عربوں کی مشترکہ فوج کی تشکیل کاخواب شرمندہء تعبیر ہو گا یا چکنا چور؟

عربوں کی مشترکہ فوج کی تشکیل کاخواب شرمندہء تعبیر ہو گا یا چکنا چور؟

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کی بیٹھک کے اچانک منسوخ ہو جانے سے کہ جو مشترکہ عرب فوج کی تشکیل کے سلسلے میں ہونے والی تھی مشترکہ عرب فوج کی تشکیل کے مبہم انجام کےسلسلے میں سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی پورٹل "روسیا الیوم" نے اشرف الصباع کے قلم سے ایک رپورٹ میں کہ جس نے اس بیٹھک کے منسوخ کیے جانے اور جہان عرب کے موجودہ حالات کی روشنی میں مشترکہ عرب فوج کی تشکیل کے امکان کے بارے میں مبصرین اور ماہرین کے نظریات کی جانچ پڑتال کی ہے ۔

اس رپورٹ میں آیا ہے کہ عرب لیگ کے وزرائے دفاع اور خارجہ کی بیٹھک جو ۲۷ اگست کو ہونے والی تھی بالکل غیر متوقع طور پر منسوخ ہو گئی ہے ۔

عرب لیگ نے جو اعلان کیا تھا اس کی بنیاد پر طے تھا کہ اس بیٹھک میں مشترکہ عرب فوج کی تشکیل کے طریقہء کار پر بحث ہو گی کہ جس کی تشکیل کا مطالبہ عرب لیگ نے مشترک عربی ملکوں کی تشویق سے کہ جن میں سر فہرست مصر اور سعودی عرب تھے ،دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور سلامتی کی مجموعی صورتحال سے نمٹنے اور خاص طور پر علاقے میں دہشت گرد گروہ داعش کی کاروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا تھا ۔

یہ لکھنے والا آگے لکھتا ہے : اس وقت علاقے میں دو اتحادوں کے وجود کے برخلاف کہ جن میں ایک سعودی نعربیہ کی رہبری میں کچھ دیگر عرب ملکوں کی دکھاوے کی شرکت کے ساتھ ہے کہ جو یمن میں کاروائیاں کر رہا ہے ،اور دوسرا امریکہ کی رہبری میں ہے جس میں کچھ عربی اور یورپی ملک شامل ہیں  کہ جو شام اور عراق میں کاروائیاں کر رہا ہے ،عرب لیگ نے مشترکہ عربی فوج کی تشکیل کے آیڈیے کو اپنے دستور کار میں شامل کیا ہے کہ جس کو سعودی عرب اور مصر نے پیش کیا تھا ۔ قاہرہ اور ریاض نے اس آیڈیے کو دہشت گردوں کے حملوں کے بعد پیش کیا تھا کہ جس کی ذمہ دپہشت گرد گروپ داعش نے لی تھی ۔اس کے علاوہ مصر اور لیبیا کے رہنے والوں کے  بھی دہشت گرد گروہ داعش کے افراد کے ذریعے سرقلم کیے گئے ۔

داعش کے ایک دہشت گرد کا سر کاٹا گیا

عربوں کی مشترکہ فوج کی تشکیل کی خبر ذرائع ابلاغ میں نجنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اس طرح کے سوالات سامنے آئے کہ اس فوج کی تشکیل کے بعد سعودیہ کا جو اتحاد یمن میں کام کر رہا ہے اس کا انجام کیا ہوگا ؟خلیج فارس تعاون کونسل کے درمیان ن جو فوجی ہمکاری کا سمجھوتہ ہے اس کا کیا حشر ہوگا؟ اس مشترکہ عرب فوج کی ذمہ بطور دقیق کیا ہو گی ؟ کیا کچھ ایسی ذمہ داریاں بھی ہیں کہ جن کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ ممکن یہ فوج ان کو انجام دے ؟

لیکن سب سے اقہم سوال کہ جو مبصرین نے اور عرب لیگ کے کچھ ملکوں نے پیش کیا ہے وہ یہ تھا کہ عرب لیگ کے منشور میں جو مشترکہ دفاعی سمجھوتہ ہے اس کا سر انجام کیا ہو گا اور کیوں اس کو اجرا نہیں کیا گیا ؟ موجودہ اتحادوں کی موجودگی میں اس بند کا اور نئے آیڈیے کا انجام کیا ہو گا ؟

یہ سب کچھ مارچ ۲۰۱۵ سے اس طرف سامنے سامنے آیا ہے یہاں تک کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اپنی اس درخواست کو دوہرایا کہ مشترکہ عرب فوک کی تشکیل کے بارے میں غورو خوض کیا جائے ،اور اس موضوع پر بات کرنے کے لیے انہوں نے ۲۶ اور ۲۷ اگست کی تاریخیں رکھی تھیں ،لیکن یہ بیٹھک کھای میں پڑ گئی ہے یا منسوخ ہو گئی ہے! کسی کو معلوم نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا کیا عرب لیگ خارجی دباو میں آ گیا ہے ؟ اس دباو کی حقیقت کیا تھی ؟ کیا عرب ملکوں کے اندر کا  اختلاف اس بیٹھک کے منسوخ یا کھٹائی میں پڑنے کا باعث بنا ہے ؟ کیا عرب لیگ اختلاف اور اتحاد کے پہلووں کا اعلان نہیں کرتا تا کہ حقائق آشکار اور امور روشن ہو جائیں ؟

تجزیہ نگاروں ، محققین اور مبصرین میں   اس بارے میں اختلاف ہے ،بعض کا عقیدہ ہے کہ عرب ملکوں میں اختلاف کی وجہ سے اور دوسری طرف دوسرے ملکوں کے ساتھ سیاسی امنیتی اتحاد میں واضح ٹکراو کی بنا پر اس آیڈیے کا عملی جامہ پہننا مشکل ہے ۔

بعض دوسروں کا عقیدہ ہے کہ یہ آیڈیا سیاسی ۔ ام،نیتی ورق کی جانب ایک تلویحی اشارہ اور صرف ایک تبلیغاتی اقدام ہے تا کہ علاقائی اور بین الاقوامی مخالفین کا مقابلہ کیا سکے اور عربوں کے عام ادفکار میں خود کو یہ ظاہر کرنا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری اچھی طرح پوری کی ہے ۔

کچھ اور کا عقیدہ ہے کہ یہ آیڈیا عملی جامہ پہننے کے مرحلے تک نہیں پہنچے گا اس لیے کہ اگر وہ  کچھ کر کے دکھانے کے  در پے ہوتے تو بنیادی طور پر   عرب لیگ کے منشور میں جو بدن پہلے سے موجود ہے وہ اس کو ہی عملی جامہ پہناتے ۔    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram