عورت اور ترقی

علامہ اقبال نے آج سے ستر برس قبل يورپ کے متعلق کہا تھا :
يہي ہے فرنگي معاشرے کا کمال مرد بے کار و زَن تہي آغوش
" مرد بے کار پھر رہے ہيں اور عورتوں کي گود خالي ہے کيونکہ وہ ماں بننے کيلئے آمادہ نہيں ہيں "


مغرب نے قوموں کي ترقي کے لئے جس سماجي فلسفہ کو آگے بڑھايا ہے ، اس کا ايک بنيادي نکتہ يہ ہے کہ ترقي کے عمل ميں عورتوں کي شرکت کے بغير خاطر خواہ نتائج کا حصول ممکن نہيں ہے- يہ فقرہ تو تقريباً ضرب المثل کي حيثيت اختيار کرچکا ہے کہ مرد اور عورت گاڑي کے دو پہيوں کي حيثيت رکھتے ہيں اور يہ کہ زندگي کے ہر شعبے ميں عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے مواقع ملنے چاہئيں- درحقيقت اس طرح کے نعرے تحريک آزادي نسواں کے علمبرداروں کي طرف سے شروع ميں انيسويں صدي کے آغاز ميں لگائے گئے تھے جو رفتہ رفتہ بےحد مقبوليت اختيار کر گئے- اس زمانے ميں عورتوں کا دائرہ کار گھر کي چار ديواري تک محدود تھا اور عورت کا اصلي مقام اس کا گھر ہي سمجھا جاتا تھا- اس زمانے کي خانداني اقدار ميں کنبے کي معاشي کفالت کي اصل ذمہ داري مرد پر تھي اورعورت کا بنيادي فريضہ گھريلو امور کي انجام دہي، بچوں کي نگہداشت اور اپنے خاوندوں کے آرام و سکون کا خيال اور فارغ وقت ميں عمومي نوعيت کے کام کاج کرنے تک محدود تھا- تحريک آزادي نسواں کے علمبرداروں نے اس صورتحال کو مرد کي 'حاکميت'اور عورت کي بدترين 'غلامي' سے تعبير کيا اور عورتوں کے اس استحصال کے خاتمے کے لئے يہ حل پيش کيا کہ انہيں بھي گھر کے باہر کي زندگي کے عشرت انگيز دائروں ميں شريک ہونے کا موقع ملنا چاہئے- معاشرت، تعليم، سياست، صنعت و حرفت، ملازمت، غرض ہر شعبے ميں عورت کي شرکت کو مرد کي حاکميت اور غلامي سے چھٹکارا کے لئے ذريعہ سمجھا گيا- 1800ء کے لگ بھگ تحريک آزادي نسواں کا آغاز ہوا- آج صورتحال يہ ہے کہ مغرب ميں خانداني ادارہ اور سماجي اَقدار زوال کا شکار ہو گئي ہيں،مرد اور عورت کے فرائض اور دائرہ کار آپس ميں خلط ملط ہو گئے ہيں- بيسويں صدي کے آغاز تک تحريک آزادي نسواں کے زيادہ تر مطالبات مساوي تعليم کے مواقع اور عورتوں کو ووٹ کے حقوق دينے تک ہي محدود تھے- ليکن آج مغرب ميں مساوي حقوق کا نعرہ ايک بہت بڑے فتنہ کا روپ دھار چکا ہے جس نے انساني زندگي کے تمام دائروں کو اپني لپيٹ ميں لے ليا ہے-
امريکہ اور يورپ نے گذشتہ دو صديوں کے درميان جو محيرالعقول سائنسي ترقي کي ہے، اس ميں عورتوں کے حصے کو اَصل تناسب سے کہيں بڑھا چڑھا کر پيش کيا جاتا رہا ہے- محدود دائروں ميں عورتوں کے کردار اور حصہ سے انکار ممکن نہيں ہے- البتہ مغربي معاشرے کي اجتماعي ترقي کا معروضي جائزہ ليا جائے تو تحريک آزادي نسواں کے علمبرداروں کے دعوے مبالغہ انگيز نظر آتے ہيں- مغرب کي مادّي اور سائنسي ترقي کے پس پشت کار فرما ديگر عوامل مثلاً جارحانہ مسابقت، مادّي ذرائع پر قبضہ کي ہوس، طبيعاتي قوانين کو جاننے کا جنون، مغربي استعمار کو نو آباديات پر مسلط رکھنے کا عزم، ايشيا اور افريقہ کي منڈيوں پر قبضے کي جدوجہد، مغرب کي نشاة ثانيہ کے بعد مغربي معاشرے ميں علوم و فنون ميں آگے بڑھنے کا جذبہ، سرمايہ دارانہ نظام ميں کام کي بنياد پر ترقي کي ضمانت، مندي کي معيشت و غيرہ جيسے عوامل نے جو کردار ادا کيا ہے ، اس کا نئے سرے سے جائزہ لينے کي ضرورت ہے-
قومي ترقي کے لئے کيا عورتوں کا ہر ميدان ميں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ناگزير ہے؟ اس اہم سوال کا جواب ہاں' ميں دينا بے حد مشکل ہے- اگر عورت اپنے مخصوص خانداني فرائض کو نظر انداز کرکے زندگي کے ہر ميدان ميں شرکت کرے گي تو خانداني ادارہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا اور خانداني ادارے کے عدم استحکام ميں آنے کے منفي اَثرات زندگي کے ديگر شعبہ جات پر بھي پڑيں گے- مغرب ميں يہ نتائج رونما ہوچکے ہيں!!
اکيسويں صدي ميں انساني تہذيب کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ان ميں تحريک آزادي نسواں (Feminism) کا فتنہ اپنے وسيع اثرات اور تباہ کاريوں کي بنا پر سب سے بڑا فتنہ ہے- مغرب ميں عورتوں کو زندگي کے مختلف شعبہ جات ميں جس تناسب اور شرح سے شريک کر ليا گيا ہے، اگر يہ سلسلہ يونہي جاري رہا تو دنيا ترقي کي موجودہ رفتار کو ہرگز برقرار نہيں رکھ سکے گي بلکہ اگلے پچاس سالوں ميں انساني دنيا زوال اور انتشار ميں مبتلا ہو جائے گي- جو لوگ عورت اور ترقي کو باہم لازم وملزوم سمجھتے ہيں، انہيں يہ پيش گوئي مجذوب کي بڑ، رجعت پسندي اور غير حقيقت پسندانہ بات معلوم ہو گي، ليکن اکيسويں صدي کے آغاز پر انسانيت جس سمت ميں رواں دواں ہے، بالآخر اس کي منزل يہي ہو گي-
پاکستان اور ديگر ترقي پذير ممالک کو اس حقيقت کا ادراک کر لينا چاہئے کہ مغرب کي اندھي تقليد ميں خانداني اداروں کو تباہ کر لينے کے باوجود وہ ان کي طرح مادي ترقي کي منزليں طے نہيں کر سکتے- مزيد برآں مغربي ممالک کي سائنسي و صنعتي ترقي کليتاً عورتوں کي شرکت کي مرہون منت نہيں ہے- يہ ايک تاريخي حقيقت ہے کہ برطانيہ، فرانس،جرمني، ہالينڈ، پرتگال، سپين اور ديگر يورپي ممالک اس وقت بھي سائنسي ترقي کے قابل رشک مدارج طے کرچکے تھے جب ان ممالک ميں عورتوں کو ووٹ دينے کا حق نہيں ملا تھا- 1850ء تک صنعتي انقلاب نے پورے يورپي معاشرے ميں عظيم تبديلي برپا کر دي تھي- 1900ء تک مذکورہ بالا يورپي اقوام نے افريقہ، ايشيا اور لاطيني امريکہ کے بيشتر ممالک کو اپنا غلام بنا ليا تھا- جنگ عظيم دوم سے پہلے ان ممالک ميں عورتوں کا ملازمتوں ميں تناسب قابل ذکر نہيں تھا- يہ بھي ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ جنگ عظيم دوم ميں مرنے والے کروڑوں مردوں کے خلا کو پر کرنے کے لئے يورپي معاشرے ميں عورتوں کے بادل نخواستہ باہر نکلنے کي حوصلہ افزائي کي گئي-
ترقي اور جاپان:
آج کے دور ميں جاپان کي مثال ہمارے سامنے ہے- جاپان کي صنعتي ترقي اور انڈسٹري نے امريکہ اور يورپ کو منڈي کي معيشت ميں عبرت ناک شکستيں ديں- 1990ء سے پہلے جاپان کي اشيا نے امريکہ اور يورپ کي منڈي کو اپنے شکنجہ ميں کسا ہوا تھا- 1990ء سے پہلے تک جاپاني معاشرہ مغرب کي Feminism تحريک کے اثرات فاسدہ سے محفوظ تھا- حيران کن صنعتي ترقي کے باوجود جاپاني معاشرے نے اپني قديم روايات اور خانداني اَقدار کو قابل رشک انداز ميں برقرار رکھا- امريکہ اور يورپي ممالک جاپان کے 'مينجمنٹ' کے اصولوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپني نصابي کتب ميں جاپان کے اصولوں کو شامل کيا- امريکہ اور يورپ کے صنعت کار جب جاپاني صنعت کاروں کا مقابلہ نہ کرسکے تو بالآخر انہوں نے جاپاني معاشرے کي ثقافت اور اَقداري نظام کو بدلنے کي سازش تيار کي-
1990ء کے عشرے ميں مغربي ميڈيا نے جاپاني ثقافت پر مغربي تہذيب کي يلغار شروع کي- امريکہ اور يورپي ممالک نے جاپان کوOpen کرنے کے لئے مسلسل جاپاني حکومتوں پر دباؤ ڈالے رکھا- صدر ريگن اور جارج بش نے جاپاني راہنماؤ ں سے ہر ملاقات ميں اس شرط کو دہرايا کہ جاپان سے ہر سال ايک مخصوص تعداد ميں اَفراد امريکہ اور يورپي ممالک کي سير کريں- جاپاني سينماؤ ں اور ٹيلي ويژن پر امريکي فلميں اور ثقافتي پروگرام شروع کرنے کا دباؤ بھي ڈالا گيا- جاپان کي معروف صنعتي فرموں کو مجبور کيا گيا کہ و ہ اپنے ايگزيکٹوز کو يورپ اور امريکہ کي سير پر جانے کي ترغيب ديں- اس طرح کے سينئر مينيجرزکے لئے ديگر سفري الاؤنس کے ساتھ ايک نوجوان دوشيزہ کو اپنے ساتھ رکھنے کے الاؤنس بھي منظو رکرائے گئے- امريکي ہوٹلوں نے جاپاني سياحوں کو رعايتي نرخ پر سہوليات اور شباب و کباب کي تعيشات مہيا کيں- امريکيوں نے ملازمتوں ميں مساوي حقوق کي شرط بھي جاپان سے منوائي- جاپان ميں عورتوں کو اب بھي نسبتاً غير پيداواري سمجھا جاتا ہے-
1996ء ميں ہفت روزہ 'ٹائم' ميں ٹويوٹا کمپني کے چيئرمين کا انٹرويو راقم الحروف کي نگاہ سے گزرا تھا جس ميں امريکي صحافي نے ٹويوٹا ميں عورتوں کي تعداد نہايت کم ہونے کي وجہ دريافت کي تھي- اس کے جواب ميں ٹويوٹا کے چيئرمين کا جواب نہايت دلچسپ تھا، اس نے کہا تھا:
"We have already enough decoration flowers in our company"
 "ہمارے ہاں پہلے ہي سجاوٹي پھول کافي ہيں-"
1990ء کے بعد جاپاني معاشرے پر مغربي تہذيب اورFeminism کے اَثرات جس تناسب سے بڑھے ہيں، اسي رفتار سے ان کي صنعتي رفتار ميں کمي واقع ہوئي ہے اور آج جاپان جو ماضي قريب ميں بہت بڑاصنعتي ديو سمجھا جاتا تھا، ا س کے بارے ميں پيش گوئياں کي جا رہي ہيں کہ اس کي معيشت مستقبل قريب ميں شديد بحران کا شکار ہوجائے گي- اس کي بنکوں کي صنعت آج کل بحران سے گزر رہي ہے- اس کي کمپيوٹر کي صنعت جس نے امريکي صنعت کاروں کے ہوش اڑا ديئے تھے، آج کل سست رفتاري کا شکار ہے- جاپان کي مايہ ناز ثقافتي اَقدار کا جنازہ نکل رہا ہے- نوجوانوں ميں جنسي جرائم ميں اضافہ ہو گيا ہے- معاشرہ سخت کشمکش سے دوچار لگتا ہے- جاپان کي نوجوان نسل ميں محنت کي بجائے فيشن پرستي، آزاد روي اور آوارگي ميں اضافہ ہو رہا ہے-
کچھ عرصہ پہلے جاپان کے متعلق ايک تعجب انگيز خبر پڑھنے کو ملي تھي- وہ يہ کہ جاپاني حکومت اپني آمدني ميں اضافہ کرنے کے لئے ان عورتوں پر بھي ٹيکس لگانے کا قانون بنا رہي ہے جو اب تک گھروں ميں بيٹھي ہوئي ہيں اور ٹيکس سے مستثنيٰ ہيں-  IMF اور مغرب کے معاشي جادوگر پريشان حال جاپانيوں کو يہ پٹي پڑھا رہے ہيں کہ اگرتم اپني معيشت کو سنبھالا دينا چاہتے ہو تو اپني عورتوں کو گھروں سے باہر نکالو- بے حد تعجب ہے، جاپاني قيادت ان کے اس فريب کے جال ميں پھنسي ہوئي ہے!!
خانداني اقدار کي تباہي
ادھر سکنڈے نيويا کے ممالک جہاں سياست اور ملازمت ميں عورتوں کا تناسب پوري دنيا کے مقابلے ميں زيادہ ہے، وہاں خانداني اَقدار کي تباہي نے انہيں پريشان کر رکھا ہے- وہاں عورتيں گھر کو'جہنم' سمجھتي ہيں، ماں بننے سے گريز کرتيں اور بچوں کي نگہداشت پر توجہ نہيں ديتي ہيں-انہيں گھر سے باہر کي زندگي کا ايسا چسکا پڑا ہوا ہے کہ وہ گھريلو زندگي کو اَپنانے کے لئے تيار نہيں ہيں- بے نکاحي ماؤ ں اور حرامي بچوں کا سب سے زيادہ تناسب سکنڈے نيويا ميں ہے- لندن سے شائع ہونے والے شہرئہ آفاق ہفت روزہ 'اکانومسٹ' نے 23 جنوري 1999ء کي اشاعت ميں A Survey of Nordic Countries کے عنوان سے سکنڈے نيويا کے پانچ ممالک ناروے، سويڈن، ڈنمارک، فن لينڈ اور آئس لينڈ کے متعلق ايک تفصيلي جائزہ شائع کيا ہے- يہ ممالک جو Feminism تحريک کے بہت زيادہ زير اَثر ہيں اور جہاں عورتوں اور مردوں کي مساوات کو بے حد مضحکہ خيز طريقہ سے قائم کرنے کي صورتيں نکالي جاتي ہيں، ان کے متعلق بعض حقائق بے حد تعجب انگيز اور عبرت ناک ہيں-مثلاً اکانومسٹ کے مذکورہ سروے ميں ناروے کے متعلق بتايا گيا ہے کہ وہاں کي حکومت جوان لڑکيوں کو 'ماں' کي ترغيب دينے اور بچوں کي ديکھ بھال کرنے کے لئے مالي فوائد Incentives بہم پہنچانے کے لئے قانون پارليمنٹ ميں پيش کرچکي ہے- اس قانون کا بنيادي مقصد ان عورتوں کو گھر ميں بيٹھنے کي ترغيب اور حوصلہ افزائي بتايا گيا ہے- اس قانون کي مخالفت محض انتہا پسندوں کي ايک اقليت کر رہي ہے جن کا زيادہ تر تعلق ليبر پارٹي سے ہے- وہ اسے صنفي مساوات کے اصولوں کے منافي قرار ديتے ہيں- ناروے کے بارے ميں ايک اور بات بھي تعجب سے کم نہيں کہ اس ملک کے وزيراعظمBendevic کا تعلق کرسچين ڈيموکريٹک پارٹي سے ہے، جو ماضي ميں پادري رہ چکے ہيں- پاکستان کے آزادئنسواں کے ان جنوني علمبرداروں کو ناروے کي مثال پر غور کرنا چاہئے جو عورتوں کو گھر ميں بٹھانے کي ہر بات کو رجعت پسند ملا کي ناروا ہدايت سمجھ کر مسترد کر ديتے ہيں-
عالمي معيشت
زندگي کے تمام شعبوں ميں عورتوں کي غير ضروري شموليت نے جہاں سماجي اور اخلاقي برائيوں کو جنم ديا ہے، وہاں عالمي معيشت پر بھي منفي اثرات مرتب کئے ہيں- عالمي معيشت کو دو واضح خانوں ميں تقسيم کيا جاتا ہے- يعني مينوفيکچرنگ اور سروسز(اشيا سازي اور خدمات)”¤ گذشتہ پندرہ بيس برسوں ميں عالمي معيشت ميں سروس سيکٹر کے تناسب ميں اضافہ ہوا ہے- امريکہ کي 70 فيصد معيشت سروس سيکٹر پرمشتمل ہے- سروس سيکٹر کے پھلنے پھولنے کي ايک اہم وجہ ليبر فو رس ميں عورتوں کے تناسب ميں اضافہ بھي ہے- ہوٹل، بنک، جنرل سٹور، کمپيوٹر، اور ديگر خدمات بہم پہنچانے وا لے اداروں ميں عورتوں کي ملازمتوں کا تناسب بہت زيادہ ہے- امريکہ اور يورپ کے ممالک ميں ہر سال جو نئي ملازمتيں نکل رہي ہيں، ان ميں عورتوں کي کھيپ مردوں سے زيادہ ہے- سروسز سيکٹر ميں اضافے سے خام قومي پيداوار ميں تو بظاہر اضافہ ہوا ہے ليکن بالآخر اس کے نتائج حقيقي ترقي کے لئے ضرر رَساں ثابت ہوں گے کيونکہ فقط خدمات ، اشيا سازي کے بغير قومي ترقي ميں اضافہ نہيں کرسکتيں!!
آزادي نسواں اور ويلفيئرسٹيٹ
تحريک آزادي نسواں اور مساوي حقوق کے فتنہ نے امريکہ، يورپ اور بالخصوص سکنڈے نيويا کے ممالک کي فلاحي رياست کو بري طرح متاثر کيا ہے- 1950ء کے عشرے ميں ان ممالک ميں جس طرح رياست کے وسيع فلا حي منصوبے سامنے آئے تھے، ان ميں بتدريج اضافہ ہوتا گيا- 1990ء کے بعد سے يہ صورت ہوگئي ہے کہ برطانيہ، ناروے، سويڈن وغيرہ ويلفيئر پر اٹھنے والے اخراجات ميں مسلسل کمي کر رہے ہيں کيونکہ ان اخراجات کي وجہ سے ان کے بجٹ خسارے ميں جارہے ہيں- يہ واضح کر دينا ضروري ہے کہ ان ممالک کے فلاحي اخراجات کا بيشتر حصہ عورتوں پر خرچ ہوتا ہے- سکنڈے نيويا کے ممالک ميں فلاحي اخراجات کي سب سے بڑي مد بچوں کے Day Careمراکز کا قيام، اور بے نکاحي ماؤ ں کي مالي امداد کے متعلق ہے- ان ترقي يافتہ ممالک ميں علاج و صحت عامہ کي بہتر سہوليات کي وجہ سے شہريوں کي اَوسط عمر ميں اضافہ ہوا ہے جس کي وجہ سے پنشنرزکي تعداد ميں ہوش ربا اضافہ ہوگيا ہے-
چونکہ عورتوں کي اَوسط عمر ميں اضافہ مردوں کي نسبت زيادہ ہوا ہے، اسي لئے پنشن پر اٹھنے والے اخراجات کا زيادہ حصہ بھي عورتوں پر ہي خرچ ہوتا ہے- ان معاشروں ميں جنسي بے راہروي کا تناسب خطرناک حد تک زيادہ ہے، جس نے مردوں کے مقابلے ميں عورتوں کي صحت پر زيادہ منفي اثرات مرتب کئے ہيں- اسقاط حمل اور مانع حمل ادويات سے عورتوں کي صحت متاثر ہوئي ہے، مزيد برآں زچگي کے دوران بھي رياست فلاحي ضرورتوں کي کفالت کرتي ہے- لائف انشورنس کے لئے رياست کو عورتوں پر نسبتاً زيادہ خرچ برداشت کرنا پڑتے ہيں- ايک محتاط اندازے کے مطابق سکنڈے نيويا ميں عورتوں پر اٹھنے والے مجموعي اخراجات کا حجم قومي ترقي ميں ان کے شراکتي حصہ سے کہيں زيادہ ہے- ورکنگ ويمن اپني آمدني کے علاوہ مردوں کي آمدني کا بھي خاصا حصہ خرچ کر ڈالتي ہيں- ان کي آمدني کا زيادہ تر حصہ کسي تعميري کام ميں لگنے کي بجائے بناؤ سنگھار اور نمودونمائش پرہي خرچ ہوتا ہے- اکانومسٹ کے سروے کے مطابق سکنڈے نيويا ميں سنہري دور کا خاتمہ ہونے کو ہے-
علامہ اقبال نے آج سے ستر برس قبل يورپ کے متعلق کہا تھا :
يہي ہے فرنگي معاشرے کا کمال                 مرد بے کار و زَن تہي آغوش
" مرد بے کار پھر رہے ہيں اور عورتوں کي گود خالي ہے کيونکہ وہ ماں بننے کيلئے آمادہ نہيں ہيں "
يہ صورتحال پہلے سے کہيں زيادہ واضح ہو کر ہمارے سامنے آئي ہے- 1997ء ميں 'اکانومسٹ' نے 'عورت اور کام' کے عنوان سے مفصل سروے شائع کيا تھا- اس سروے ميں امريکہ کے مختلف شہروں کے متعلق عورتوں کي ملازمت کے اَعدادوشمار ديئے گئے تھے- اس سروے ميں يہ نتيجہ اَخذ کيا گيا تھاکہ گذشتہ تين برسوں ميں جو نئي آسامياں نکلي ہيں، ان کا تعلق سروس سيکٹر سے ہے جن ميں زيادہ تر عورتوں کو ملازمتيں ملي ہيں- اس سروے کے مطابق ملازم عورتوں کي تعداد بڑھنے کي وجہ سے مردوں کي بے روزگاري ميں خطرناک اضافہ ہوگياہے- عورتوں کے متعلق يہ دلچسپ صورت بھي بيان کي گئي تھي کہ وہ دفتروں ميں کام کے لئے صبح سويرے نکل کھڑي ہوتي ہيں اور ان کي عدم موجودگي ميں ان کے خاوند بچوں کي ديکھ بھال کے فرائض انجام ديتے ہيں- اسي سروے ميں ايک تصوير شائع ہوئي تھي جس ميں گھر کي دہليز پر ايک عورت اپنا بچہ اپنے خاوند کے حوالے کر رہي ہے اور خود اس دہليز کے باہر قدم رکھ رہي ہے- اس سروے ميں ايک اور بات بھي قابل ذکر تھي کہ جس محلہ کي عورتيں کام کو سدھار جاتي ہيں تو پيچھے ان کے مرد گھر پر بيٹھے مکھياں مارتے رہتے ہيں اور اس محلہ کے بچوں ميں جرائم کا تناسب بڑھ گيا ہے- کيونکہ جس طرح مائيں بچوں کي نقل و حرکت پر نگاہ رکھتي ہيں، مرد وہ توجہ نہيں دے پاتے- مختصراً يہ کہ اگر عورتوں کي ملازمت کے نتيجے ميں مردوں ميں بے روزگاري پھيلتي ہے، تو يہ کسي بھي ملک کي مجموعي ترقي پر منفي اثرات مرتب کرے گي- يہ ايک مسلمہ حقيقت ہے کہ ايک ملک کي آبادي سو فيصد تعليم يافتہ تو ہوسکتي ہے ليکن سو فيصد تعليم يافتہ لوگوں کو روزگار مہيا کرنا ممکن نہيں ہے- اگر تمام تعليم يافتہ خواتين و حضرات اپنا مقصد تعليم حصول ملازمت بنا ليں، تو ان کي اچھي خاصي تعداد کو بے روزگار رہنا پڑے گا- اس کے مقابلے ميں اگر خواتين تعليم کو حاصل کريں، مگر اپنے گھر کے نظم و نسق اور بچوں کي پيدائش و نگہداشت سے روگرداني نہ کريں، گھر سے باہر کے معاملات مردوں کے لئے چھوڑ ديں، تو اس صورت ميں اس قوم کا خانداني شيرازہ بھي قائم رہے گا اور پڑھے لکھے افراد ميں ملازمت کا توازن بھي متاثر نہيں ہوگا- عورتوں کي ملازمتوں ميں برابري پر زور دينے کي بجائے اگر مردوں کي تنخواہوں ميں خاطر خواہ اضافہ کر ديا جائے تو يہ معاملہ پہلے سے کہيں بہتر ہوگا-
پاکستان اور ترقي
پاکستان ميں مغرب کے اتباع اور مساوات مرد و زن کي غلط تعبير کے نتيجے ميں قومي دولت کا کثير سرمايہ غير پيداواري مدات ميں خرچ ہو رہا ہے- چند سال پہلے لاہور ہائيکورٹ نے ميڈيکل کالجوں ميں لڑکيوں کے لئے مخصوص کوٹہ کو مساوات کے اصول کے منافي قرار ديتے ہوئے اسے ختم کرنے کا حکم صادر کيا- جس کا نتيجہ يہ سامنے آيا ہے کہ بعض کالجوں ميں طلبہ کي نسبت طالبات کي تعداد زيادہ ہو گئي ہے مثلاً علامہ اقبال ميڈيکل کالج ميں- باوجوديکہ طالبات کے لئے فاطمہ جناح ميڈيکل کالج کي سہولت الگ سے موجود ہے، ہائيکورٹ کو طالبات کے لئے الگ کالج کي سہولت ميں تو 'عدم مساوات' کي بات دکھائي نہ دي البتہ ديگر مخلوط کالجوں ميں ان کي عدم مساوات کا خاص خيال رکھا گيا- پاکستان کے معروضي حالات ميں طالبات کي نسبت ميڈيکل کے طلبہ کي زيادہ ضرورت ہے- ميڈيکل کي طالبات کي اکثريت فارغ التحصيل ہونے کے بعد ملازمت نہيں کرتي- اگر کوئي خاتون ڈاکٹر ملازمت اختيار بھي کر لے تو لاہور، ملتان اور راولپنڈي جيسے بڑے شہروں سے باہر تعيناتي کے لئے بھي تيار نہيں ہوتيں- پنجاب ميں شايد ہي کوئي بنيادي ہيلتھ مرکز ہو جہاں کوئي ليڈي ڈاکٹر کام کر رہي ہو- لاہور ميں ميو ہسپتال، جناح ہسپتال اور سروسز ہسپتال ميں ليڈي ڈاکٹرز کي بھرمار ہے- جہاں ايک کي ضرورت ہے وہاں کم از کم چار کام کر رہي ہيں- گويا چار کي تنخواہ لے رہي ہيں اور کام ايک کے برابر کر رہي ہيں- ان کي اکثريت چونکہ غير پيداواري ہے، اسي لئے وہ قومي خزانہ پر بوجھ ہيں- ہماري اعليٰ عدالتوں کو ميڈيکل کالج ميں لڑکيوں کے لئے 'اوپن ميرٹ' کا تصور قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمتوں ميں ان کي تعيناتي کے متعلق مساوات کو بھي يقيني بنايا چاہئے-بڑے شہروں سے باہر ملازمت نہ کرنے کے لئے وجہ يہ بيان کي جاتي ہے کہ اکيلي عورت ناسازگار ماحول ميں بغير کسي محرم مرد کے کس طرح کام کرے گي؟ يہ گويا بالواسطہ اعتراف ہے اس بات کا کہ عورتيں وہ سب کام نہيں کرسکتيں جو مرد سرانجام دے سکتے ہيں- مگر کھلے لفظوں ميں کوئي بھي خاتون يہ اعتراف کرنے کے لئے تيار نہيں ہے کيونکہ اسے وہ اپني شکست سمجھتي ہيں-
راقم الحروف نے متعدد محکمہ جات ميں خواتين کو کام کرتے ديکھا ہے، ان ميں سے ايک بھي ايسي نہيں ہے جو پيداواري صلاحيت کے اعتبار سے مرد ملازمين کے برابر کارکردگي کا مظاہرہ کرتي ہو- ان ميں سے شايد ہي کوئي ايسي ہو جس کي خانگي زندگي بري طرح متاثر نہ ہوئي ہو- ايک ايسے ملک ميں جہاں کے نوجوان بے روزگاري کے بحران سے دو چار ہوں، وہاں ايسے شعبہ جات ميں عورتوں کي تعيناتي جہاں مرد بھي کام کرسکتے ہوں، قوم کے معاشي مسائل ميں اضافہ کا باعث بنتي ہے- ايک لڑکے کا بے روز گار رہنا لڑکي کے بے روزگار رہنے سے کہيں زيادہ خطرناک ہے- کيونکہ لڑکے پر مستقبل ميں ايک پورے کنبہ کي کفالت کا بوجھ پڑنا ہوتا ہے- جبکہ خاندان کي معاشي کفالت عورت کي سرے سے ذمہ داري ہي نہيں ہے-
عورتوں کي ملازمت کے متعلق ايک دليل يہ بھي دي جاتي ہے کہ آج کل مہنگائي کے دور ميں مياں بيوي دونوں کابرسر روزگار ہونا خاندان کے مجموعي وسائل ميں اضافہ کا باعث بنتا ہے- بعض استثنائي صورتوں ميں تو شايد يہ بات درست ہو ليکن مجموعي اعتبار سے يہ مفروضہ مغالطہ آميز ہے- ايک ملازم خاتون اپني تنخواہ سے کہيں زيادہ يا کم از کم اس کے قريب قريب اپنے لباس کي تياري، ميک اَپ، ٹرانسپورٹ، اپنے بچوں کي ديکھ بھال کے لئے آيا کے بندوبست، گھر ميں نوکراني کي تنخواہ وغيرہ پر خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتي ہے- ايک سترہ گريڈ کے افسر کي ماہانہ تنخواہ چھہزار سے زيادہ نہيں ہوتي- جبکہ مذکورہ اخراجات اس سے کہيں زيادہ ہوجاتے ہيں- اس کے علاوہ گھر ميں عدم سکون، بے برکتي اور بدنظمي کا سامنا الگ کرنا پڑتا ہے- ايک ملازم پيشہ عورت خود بھي پريشان ہوتي ہے اور اپنے خاوند اور بچوں کو بھي پريشان کرتي ہے- ايسي صورت ميں وہ قومي ترقي ميں کوئي مثبت کردار کيسے اَدا کرسکتي ہے- يہاں يہ ذکر کرنا بھي مناسب ہوگا کہ ملازم عورتيں اپنے خاوندوں کا بہت سارا وقت برباد کر ديتي ہيں- وہ دعويٰ تو 'برابري' کا کريں گي، ليکن انہيں دفتر لے جانے اور لے آنے کي ذمہ داري ان کے خاوند ہي کو نبھاني پڑے گي- گويا ان کي ملازمت کي وجہ سے ان کے خاوند بھي اچھي کارکردگي کا مظاہرہ نہيں کر پاتے-
ترقي يافتہ معاشروں ميں معاشي ترقي کي رفتار ميں ٹھہراۆ يا کمي آنے کي ايک وجہ يہ بھي ہے کہ وہاں کي افرادي قوت ميں نوجوان طبقہ کي تعداد ميں کمي و اقع ہوگئي ہے- کام کے قابل افرادي قوت ميں کمي کا سبب وہاں کي عورتوں ميں بچے پيدا نہ کرنے کا رحجان ہے- پاکستان ميں 45 /فيصد آبادي پندرہ سال سے کم عمر افراد پر مبني ہے جبکہ ترقي يافتہ ملکوں ميں بوڑھوں کے تناسب ميں اضافہ ہو رہا ہے- اب اگر وہ نئي صنعتيں قائم کرنا چاہيں، نئے منصوبہ جات لگانا چاہيں تو ان کے پاس مطلوبہ افرادي قوت نہيں ہے- يہي وجہ ہے کہ امريکہ، کينيڈا اور ديگر ممالک ہر سال لاکھوں کي تعداد ميں لوگوں کو درآمد کرتے ہيں اگر ان ممالک سے ايشيائي اور افريقي محنت کشوں کو نکال ديا جائے تو يہ سخت معاشي بحران سے دو چار ہوجائيں گے- يہ ايک تناقض فکر ہے کہ ترقي يافتہ ممالک ترقي پذير ممالک ميں آبادي کے اضافہ کے رحجان پر سخت تشويش ميں مبتلا رہتے ہيں، ليکن ان ترقي پذير ممالک کي اضافي آبادي ہي ہے جو ان کي معيشت کو سنبھالے ہوئے ہے-
امريکہ ميں عورت
عالمي ذرائع ابلاغ امريکي عورت کي جو تصوير آج کل پيش کررہے ہيں، چند دہائياں قبل امريکي سماج ميں عورت کا يہ روپ ہر گزنہ تھا- جنگ عظيم دوم کے بعد امريکہ ميں زبردست تحريک شروع ہوئي کہ عورتوں کو کارخانوں اور دفتروں کي ملازمت سے نکال کر واپس خانہ داري کے امور کي طرف راغب کيا جائے- امريکي دانشوروں نے عورت کے لئے ممتا کے کردار کو نہايت قابل احترام بناکر پيش کيا اور کہا کہ خانگي معاملات کو ان کي پہلي ترجيح ہونا چاہئے- 1950ء کي دہائي ميں امريکہ ميں امور خانہ داري پر اس قدر زور ديا گيا کہ اسے بعد کے مورخ Ultra-domesticity يعني 'بے تحاشا خانہ داري' کا عشرہ کہہ کر پکارنے لگے، اور يہ بات بھي حيران کن ہے کہ يہي دور امريکي معاشرے کي خوشحالي اور معاشي ترقي کے اعتبار سے 'زرّيں دور' خيال کيا جاتا ہے-
آج امريکہ کے سليم الطبع دانشور جو مادر پدر آزاد نسل کے رويے سے بے حد پريشان ہيں، وہ 1950ء کي دہائي کو امريکي معاشرے کے لئے ماڈل (نمونہ) قرار ديتے ہيں- ان کا فلسفہ يہي ہے کہ گھر عورت کي جنت ہے، معاشرے کا اجتماعي سکون گھريلو ماحول کو پرسکون رکھے بغير ممکن نہيں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے عورت کا گھر پر رہنا ضروري ہے- اس موضوع پر راقم کي نگاہ سے متعدد کتابيں گزري ہيں، مگر ان ميں سے ايک کتاب تو ايسي ہے کہ جسے پہلي دفعہ پڑھ کر حيرت و استعجاب کے ساتھ عجيب روحاني نشاط بھي محسوس ہوا- اس کتاب کا عنوان ہے:
"A Lesser life: The Myth of Women's Liberation" يعني "حيات کمتر: عورتوں کي آزادي کا واہمہ"
مذکورہ کتاب کي مصنفہ ايک امريکي خاتون سلويا اين ہيولٹ (Sylvia Ann Hewlett) ہيں جو برطانيہ کي کيمبرج يونيورسٹي اور امريکہ کي ہاروڈ يونيورسٹي سے اعزاز کے ساتھ تعليم مکمل کرچکي ہيں، وہ اکنامکس ميں پي ايچ ڈي ہيں اور امريکہ کي 'اکنامک پاليسي کونسل' کي ڈائريکٹر ہيں- نيو يارک ٹائمز ميں باقاعدگي سے لکھتي ہيں اور نصف درجن کتابوں کي مصنفہ ہيں- ميرے خيال ميں وہ پاکستان کي انساني حقوق کي علمبردار کسي بھي خاتون سے زيادہ تعليم يافتہ ہيں- عورتوں کي ملازمت کے حوالے سے پيش آمدہ مسائل ان کي دلچسپي کا خاص محور رہے ہيں وہ عورتوں کے حقوق کي علمبردار تو ہيں مگر 'تحريک آزادي نسواں' کے نظريات سے اختلاف رکھتي ہيں کيونکہ اس تحريک نے عورتوں کے مسائل حل کرنے کي بجائے ان ميں اضافہ کيا ہے- ہيولٹ نے اپني اس کتاب کے ايک باب کا عنوان رکھا ہے :
"Ultra-domesticity: The return to Hearth and Home" يعني "بے تحاشا خانہ داري؛ گھر کي طرف مراجعت"
يہ تمام کا تمام باب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے- يہاں اس سے چند ايک اقتباسات پيش کئے جاتے ہيں- ہيولٹ صا حبہ لکھتي ہيں:
"In the United States the picture was dramatically different. In the 1950's Women with college degrees in the child-bearing group had a lower rate of employment than any other group of Women, for the plain fact was Women with college degrees were ofien married to pros- perous men. And in America in the fifties, if the family could afford it, the wife stayed at home."
"رياست ہائے متحدہ کا منظر ڈرامائي طور پر مختلف تھا- 1950ء کي دہائي ميں کالجوں سے فارغ التحصيل وہ نوجوان خواتين جو بچے پيدا کرنے کي عمر رکھتي تھيں، ان ميں ملازمت کي شرح عورتوں کے کسي بھي دوسرے گروہ سے کم تھي- اس کي سادہ سي و جہ يہ تھي کہ کالجوں سے فارغ التحصيل عورتوں کي شادياں اکثر خوشحال مردوں سے ہوجاتي تھيں- پچاس کے عشرے ميں اگر خاندان اس بات کا متحمل ہوتا تو بيوي گھر ہي ميں رہتي تھي-" (صفحہ:153)
مندرجہ بالا انگريزي عبارت ميں"Stayed at home" کے الفاظ کو قرآن مجيد کے مقدس الفاظ (وَقَرْنَ فيْ بيوْتکنَّ) کي روشني ميں پڑھئے تو اسلام کي آفاقي صداقتوں کے تصور سے دل سرشار ہو جاتا ہے- ہيولٹ 1945ء اور اس کے بعد امريکي عورتوں کے حالات لکھتے ہوئے بيان کرتي ہيں:
"1945ء ميں امريکي عورتيں جتني بااختيار تھيں، اس سے پہلے اتني بااختيار کبھي نہ تھيں مگر جنگ عظيم دوم کے بعد آنے والے برسوں ميں ايک عجيب بات سامنے آئي- امريکہ جو کہ آزاد اور طاقتور عورتوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، اس پر خانہ داري کے جذبات عجيب طور پر حملہ آور ہوگئے- پھر يوں ہواکہ لاکھوں عورتوں نے ايسا طرز زندگي اپنا ليا جو مکمل طور پر خاندان اور گھر پر مرکوز تھا- ملک کي تاريخ ميں پہلي مرتبہ يہ ہوا کہ تعليم يافتہ عورتوں سے يہ توقع کي جاتي اور ان کي حوصلہ افزائي کي جاتي تھي کہ وہ اپني زندگي کے بہترين (Prime) سال اور اپني بہترين توانائياں گھريلو کاموں اور ممتا کا کردار نبھانے پر صرف کريں-
ما بعد جنگ کے يہ سال عجيب رجحان کے حامل تھے- 1950ء کي دہائي ايک عجب دور تھا، اس ميں يوں ہوا کہ عورتوں نے پہلے سے نسبتاً چھوٹي عمر ميں شادياں کرنا اور بچے پيدا کرنا شروع کرديے، وہ اپني تعليم اور ملازمت کو بھي درميان ميں چھوڑ کر ايسا کرنے لگيں- 1920ء اور 1930ء کي دہائيوں ميں امريکي عورتوں کي شادي کرنے کي اوسط عمر 23 تھي، جو 1950ء ميں کم ہوکر 20 رہ گئي- کسي بھي دوسرے ترقي يافتہ ملک ميں شادي کرنے کي صنفي طور پر اوسط عمر اس قدر کم نہ تھي- شرح پيدائش ميں بھي تيزي سے اضافہ ہوا- 1950ء کے آخري سالوں ميں امريکہ ميں شرح پيدائش ميں اضافہ يورپ کے مقابلے ميں دگنا جبکہ افريقہ اور انڈيا کے برابرتھا- يہ دور جو 1960ء تک رہا، اس ميں تيسرے بچے کي پيدائش کي شرح دوگني ہو گئي، چوتھے بچے کي شرح ميں تين گنا اضافہ ہوگيا- خانداني زندگي سے محبت کي اس دہائي ميں طلاق کي شرح کسي حد تک کم ہوگئي-" (صفحہ 152،153)
ہيولٹ کے درج ذيل الفاظ پڑھ کر تو شايد قارئين کو اعتبار نہ آئے- آخر يہ کيونکر ہوا کہ امريکي لڑکيوں نے تعليمي اعزازات پرمنگني کي انگوٹھيوں کو ترجيح دينا شروع کردي- ان کے اپنے الفاظ ميں ملاحظہ کيجئے :
"مختصراً يہ کہ ملازم پيشہ امريکي عورتيں (پروفيسر،وکلا، ڈاکٹر و غيرہ) کا تناسب 1950ء ميں جنگ سے قبل کے سالوں کي نسبت انتہائي کم تھا اور امريکي عورتوں کا ملازمت کو بطور پيشہ اختيار کرنے کا رجحان اپني يورپي بہنوں کي نسبت بہت ہي کم تھا- حتيٰ کہ امريکہ کے اعليٰ درجہ کے کالجوں ميں سب نوجوان طالبات کي آرزو يہ تھي کہ وہ گريجويشن کرتے ہي اعليٰ تعليمي اعزازات کي بجائے اپني انگليوں ميں منگني کي ہيرے کي انگوٹھي پہن سکيں- امريکي عورتيں عام طور پر بچوں کي پيدائش سے پہلے جاب کرتي تھيں ياپھر اس وقت جب ان کے بچے ہائي سکول ميں داخل ہوجاتے تھے، مگر وہ ملازمتوں کو شاذ و نادر ہي مستقل پيشہ بناتي تھيں- امريکہ ميں پچاس کي دہائي ميں عورتيں اپني بہترين توانائياں اور خانہ داري اور بچوں کي ديکھ بھال ميں خرچ کرتي تھيں-" (صفحہ:153)
پاکستاني عورت اور ترقي کا نصب العين
'حکومت اور سياسي عمل ميں مساويانہ بنيادوں پر شرکت' تحريک حقوق نسواں کا شروع سے مطالبہ رہا ہے- خواتين کے حقوق کي علمبردار مغرب زدہ تنظيموں کا خيال ہے کہ اگر قانون ساز اداروں ميں خواتين کو کم از کم 33 فيصد نمائندگي مل جائے تووہ نہ صرف معاشرے ميں سے صنفي امتياز کا خاتمہ کرسکتي ہيں بلکہ خواتين کے حقوق کے منافي بنائے جانے والے قوانين کے خاتمے اور ايسے نئے قوانين کے اجرا کا راستہ بھي روک سکتي ہيں-
پاکستان ميں 2002ء کے انتخابات ميں پاکستاني خواتين کو قانون ساز اداروں ميں ابتدائي طور پر 17 فيصد نمائندگي سے نوازا گيا- اس وقت سينٹ، قومي اور صوبائي اسمبليوں ميں 233 عورتيں موجود ہيں- 74 قومي اسمبلي ميں، 78 سينٹ ميں؛ پنجاب اسمبلي ميں 73، سندھ اسمبلي ميں 33، سرحد اسمبلي ميں 23 جبکہ بلوچستان اسمبلي ميں خواتين کي تعداد 12 ہے- سوال پيدا ہوتا ہے کہ خواتين کو اسمبليوں ميں اس قدر زيادہ نمائندگي دينے کے باوجود عام پاکستاني عورت کي حالت ميں کوئي نماياں تبديلي واقع ہوئي ہے يا نہيں-
"اتني بڑي تعداد ميں خواتين کے اسمبليوں ميں پہنچنے کے بعد توقع تھي کہ ملک کي نصف آبادي کي نمائندہ عام عورت کے حقوق کے تحفظ اور تشدد ناانصافي سے نجات دلانے کے لئے ترجيحي بنيادوں پر يہ کام شروع کريں گي اور اسمبليوں کے اندر پارٹي سياست سے بالاتر ہوکر خواتين کے ايشو ز پر متحد ہوکر آواز بلند کريں گي ليکن خاتون اراکين اسمبلي کي 15ماہ کي کارکردگي بيان بازي سے آگے نہيں بڑي اور عملي سطح پر کسي جماعت کي خواتين نے کوئي کارکردگي نہيں دکھائي-
انتخابات سے قبل خواتين کي مختلف حقوق کي تنظيموں کي طرف سے منعقد کئے گئے پروگرام ميں ہر جگہ تمام سياسي جماعتوں کي خواتين نے اس عزم کا اظہار کيا تھا کہ وہ خواتين کے ايشوز پر دباو کو خاطر ميں نہيں لائيں گي- تاہم اسمبليوں ميں جانے کے بعد وہ اپنے اس عزم پر قائم نہيں رہ سکيں- عام پاکستاني عورت جو ظلم و تشدد، استحصال وغربت، ناخواندگي، ناانصافي، فرسودہ روايات و اقدار اور امتيازي رويوں کا شکار ہے، ہر گزرے دن کے ساتھ اس کے دکھوں اور مصائب اور مشکلات جبکہ عورتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کي تقدير بدلنے کا نعرہ لگا کر اسمبليوں ميں نمائندگي حاصل کرنے والي خواتين کي تنخواہوں اور مراعات ميں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے-" (نوائے وقت، 8مارچ 2004ء)
وہ مزيد لکھتي ہيں: "مجموعي طور پر عام عورت کو ريليف دينے کے حوالے سے خواتين پارليمنٹرين کي کارکردگي صفر رہي ہے-"
ان خواتين صحافيوں کي نگاہ ميں خواتين پارليمنٹرين کي طرف سے کسي نماياں کارکردگي کا مظاہرہ نہ ہونے کي ايک وجہ يہ بھي ہے کہ اسمبليوں کے اندر خاتون اراکين کو مرد اراکين اسمبلي کي طرف سے شديد مخالفت اور تنقيد کا سامنا ہے- وہ خاتون اراکين کي حيثيت مقام اور مرتبے کو تسليم کرنے پر تيار نہيں اور کسي خاتون کي طرف سے کوئي تحريک پيش کرنے يا قانون کا بل پيش ہونے پر انہيں طنز و مزاح کا نشانہ بناتے ہيں- (ايضاً)
ہمارے خيال ميں خواتين کي اسمبليوں ميں 'صنفي کارکردگي' نہ دکھانے کا سبب مردوں کي طرف سے ان کي مخالفت يا تنقيد نہيں ہے- اگر پاکستان ميں 17 فيصد کي بجائے 77 فيصد خواتين کو اسمبليوں ميں بٹھا ديا جائے تب بھي ان کي يہ نمائندگي پاکستاني خواتين کي اس ترقي کے ضامن نہيں بن سکتي جس کا يہ خواب ديکھتي ہيں- بنيادي طور پر يہ تصور ہي غلط ہے کہ سياست ميں خواتين کي عملي شرکت سے ہي عورتيں ترقي کرسکتي ہيں- يہ مغرب کا تصور ہے جو انہوں نے پسماندہ ممالک کيلئے پيش کيا ہے، ورنہ ان کے ہاں عورتوں کي پارليمنٹ ميں جب نمائندگي نہ ہونے کے برابر تھي، تب بھي وہاں کي عورت ترقي يافتہ تھي- امريکہ، برطانيہ ، فرانس اور جرمني سميت ايک بھي ترقي يافتہ ملک ايسا نہيں جہاں عورتوں کو 33 فيصد نمائندگي حاصل ہو-
پاکستان کي اسمبليوں ميں لبرل اور مغرب زدہ خواتين کے ساتھ متحدہ مجلس عمل کي خواتين اراکين  اسمبلي بھي موجود ہيں- اسلامي مزاج رکھنے والي ان خواتين کي موجودگي کا اور کوئي عملي فائدہ ہو يا نہ ہو، يہ ضرور ہوا ہے کہ وہ مغرب زدہ خواتين کي طرف سے حدودآرڈيننس اور ديگر اسلامي قوانين کے خلاف کي جانے والي کوششوں کي بھرپور مزاحمت کررہي ہيں- انہوں نے ان مٹھي بھر افرنگ زدہ عورتوں کے اس دعويٰ کو بھي باطل ثابت کيا ہے کہ وہ تمام پاکستاني خواتين کي نمائندگي کرتي ہيں-
پاکستاني عورتوں کي ملکي ترقي ميں شانہ بشانہ کردار کي بات ہو يا عورتوں کے حقوق کے تعين کامعاملہ ہو، پاکستاني مسلمانوں کو فيصلہ کرنا ہے کہ وہ ان جديد چيلنجوں کا حل مغربي معاشرے کي پيروي ميں سمجھتي ہے يا ان مسائل کے حل کے لئے انہيں اسلام سے رہنمائي طلب کرني چاہئے جو کہ آفاقي دين ہے اور جس کي تعليمات ہر زمانے کے لئے ہيں- اسلامي فريم ورک ميں رہتے ہوئے مادّي ترقي کا حصول ہي ہمارا نصب العين ہونا چاہيے-
اسلامي اقدار اور ہمارے خانداني اداروں اور روايات کي قيمت پراگر پاکستاني عورت ترقي کي منازل طے کرتي ہے تو يہ سراسر خسارہ کي بات ہے- اسلام نے عورت اور مرد کے فرائض مختلف قرار ديئے ہيں- عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہي ہے، البتہ بعض استثنائي صورتوں ميں وہ بعض شرائط کي تکميل کے ساتھ گھريلو زندگي کے دائرے کے باہر بھي فرائض انجام دے سکتي ہے- عورتوں کے حقوق کے نام پر کام کرنے والي تنظيميں جو رول ماڈل (نمونہ) پيش کر رہي ہيں، وہ سراسر مغرب کي بھونڈي نقالي پر مبني ہے جس کا نتيجہ معاشرتي اور خانداني نظام کي تباہي کے علاوہ اور کچھ نہ ہوگا-اس بات سے انکار ممکن نہيں ہے کہ پاکستاني معاشرے ميں عورتوں کے حقوق کا بعض صورتوں ميں خيال نہيں رکھا جاتا، مگر ان حقوق کي بازيابي کا وہ تصور اور حل بے حد خطرناک ہے جو اين جي اوز پيش کررہي ہيں- اسلام نے حيا اور عفت کو عورت کا زيور قرار ديا ہے، اس سے محروم ہوکر کوئي عورت اسلام کي نگاہ ميں 'ترقي يافتہ' نہيں ہوسکتي- ہميں 'ترقي' کے وہ معيارات پيش نظر رکھنے ہوں گے جو اسلام کے اخلاقي نصب العين پر پورے اترتے ہوں۔-
امريکہ اور يورپ کي تاريخ گواہ ہے کہ مادّي ترقي کے حصول کے لئے عورتوں کا مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ شريک ہونا نہ صرف ناپسنديدہ بلکہ غير ضروري بھي ہے- ملکي ترقي ميں عورت کا شاندار کردار يہ ہے کہ وہ خانداني زندگي کے نظام کو اس انداز ميں سنبھال لے کہ اجتماعي طور پر معاشرہ استحکام حاصل کرے- خاندان کي اندروني زندگي کو اجاڑ کر دفتروں اور فيکٹريوں کے ماحول کو رونق بخشنے سے ترقي کا توازن قائم نہيں رکھا جا سکتا- مغربي معاشرہ آج اسي عدم توازن کا شکار ہے- عورتيں تعليم کي روشني سے بھي اپني روح کو منور کريں، انہيں صحت کي سہوليات بھي ہر ممکن حد تک پہنچائي جائيں- ان سے ہونے والي ناانصافي کے خاتمہ کي جدوجہد بھي ضرور کي جائے، مگر ان سب باتوں کے ساتھ ان کي پہلي ترجيح خانداني زندگي کو استحکام بخشنا ہو- اگر وہ تعليم حاصل کريں، اس کامقصد کسي فيکٹري کے چيف ايگزيکٹو کي پرائيويٹ سيکرٹري بن کر عملاً اس کي تنخواہ دار داشتہ کا کردار ادا کرنا نہ ہو، نہ ہي وہ تعليم کو محض ملازمت کے حصول کا ذريعہ سمجھيں- تعليم ايک مرد کے لئے معاش کا ذريعہ ہوسکتي ہے، مگر عورت کو اس لئے تعليم يافتہ ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے بچوں کي مناسب تعليم و تربيت کا خيال رکھ سکے، ان ميں علم کي روشني منتقل کرسکے اور اپنے گھر کي 'چراغ خانہ' بن کر اس کي ديواروں کو علم کي روشني سے منور کرسکے-
جب ہم کہتے ہيں کہ عورت کو گھريلو زندگي کو اپني پہلي ترجيح سمجھنا چاہئے تو اس کا مطلب يہ ہرگز نہيں ہے کہ وہ دنيا سے الگ تھلگ ہوکر زندگي بسر کرے - آج کا معاشرہ بہت آگے بڑھ چکا ہے- بڑے متمدن شہروں ميں پرورش پانے والي عورتوں سے يہ توقع کرنا کہ وہ کوہستاني قبائل کي عورت کي طرح زندگي بسر کريں، ايک ناقابل عمل خواہش ہوگي- شہري زندگي ميں ايسے مواقع بھي کم نہيں ہوتے جہاں عورتيں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پر مجبور نہيں ہوتيں- گھريلو زندگي سے باہر اگر چہ عورتوں کے ہي مخصوص تعليمي، تبليغي، رفاہي اور سماجي حلقوں ميں عورت بھرپور انداز ميں شريک ہوسکتي ہے ليکن ان حلقوں ميں شرکت کو اسے پيشہ ورانہ مشغوليت کي صورت ہرگز نہيں ديني چاہئے تاکہ خانداني زندگي نظر انداز نہ ہو-
'عورت اور ترقي' کے حوالہ سے ہمارے دانشوروں کو بہت بڑا چيلنج درپيش ہے کہ وہ ملکي ترقي ميں جديد پاکستاني عورت کے کردار کے حوالہ سے ايسا فريم ورک تشکيل ديں جس ميں اسلامي تعليمات کي روشني ميں اعليٰ انساني قدروں کا رنگ بھرا جاسکے اور جو مرد اور عورت کے مخصوص دائرہ کار کے اس تصور کي روشني ميں پيش کيا جاسکے جس ميں معاشرے کي مادّي واخلاقي دونوں طرح کي ترقي کے مقاصد کا حصول ممکن ہو-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram