کیا ایران کسی سے کم ہے؟

رپورٹ/ ترقیاتی میدان میں ایک سال کے اندر دسیوں سائنسی پروجیکٹوں کا ایران میں افتتاح

رپورٹ/ ترقیاتی میدان میں ایک سال کے اندر دسیوں سائنسی پروجیکٹوں کا ایران میں افتتاح

ایک سال کے اندر ۳ ریڈیو دارو کی نقاب گشائی ، تین نئے دواسازی کے کارخانوں کا افتتاح ، ایران کی دھماکوں کو روکنے والے سازو سامان کی سب سے بڑی تجربہ گاہ کا افتتاح ، ایران کے روئی کی پیداوار کے پہلے ماڈل کی رونمائی ، ملک میں پہلی بار بیداری کی حالت میں مغز کا آپریشن ، اسٹریٹیجیک دوا فیکٹر ۷ ، ایران نے ایک جنگلی جانور قوچ کا کلون تیار کیا ، رایانش ابری خدمات کے پہلے چینل کی رونمائی ، ایران کے سیٹیلائٹ کے ھاب منصوبے کا آغاز ، بجلی اور پیل ایندھن سے چلنے والی گاڑی کی افتتاحی رسم ، ٹییکنیکی اور تحقیقاتی رصد خانہ کا افتتاح ، سورنا روبوٹ کی تیسری نسل کی رونمائی ، پہلے دوزیستی ہوائی جہاز کی رونمائی ، چمڑی کا درد روکنے والے ٹیپ کی تولید کی پٹڑی کا افتتاح ، سنجشی دوستی سیٹیلائٹ کی رونمائی ، اینٹرنیٹ آف تھینگز کے پہلے پلیٹ فارم کی رونمائی و۔۔۔۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  ہجری شمسی سال 1394 میں ایران میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقیوں نے عالم اسلام کی عزت میں چار چاند لگائے۔ جن میں مندرجہ ذیل پروجیکٹوں کی نمایاں کارگردگی پر سرسری جایزہ:

 ۳ ریڈیو دارو کی نقاب گشائی

ایرانی سال 1394 کے پہلے مہینے فروردین میں جوہری توانائی کے محصولات کے فنون کے قومی دن کے موقعے پر ایران کے ریڈیو دارو کے تین جوہری محصولات اور ماحولیات کے ایک محصول کی ایران کے صدر کی موجودگی میں رونمائی کی گئی یہ ریڈیو دارو پر امن جوہری پروگرام کے محصولات کا حصہ ہیں جو سال1393 میں بنائے گئے ہیں ۔ ان محصولات میں سب سے اہم مصنوعی ایندھن کا مخزن ہے ۔

تین نئے دواسازی کے کارخانوں کا افتتاح

 سال 1394 میں دواسازی کے تین نئے کارخانوں جوہری پلیٹ ، قرص سولامر ، اور اور لیٹاٹ پلیٹ کا بھی افتتاح کیا گیا ۔دواسازی کے ان تین کارخانوں کی تعمیر کرنے والوں اور ان کے ڈائریکٹروں کے بقول امید کی جا رہی ہے کہ ان تین محصولات کو بازار تجارت میں پیش کرنے سے گردوں کے بیماروں کے علاج کے سلسلے میں موئثر قدم اٹھایا جا سکتا ہے اور ملک کی دواسازی کی صنعت کے علمی اقتصاد کی ترقی کی راہ میں مناسب مدد کی جا سکتی ہے ۔

 ایران کی دھماکوں کو روکنے والے سازو سامان کی سب سے بڑی تجربہ گاہ کا افتتاح

گزشتہ سال ایران نے دھماکوں کو روکنے والی سب سے بڑی تجربہ گاہ یعنی اینٹی بلاسٹ الیکٹرو موٹر کہ جس کی طاقت ۲۳۰ کیلو واٹ ہے کا بھی افتتاح کیا ۔ الیکٹرو موٹر اور اینٹی بلاسٹ  تجربہ گاہ مختلف گیسز کو انجیکٹ کرنے کی قابلیت رکھتی ہے تا کہ اس سازو سامان کی گیس فیکٹری میں آزمائش کی جا سکے ۔ ۔یہ تجربہ گاہ  ۱۰۰ کیلو ٹی این ٹی کے برابر دھماکہ بر داشت کرنے کی طاقت رکھتی ہے ۔

کیٹالیسٹ پیدا کرنے والے خط کے دوسرے فیس  سے بہرہ برداری کا کام بھی سال ۹۴ میں شروع ہوا  اس میں ایسی فلزات ہوتی ہیں جو تحقیقاتی مراکز کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں اور پیٹروکیمیکل مصنوعات میں مصرف ہونے والے یورو ۴ اور یورو۵ کی تصفیہ گاہ کیٹالیسٹ ایزومریزیشن کی تولید کے کام آتی ہیں ۔ ان محصولات کے فن کا علم اس سے پہلے صرف امریکہ کی یو پی کمپنی اور فرانس کی ایکسینٹ کمپنی کے پاس تھا ۔ ایرانی محققین نے ان دو محصولات کے انحصار کی دیوار کو توڑا  اور سالانہ سو میلین ڈالر ملک سے باہر جانے سے بچا لیے ۔

ایران کے روئی کی پیداوار کے پہلے ماڈل کی رونمائی

اس پروجیکٹ پر ایرانی ریسرچ اسکالرز نے ۵ سال تک کام کیا اور سال ۹۴ میں بعض ایرانی حکام کی موجودگی میں اس کی رونمائی کی گئی ۔یہ روئی صوبہء خراسان جنوبی کے کسانوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے جو اس وقت روئی کی کیفیت میں گراوٹاور علاقے میں پانی کی کمی  کی مشکل سے دوچار ہیں۔ اس فن کے کھیتوں میں آجانے سے محصولات میں ۵ سے ۷ گنا تک کا اضافہ ہو جائے گا ۔

ملک میں پہلی بار بیداری کی حالت میں مغز کا آپریشن

تجربہ کار ایرانی ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے سینا ہاسپیٹل میں ملک میں پہلی بار بیداری کی حالت میں مغز کا خصوصی آپریشن ایک ایسے بیمار کا کیا کہ جو گلیوم ٹیومر کی بیماری میں مبتلا تھا یہ آپریشن مغز کے اینسولا کے حصے میں کیا گیا ۔ اینسولا مغز کی گہرائی میں ایک جگہ ہے کہ جس کے اندر مغز کے تکلم  اور بنیادی حس اور حرکت کے مختلف مراکز پائے جاتے ہیں ۔ اس روش میں ڈاکٹروں نے ان مراکز کے محفوظ رہنے کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے کے لیے آپریشن کے دوران بیمار کو بیدار کیا اور گفتگو کے دوران اور ہوشیاری کے عالم میں بیمار کے مغز سے ٹیومر نکالا ۔

 اسٹریٹیجیک دوا فیکٹر ۷ 

آریوسون ، ایک نوترکیب فعال شدہ انعقادی فیکٹر ۷ ہے اور ایک حیاتین دار میکرو مولکول (گلیکو پروٹین )ہے ۔ یہ دوا  ڈی این اے کی نو ترکیب ٹیکنالوجی سے اور نوزاد کے گردوں کے سیلوں سے (بی ایچ کے ) کے استعمال سے بنائی جاتی ہے ۔اور مولکولی ساختار اور بائیولوجیکی کارکردگی کے اعتبار سے انسانی پلاسما سے استخراج شدہ انعقادی فیکٹر ۷ کے مشابہ ہے ۔ ملک کے ریسرچ اسکالرز معاونت علمی و فناوری ریاست جمہوری کی حمایت سے سال ۹۴ یہ حساس دوا تولید کرنے میں کامیابی حصل کی ۔اس سے پہلے یہ دوا صرف ڈنمارک کے پاس تھی ۔

ایران نے ایک جنگلی جانور قوچ کا کلون تیار کیا

رویان اصفہان کے ریسرچ سینٹر کے ریسرچ اسکالرز نے پہلی بار ایک روبہ زوال جنگلی جانور قمیشلو کے مانند جانور بنا لیا ہے اس قوچ کے مشابہ جانور بنانے میں محققین کو مادہ اسپرم اور تخم کی ضرورت تھی اس کے لیے انہوں نے نر و مادہ جنس رکھنے والے دو سیلوں کی ترکیب سے ایک جانور تیار کیا ۔ان دو سیلوں کی ترکیب سے اس حیوان کا تخم ایجاد ہوا ۔ ان تخموں کی ترکیب سے ایک موجود جدید تیار ہو گیا ۔اس کے پہلے نظفے اسی طرح کے ایک جانور کے رحم میں منتقل کیا گیا جس سے یہ روبہ زوال جانور پیدا ہوا ۔

رایانش ابری خدمات کے پہلے چینل کی رونمائی

رایانش ابری روش اور فن کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس میں ہر طرھ کی اطلاعات اور معلومات کو جمع کیا جاتا ہے اس میں بہت بڑی گنجائش ہوتی ہے اور استفادہ کرنے والوں کے کام آتا ہے ملک کی داخلی اطلاعات کو ذخیرہ کرنے کے لیے رایانش ابری کے پہلے چینل نے ماہ شہریور سال ۹۴ میں اپنا کام شروع کیا ۔الیکٹرانیکی دولت کی خدمات پیش کرنا ، ملک میں ملکی اطلاعات تک رسائی حاصل کرنا اور ذخیرہ سازی کے منابع کی ظرفیت میں اضافہ کرنا اس منصوبے کے کچھ مقاصد ہیں ۔

 ایران کے سیٹیلائٹ کے ھاب منصوبے کا آغاز

ایران کے ھاب سیٹیلائٹ کا منصوبہ جس کا نام ھما ہے کا مقصد سیٹیلائٹ کے ذریعے ارتباطات  سے استفادہ کرنا ہے یہ ارتباطات کے وسایل جیسے فیبر نوری ریڈیو کے ساتھ کام کرے گا اور دور دراز کے علاقوں سے ارتباطات کو آسان بنائے گا نیز اضطراری اور غیر مترقبہ حوادث کے موقعے پر بھی ارتباط برقرار کرنے کے کام آئے گا ۔ سیٹیلائٹ چینل ھاب کے وی سیٹ منصوبے نے بھی کہ جو بومن تہران کے سیٹیلائٹ کے مرکز میں ۱۲ سال تک معطل رہنے کے بع ہفتہء دولت کی مناسبت کے دنوں میں اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔

 بجلی اور پیل ایندھن سے چلنے والی گاڑی کی افتتاحی رسم

بجلی اور پیل اندھن سے چلنے والی خواجہ نصر یونیورسٹی میں بنی گاڑی ھیبریڈ کی رونمائی بھی سال ۹۴ میں کی گئی ۔ یہ گاڑی ہائیڈ روجن اور آکسیجن کی ترکیب سے  چلتی ہے ۔اس گاڑی میں ایک چارج ہونے والی بیٹری ہے جو بجلی اور ہائیڈروجن اور آکسیجن دونوں کے ذریعے چارج ہوتی ہے یہ ٹیکنیک خواجہ نصیر یونیورسٹی کی مدد سے آیندہ کچھ برسوں میں تہران میں چلنے والی گاڑیوں میں نصب ہوگی ۔ اس گاڑی کی ایک اور خصوصیت ہواکی آلودگی کو ختم کرنے میں مدد کرنا ہے اس لیے کہ اس گاڑی کے ایگزوز سے دھوئیں کے بدلے پانی نکلتا ہے ۔

ٹییکنیکی اور تحقیقاتی رصد خانہ کا افتتاح

ٹیکنیکی اور تحقیقاتی رصد خانہ علم اور تحقیق کے میدان میں رہنم وسایل کے عنوان سے ایران کے اطلاعات کے تحقیقی اور فنی تحقیقی مرکز میں تحقیقی اور علمی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں تک دسترسی حاصل کرنے کے امکان  کو فراہم کرنے کے لیے اس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔ یہ رصد خانہ اطلاعات کے گنجینے سے اطلاعات لیتا ہے جو ایران کی اطلاعات کے ٹیکنیکی اور علمی مرکز کے تحقیقی مرکز نے اپنی تاریخ کی تقریبا نصف صدی سے اطلاعات کو اکٹھا کرنے ، انہیں منظم کرنے ،ان کو ذخیرہ کرنے ، ان کی حفاظت کرنے اور ان کو پھر سے حاصل کرنے اور ملک کی ٹیکنیکی اور علمی اطلاعات اور ان کے مدارک کی تحلیل کرنے اور ان کو نشر کرنے کی ماموریت کی بنیاد پر جمع اور اکٹھا کی ہیں ۔

سورنا روبوٹ کی تیسری نسل کی رونمائی

یہ سال جو گذرا ہے اس میں انسان نما سورنا روبوٹ کی تیسری نسل کی بھی رونمائی کی گئی ہے یہ روبوٹ کہ جس کا قد ۱۹۰ سینٹی میٹر اور وزن تقریبا ۹۸ کیلو گرام ہے انسان نما روبوٹوں کے زمرے میں ایک واقعی بالغ انسان کے قد کے برابر شمار ہوتی ہے ۔سورنا ۳ کی ایک اور خصوصیت حرکت کی حالت میں انسان کو پہچاننےاور افراد کی صورت بدلنے کی قابلیت رکھنا ہے۔ سماعت کے میدان میں یہ روبوٹ فارسی کے تقریبا ۲۰۰ الفاظ یا جملے سنتی ہے ۔اسی طرح یہ روبوٹ انسان کے بدن کی حالت کی تشخیص دیتی ہے ۔یہ روبوٹ ۲۰۰ ہوشمندی والے جملے بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔یہ روبوٹ امداد  اور نجات کے لیے جانبازوں کا روبوٹیک ہاتھ بن سکتی ہے اور چاند کے سفر پر جا سکتی ہے ۔

پہلے دوزیستی ہوائی جہاز کی رونمائی

پہلا دوزیستی ہوائی جہاز جس کا نام چھ نفری دو زیستی سمندری پرندہ ہے سال ۹۴ کے ماہ دی میں بندر گاہ بندر عباس میں ملک کے حکام کی موجودگی میں رونمائی کے مرحلے سے گذرا ۔ اس ہوائی جہاز کے کام ہیں ؛ طرح طرح کی ماموریتوں میں خشکی اور سمندر میں شناسائی اور عکسبرداری کے وسایل کو حمل کرنا تا کہ اشیاء کی اسمگلینگ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جاسکے اور سمدندر میں تیرنے والی کشتیوں پر نظر رکھی جا سکے اور ضرورت پڑنے پر انہیں جانچ پڑتال کے لیے روکا جا سکے ،اسی طرح چیک پوسٹوں اور سمندر میں تیل کی پائپ لائنوں پر نظر رکھی جا سکے اور غوطہ خوروں کو بوقت ضرورت امداد فراہم کی جا سکے ۔ خشکی اور سمندر میں امداد اور نجات پر مبنی کاروائی کرنا سمندروں کے پانی ے نمونہ براداری ماحولیات کے بارے تحقیق کرنا ،جانداروں کی حرکت پر نظر رکھنا ، سامان لے جانا ، آگ بجھانا اور تفریحی اور ذاتی استفادہ  کرنا نیز ٹیکسی رانی کا کام لینا اس دوزیست ہوائی جہاز کی دیگر خدمات شمار ہوتی ہیں ۔

 چمڑی کا درد روکنے والے ٹیپ کی تولید کی پٹڑی کا افتتاح

درد روکنے والے ٹیپ میں دوا منتقل کرنے کے سسٹم کی ایجاد کے علم تک رسائی اور اسکو منتقل کرنے کی فیکٹری کے عنوان سے ،چمڑی کے درد کو دور کرنے والے ٹیپ کی تولید کی پٹڑی کا کچھ عرصہ پہلے ہی افتتاح ہوا ہے جس کام کو پلیمر اور پیٹروکیمیکل کے تحقیقی مرکز نے انجام دیا ہے ۔اس منصوبے کے تحت دو دوائیوں ، فینٹالین اور بوپرونورفین  کو کہ جو دونوں درد روکتی ہیں پلیمری ٹیپ تک دوا رسانی کے سسٹم کے تحت پہنچایا گیا ہے ۔ ان دو دوائیوں کو زیادہ تر کینسر کے بیمروں کے علاج کے لیے کہ جنہیں آپریشن کے بعد بہت درد ہوتا ہے کام میں لایا جاتا ہے ۔ اسی طرح درد کو روکنے والا ٹیپ کہ جس کا نام فینٹانیل ہے درد کو روکنے کے ساتھ ساتھ نشے کی لت سے چھٹکارا دینے کے بھی کام آتا ہے اس وقت یہ دو دوائیاں پلیمری ٹیپ کی صورت میں تیار کی جا چکی ہیں ۔

سنجشی دوستی سیٹیلائٹ کی رونمائی

فضائی فنآوری کے دن کی منسبت سے فضائی میدان میں تین اہم محصولات ؛ سنجشی دوستی سیٹیلائت ،  دور سے سنجش کا عمل انجام دینے والی  ایرانی تجربہ گاہ ، اور  ایران کی فضائی تحقیقات کا  سیٹیلائٹ  ٹیسٹ کا مرکز ، ایران کے صدر کی موجودگی میں رونمائی اور آغاز کار کے مرحلے سے گذریں ۔

اینٹرنیٹ آف تھینگز کے پہلے پلیٹ فارم کی رونمائی

اینٹرنیٹ آف تھینگز یا آئی ۔او ۔ٹی ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ جس میں انسان ،حیوان یا اشیاء سمیت کسی بھی چیز کو ارسال کرنے کی قابلیت پائی جاتی ہے اور یہ کام اینٹرنیٹ یا اینٹرانیٹ کے چینلوں کے ذریعے ہوتا ہے یہ ٹیکنالوجی ایک ایسی دنیا کا نقشہ پیش کرتی ہے کہ جس میں ہر چیز منجملہ بے جان اشیاء کی ایک ڈیجیٹل حقیقت ہوتی ہے اور وہ کمپیوٹروں کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ انہیں منظم کریں اور چلائیں ۔ دانشگاہ علم و صنعت میں کچھ عرصہ پہلے اینٹرنیٹ آف تھینگز کے پہلے پلیٹ فارم کی رونمائی کی گئی ۔اس ٹیکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے تمام چیزیں انترانیٹ یا انٹرنیٹ کے چینل کے ذریعے ایک دوسری سے متصل ہوتی ہیں اور ٹیلیفون کے چینلوں کے ذریعے چیزیں دستور ماننے کے قابل ہوتی ہیں ۔ دانشگاہ علم و صنعت نے اس ٹیکنیک کو شروع کر کے اینٹرنیٹ آف تھینگز کی دنیا کی پانچویں یونیورسٹی کے طور پر اپنا نام لکھوا دیا ہے کہ جو اینٹر نیٹ آف تھینگز کی تدریس اور تحقیق کرتی ہیں ۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram