علی شمخانی اور نریندر مودی کی باہمی گفتگو پر تفصیلی رپورٹ

علی شمخانی اور نریندر مودی کی باہمی گفتگو پر تفصیلی رپورٹ

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے جمعے کو نئی دہلی میں ہندوستان کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں دہشت گردی اور اس سے مقابلے کے لئے مشترکہ تعاون کےبارے میں تبادلۂ خیال کیا-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے جمعے کو نئی دہلی میں ہندوستان کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں دہشت گردی اور اس سے مقابلے کے لئے مشترکہ تعاون کےبارے میں تبادلۂ خیال کیا-

انہوں نے اس ملاقات میں کہا کہ دو علاقائی طاقتوں کی حیثیت سے ایران اور ہندوستان کی مستحکم پوزیشن اور دونوں ملکوں کے تعمیری رویّے نے علاقائی بحرانوں کے حل اور دہشت گردی سے مقابلے میں باہمی تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لئے بے شمار مواقع فراہم کئے ہیں-

علی شمخانی نے علاقے کے بعض ملکوں کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے، جو تکفیری نظریات کی حمایت کرکے عملی طور پر داعش بنانے کے کارخانے میں تبدیل ہو گئے ہیں، کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان ثقافتی تعاون، ہندوستان کے مسلمان معاشرے میں تکفیری گروہوں کے اثر و رسوخ اور ان کی سرگرمیوں کا سدباب کرسکتا ہے-

ایران اور ہندوستان مغربی اور جنوبی ایشیا میں دو طاقتور اور موثر و فعال ملک ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی و تہذیبی اشتراکات اور دیرینہ تاریخی روابط کے علاوہ، یہ دونوں ملک ناوابستہ تحریک میں ممتاز کردار کے حامل ہیں اور ہندوستان اور ایران کے تعلقات، عالمی معاملات میں خودمختاری کے ساتھ عمل کرنے کے سبب کسی بھی تیسرے فریق سے متاثر نہیں ہیں- عالمی سطح پر ذمہ داری کا احساس کرنے والے ملکوں کی حیثیت سے ایران اور ہندوستان کے تعمیری اور تاریخی روابط ، نہ صرف یہ کہ دیگر ملکوں کے لئے خطرہ نہیں رہے ہیں بلکہ ان تعلقات سے علاقائی سطح پر امن و استحکام کو تقویت ملی ہے-  

اس مسئلے کے پیش نظر علی شمخانی کے دورہ ہندوستان سے، دو طرفہ تعاون  خاص طور پر دہشت گردی سے مقابلے میں تعاون کو تقویت ملے گی-

ایران اور ہندوستان دہشت گردی کے خطرے کو ایک حقیقی خطرہ سمجھتے ہیں اور وہ باہمی تعاون کے تناظر میں اس عالمی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں- تہران اور نئی دہلی ، مشترکہ اقتصادی تعاون کے علاوہ مشترکہ سیکورٹی توانائیوں سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-

ایران نے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی اور اصولوں کی بنیاد پر دیگر ملکوں کے ساتھ خاص طور پر عالمی سطح پر تعاون کو ، اپنے سیکورٹی تعلقات کی بنیاد قرار دیا ہے- علاقے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں مشترکہ سیاسی نقطہ نگاہ کے سائے میں، مشترکہ سیاسی توانائیوں سے فائدہ اٹھانا علاقے کے بحرانوں کے حل اور دہشت گردی سے مقابلے میں بہت موثر ہے-

دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکی اور مغربی اتحاد میں شامل نہ ہونے پر مبنی نئی دہلی کی صحیح اور منطقی پالیسی نے ، دہشت گردی سے ٹھوس اور حقیقی مقابلے کے تناظر میں ایران اور ہندوستان کے تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے مناسب حالات فراہم کئے ہیں-

 علاقے کے پڑوسی ملکوں منجملہ ہندوستان کے ساتھ تعمیری تعاون میں سیکورٹی کی مشترکہ توانائیوں اور صلاحیتوں سے استفادے کے لئے ایران کی جانب سے باہمی تعاون کا نقطہ نظر اس امر کا غماز ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی سے مقابلے میں سنجیدہ ہے اور وہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے اپنی بھرپور توانائیوں سے استفادہ کرے گا-

شام میں دہشت گردی سے حقیقی مقابلے کے لئے، ایران اور روس کا ایک دوسرے کی مشترکہ توانائیوں اور صلاحیتوں سے استفادہ اور فوجی و سیکورٹی تعاون، نیز اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی کے حال ہی میں دورہ باکو اور وہاں آذربائیجان اور روس کے سربراہان مملکت کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران علاقے میں دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنے کی پالیسی اپنانے ہوئے ہے-

دہشت گردی کے خطرات سے مقابلے کے لئے، ایران دیگر ملکوں کے ساتھ تعمیری تعاون اور مشترکہ فوجی اور سیکورٹی تعاون سے استفادے  کی مثبت اور موثر پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور اسی تناظر میں ایران کے ساتھ روس اور ہندوستان نیز دیگر ممالک منجملہ شام اور عراق کا تعاون، دہشت گردی سے مقابلے میں مفید اور سودمند واقع ہوا ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram