہ کام بھی  جو محض خرافات نہیں ہیں وہ بھی  اس ٹیکنا لوجی کی دنیا میں، آج کے رائج تمدن اور ثقافت میں ہمارے گہروں ، جوانوں ، لڑکوں اور لڑکیوں میں موجود عقلانیت پر الٹا اثر رکھتے  ہیں ۔ یہ شریعت کے واضحات میں سے نہیں ہیں کہ کہا جائے چاہے دنیا کو اچھا  لگے یا برا ہم تو کہیں گے ۔ ان چیزوں میں بہر حال شک و تردید پائی جاتی ہے ۔ ( ۵۰ )

مضر پیرائے

محرم سے مضر پیرایوں کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ بعض چیزیں ہیں جو صرف پیرا یہ ہیں یعنی نہ نقصان دہ ہیں اور نہ جھوٹ ۔ جو بھی  ایک ہنر مندانہ انداز میں کسی واقعہ کو بیان کرنا چاہتا ہے وہ فقط اس واقعہ کے متن کو نہیں دہراتا ۔ جب آپ سنتے ہیں کہ کسی شخص نے خاص حالات میں یہ باتیں کہی ہیں تو آپ ان باتوں کے متکلم کے احساسات و جذبات  کا بھی  اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ یہ ایک طبیعی چیز ہے ۔ جب ایک شخص ایک صحرا یا بیابان میں ایک لشکر کے سامنے کوئی بات کہتا ہے ( البتہ اس شرط کے ساتھ  کہ بات کس طرح کی ہے دعوت ہے ، التماس ، دہمکی ہے یا … )تو قاعدہ یہ ہے کہ  اس متکلم کے ذہن و روح میں کہ خاص کیفیات ہوتی ہیں جو ایک عاقل سامع کے لئے قابل ادراک اور ایک مقرر کے لئے قابل بیان ہوتی ہیں ۔ ان چیزوں کے بیان میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔ جب ہم چاہیں کہ امام حسین ( ع ) اور ان کے اصحاب کے حالات بیان کریں  ( البتہ جتنا معتبر کتابوں میں ملتا ہے ) تو یقینا اس بیان کی کچھ  خصوصیات اور کیفیات ہوں گی مثلا اگر امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے کچھ  کہا تو آپ اس کو اس انداز میں بیان کر سکتے ہیں : رات کی تاریکی میں یا اس رات کی غمناک اور المناک تاریکی میں یا اس طرح کی دوسری تعبیرات ۔ یہ پیرا ئے یا طریقےنہ مضر ہیں اور نہ ہی جھوٹ  ہیں ۔ لیکن بعض پیرائے جھوٹ  ہوتے ہیں اور بعض باتیں جو نقل کی جاتی ہیں خلاف حقیقت ہوتی ہیں یہاں تک کہ بعض وہ چیزیں جو کتابوں میں لکھی گئی ہیں وہ  حسینی تحریک اور قیام کی شان سےمناسبت نہیں رکھتی ہیں ۔ اب پہچاننے اور الگ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ( ۵۱ )

مرثیہ یعنی عاشور کی یاد کو زندہ رکھنا  

جب سے امام حسین علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی اسی وقت سے امام کی عزاداری اور مرثیہ خوانی شروع ہوگئی ۔ امام کی سب سے پہلی مرثیہ خوان خود جناب زینب کبریٰ تھی ں ۔ امام عالی کے سراہنے آئیں اور فرمایا : ( بابی المظولم حتی قضیٰ ) میرا باب آپ پر فدا ہو کہ مظلوم اس دنیا سے گئے ہو ( بابی العطشان حتی مضی ) میرا باپ آپ جیسے شہید پر قربان کہ تشنہ لب شہید ہوئے ۔ یہ تھا  امام حسین علیہ السلام پر مرثیہ جس کی بنیاد جناب زینب سلام اللہ علیہا نے ڈالی ۔

یہ بات یاد رہے کہ امام حسین علیہ السلام پر مرثیہ یعنی ان کی یاد کو زندہ رکھنا ، یعنی اس آگ کو شعلہ ور رکھنا جو امام حسین نے روشن کی تاکہ ظلم و ستم اور متکبر و مستکبر کو اس میں جلا ڈالیں ۔ اب اس آگ کو جلائےرکھنا ہماری ذمہ داری ہے جس کا طریقہ عزاداری ، مرثیہ خوانی اورتعزیہ داری ہے ۔ البتہ اس تعزیہ داری کے کچھ  شرائط ہیں ۔ اگر ان شرائط پر عمل ہوا تب تو آپ نے تعزیہ داری کی ہے اور اگر ان شرائط کو پورا نہیں کیا تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ نہ صرف تعزیہ داری نہ کی بلکہ خطا بھی  کی ہو ۔

پہلی شرط

سب سے پہلی شرط مطالب کا ہونا ہے ۔ ہم صرف جذبات کی بنیاد پر توگریہ نہیں کرنا چاہتے ۔ ایک آدمی اپنے گلے سے غمناک آواز نکالے اور ہم رونے لگیں ۔ ممکن ہے چار آدمی غزل سن کے بھی  رو دیں صرف اپنے لطیف احساسات کی بنیاد   پر ،لیکن ہم لطیف احساسات کی بنیاد پر نہیں رونا چاہتے بلکہ امام حسین علیہ السلام پر رونے کے لئے ضروری ہے کہ گریہ ان کے مصائب کے تذکرہ اور یاد کے ساتھ  ہو ۔ لہٰذا جو کچھ  بھی  کہا جائے ، جو کچھ  بھی  پڑہا جائے جو کچھ  بھی  گنگنایا جائے وہ مفید مطالب پر مشتمل ہو ۔ یہ پہلی شرط ہے ۔

محتشم کے شعروں کو دیکھئے اس میں انقلاب ، اسلام اور مقابلہ کی باتیں ہیں لیکن اس نے واقعہ عاشورا کو بہت ہنر مندانہ انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اگر شعر اس طرح کے ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ بلکہ ایسے اشعار کہے جائیں تا کہ واقعہ کربلا کی عظمت اجاگر ہو ۔

دوسری شرط

دوسری شرط یہ ہے کہ مطالب گمراہ کن نہ ہوں ۔ بعض باتیں ، بعض اشعار اور بعض بیانات واقعاً گمراہ کن ہوتے ہیں ۔ یعنی بعض باتیں ایسی ہیں جو سراسر جھوٹ  ہیں ۔ غیر واقعی اور غلط واقعات جو کسی بھی  معتبر کتاب میں دیکھنے  کو نہیں ملتے۔ مثلا ایک شخص نے اپنی طرف سے کچھ  باتیں لکھ دیں اب دوسرےبھی  پڑھنےلگے اس طرح کی باتیں نہیں پڑھنی چاہئے ۔ سید ابن طاووس کی " لہوف " ، شیخ محمد عباس قمی کی " نفس المہموم " خود امام حسین کے خطبات اور اقوال ان سب کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔ اور وہ باتیں جو گمراہ کن ہیں نہیں پڑھنی جانا چاہئیں ۔

تیسری شرط

تیسری شرط یہ ہے کہ عزاداری حرام کام کے ساتھ  مخلوط نہ ہو ۔ ایک ایسی طرز اور  ایساترنم جسے انسان دور سے سنتا ہے لیکن سمجھ  نہیں پاتا کہ کیا پڑھا جا رہا ہے ۔ صرف اتنا سمجھ تا ہے کہ ایک غیر شرعی اور غیر اخلاقی دہن ہے ایسی دہن کا استعمال عزاداری میں کیوں کیا جائے ؟ وہ ترنم اور دہن جو ایک فاسد گلو کار کلب میں جا کر لہو و لعب والے اشعار کے ساتھ  استعمال کرتا ہے تاکہ بزرگوں اور جوانوں کو گمراہ کرے اب ہم اسی دہن کو استعمال کریں اور صرف اشعار اور مطالب بدل دیں مثلا حسین ، قرآن ، خدا ، شہادت ، خون ، نیزہ ، خنجر اور اس طرح کے الفاظ کا استعمال کریں یہ بہت گہٹیا اور برا کام ہے ۔ ( ۵۲ )

بہترین اور خوبصورت اشعار

ایسا کام ہونا چاہیے کہ جہاں چند انقلابی اور حزب اللّہی جوانوں کا گروہ عزاداری بپا کرتا ہے ان کے درمیان پڑھے  جانے والے اشعار سراپا معرفت ہوں ۔ ابھی  مجھے  کہیں نظر نہیں آرہا ہے کہ اشعار سراپا درس اور معرفت ہوں اس کے لئے کس سے مدد لی جائے ؟ بہترین شاعر ، بہترین مفکر اور بہترین اشعار سے استفادہ کیجئے نہ کہ عوامانہ اشعار سے ۔

لیکن کس تجویز سے یہ کام کیا جائے ؟ ایک شعر شناس کی تجویز سے نہ کہ انجمن کے سربراہ کی تجویز ہے ۔ انجمن کا سربراہ ممکن ہے سرے سے شعر ہی سمجھ  نہ پاتا ہو ۔ ہر کام کا ایک ماہر ہوتا ہے ۔ ایک شعر شناس ، ایک دینی اور مذہبی ماہر کی مدد سے جدید ، بہترین بلند و اعلیٰ معارف ان حزب اللہی جوانوں تک منتقل کیجئے ۔

آپ کا دس منٹ یا بیس منٹ کا اجلاس بھی  معارف اسلام سے خالی نہیں جانا چاہئے۔ مرثیہ خوانی وغیرہ میں ابتدا معارف اور نصیحت سے ہونی چاہیے وہ بھی  خوبصورت اور بہترین اشعار میں ۔ قدیم زمانے سے یہی رواج تھا  لیکن اب کم ہوگیا ہے ۔ پہلے ایسا ہوتا تھا  کہ مداح اہل بیت آغاز میں دس ، پندرہ ، بیس شعر میں فقط نصیحت اور اخلاق کی باتیں کرتا تھا  لوگ سمجھ تے بھی  تھے  اور اثر ابھی  ہوتا تھا  ۔ میں پہلے بھی  کہا ہے کہ کبھی  ایسا ہوتا ہے کہ ایک شاعر کے چند اشعار کا اثر ایک خطیب کی ایک گہنٹے کی تقریر سے زیادہ ہوتا ہے البتہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کبھی  کبھی  ہوتا ہے ۔ اگر بہترین اندازہ میں کہا اور پڑہا جائے تو یقینا ایسا ہی ہوگا ۔ ( ۵۸ )

مداحی اور ذاکری ایک با فضیلت منصب

میں بارہا یہ بات آپ کی خدمت میں عرض کر چکا ہوں کہ مداحی اور ذاکری ایک با فضیلت اور با شرف مقام و مرتبہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آج بھی  بحمد للہ عوام بالخصوص جوانوں کا رجحان مداح حضرات کی طرف بہت اچھا  ہے ۔ آپ ملاحظہ کرتے ہوں گے کہ لوگ ان افراد کا استقبال کرتے ہیں ۔ ان سے عشق و لگاؤ کا اظہار کرتے ہیں ۔ ان کے لئے جمع ہوتے ہیں ، گفتگو کرتے ہیں انہیں پیسے دیتے ہیں یہ ایک منصب ہے ۔ منصب جس قدر حساس ہو ذمہ داری بھی  اتنی ہی بڑہ جاتی ہے ۔ اگر ہم کوئی غلطی کریں تو ہماری غلطی عام لوگوں جیسی غلطی نہیں ہے بلکہ بہت بڑی اور سنگین غلطی ہے ۔

اگر ہم خدا نخواستہ کسی کو ضلالت و گمراہی میں ڈالا تو وہ عام افراد کے ایسے ہی عمل سے فرق رکھتا ہے ۔ ایک مداح کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کیا کہہ پڑہ رہا ہے او رکیا کہہ رہا ہے ۔ بہترین آواز ، دل نشین ترنم ، غنیمت موقع جدید برقی وسائل اور پر جوش استقبال ، آج بھی  ہمارے جوانوں نے معاشرے اور ملک کو اپنے خالص دلوں سے پاک و صاف بنا کر رکھا  ہے ۔ اس ملک کے اس قدر جوان ، آپ سب مداحوں کے شیدائی ہیں ۔ اب آپ لوگوں کو کیا دینا چاہتے ہیں ۔ میں مختلف مواقع پر آپ کے طرز بیان اورمطالب پر جو زور دیتا ہوں اس کی وجہ یہی حساسیت ہے جو آپ کی نسبت پائی جاتی ہے ۔ ( ۵۵ )

مداحی کا ہنر

جب شعر کی زبان سے لوگوں سے گفتگو ہوتی ہے ، اگر چہ شعر پیچیدہ ہی کیوں نہ ہو اور جب ایک مداح اپنے ہنر سے شعر کے ایک ایک لفظ کو سامع کے ذہن تک پہنچاتا ہے تو اس کا دل میں اثر ہوتا ہے ۔ بعض شعراء نے ماشاء اللہ ائمہ کی عبادت خضوع، جہاد ، تضرع ، انفاق اور جہاد کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ جیسا کہ آج بھی  بہت سے شعروں میں دیکھنے  کو ملا ۔ لہٰذا شعر کو بہترین ہنر کے ساتھ  پیش کیجئے کیونکہ یہ اثر انداز ہوتا ہے ایک اچھا  اور ہنر مندانہ شعر کی خاصیت عام ہنر کی طرح ہوتی ہے ۔ عام ہنر کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ کہنے والا بہت سی جگہ پر متوجہ ہو ئے  بغیر سننے والے کی اس کی طرف توجہ  ہوئے بغیر اثر انداز ہوتا ہے ۔ شعر ، آرٹ ، دلنشین آواز ، اچھا  ترنم اور ہنر کی دوسری اقسام غیر شعوری طور پر مخاطب پر اثر انداز ہوتی ہیں یعنی بغیر اس کے کہ مخاطب متوجہ ہو اپنا اثر چھوڑ تی ہے ۔ یہ تاثیر کی سب سے اچھی  قسم ہے ۔ آپ  ملاحظہ فرمائیں کہ خداوند متعال نے سب سے بلند معارف کو بیان کرنے کے لئے سب سے زیادہ فصیح کلام کا انتخاب کیا یعنی قرآن مجید ۔ خدائے دانا و توانا ان معارف اور قرآن کو معمولی پیراے میں بھی  بیان کرسکتا تھا  ، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے اسے سب سے زیادہ فصیح ، بلیغ ، خوبصورت اور ہنر مندانہ انداز میں بیان کیا جس کے لئے خود قرآن کہتا ہے کہ تم میں سے کوئی اس ہنر اور اس قالب کا کلام نہیں لاسکتا ۔ اگر چہ مطلب واضح اور آشکار ہے ۔ نہج البلاغہ کے خطبوں کو دیکھ ئے ۔ حسن و جمال کا ایک مرقع ہے ۔ امیر المومنین معمولی انداز میں بھی  اسے بیان کر سکتے تھے  لیکن ایسا نہیں کرتے بلکہ ہنر کا استعمال کرتے ہیں ۔

" و بعد فنحن امراء الکلام " خود ان ہستیوں کا کہنا تھا  کہ ہم بادشاہ سخن ہیں اور یقینا ایسا ہی تھا  یہ سب کے سب بادشاہان سخن تھے  ۔ ( ۵۶ )

صرف چشم و ابرو

ایک اور چیز جس کی حقیر کو اطلاع ملی ہے وہ بعض مداحوں کی طرف سے کی جانے والی بے جا مدح و ثنا ہے جو بسا اوقات مفید ہونے کے بجائے مضر بھی  ہوتی ہے ۔ فرض کریں جناب ابو الفضل العباس سے متعلق گفتگو ہو رہی ہے اب مداح ان کی چشم و ابرو کی تعریف کرنا شروع کرے مثلا آپ کیآنکھوں پر قربان جاؤں ۔ کیا دنیا میں خوبصورت آنکھوں کی کمی ہے ؟ کیا آپ نے جناب عباس کو دیکھا  ہے اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کی آنکھیں  کیسی تھیں ؟ یہ سب چیزیں تشیع کے بلند و عالی معارف کی سطح کو نیچے لے آتی ہیں ۔ تشیع کے معارف بہت کمال و عروج پر ہے ۔ ہمارے شیعہ معارف ایسے ہیں کہ جو ہینری کاربن جیسے مغرب میں پرورش یافتہ اور مغربی فلسفہ اور افکار سے آشنا فلسفی کو علامہ طباطبائی کے سامنے زانوے ادب تہہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ وہ ان معارف کے آگے سر جھکا دیتاہے اور پھر  وہ یورپ میں شیعہ معارف کا مروج بن جاتا ہے ۔ شیعہ تعلیمات کو پوری دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے ۔ ایک عام اور درمیانی سطح سے لیکر بڑے بڑے فلاسفہ کی اعلیٰ سطح تک ۔ ہمیں ان تعلیمات کے ساتھ  مذاق نہیں کرنا چاہئے ۔ جناب عباس علیہ السلام کی فضیلت ان کے جہاد ، ان کی فدا کاری ان کے اخلاص اور اپنے امام کے سلسلے میں ان کی معرفت میں ہے ۔ان کی فضیلت ان کے صبر و استقامت میں ہے۔ پیاس کی شدت میں لب دریا ہونے کے باوجود پانی کو منہ نہ لگانے میں ہے جب کہ شرعا اور عرفا ان کے لئے پابندی نہیں شہدائے کربلا کی عظمت یہ ہے کہ انہوں نے سخت ترین حالات میں ، جتنے سخت تصور کئے جاسکتے ہوں حریم حق کا دفاع کیا ۔

یہاں انسان حاضر ہے کہ ایک عظیم جنگ میں ( جہاں وہ بظاہر مغلوب ) جائے اور ممکن ہے مارا بھی  جائے ، جو کہ بہت بڑا مقام ہے ،اور یہ سب کے بس کی بات نہیں ہے خدا کی راہ میں جہاد کرنے اور شہید ہونے والے بہت کم ہیں ۔ ہمارے زمانے میں بھی  بہت سے شہدا نمایاں اور عظیم تھے  ۔ لیکن ان حالات میں شہید جو میدان کربلا  کے شہیدتھے  ، غربت کا وہ عالم ، وہ سختیاں ، وہ پیاس کی شدت اور مصائب و آزار کی وہ آماجگاہ، ان میں اور آج میں بہت فرق ہے ۔

جناب عباس ، جناب حبیب ابن مظاہر اور جناب جون جیسے افراد کی فضیلت ان سب چیزوں میں ہے ۔ نہ کہ ان کے رشد قد اور طاقتور بازووں میں ۔ رشید قد کے مالک دنیا میں بہت ہیں ، شڈول اور مضبوط جسم رکھنے والے ورزشکار افراد بہت ہیں ۔ معنوی معیاروں میں ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ کبھی  انہیں تعبیروں اور تعریفوں پر زور دیا جاتا ہے ۔ ایک شاعر اپنی تیس چالیس اشعار کی ایک نظم میں جناب عباس کے حسن و جمال کا بھی  تذکرہ کرتا ہے یہ الگ بات ہے اس سلسلے میں بھی  ہمیں بہت سخت اور خشک مزاج نہیں ہونا چاہئے لیکن ہم صرف ان کی کمان جیسی بہووں ، قلمی ناک ، باخمارآنکھوں جیسی باتیں کرنے لگیں تو یہ ان کی مدح و ثنا نہیں ہے بلکہ بسا اوقات یہ نقصان دہ بھی  ہے ۔ ( ۵۷ )

میوزک ؟

عزاداری پیغام کی حامل ہونی چاہئے ۔ عشق و محبت اور لگاؤ کی حامل ہونی چاہئے ۔ جتنا ممکن ہوسکے نوحہ خوانی ، مرثیہ خوانی ، مصائب میں واقعہ کربلا کے مطالب بیان کئے جائیں اور ان واقعات کو اجاگر کیا جائے، البتہ  بعض جگہ ان چیزوں کی طرف بے توجہی یا کم توجہی برتی جارہی ہے ۔ جیسا کہ سننے میں آیا ہے کہ بعض انجمنوں میں سینہ زنی مجالس میں اب نوحے نہیں پڑھے  جاتے بلکہ ایک ساز بجایا جاتا ہے جس کی آواز پر سینہ زنی ہوتی ہے یہ ایک غلط کام ہے ۔ آواز ، دہن اور میوزیک کوئی رول نہیں رکھتے  ۔ ( یہ سب اس وقت ایک رول ادا کر سکتے ہیں ) جب عاشور کے حقائق کو منعکس اور بیان کرسکیں ۔ عاشور کے حقائق لوگوں کے لئے بیان ہونے چاہئیں۔ اس کو اہمیت دیجئے ۔ ورنہ صرف کچھ  بے معنی اشعار پڑہنا جس میں کربلا اور عاشور کا کوئی پیغام نہ ہو یا سرے سے کوئی شعر نہ پڑہنا بلکہ صرف ایک میوزک کے ساز پر ماتم کرنا ایک بے بنیاد اور غلط کام ہے ۔ البتہ ہر طرح کی میوزک اور موسیقی کے ہر آلے کا استعمال بھی  جائز اور حلال نہیں ہے ۔ موسیقی کے  ایسے بہت سے وسائل ہیں جن میں اشکال پایا جاتا ہے ۔ اب وہ کہیں  اوربھی  بجائے جائیں اور ماتمی دستوں میں بھی  بجائے جائیں تو جائز نہیں ہوں گے ۔ اس لئے جو چیز زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ ہے مواد اور مطالب ۔ البتہ مطالب کو ہنر کے ساتھ  پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اچھی  دہن ، اچھا  شعر ، اچھا ں بیان ، اچھی  آواز اور اسی طرح جائز اور حلال میوز ک یہ سب وہی ہنر ہیں جن کے ذریعہ مطالب کو ذہنوں تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔ (۶۰)

مناقب اہل بیت

نوحوں کے اشعار جدید مضامین کے حامل ہونے چاہئیں ۔ کبھی  نوحے میں ایسے اشعار ہوتے ہیں جو تکرار ہی ہوتے ہیں مثلا ایک انسان کسی امام کو مخاطب کر کے کہے : مجھے  آپ سے محبت ہے ، البتہ اہل بیت سے محبت کا اظہار بہت اچھی  چیز ہے لیکن اگر یہی  چیزبالکل ایک انداز میں دس بار ، سو بار بیان کی جائے تو یہ تکراری چیز ہے اور اس میں کوئی پیغام نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ کہ اشعار کے مضامین ، بامعنی اور مفید ہوں ۔ یعنی آپ دیکھیں کہ آج ہمارے معاشرے ، ہماری جوان نسل اور ہمارے مخاطبین کو کن معارف کی ضرورت ہے، ان معارف اور تعلیمات کو شعر اور نوحہ کی صورت میں بیان کیا جائے اور یہ ممکن ہے ۔ یہ تصور نہ کیا جائے کہ یہ کام ناممکن ہے ۔ بہت سے شعرا ہیں جنہوں نے یہ کام کیا ،یا کرسکتے ہیں ۔ تمام اسلامی تعلیمات کو شعر کے قالب میں ڈھالا جاسکتا ہے ۔ ان تعلیمات میں سے ایک اہل بیت سے محبت کا احساس ہے ۔ انسان مناقب اہل بیت بیان کرے تاکہ دل میں ان کی محبت پیدا کرے یہ بہت اچھی  چیز ہے ۔

ایک اور تعلیم اہل بیت کے بلند مقام و مرتبہ کو بیان کرنا ہے ۔ البتہ ہماری رسائی ان تک نہیں ہے لیکن جہاں تک ممکن ہوسکے ان کے مقام و رتبہ کو اشعار میں بیان کیا جائے ۔ ان کا راستہ ، ان کا مقصد ، ان کا جہاد اور ان کی وہ توحید جس کی وہ تبلیغ کرنا چاہتے تھے  انسان زندگی کو صحیح رخ دیتی ہے ۔ ( ۶۱ )

من گھڑت مصائب

بے معنی باتوں اور ظاہری عشق و عاشقی سے پرہیز کیجئے جو اندر سے بالکل خالی ہوتی ہیں ۔ حسینی اور اسلامی مفاہیم ، صبر ، جہاد ، تقوا ، پرہیزگاری اور آداب زندگی کو اپنے اشعار میں بیان کیجئے اور پڑہئے ۔ جہاں پر مصائب کی بات ہو صحیح مصیبت کا تذکرہ کیا جائے نہ کہ من گھڑت مصائب ۔

بعض خطبا ، شعرا اور ذاکرین ماحول اور مجمع کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رقت طاری کرنے کے لئے جو ذہن میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ ایک واقعہ پیش آیا ہے اب اس واقعہ کو صحیح بیان ہونا چاہئے ۔ غلط بیانی سے کام نہ لیا جائے ۔ فضائل یا مصائب شروع کرنے سے پہلے کچھ  اخلاقیات بھی  بیان کئے جائیں ۔ اخلاق اور معرفت کے حامل اشعار پڑھے  جائیں البتہ اچھے  اور با معنی شعر نہ کہ بے معنی اور بے ربط اشعار ۔ بعض الحان اور دہنیں جنہیں "پاپ " کے نام سے جانا جاتا ہے ؟ کیوں ؟ میں اس لہجہ کا مخالف نہیں ہوں جو نیاہو لیکن تقلید کیوں ؟ جس انسان کے اندر خودایجاد کی صلاحیت  پائی جاتی ہے وہ ایک بےسر و پا گلوکار مثلا ایک اسپینی یا آرجنٹائنی کی تقلید کرے کس لئے ؟ اور وہ بھی  اتنے اہم اور اعلیٰ معارف میں انسان ایک مہمل اور بے کار چیز کے ذریعہ اپنے سننے والوں کو اپنے جوانوں کو منحرف کرے یہ صحیح نہیں ہے ۔

مضامین مفکرانہ ، عمیق ، با معرفت اور پر جوش ہونا چائیں یعنی احساسات اس میں ضرور ہونا چاہئیں تاکہ وہ لطیف اور شیریں ہوجائیں ۔ ( ۶۲ )

لوگوں کو آزار و اذیت پہنچاناحرام ہے

عزاداران امام مظلوم سے میری ایک نصیحت یہ ہے کہ لوگوں کی ناراضگی اور ان کی اذیت کا سبب نہ بنیں ۔ امام خمینی ( رح ) ہمیشہ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے  کہ راتوں میں یہ لاؤڈاسپیکر لوگوں کی اذیت کا سبب نہیں ہونے چاہئیں ۔ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ہم امام حسین ( ع ) کی عزاداری منا رہے ہیں کسی کو نیند نہیں آتی تو نہ آئے ۔ یہ بات کسی بھی  صورت قابل قبول نہیں ہے ۔ بعض لوگ مائک پر جاکر سینہ زنی کرتے ہیں آخر کس لئے ؟ یا اگر نوحہ خوانی ، مرثیہ خوانی یا تقریر کرنا ہے تو سامعین کے درمیان ہونا چاہئے ۔ سڑکوں پر ، چہتوں پر بازاروں اور محلے میں تو کوئی سننے والا نہیں ہوتا ۔ اس مقرر کو سننے والے افراد مجلس میں بیٹھے  ہوتے ہیں اگر مائک اور لاؤڈاسپیکر کی ضرورت ہے تو وہاں رکھا  جائے ۔ مجلس سے باہر آدہی رات کو گھنٹوں لوگوں کو اذیت پہنچانا ، کسی بیمار کی نیند خراب کرنا اس کا کسی بھی  اسلامی اور حسینی منطق سے سروکار نہیں ہے ۔ اگر آپ نے اس وقت جو لوگوں کے سونے اور آرام کرنے کا وقت ہے ( دن کے وقت اور اول شب کا وقت میری مراد نہیں ہے ) اپنے نوحے سے کسی کو اذیت پہنچائی تو آپ نے حرام اور خلاف شریعت کام انجام دیا ہے ۔ ( ۶۳ )

اگر آپ کو باہر اسپیکر لگانا ہے تو محلے والوں کا راضی ہونا ضروری ہے اگر وہ راضی نہ ہوں تو اسپیکر نہ لگایا جائے خاص کر رات میں دیر تک اس بات کی اجازت نہیں ہونا چاہئے اور حکومت کے ذمہ دار افراد کو اس کی روک تھا م بھی  کرنا چاہئے ۔

عزیزو ! توجہ کریں کہ حسین ابن علی علیہما السلام خدا کے لئے قیام کرنے کا ایک مظہر تھے  ۔ مظہر تقوا تھے  اور آپ جو بھی  کر رہے ہوں وہ بھی  مظہر تقویٰ ہونا چاہئے ۔ اور میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ عزاداری امام حسین میں تقوائے الٰہی کا خیال رکہئے کیونکہ یہ عمل خود تقوے کا مصداق کامل ہے عزاداری کے کاموں اور اس کی خصوصیات میں خدا نخواستہ تقوے سے دور نہ ہوئیے ۔ (۶۶ )

مثبت شبیہ خوانی

بعض ایسے کام جن میں حقیقت کا رنگ و بو نہیں اور وہ کوئی معنی و مفہوم نہیں رکھتے ،ہماری نظر میں ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ ان میں سے ایک کام بعض شبیہ خوانیاں ہیں ۔ ہم شبیہ خوانی کے مخالف نہیں ہیں لیکن شبیہ خوانی ، مثبت، صحیح اور حقیقت کے مطابق ہونی چاہئے ۔ بعض ضعیف روایات کی شبیہ خوانی سے کیا حاصل ؟!

مثلا شیر اور جناب فضہ کا قصہ جس کی بنیاد اور اصل بھی  کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ اب بعض لوگ آئیں اور اس قصہ کی شبیہ خوانی کریں ایک شیر بنائیں اور شروع ہوجائیں ۔ وہ اس شیر سے کیا دکھانا  چاہتے ہیں ۔یہ واقعہ عاشورا کے کس پہلو کو اجاگر کرتا  ہے ؟یہ دیکھنے  میں آتا ہے کہ بعض ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جنہیں ٹیلی ویژن بھی  کبھی  کبھی  دکھاتا  ہے ۔ شبیہ خوانی ایک اچھی  چیز ہے لیکن اسی وقت جب واقعیت اور حقیقت سے ہم آہنگ ہو ۔

شبیہ خوانی ایک نمائش اور ایک ڈرامہ کی طرح ہے جو عام بیان سے بالکل مختلف ہے لیکن اچھی  اور مثبت ہونا چاہئے ۔ اس میں جھوٹ  نہیں ہونا چاہئے ۔ حقیقت کے خلاف پہلو نہیں ہونا چاہئے ۔ ایسا ہونا چاہئے جو لوگوں کے لئے حقائق بیان       کرے ۔ ( ۶۴ )

حوالہ جات

  1. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                  ۲۲/۹/۱۹۸۶
  2. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                  ۱۴/۴/۲۰۰۰                    
  3. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                  ۳۰/۵/۱۹۹۵
  4. نو و دس محرم سے قائد انقلاب کا خطاب              ۲۶/۱۰/۱۹۸۲
  5. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                 ۸/۸/۱۹۸۵
  6. قصر فیروز یونٹ میں سپاہ پاسداران کے درمیان خطاب          ۲۴/۹/۱۹۸۵
  7. اسلامی جمہوریہ کےذمہ دار عہدیداروں اور کارندوں سے خطاب   ۱۸/۳/۲۰۰۲
  8. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                          ۱۲/۱۰/۱۹۸۴
  9. قصر فیروز یونٹ میں سپاہ پاسداران کے درمیان خطاب           ۲۴/۹/۱۹۸۵
  10. نو و دس محرم سے قائد انقلاب کا خطاب                ۲۶/۱۰/۱۹۸۲           
  11. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                  ۱۴/۴/۲۰۰۰
  12. لشکر عاشورا کے درمیان ایک خطاب                  ۱۹/۰۸/۱۳۸۸
  13. امام حسین کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک خطاب  ۱۶/۵/۱۹۸۴
  14. سپاہ جنوب کے ایک گروہ سے خطاب                   ۲۰/۸/۱۹۹۸
  15. درس خارج کی اختتام پر چند کلمات                     ۱۲/۳/۲۰۰۲
  16. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                   ۷/۱۰/۱۹۸۳
  17. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                   ۲۷/۹/۱۹۸۵
  18. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                   ۲۷/۹/۱۹۸۵
  19. قصر فیروز یونٹ میں سپاہ پاسداران کے درمیان خطاب   ۲۴/۹/۱۹۸۵
  20. ایک عوامی مجمع سے خطاب                            ۱۵/۶/۲۰۰۵
  21. دفتر ادبیات ہنر و مقاومت کے ایک گروہ سے خطاب     ۲۲/۹/۲۰۰۵
  22. محرم سے پہلے علما و فضلا درمیان ایک خطاب            ۲۵/۱/۲۰۰۶
  23. دو کوہہ میں ہزاروں راہیان نور اور عوام سے خطاب     ۲۹/۳/۲۰۰۲
  24. اسلامی جمہوریہ ۷ تیر پارٹی کے ممبران سے خطاب      ۲۲/۵/۱۹۸۲
  25. ۷ تیر کے حادثہ کے متعلق ایک اخباری انٹرویو          ۱۶/۶/۱۹۸۲
  26. مجاہدین لشکر نجف اشرف سے خطاب                ۱۵/۸/۱۹۸۸
  27. مجاہدین لشکر امام رضا سےخطاب                    ۱۴/۸/۱۹۸۸
  28. مجاہدین لشکر نجف اشرف سے خطاب               ۱۵/۸/۱۹۸۸
  29. لشکر ۱۹ فجر شیراز سے خطاب                             ۱۵/۸/۱۹۸۸
  30. تہران اور افراط کے شہدا ء کے گھر والوں کے درمیان گفتگو   ۱۳/۱۱/۱۹۸۴
  31. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                      ۹/۶/۱۹۹۵
  32. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                     ۲۸/۸/۱۹۸۷
  33. محرم سے پہلے تہران کے ائمہ جماعت و واعظین سے خطاب    ۲/۸/۱۹۸۹
  34. مشہد مقدس صحن رضوی میں خطاب                       ۳۱/۳/۱۹۸۶
  35. درس خارج کے اختتام میں چند کلمات                      ۴/۴/۲۰۰۰
  36. مجاہدین لشکر موسی ابن جعفر سے خطاب                    ۱۶/۸/۱۹۸۸
  37. انجمن رزمندگان اسلام کے جوانوں کے درمیان خطاب      ۲۵/۸/۲۰۰۵
  38. پاکستان میں شیعوں کے خلاف جاری سفاکیت کے سلسلے میں ایک انٹرویو   ۱۶/۱۰/۱۹۸۴
  39. اسلامی جمہوریہ پارٹی کے علما کے درمیان خطاب                        ۱۲/۹/۱۹۸۵
  40. انجمن رزمندگان اسلام کے جوانوں کے درمیان خطاب                ۱۰/۳/۲۰۰۲
  41. محرم سے پہلے علما اور مبلغین کے درمیان خطاب                       ۳/۵/۱۹۹۷
  42. محرم سے پہلے علما اور مبلغین کے درمیان خطاب                       ۱۲/۴/۱۹۹۹
  43. محرم سے پہلے علما اور مبلغین کے درمیان خطاب                      ۱۲/۴/۱۹۹۹
  44. انجمن رزمندگان اسلام کے جوانوں کے درمیان خطاب               ۹/۵/۲۰۰۱
  45. محرم سے پہلے علما اور مبلغین کے درمیان خطاب                     ۲۵/۱/۲۰۰۶
  46. محرم سے پہلے درس خارج کےاختتام میں چند کلمات                  ۴/۴/۲۰۰۰
  47. محرم سے پہلے علما اور مبلغین کے درمیان خطاب                    ۱۲/۴/۱۹۹۹ 
  48. محرم سے پہلے درس خارج کےاختتام میں چند کلمات                  ۹/۵/۲۰۰۱
  49. محرم سے پہلے علما اور مبلغین کے درمیان خطاب                    ۲۵/۱/۲۰۰۶
  50. محرم سے پہلے علما اور مبلغین کے درمیان خطاب                    ۴/۴/۲۰۰۰
  51. مجلس خبرگان کے ممبران کے درمیان گفتگو                        ۱۲/۴/۱۹۹۹
  52. محرم سے پہلے تہران کے ائمہ جماعت و واعظین سے خطاب          ۴/۴/۲۰۰۰
  53. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                              ۱۲/۱۰/۱۹۸۴
  54. بسیج کے کمانڈرز کے درمیان ایک خطاب                          ۲۸/۱۱/۲۰۰۴ 
  55. حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک خطاب      ۲۷/۷/۲۰۰۵
  56. حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک خطاب      ۲۷/۷/۲۰۰۵
  57. حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک خطاب      ۲۷/۷/۲۰۰۵
  58. حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک خطاب      ۲۷/۷/۲۰۰۵
  59. حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک خطاب      ۲۷/۷/۲۰۰۵
  60. گیلان اسلامی جمہوریہ پارٹی کے ممبران سے ایک خطاب                         ۴/۱۰/۱۹۸۴
  61. ایام فاطمیہ کی مناسبت سے ایک خطاب                                        ۳/۷/۲۰۰۵
  62. انجمن رزمندگان اسلام کے جوانوں کے درمیان خطاب                         ۲۵/۸/۲۰۰۵
  63. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                                          ۲۸/۸/۱۹۸۷
  64. نماز جمعہ تہران کے خطبہ سے اقتباس                                          ۲۸/۸/۱۹۸۷   /.....169


متعلقہ مضامین

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram