• صدی کی ڈیل کی عالمی صہیونی سازش کے خلاف پوری قوم متحد ہے:العاروری

    اسلامی تحریک مزاحمت'حماس' کے سیاسی شعبے کے نائب صدر صالح العاروری نے کہا ہے کہ صدی کی ڈیل کے امریکی منصوبے کا مقصد قضیہ فلسطین کا تصفیہ کرنا ہے مگر فلسطینی قوم کی صفوں میں اتحاد اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے۔

    مزید ...
  • صدی کی حقیقت “مزاحمت” ہے نہ کہ ڈیل

    سینچری ڈیل کی ابتدا ایک بہت بڑے جھوٹ سے ہو رہی ہے یعنی “فلسطینیوں کی اقتصادی مشکلات کا حل”۔ انہوں نے اس نعرے سے اس ڈیل کا آغاز اس لئے کیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سینچری ڈیل کا سب سے بڑا مخالف خود فلسطینی ہیں۔ لہذا گذشتہ کئی سالوں بلکہ کئی عشروں سے حتی معمولی حد تک فلاح و بہبود والی زندگی سے محروم فلسطینیوں کو ایک “مطلوبہ اقتصادی صورتحال” دکھا کر اس ڈیل کی راہ سے اہم ترین رکاوٹ برطرف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    مزید ...
  • مکہ اجلاس اور فلسطین کے تقاضے

    اس وقت عالم اسلام کی تین بڑی تنظیموں کے اجتماعات مکہ معظمہ میں ہو رہے ہیں، اس لیے جہاں دنیا بھر سے آئے معتمرین سے کعبہ کی رونقوں میں اضافہ ہوچکا ہے، وہیں سیاسی قیادت بھی مکہ معظمہ میں موجود ہے۔ عالم اسلام کے حکمرانوں کی تنظیم جو مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اب اس سے مسلمانوں کو سلانے کا کام لیا جاتا ہے۔

    مزید ...
  • کیا اسرائیل سچ میں صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا؟

    حقیقت یہ ہے کہ جس دن ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوا اور حضرت امام خمینی کی رہبری میں علماء کی قیادت میں ایک اسلامی نظام قائم ہوگیا، اسی دن سے اسرائیل کے دن گھٹنے شروع ہوگئے تھے، سب سے پہلے اسرائیل کی سفارت جو تہران میں قائم تھی، اس کو بند کر دیا گیا اور اسے پی ایل او کو دے دیا گیا، جس کی سربراہی یاسر عرفات کے پاس تھی۔

    مزید ...
  • عالمی صہیونیت، مسئلہ فلسطین اور سابق علماء کی سرگرمیاں

    سرزمین فلسطین پر عالمی صہیونیت کے قابض ہو جانے کے بعد یہ دینی علماء ہی تھے جو اس عظیم خطرے کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور امت مسلمہ کے اندر اسلامی بیداری کی لہر پیدا کی۔ لیکن یہاں پرجو چیز حائز اہمیت ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں زیادہ تر ایران اور عراق کے علماء ہی پیش قدم رہے ہیں۔

    مزید ...
  • مسئلہ فلسطین! صدی کی ڈیل کے خدوخال

    فلسطین کے عوام کے ساتھ اور بالخصوص مسم امہ کے ساتھ ایک بہت بڑی خیانت کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ صدی کی ڈیل کے خدوخال بتا رہے ہیں کہ عالمی سامراجی قوتیں فلسطینیوں کے حقوق کو ماننے سے انکاری ہیں۔ پس ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کی تمام عالمی طاقتوں کی جانب سے لگائے جانے والے دفاع انسانی حقوق کے نعرے کھوکھلے اور بے بنیاد ہیں۔

    مزید ...
  • اقتصاد کی آڑ میں سینچری ڈیل کا پرچار

    امریکہ نے جب یہ دیکھا کہ سیاسی حلقوں میں سینچری ڈیل کی شدید مخالفت ہو رہی ہے تو اس نے اس کے اقتصادی پہلووں کو پہلے منظرعام پر لانے کا فیصلہ کر لیا۔ جولائی میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں مقبوضہ فلسطین میں سرمایہ کاری کے عنوان سے طے پانے والی کانفرنس کا بھی یہی مقصد ہے۔

    مزید ...
  • صدی کی ڈیل، سازش کیا ہے؟

    ڈیل کے حوالے سے اب تک منظر عام پر آنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس بدنام زمانہ معاہدے کے اہم کرداروں میں عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور بحرین کو مرکزی کردار حاصل ہے۔

    مزید ...
  • سینچری ڈیل کا کیا ہو گا انجام؟

    اس نام نہاد منصوبے کے اعلان کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گی۔ اس مشکل کا راہ حل یہ ہے کہ ان کے لیے ایک دوسری سرزمین متعین کر دی جائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ کبھی بھی اپنے وطن واپسی کا حق نہیں رکھیں گے۔

    مزید ...
  • صدی کی ڈیل! فلسطین کو لاحق خطرات

    اس ڈیل کے نتیجہ میں امریکہ چاہتا ہے کہ پورے خطے پر صہیونی بالادستی قائم ہو جائے اور مسئلہ فلسطین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریکی خواہشات اور صہیونی من مانی کے مطابق ختم کر دیا جائے۔ عالمی ذرائع ابلاغ پر ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا چرچہ گذشتہ ایک برس سے جاری ہے، لیکن اس معاہدے کے تفصیلی خدوخال مکمل طور پر سامنے نہیں آئے ہیں،

    مزید ...
  • اسرائیلی اخبار میں شائع ہونیوالے سینچری ڈیل کے نکات

    ڈیل آف سینچری وہ واحد دستاویز نہیں ہے، جو منظر عام پر آنی ہے بلکہ یہ اصل خفیہ ڈیل آف سینچری کا وہ حصہ ہے، جسے منظر عام پر لایا جانا ہے۔ حقیقی ڈیل آف سینچری اس خطے میں ایک ریاست یعنی اسرائیل کا قیام نیز قضیہ فلسطین کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہے۔ پہلے مرحلے میں اتحادیوں کے تعاون سے اس ڈیل کے زیادہ سے زیادہ اہداف کو حاصل کیا جائے گا اور پھر مرحلہ وار ایک طے شدہ منصوبے کے تحت اس خطے میں ایک ریاست کو وجود بخشا جائے گا۔

    مزید ...
  • انٹریو/ سینچری ڈیل علاقے میں نئے تنازعات کا باعث: پروفیسر زکریا کورشون

    ترکی کی سلطان محمد فاتح یونیورسٹی کے پروفیسر زکریا کورشون کہتے ہیں کہ صدی کی ڈیل نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں موثر ثابت نہیں ہو گی بلکہ اس سے مشرق وسطی میں جنگ کی نئی چنگاریاں جنم لیں گی۔

    مزید ...
  • مٹھی بھر ڈالرز کے عوض میں زمین کا سودا

    امریکی حکومت کی جانب سے سینچری ڈیل جیسے منحوس اور ظالمانہ منصوبہ سامنے آنے میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ پہلا سبب اسرائیل کے معروف ترین تھنک ٹینکس جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور قومی سلامتی کے مشیر جیرڈ کشنر اور جیسن گرنبلیٹ ہیں۔ دوسرا سبب خلیجی عرب ریاستوں میں نئی نسل کے حکمران جیسے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان اور ابوظہبی کے ولیعہد محمد بن زائد کا برسراقتدار آنا ہے۔ تیسرا سبب مصر کی نئی حکومت اور اس کی جانب سے صدی کی ڈیل قبول کرنے کا رجحان ہے۔

    مزید ...
  • صدی کی ڈیل کا تحقیقاتی جائزہ

    سنچری ڈیل کے نفاذ سے نہ صرف فلسطین کے جغرافیہ میں تبدیلی آجائے گی بلکہ اس کی تاریخی اور مذہبی شناخت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس وقت وہ علاقے جن پر اسرائیلی قابض ہیں، فلسیطنیوں کی سرزمین ہے اور اس علاقے کو صہیونیوں کو دینے میں برطانوی اور امریکی سامراج کی کوششیں اور حمایتیں بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے فلسیطن کی جفرافیائی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

    مزید ...
  • صدی کا سب سے بڑا فراڈ

    جس طرح صدی کا یہ سب سے بڑا سودا فراڈ ہے، یعنی سب سے بڑا دھوکہ ہے، اسی طرح اس کو پیش کرنے والا جیرڈ کشنر ولد چارلس کشنر بھی ایک فراڈیے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ کہنے کو پولینڈ سے نقل مکانی کرکے امریکا میں آباد ہونے والا کشنر خاندان امریکی ہے، لیکن دیگر زایونسٹوں کی طرح یہ بھی فلسطین کے غاصب اسرائیل کے مفادات کو مقدم رکھتے آئے ہیں۔ حیرت ہے کہ امریکی عوام اس حد تک زایونسٹ لابی کے زیر اثر ہیں کہ انہیں سامنے کی چیز بھی نظر نہیں آرہی!

    مزید ...
  • صدی کا سودا، صہیونی سو (۱۰۰) دا

    اس ڈیل کے راستے میں فلسطین کے اندر نئی قوت پکڑتی ہوئی اپنے گھروں کو واپسی کی عظیم تحریک حائل ہے، جو اسرائیل کے لیے خواب شکن تحریک بن کر سامنے آئی ہے۔ دوسری بڑی رکاوٹ حماس کی راکٹ اور میزائل کی قوت ہے، اس کے مقابلے میں اسرائیل کئی مرتبہ جنگ بندی کے لیے درخواست کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ تیسری بڑی رکاوٹ لبنان میں موجود حزب اللہ ہے، جو پہلے ہی اسرائیل کو کئی محاذوں پر شکست دے کر سرخرو ہوچکی ہے۔

    مزید ...
  • سینچری ڈیل منصوبے میں سعودی عرب اور امارات کا کردار

    اس منصوبے کے تحت بیت المقدس صیہونی حکومت کے حوالے کردیا جائے گا اور دیگر ملکوں میں پناہ گزیں فلسطینیوں کو وطن واپسی کا حق نہیں رہے گا اور غزہ اور غرب اردن میں باقی بچی زمینیں ہی فلسطینیوں کی ملکیت رہیں گی۔

    مزید ...
  • سینچری ڈیل، تین سال کے دوران متضاد معلومات کی فراہمی

    صدی کی ڈیل سے متعلق نئی سامنے آنے والی شقوں کے مطابق نئی فلسطینی ریاست مسلح افواج سے محروم ہو گی۔ صرف پولیس افسران ہی ہلکے ہتھیار پاس رکھ سکیں گے۔ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس معاہدہ طے پا جانے کے بعد اپنے تمام ہتھیار ثالثی کرنے والے ممالک کے سپرد کر دیں گے۔

    مزید ...
  • سینچری ڈیل! یوم نکبہ اور عالمی یوم القدس

    امریکی صدر کے جون میں صدی کی ڈیل کے اعلان سے قبل ماہ مئی میں رمضان المبارک کی آمد ہے اور ساتھ ساتھ مئی کا مہینہ ہی تاریخی مہینہ ہے، جب 15 مئی کو فلسطینیوں پر تباہ کن مصیبت ڈھائی گئی تھی اور اس دن کو پوری دنیا میں ’’یوم نکبہ‘‘ کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے۔

    مزید ...
سینچری ڈیل، نہیں
conference-abu-talib
We are All Zakzaky