رپورٹ؛ دنیا میں 80 فیصد اموات دھشتگردی کی وجہ سے ہوئیں

رپورٹ؛ دنیا میں 80 فیصد اموات دھشتگردی کی وجہ سے ہوئیں

دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی اموات میں 80 فیصد تک غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جب کہ دہشت گرد حملوں سے متاثرہ پہلے 5 ممالک میں دنیا بھر کی 78 فیصد ہلاکتیں ہوئیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی اموات میں 80 فیصد تک غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جب کہ دہشت گرد حملوں سے متاثرہ پہلے 5 ممالک میں دنیا بھر کی 78 فیصد ہلاکتیں ہوئیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس لندن نے عالمی دہشت گردی پر گلوبل انڈیکس ٹیررازم  2014 پر رپورٹ جاری کی ہے جس میں 162 ممالک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں، اموات اور مالی نقصانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2014 میں دنیا بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی غیر طبعی اموات میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 32 ہزار 658 افراد دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں جو کہ عالمی سطح پرریکارڈ کی گئی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے  جب کہ اس سے قبل سال 2013 میں 18 ہزار 111 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گرد حملوں سے 5 ممالک عراق، شام، افغانستان، پاکستان، اور نائجیریا سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں دنیا بھر کی 78 فی صد ہلاکتیں ہوئیں جب کہ عراق ان ممالک میں ایک بار پھر سرفہرست رہا جہاں 9 ہزار 929 افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ نائجیریا میں ہونے والی اموات میں 300 فیصد اضافہ ہوا جہاں 7 ہزار 512 افراد نشانہ بنے۔ ایسے ممالک جہاں 2014 میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ان کی تعداد بھی گزشتہ کے مقابلے میں دگنی ہوچکی ہے، ان ممالک میں یوکرین،صومالیہ، یمن، جمہوریہ وسطی افریقا، جنوبی سوڈان اور کیمرون شامل ہیں۔ گلوبل انڈیکس ٹیررازم  کے مطابق  مغربی ممالک دہشت گردی کے حملوں سے سب سے کم متاثر ہوئے جب کہ ان ممالک میں ہونے والے واقعات میں زیادہ تر مذہبی انتہا پسندی کے بجائے قوم پرستی، سیاسی اورنسلی عناصر ملوث تھے۔ 2014 میں برطانیہ کو دہشت گرد حملوں کا سب سے زیادہ سامنا رہا جن میں آئرش ری پبلکن آرمی نامی عسکری تنظیم ملوث تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram