داعش کی بقا شیعہ سنی اختلاف میں ہے

داعش کی بقا شیعہ سنی اختلاف میں ہے

ترکی میں چھپنے والے ایک روزنامے نے دولت اسلامی عراق و شامات (داعش) کے شیعہ سنی اختلافات سے فائدہ اٹھانے نیز اس گروہ کے شیعہ کشی کی طرف مایل ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تصریح کی : داعش کی بقا شیعہ سنی اختلاف میں ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ترکی میں چھپے ایک روز نامے ٹائم ٹو ڈیز زمان نے ہفتے کے دن ایک مقالے میں جس کا عنوان ہے شیعہ و سنی کے درمیان ایک دوسرے سے بیزاری داعش کے لیے حیات بخش ہے ، لکھا ہے : داعش نے وحشیانہ اقدامات کے ذریعے جیسے افراد کو قتل کر کے اور بھاینک سزائیں دے کر دنیا کو مبہوت کر دیا ہے ۔ داعش کی بقا شیعہ اور سنی اختلافات میں ہے اور یہ گروہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ اور سنی کے درمیان فرقہ وارانہ دشمنی کی آگ کو ہوا دے رہا ہے ۔گذشتہ برسوں میں اب تک دسیوں ہزار شیعہ و سنی نے کہ جن کی زیادہ تر علاقائی حامیوں کی جانب سے حمایت ہوتی ہے وحشیانہ انداز میں ایک دوسرے کو ٹارچر کیا ہے یا قتل کیا ہے اور انہیں ایک کے دوسرے پر مسلط ہو جانے کا خوف ہے ۔

اس مضمون میں آگے آیا ہے : داعش کی پیدائش عراق کی القاعدہ کے اندر سے کہ جنہوں نے امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد جنم لیا تھا ہوئی ہے داعش کے بہت سارے بڑے افراد اس وقت کے عراق کے صدر صدام حسین کے فوجی تھے ۔ مضمون نگار کا دعوی ہے کہ امریکہ کے عراق سے نکلنے کے بعد عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے سنیوں کے خلاف قومی تناو کی پالیسی آشکارا طور پر اختیار کی ،یہ ایسی حالت میں ہوا کہ صدام کے ۳۰ سال کے دور میں شیعوں کو بھی بہت دبایا اور ستایا گیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار شیعوں کو مار ڈالا گیا تھا ۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ ۱۹ مارچ کو خلیج فارس کی جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی جب کردوں اور شیعوں نے قیام کیا تو صدام کے ٹینک شہر نجف کی جانط روانہ ہوئے اور عراقی ٹینکوں پر لکھا ہوا تھا کہ آج کے بعد کوئی شیعہ دکھائی نہیں دے گا ۔

اس مقالے میں آگے آیا ہے : داعش شیعوں سے متنفر ہے ،اور ایک کتاب میں کہ جس کا عنوان ہے ،داعش دہشت گرد سپاہ کے اندر ، اس کے دو مولفوں ، حسن ،حسن اور مایکل ویس نے لکھا ہے کہ داعش کے رہبر ابو بکر البغدادی کی نیت شیعوں کی نابودی ہے ۔

مذکورہ لکھنے والوں نے اپنی کتاب میں یہ بھی یاد دلایا ہے کہ : داعش شیعوں اور علویوں کو سنیوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ دنیا کے سنیوں کو شیعوں کے خلاف حملے کرنا چاہییں ۔انہی دلایل کی بنا پر داعش نے کویت میں شیعوں کی ایک مسجد پر حملے کی ذمہ دارتی قبول کی تھی کہ جس میں ۲۷ افراد شہید ہو گئے تھے ۔

ٹوڈیز زمان نے اس مضمون کے خاتمے میں ایران کی علاقے کی انقلابی طاقتوں چاہے شیعہ ہوں یا سنی کی حمایتوں کی جانب اور ان کو امریکہ کے خلاف تیار کرنے نیز شام اور عراق کی حکومتوں کی حمایت کرنے  ، اور اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی طرف سے سنیوں کی حمایت کرنےکہ جس کا مقصد علاقے میں ایران کے تسلط کو روکنا ہے  اور بعض مواقع پر وہ ایران کو داعش سے زیادہ خطر ناک سمجھتا ہے  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے   لکھا ہے امریکہ نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں میں اب تک صرف غیر کشندہ نوعیت کی فوجی مدد کی ہے جیسے رات میں دیکھنے والی دور بین اور غذا وغیرہ حالانکہ علاقے کے سنی یہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کشندہ حملے کیے جائیں اور ایک ایسا علاقہ معین کیا جائے جس پر پرواز ممنوع ہو ایسا نہ ہونے کی وجہ سے سنیوں کو شکست کا احساس ہو رہا ہے ۔آج شیعہ اور سنیوں کے درمیان بہت ساری قومیتی کھینچا تانی پائی جاتی ہے اور جب تک یہ گروہ خاص کر ایران اور سعودی عرب قومی کھینچا تانی کو ختم نہیں کرتے  اور داعش کے خلاف عالمی سطح پر کوشش نہیں کرتے اس وقت تک داعش کو مغلوب نہیں کیا جا سکتا ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

 مطابق ترکی میں چھپے ایک روز نامے ٹائم ٹو ڈیز زمان نےہفتے کے دن ایک مقالے میں جس کا عنوان ہے شیعہ و سنی کے درمیان  ایک دوسرے سے بیزاری داعش کے لیے حیات بخش ہے ، لکھا ہے : داعش نے وحشیانہ اقدامات کے ذریعے جیسے افراد کو قتل کر کے اور بھاینک سزائیں دے کر دنیا کو مبہوت کر دیا ہے ۔ داعش کی بقا شیعہ اور سنی اختلافات میں ہے اور یہ گروہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ اور سنی کے درمیان فرقہ وارانہ دشمنی کی آگ کو ہوا دے رہا ہے ۔گذشتہ برسوں میں اب تک دسیوں ہزار شیعہ و سنی نے کہ جن کی زیادہ تر علاقائی حامیوں کی جانب سے حمایت ہوتی ہے وحشیانہ انداز میں ایک دوسرے کو ٹارچر کیا ہے یا قتل کیا ہے اور انہیں ایک کے دوسرے پر مسلط ہو جانے کا خوف ہے ۔

اس مضمون میں آگے آیا ہے : داعش کی پیدائش عراق کی القاعدہ کے اندر سے کہ جنہوں نے امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد جنم لیا تھا ہوئی ہے داعش کے بہت سارے بڑے افراد اس وقت کے عراق کے صدر صدام حسین کے فوجی تھے ۔ مضمون نگار کا دعوی ہے کہ امریکہ کے عراق سے نکلنے کے بعد عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے سنیوں کے خلاف قومی تناو کی پالیسی آشکارا طور پر اختیار کی ،یہ ایسی حالت میں ہوا کہ صدام کے ۳۰ سال کے دور میں شیعوں کو بھی بہت دبایا اور ستایا گیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار شیعوں کو مار ڈالا گیا تھا ۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ ۱۹ مارچ کو خلیج فارس کی جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی جب کردوں اور شیعوں نے قیام کیا تو صدام کے ٹینک شہر نجف کی جانط روانہ ہوئے اور عراقی ٹینکوں پر لکھا ہوا تھا کہ آج کے بعد کوئی شیعہ دکھائی نہیں دے گا ۔

اس مقالے میں آگے آیا ہے : داعش شیعوں سے متنفر ہے ،اور ایک کتاب میں کہ جس کا عنوان ہے ،داعش دہشت گرد سپاہ کے اندر ، اس کے دو مولفوں ، حسن ،حسن اور مایکل ویس نے لکھا ہے کہ داعش کے رہبر ابو بکر البغدادی کی نیت شیعوں کی نابودی ہے ۔

مذکورہ لکھنے والوں نے اپنی کتاب میں یہ بھی یاد دلایا ہے کہ : داعش شیعوں اور علویوں کو سنیوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ دنیا کے سنیوں کو شیعوں کے خلاف حملے کرنا چاہییں ۔انہی دلایل کی بنا پر داعش نے کویت میں شیعوں کی ایک مسجد پر حملے کی ذمہ دارتی قبول کی تھی کہ جس میں ۲۷ افراد شہید ہو گئے تھے ۔

ٹوڈیز زمان نے اس مضمون کے خاتمے میں ایران کی علاقے کی انقلابی طاقتوں چاہے شیعہ ہوں یا سنی کی حمایتوں کی جانب اور ان کو امریکہ کے خلاف تیار کرنے نیز شام اور عراق کی حکومتوں کی حمایت کرنے  ، اور اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی طرف سے سنیوں کی حمایت کرنےکہ جس کا مقصد علاقے میں ایران کے تسلط کو روکنا ہے  اور بعض مواقع پر وہ ایران کو داعش سے زیادہ خطر ناک سمجھتا ہے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے   لکھا ہے امریکہ نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں میں اب تک صرف غیر کشندہ نوعیت کی فوجی مدد کی ہے جیسے رات میں دیکھنے والی دور بین اور غذا وغیرہ حالانکہ علاقے کے سنی یہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کشندہ حملے کیے جائیں اور ایک ایسا علاقہ معین کیا جائے جس پر پرواز ممنوع ہو ایسا نہ ہونے کی وجہ سے سنیوں کو شکست کا احساس ہو رہا ہے ۔آج شیعہ اور سنیوں کے درمیان بہت ساری قومیتی کھینچا تانی پائی جاتی ہے اور جب تک یہ گروہ خاص کر ایران اور سعودی عرب قومی کھینچا تانی کو ختم نہیں کرتے  اور داعش کے خلاف عالمی سطح پر کوشش نہیں کرتے اس وقت تک داعش کو مغلوب نہیں کیا جا سکتا ۔ 


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram