اقوام متحدہ کی رپورٹ: دوبرسوں میں داعش نے 18 ہزار عراقیوں کا قتل عام کیا

اقوام متحدہ کی رپورٹ: دوبرسوں میں داعش نے 18 ہزار عراقیوں کا قتل عام کیا

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں داعش کے دہشت گردوں نے اٹھارہ ہزار عراقی شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں داعش کے دہشت گردوں نے اٹھارہ ہزار عراقی شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔ عراق میں داعش کے ہولناک جرائم کی مختلف رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں - اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا ہےکہ گزشتہ دوبرسوں میں داعش کے دہشت گردوں نے اٹھارہ ہزار عراقی شہریوں کا قتل عام کیا ہے -

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یکم جنوری دوہزار چودہ سے اکتیس اکتوبر دوہزار پندرہ تک کم سے کم اٹھارہ ہزار آٹھ سو دو عراقی شہریوں کا داعش نے قتل عام کیا ہے جبکہ اس عرصے میں چھتیس ہزار دوسو پینتالیس عراقی شہری زخمی ہوئے ہیں - اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ دوسال میں بتیس لاکھ عراقی بے گھر ہوئے ہیں- مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عراق میں ایزدی فرقے کے تین ہزار پانچ سو افراد کو، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں داعش نے غلام اور کنیز کے طور پر یرغمال بنا رکھا ہے - اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق میں عام شہریوں پر دہشت گردانہ حملوں اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور دہشت گردگروہ داعش منظم جرائم اور تشدد اور انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے منافی اپنے وسیع اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے - اس درمیان عراق کے مغربی صوبے الانبار کی گورننگ کونسل نے بھی اعلان کیا ہے رمادی شہر میں داعش گروہ نے جو دولاکھ بم اور بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں انہیں ابھی تک ناکارہ نہیں بنایا جاسکاہے - یاد رہے کہ داعش نے دوہزار چودہ کے موسم گرما میں عراق پر حملہ کرکے اس ملک کے شمال اور مغرب کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا اور یوں پچھلے کئی برسوں کے دوران عراق میں سب سے بڑا سیکورٹی بحران پیدا کیا- اگرچہ پچھلے ایک سال میں دہشت گردوں کے خلاف عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں نے زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں - لیکن اس کے باوجود ابھی عراق کے کچھ حصوں منجملہ موصل شہر پر داعش کا قبضہ ہے - دریں اثنا داعش گروہ عراقی عوام کے اندر خوف و ہراس پیدا کرکے عراقی عوام کو استقامت اور مزاحمت سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے- لیکن دہشت گردوں کے یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تعلق سے عراقی عوام کے عزم و ارادے کو نقصان نہیں پہنچا سکے ہیں - اسی سلسلے میں عراق کی مجلس اعلائے اسلامی کے سربراہ سید عمار حکیم نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے عراق کے سبھی گروہوں اور طبقوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا ہے - انہوں نے اپنے بیان میں عراق سے تکفیری دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے عراقی عوام کے مکمل اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں عراق کے ہرگروہ اور جماعت کو ایک دوسرے کے تعاون اور مدد کی ضرورت ہے - یہ ایسی حالت میں ہے کہ عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے بھی ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے کی کوششوں کی بابت خبردار کیا ہے - البتہ انہوں نے کہا کہ عراقی عوام میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی دشمنوں کی سازش ناکام ہوگی - ان کا کہنا تھاکہ فوج اور عوامی رضاکار فورس سے شکست کھانے کے بعد اب داعش اور اس کے حامیوں نے عراق میں مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں تیز کردی ہیں -

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram