داعش کی شکست کے بعد سعودی عرب میں کھبلی پیدا

عراق میں مختلف اقلیموں کی تشکیل کے لیے سعودی عرب کا نیا منصوبہ شروع

عراق میں مختلف اقلیموں کی تشکیل کے لیے سعودی عرب کا نیا منصوبہ شروع

سعودی عرب آیندہ ماہ ایسی کانفرنس کی میزبانی کرے گا کہ جس میں وہ لوگ موجود ہوں گے جو عراق میں مختلف اقلیموں کی تشکیل کے منصوبے کے حامی ہیں ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی روزنامہ "الاخبار" کے مطابق سعودی عرب اس تکاپو میں ہے کہ دہشتگرد تنظیم دولت اسلامی عراق و شامات (د-ا-ع-ش) کے بعد عراق کا کیا ہوگا  لہذا وہ ایسی کانفرنس کی میزبانی کرے گا کہ جس میں وہ لوگ موجود ہوں گے جو عراق میں مختلف اقلیموں کی تشکیل کے منصوبے کے حامی ہیں ۔

 ریاض کا دعوی ہے کہ داعش کے قبضے سے آزاد ہو جانے کے بعد عراق کے مغرب کا کیا ہوگا اس کا جائزہ لیا جائے۔

یہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے اور کہا جاتا ہے کہ آل سعود کے عراقی حلیف کہ جو سنی گروہ اور عراق کے مخالف کہلاتے ہیں ، داعش کے چنگل سے عراق کے مغرب کے آزاد ہوجانے کے بعد اور سنی اقلیموں کی تشکیل کے بارے میں اور ان کی حدود کو متعین کرنے کے سلسلے میں اور یہ جاننے کے لیے کہ بین الاقوامی سطح پر ان کی کتنی حمایت ہو گی ، ریاض میں جمع ہونے والے ہیں ۔

ریاض کے اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ وہ عراق کے چند ملکوں میں بٹوارے کے موضوع کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری کو قبول کر رہا ہے اور یہ وہی منصوبہ ہے کہ جو کچھ سال پہلے اربیل اور اردن کے پایتخت امان میں سامنے رکھا گیا تھا ۔

ریاض کی کوشش، گڑھے مردے اکھاڑے جائیں

دوسرے لفظوں میں سعودی عرب اس وقت یہ کوشش کر رہا ہے کہ اس پرانی فایل کو کہ جس نے نئی اہمیت پیدا کر لی ہے ایک بار پھر زندہ کرے ، حالانکہ اس سے پہلے بھی اس منصوبے کی ترویج اور اس کے حامیوں کی ترغیب کا اس پر الزام لگ چکا ہے ۔

سال ۲۰۱۱ کے اواخر اور ۲۰۱۲ کے اوائل میں یعنی عراق کے مغربی علاقوں میں سیاسی اور امنیتی کشمکشوں کے آغاز سے پہلے کہ جس کی وجہ سے داعش نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا ،عراق کے کچھ صوبوں میں اس ملک کے اندر سنی ملک کی تشکیل کی بات چل رہی تھی لیکن اس موضوع نے جلدی ہی اپنی جذابیت کھو دی تھی اور اس کے حامیوں نے بھی اس کی حمایت کرنے سے ہاتھ کھینچ لیے۔

ریاض کی کانفرنس کے کام کا چارٹ کیا ہے ؟

ریاض کی کانفرنس کی جزئیات  کے بارے میں بھی یہ بتا دیں کہ اس میں عراق کے چند علاقوں کے مستقبل اور سب سے بڑھ کر الانبار ، نینوی اور صلاح الدین کے مستقبل کے بارے میں داعش کے قبضے سے آزاد ہونے کے بعد غورو خوض کیا جائے گا اس لیے کہ عراقی حکام کے بقول صوبہء الانبار کا ۱۰ فیصد حصہ اب بھی داعش کے قبضے میں ہے جب کہ الانبار پورے عراق کے ایک تہائی رقبے پر مشتمل ہے ۔

عراق کی تقسیم کے موضوع کے بارے میں سعودی عرب ایسے وقت میں ہاتھ پیر مار رہا ہے کہ جب نینوی کے نزدیک شہر شرقاط صوبہء صلاح الدین میں داعش کا آخری ٹھکانہ شمار ہوتا ہے کہ جس کی آزادی کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی ہو رہی ہے ۔

ریاض کی کانفرنس میں سنی اقلیموں کی شکل اور ان کی ترویج کے بارے میں بحث ہو گی تا کہ تمام عراقی گروہوں کی حمایت بھی حاصل کی جا سکے ۔

اس کے علاوہ ان صوبوں کو محدود کرنے اور نظر انداز کر دیے جانے کے موضوع کے تحت علاقائی اور بین الاقوامی حمایتیں حاصل کرنے کو بھی دستور کار کا حصہ بنایا جائے گا ۔

عراق میں اقلیموں کی تشکیل کے منصوبے کو وسعت دینے کی سعودی عرب کی کوشش

ریاض کی کانفرنس میں اقلیموں کی تشکیل سے آگے کی بات بھی کی جائے گی اور اس منصوبے کو عراق کے ان صوبوں جیسے دیالہ تک لے جایا جائے گا کہ جن کی آبادی سنیوں اور دیگر فرقوں سے مخلوط آبادی ہے تا کہ ان علاقوں کو بھی اقلیموں کے ساتھ ملحق کیا جائے ۔

ریاض کے مہمان کون لوگ ہیں ؟

اب تک عراق کی حکومت اور حکومت میں موجود عراقی گروہوں نے اس کانفرنس کے سلسلے میں سرکاری سطح پر اظہار خیال نہیں کیا ہے ، لیکن ایک حکومتی ذریعے کا کہنا ہے کہ عراق کی حکومت اس طرح کی کانفرنس منعقد کرنے کی سخت مخالف ہے اور وہ اس کو اپنے داخلی امور میں کھلی مداخلت قرار دیتی ہے ۔

 عراق کے اہل سنت کی سعودی عرب کے نئے جال کے مقابلے میں ہوشیاری کی ضرورت

اسی طرح علمائے عراق کی جماعت نے ریاض میں کانفرنس منعقد کیے جانے کے بارے میں خبر دار کیا ہے اور اس کو عراق کے اہل سنت کے لیے نیا جال بچھانے سے تعبیر کیا ہے ۔

علمائے اہل سنت عراق کی جماعت  کے ادارے کے سربراہ خالد الملا نے کہ جس کا دیوان وقف سنی کے رئیس عبد اللطیف الھمیم کے ساتھ قریبی رابطہ ہے اپنے فیس بک کے صفحے پر ایک بیان نشر کر کے تاکید کی ہے کہ ریاض کی کانفرنس منعقد کرنے کا مقصد ، عراق میں سنی گروہ کے اقلیم کی تشکیل ہے ، اور یہ کام یعنی اقلیموں کی تشکیل کا کام پہلے سے ہی چوری ہو گیا ہے اس لیے کہ اس کام کو یا تو داعش اور شدت پسند گروہوں نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے یا اس کام کو بعثی انجام دیں گے ۔

الملا نے یاد دلایا کہ ریاض کی کانفرنس شہر موصل کی آزادی کی جنگ کے آخری مرحلے کے موقعے پر منعقد ہو گی اور وہ لوگ کہ جنہیں اسلامی ریاست کی تشکیل کی اپنی آرزو خاک میں ملتی نظر آ رہی ہے اس بار انہوں نے سنی اقلیم کے نام سے عراق کے لیے نیا منصوبہ بنایا ہے ۔

عراق کے اہل سنت  اپنے ملک سے جدائی کو تسلیم نہیں کریں گے

اس نے تاکید کی : عراق کے اہل سنت اس سے کہیں زیادہ ہوشیار ہیں کہ یہ  لوگ انہیں اپنی سازش اور اپنے دھوکے کے جال میں پھنسا سکیں اور وہ عراق کے لوگوں سے الگ ہونے کو قبول نہیں کریں گے ۔

الملا نے عراق کے اہل سنت کو عراق میں اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے اپنے شریکوں کے ساتھ تعاون کرنے کی دعوت دی ۔

اسی طرح عراق کے سیاسی فکری مرکز کے سربراہ احسان الشمری نے لکھا ہے : ریاض کی کانفرنس عراق کے سیاسی حالات کو چوٹ پہنچانے کی کوشش کا حصہ  ہے خاص کر ایسے میں کہ جب اس میں شرکت کرنے والے زیادہ تر لوگ دہشت گردی کے الزام میں مقدموں کا سامنا کر رہے ہیں ۔

 اس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سعودی عرب عراقی سنی گروہ کی تشکیل کے در پے ہے ، تاکید کی کہ عراق کی وزارت خارجہ کی سعودی عرب کے ان اقدامات کو روکنے کی بھاری ذمہ داری ہے ، اس لیے کہ ریاض اس کانفرنس کو منعقد کر کے کہ جو بین الاقوامی قوانین کے بر خلاف ہے ایک اچھا ہمسایہ ہونے کے ضابطے کو پامال کر رہا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram