اہل سنت کے پہلے شہید اسماعیل شجاعی اور شام میں حرم اہل بیت(ع) کا دفاع

اہل سنت کے پہلے شہید اسماعیل شجاعی اور شام میں حرم اہل بیت(ع) کا دفاع

ایران کے مغربی آذربائجان کے بوکان شہر کے باشندے شام میں حرم اہل بیت(ع) کا دفاع کرتے ہوئے اہل سنت کے پہلے شہید اسماعیل شجاعی کے فرزندوں نے کہا کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے باپ کے راستے پر چلتے رہیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  7فروری  کو ایران کے مغربی آذر بائجان کے بوکان شہر کے رہنے والے اہل سنت کے پہلے شہید اسماعیل شجاعی کے پیکر کی کہ جنہوں نے شام میں دہشت گرد تکفیریوں سے حرم زینبیہ کا دفاع کرتے ہوئے شہادت پائی ہے بوکان کے لوگوں کی پرشکوہ جمعیت نے مشایعت کی اور اس شہر کے گلزار شہداء میں اس کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔

شام  پر تکفیریوں کے حملے اور حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے حرم مبارک کو خطرہ لاحق ہو جانے کے بعد شہید اسماعیل شجاعی بھی دیگر مجاہدوں  کی طرح گھر میں رکنے کی تاب نہ لا سکے ،اور اہل بیت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حرم اور شام کے مظلوم لوگوں کے دفاع  کے لیے اس نے خود کو شام پہنچایا اور دوسرے مجاہدوں کے ہمراہ اسلامی ممالک کے کیان اور حیثیت کے دفاع کے لیے  تکفیری گروہوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور اس راہ میں اپنی دیرینہ آرزو کو کہ جو شہادت تھی پہنچ گئے ۔

شہید اسماعیل شجاعی کی سرفرازانہ شہادت سبب بنی کہ اس کے فرزندوں نے بھی اپنے باپ کے راستے پر چلنے کی ٹھان لی ۔

شہید بزرگوار اسماعیل شجاعی کے چھوٹے فرزند "بھمن شجاعی" نے اس حالت میں کہ  اس کی انکھوں سے اشک بہہ رہے تھے کہا : یہ ہمارے پورے خاندان کے لیے باعث افتخار ہے کہ میرا باپ اسلام اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ میں شہید ہوا ہے ۔

بھمن کہ جس کی عمر اس وقت ۱۵ سال ہے مزید کہتا ہے : باپ کی جدائی کا صدمہ بہت گہرا ہے لیکن اسلام کی راہ میں باپ کی شہادت نے اس صدمے کو ہمارے لیے شیرین بنا دیا ہے ۔

انہوں نے تصریح کی : میں اپنے خاندان کا سب سے چھوٹا فرزند ہونے کے ناطے فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اپنے باپ کو مظلومیت اور آزادی کی راہ میں کھویا ہے اور مجھے خود پر ناز ہے کہ میں ایسے باپ کا بیٹا ہوں ۔

بہمن نے آگے مزید کہا : جیسا کہ تمام بزرگان دین نے کہا ہے شہادت مردان خدا کا ہنر ہے اور میرے باپ نے سچ مچ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مرد راہ خدا ہے ۔

انہوں نے بتایا : میں اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے باپ کے راستے پر چلتا ہوں گا اور اعلان کرتا ہوں کہ  جب تک زندہ ہوں  رہبر کا واقعی سرباز بن کر رہوں گا ۔

احمد شجاعی نے بھی اس گفتگو میں بوکان کے تمام حکام اور لوگوں کا اپنے شہید  باپ کے جنازے میں شرکت کرنے کے سلسلے میں  شکریہ ادا کیا اور کہا : حقیقت میں ایک بار پھر بوکان کے لوگوں نے دکھا دیا ہے کہ  وہ ان لوگوں کے قدردان ہیں کہ جو اپنا خون نثار کر کے انہیں امن کی سوغات دیتے ہیں۔

انہوں نے آگے کہا : جب سے مجھے یاد ہے میرا باپ انقلاب اور اسلام کی راہ میں شہادت کا عاشق تھا کہ آخر کار اس کی یہ آرزو پوری  ہوئی ۔

احمد نے سعودی عرب کے وہابی سربراہوں اور امریکہ اور صہیونی حکومت کو علاقے میں رونما شدہ تمام جرائم کے عوامل قرار دیا اور بتایا : خدا کی مدد اور میرے شہید باپ کی کوشش سے داعش اور داعشی روئے زمین سے محو ہو جائیں گے اور تاریخ کے کوڑے دان میں ان کو جگہ ملے گی ۔

شہید اسماعیل شجاعی کی ایک بیٹی نے کہا : انشاءاللہ ہم شہیدں کے راستے پر چلنے والے شمار ہوں اور ہم اپنے پورے وجود کے ساتھ شام میں اپنے باپ کی شہادت پر کہ جو امت اسلامی کے دفاع کے لیے تھی فخر کرتے ہیں ۔

اختر شجاعی نے تصریح کی : میرا باپ بہت محنتی اور مومن تھا کہ آخر کار اس نے اپنی ایمان داری کی مزدوری کو کہ جو شہادت تھی خدا سے پا لیا ۔

انہوں نے آگے کہا : جب میرے باپ نے شام جانے کا ارادہ کیا  تو پہلے ہم نے ان کی مخالفت کی تھی لیکن وہ اپنے ارادے پر اٹل رہے اس لیے کہ ان کا مقصد اور ان کی عزت دونوں  انہیں ظالموں کے خلاف جنگ اور مظلوموں کے دفاع میں نطر آرہے تھے ۔

شہید اسماعیل شجاعی کی بیٹی نے اپنے باپ کی شہادت کی خبر سننے کے قصے کو ہمارے لیے اس طرح بیان کیا : میں نے جب ان کی شہادت کی خبر سنی تو اس پر یقین کرنا میرے لیے مشکل تھا لیکن یہ سچ تھا میرے باپ نے ایسی راہ پر قدم رکھا تھا کہ جس کو اس نے خود چنا تھا اور بتا دیا کہ وہ اپنے مقاصد اور قلبی اعتقادات تک پہنچنے کے لیے اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں ۔    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram